نیوزی لینڈکی مساجدپرصلیبی دہشتگردوں کاحملہ , سمیع الله خان جنرل سیکرٹری: کاروان امن و انصاف

وقت کے ” حسن بن صباح ” کی خوفناک، خطرناک، خونریز اور خونچکاں دہشتگردی:

آج صبح ہی یہ خبر کنفرم ہوچکی تھی نیوزی لینڈ میں نماز جمعہ کے وقت دو الگ الگ مسجدوں میں صلیبی دہشتگردوں نے، نہتے بے گناہ اور معصوم نمازیوں کو گولیوں سے بھون دیا، نماز جمعہ کے وقت مسجدوں کو مسلمانوں کے خون سے نہلا دیاگیا
نیوزی لینڈ کی مساجد پر اس دہشتگردانہ حملے کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں وہ رونگٹے کھڑی کرنے والی ہیں، بلکہ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگاکہ جس بے رحمی اور سفاکیت کے ساتھ مساجد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیاہے اگر اس کے منظر کو کوئی کمزور یا نرم دل انسان دیکھ لے تو شاید اس کے لیے خطرناک ثابت ہو، صبح سے خود راقم سطور کے دل و دماغ اس بربریت پر سن ہوکر رہ گئے تھے، اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۵۰ مسلمان شہید ہوچکےہیں اور دہشتگردوں کو کم سے کم سزا دلانے کی عالمی صہیوني کوششیں تیزترین ہیں_

نیوزی لینڈ میں یہ دہشتگردانہ حملہ یقینی طورپر صلیبی دہشتگردوں کے ذریعے انجام دیا گیا ہے، یہ وہی صلیبی ہیں جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سے اہل ایمان کے خون کے پیاسے رہے، یہ وہی صلیبی ہیں جنہوں نے یہودیوں سے مسلمانوں کے خلاف گٹھ بندھن کیا ہے، یہ وہی صلیبی ہیں جو اسوقت دنیا بھر میں اسلام کو انتہاءپسندی اور دہشتگردی سے جوڑتے ہیں اور جمہوریت، انسانیت اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کی لہر چلاتے ہیں، دراصل یہ سارے نعرے ان بدباطن، مسخ فطرت صلیبیوں اور یہودیوں کی گٹھی میں پڑی اسلام دشمنی، اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ اور اس کے نام لیواﺅں سے دشمنی کو برتنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، آج مغربی سوراج ڈوبنے لگا ہے، یوروپی کلچر کو صحیح الفطرت انسان مسترد کررہاہے، عالمی گاؤں اور عالمی معیشت و صحت کے کھوکھلے دجالی نعروں کو ہر ذی شعور رد کررہاہے، صلیبی یہودی گٹھ جوڑ اپنی تمام تر فحش سامانیوں اور طاقت کے باوجود ڈولنے لگا ہے، اسلامو فوبیا کی تحریک جوکہ دراصل انسانوں کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے اور ان کے خلاف اکسانے کے لیے پورے یوروپ میں چلائی جارہی ہے اس کا رزلٹ جہاں ایک طرف ایسے دہشتگردانہ حملوں کی صورت میں نظر آتا ہے تو دوسری طرف اسلام کی آغوش میں پناہ لینے والے اور دین فطرت کی چھاؤں میں خودسپردگی کرنے والوں کی تعداد یوروپ میں دن بدن بڑھتی جارہی ہے، اس صورتحال سے شیطان کے نمائندے پاگل ہوئے جارہےہیں_

