مسلمان کانگریس کےبہکاوےمیں نہ آئیں،سیاسی استحصال ناقابلِ برداشت:مفتی منظورضیائی


ممبئی،15مارچ:جیسے ہی لوک سبھا الیکشن کی تاریخوں کااعلان ہوا ہے تبھی سے سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اوراب مسلمانوں کے درمیان یہ بحث بڑی شدت کے ساتھ شروع ہو گئی ہے کہ آیا سیکولر جماعتیں واقعی سیکولر ہیں یا ہندوتوا تنظیموں کےراستوں پر چل رہی ہیں،اب ذرا ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کانگریس کو لے لیجئے جوانتخاب ہونے والے صوبوں میں مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم امیدوار کے بجائے غیر مسلم امیدوار کھڑا کر رہی ہے اس کے پیچھے”نرم ہندو” کی سوچ کار فرما ہےتاکہ لوک سبھا میں مسلم کم منتخب ہو سکیں اور دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس کی رہنما اس بات سے خائف ہیں کہ بھاجپا انکی پارٹی کو مسلم نواز پارٹی ثابت کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے جسکے نتیجے کے طور ہندو ووٹر کانگریس سے دور ہوتے جارہے ہیں ان خیالات کا اظہار ہندوستان کےمشہوراسلامی اسکالر،علامہ مفتی منظور ضیائی چیئرمین علم و ہنر فاؤنڈیشن ممبئی نےمیڈیاکوجاری اپنےایک بیان میں کیا اور کہا کہ جیسا کہ آپ سبھی کو معلوم ہے کہ بی جے پی ” سخت ہندو”کا کارڈ کھیلتی ہے تاکہ ان کے ووٹ حاصل کر سکیں اب اسی پٹری پر کانگریس بھی چل پڑی ہےلہذا اب کانگریس کے سیکولر ہونے کا دعوی فقط سراب لگتا ہے اور اب کانگریس کے سیکولرزم پر ایک نظر ڈالنا نہایت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ جو پارٹی مسلمانوں کے ووٹ کے سہارے ۵۰ سال سے زیادہ کے عرصے تک ملک میں سیاہ و سفید کی مالک رہی اور مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنی اجارہ داری سمجھتی رہی اب بی جے پی کے راستے پر چلتے ہوئے سوفٹ ہندو کا کارڈ کھیلتے ہوئے مضبوط مسلم امیدواروں کو نظر انداز کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں کی نمائندگی کم ہو سکے اور ہندو ووٹروں کو خوش کر سکے آپ نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد ہی سے ہندوستانی مسلمانوں نے کانگریس پر اندھا یقین کر لیا تھا اور یہ سمجھ لیا تھا کہ کانگریس کا سیکولرزم اور تکثیریت کا فلسفہ ہی ان کی بقاء کا واحد راستہ ہے اور اس کے بر عکس ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک کانگریس ایک ہندو پارٹی ہے اور چندمسلمانوں کے علاوہ اس کے اکثر قائدین مسلمانوں کی ہر جائز بات کی مخالفت کرتے ہیں یا ان پر ظلم و ستم کے وقت خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور مسلمانوں کو جتنا نقصان کانگریس نے کیا ہے اتنا تو آر ایس ایس اور بھاجپا نے بھی نہیں کیا ہے۔آپ نے آخر میں کہا کہ آزادی کے بعد مسلمان کانگریس کے ساتھ رہے کیوں کہ عام طور پر مسلم رہنما کانگریس کے ساتھ تھے اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ عبدلغفور مرحوم نے بہت ہی سچی بات کہی ہے “کہ کانگریس زیر اقتدار آنے بعد مسلمانو ں کو جوتے لگاتی ہیں اور انتخاب جب قریب آتا ہے تو اردو زبان کی شیرنی اور فرقہ وارانہ فسادات سے مسلمانوں کے تحفظ کی دہائی دینے لگتی ہے اور ووٹ لیکر سرکار بناتی ہے اور مسلمانوں کی حمایت کو فراموش کردیتی ہے اور ہندتوا کے لیے راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کی خدمات کو مسلمان کیسے فراموش کر سکتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ کانگریس کی ایک ہی پالیسی رہی ہے ’مسلمانوں کو بے قوف بناؤ اور ووٹ حاصل کرو! اور اگلے انتخاب تک بھول جاؤ”آج بھی وہی صورتحال ہے اور سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سچر کمیٹی کی تشکیل دے کر ایک رپورٹ تو بنوالی مگر اسکی سفارشات پر عمل کہاں ہوا؟ جسٹس رنگناتھ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ملک کی اقلییت کے لیے اہم سفارشات کی ہیں تو اسے ایوان کے ٹیبل پر بغیر اے ٹی آر کے رکھ دیا اور سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔فساد روکنے کیلیے ایک قانون بنانے کے لیے ایک بل لایا گیا مگر اسے بھی سرد خانے کی زینت بنا دیا۔اور سبھی کو ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کا حشر یاد ہے جس کو اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے اور مدارس کو سرکاری اسکولولوں کے مساوی بنانے کی پاداش میں کانگریس چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا،سچ تو یہ ہے کہ کانگریس میں بھاجپائی نظریات والے حاوی ہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آر ایس ایس اور بھاجپا کا خوف دکھا کر ووٹ لینے کے بعد مسلمانوں کو فراموش کر دینے کی روایت آج بھی قائم ہے اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مودی حکومت کے بعد تو ایسا لگا کہ کانگریس یہ بھول گئی کہ وہ اپوزیشن میں ہے اور اسے حزب مخالف کا رول ادا کرنا ہے! لہذا اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان ہوش و حواس کے ساتھ پارٹیوں کا ساتھ دیں اور کانگریس کو بھی چاہیے مسلمانوں کو بیوقوف بنانا چھوڑ دے اور مسلمانوں کو سیاست میں برابر کے شریک کرے اور ان کی حصہ داری کو یقین بنائے۔