نیوزی لینڈ کی مساجد پر یہ وحشیانہ حملہ دراصل دجالیت کے ہراول دستے کی نفسیاتی ہار کا اعلان ہے، معصوم مسلمانوں کی یہ خونریزی اسلامی نظریے کے سامنے پوری دنیا کی طاقتوں، اسلحوں اور فلسفوں کے جنازے کا اعلامیہ ہے، یہ ڈوبتے ہوئے مغربی سوراج کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے،
جو شہید ہوئے وہ یقیناﹰ بامراد ہوئے، وہ یقینًا اپنے رب کی پر لطف چھاؤں میں میٹھی نیند سوگئے،
لیکن اس وحشیانہ بربریت کے بعد ایک بار پھر انسانیت کے علمبرداروں اور انصاف کے دین بیزار مکاروں کی دوغلی طبیعت سامنے آرہی ہے، چنانچہ پوری دنیا کا میڈیا اور دنیا بھر کے حکمرانوں اور مشہور شخصیتوں کی زبان پر دہشتگردی کی بجائے، شوٹنگ اور گن مین کا تشدد، Shooting, Violence, Mass Firing incident, جیسی تعبیرات جاری کی گئی ہیں، اگر خدانخواستہ یہ واقعہ، بلکہ ایسی کارروائی کو کوئی نام۔نہاد فرضی مسلمان یا امریکی ایجنسیوں کے مسلمانوں کے ذریعے مسلم ملک میں انجام دیا جاتا تو اب تک پوری دنیا میں قیامت کا ہنگامہ ہوتا، اسلامی دہشتگردی مرکزي عنوان ہوتا، مسلمانوں کی عسکریت پسندی اور انتہاءپسندی پر پوری دنیا زہرافشانی کرتی، لیکن اب چونکہ یہ حملہ اسلام دشمن اور نئے کلچر نئی تہذیب کے علمبرداروں کے ذریعے انہی کے ننگے شہروں اور ملکوں میں ہوا ہے تو زبان پر سانپ چڑھ گیا ہے اور دلوں میں زہر پھیل گیاہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ کوئی بھی مغربی حکمران، میڈیا یا نمائندہ اسے دہشتگردی کہنے کی ہمت نہیں جٹا پارہا ہے_
اسلامی ممالک کے سربراہوں میں سے اب تک صرف پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کھل کر اسے دہشتگردی سے تعبیر کیا ہے اور مضبوط و بے باک اسٹینڈ اختیار کرتے ہوئے یوروپ کی اسلام دشمنی اور دوغلی پالیسی کو للکارا ہے، ان کے علاوہ نام نہاد اسلامی ممالک اور ان کی متحدہ افواج ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کے قتل عام اور اسلام دشمنی کے نظاروں پر بدترین منافقت کا مظاہرہ کررہےہیں_
اس موقع پر تاریخ رقم ہورہی ہے، اوراق پلٹ رہےہیں، ان لوگوں کے کردار درج ہورہےہیں جو ملکوں، ملکوں اسلام کے ان ازلی دشمنوں کی خوشنودی کے لیے لائن لگاتے ہیں، جو لوگ وطنیت کی پوجا، سیکولرزم کے سرٹیفکیٹ اور امن کے دوغلے نوبل پرائز کے لیے ” فرانس اور لندن ” میں نام نہاد مسلمانوں کی کارروائیوں پر تو اپنی قوم کے ساتھ پورے ملک کی سڑکوں پر مذمتی ریلیاں نکالتے ہیں، لیکن وہ ہمیشہ سے شام، مصر اور فلسطین کے نہتے اور بے گناہ مؤمنین کے قتل عام پر خاموش رہے اب نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے اس دردناک قتل عام پر بھی ان کے کردار تاریخ میں درج ہوں گے، خدا جانے یہ کیسے مسلمان ہیں اور کیسے ان کے دل و دماغ ہیں، خدا ہی جانے، جو ایجنسیوں کی فرضی کارروائیوں پر تو حب الوطنی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں، بند اور کافروں کی جنازہ تک کا اعلان کردیتے ہیں، ماتم کا دور دورہ ہوتاہے، نیز یوروپ کے اسلام دشمنوں کی تکلیف پر چیخنے لگتے ہیں لیکن ان کے ہونٹ منجمد اور ان کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں جب معاملہ شام، مصر، فلسطین، افغانستان، سعودی عرب یا یوروپ کے مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کا ہوتاہے، جسطرح مسلمان نصرت الہیٰ کے لیے روتا پیٹتا ہے یقیناﹰ اسی طرح ایک طویل عرصے سے تاریخ بھی تڑپ رہی اہل اسلام کی عالمی ایمانی اخوت کا نظارہ دیکھنے کے لیے، لیکن ظاہر بات ہے جب تہہ دل سے اور پوری طاقت سے باطل کا، اسلام دشمن نظام کا، الله اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں کی پالیسیوں کا اقرار ہوگا، اثبات ہوگا تو بھلا کیونکر خدائے وحده لاشریک راضی ہوگا؟
نیوزی لینڈ میں پیش آنے والا یہ حملہ دہشتگردانہ ہے، یہ یہودیوں اور صلیبیوں کی ان کارروائیوں میں سے ہے جو کبھی ” حسن بن صباح ” اور ” حشیش ” کے تربیت یافتگان کے ذریعے اسلامی سلطنتوں اور اسلامی مذہبی، روحانی، اور عسکری شخصیات کو ٹارگٹ کیا جاتاتھا، اب بھی اسلامو فوبیا، عالمی میڈیائی پروپیگنڈے اور جدّت پسندی کے نام پر اسلام کے خلاف جسطرح ماحول سازی ہوتی ہے وہ انتہاءپسندی اور دہشتگردی کی ایسی ہی قسم کو جنم دیتی ہے، ان بے گناہ مسلمانوں کا قاتل مغربی میڈیا اور یوروپ کا اسلام مخالف پروپیگنڈہ ہے، ان شہید نمازیوں کا خون بدفطرتی پر قائم مغرب اور اس کے کلچر کو مزید بے سکون اور بے چین کردے گا، تاریخ کے اوراق پھر پلٹیں گے اور ” حسن بن صباح ” کے موجودہ جانشین اپنی کمین گاہوں سے کھینچ کھینچ کر نکالے جائیں گے، صاف ستھری نیت اور بے لاگ و شفاف کردار کے حامل جوان ” زہریلی جنت ” کو اکھاڑ پھینکیں گے، بدکردار موقع پرست، مداہنت کے نمونے، رسوا ہوں گے،ان مظالم کو اپنی خاموشی اور حکمت زدہ پالیسیوں سے شہہ دینے والے عظیم آبا و اسلاف کے ناخلف گدی نشینوں کے دن لدنے والے ہیں، نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کو ایمانی حرارت اور ایمان افروزی مبارک ہو، جو اسوقت علی الاعلان ان کے ساتھ ان کی صفوں میں ہیں وہی دراصل ایمان کے برحق معیار پر ہیں__


ksamikhann@gmail.com