افغانستان : جاء الحق و زھق الباطل ہے میرا ایمان ڈاکٹر سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان
واشنگٹن اور ماسکو فی الحال طالبان سے امن گفتگو کررہے ہیں۔ یہ وہی طالبان ہے جن کو کل تک امن کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا تھا ۔ انہیں ایسا خطرناک دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا تھا کہ کسی گالی دینے کے لیے طالبانی کہہ دینا کافی ہوجاتا تھا۔ لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے ؟ تو کیا گردشِ زمانہ نے طالبان کو بدل دیا ہے ؟ جی نہیں طالبان تو اپنے موقف سے بال برابر بھی نہیں ہٹے۔ ہاں جب مخالفین کے دانت کھٹے ہوگئے تو ان کا لب و لہجہ بدل گیا۔ ماسکو میں جاری گفتگو کے بارے میں کابل کے اندر امریکہ کے پٹھو حکام کہتے ہیں ’’روس میں ہونے والے مذاکرات حزب اختلاف کی جانب سے افغان حکومت کو نظر انداز کرنے اور ان کے دخل کے بغیر طالبان سے قابل قدر معاہدے کی تلاش کرنے کی کوشش ہے‘‘۔سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں امریکی صدر کا یہ کہنا کہ ’’عظیم اقوام نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں‘‘۔ دراصل افغانیوں کی عظمت کا اعتراف ہے۔ اس عظمت کی افغانیوں عظیم قیمت چکائی اور سرٖ خرو ہوئے ۔ اس لیے کہ بقول عنایت علی خان مجاہدین افغانستان کے لب پر یہ ترانہ جاری و ساری رہتا تھا ؎
جاء الحق و زھق الباطل ہے میرا ایمان ان الباطل کان زھوق کہتا ہے قرآن
دشمن کو جو چال ہو میری فتح کی ہو تمہید یا میں غازی یا میں شہید، یا میں غازی یا میں شہید
علامہ اقبال نے اپنے ایک فارسی شعر میں افغانی جیالوں کے بارے میں یونہی نہیں کہہ دیا تھا کہ ’’اے آب و گل کے بنے ہوئے لوگو!آؤ میرے گرد حلقہ بناؤ، میرے سینے میں جو آگ جل رہی ہے وہ میں نے تمہارے ہی اجداد سے لی ہے‘‘۔ یہ بات علامہ اقبال نے ان افغانیوں کی بارے میں کہی تھی جن کا ملک اوراجداد اٹھارویں صدی کے اندرتین حصوں میں منقسم تھے۔ افغانستان کا بیشتر حصہ ایران کے ماتحت تھا، کچھ علاقوں پرہندوستان کے تسلط تھا اور کچھ بخارا کے ازبک حکمرانوں کے زیر اقتدار تھا۔ نادر شاہ کی فوج جرنیل احمد خان نےموجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی اور آگے چل کرملک کا نظم و ضبط سنبھالا ۔احمد شاہ ابدالی کی وفات یعنی ۱۷۷۳؁ تک افغانستان کے حدود و اربع میں مشہد، بلوچستان، کشمیر و پنجاب شامل ہوچکے تھے۔ اس کے بعد پھر زوال و انحطاط کا آغاز ہوگیا ۔
۱۸۲۰؁ میں شاہ شجاع، رنجیت سنگھ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان میں ایک معاہدہ ہوا اور انگریزی فوج کو کابل میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ اس سے ملک کے طول و عرض میں برطانوی اثر ات کے خلاف سخت بےچینی پھیلی اور شورش پیدا ہو گئی۔ اس بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے دوسرے انگریزی فوج کے دستے کو کابل روانہ کیا گیا مگر وہ بھی شکست فاش سے دوچار ہوکر لوٹ گیا۔ ممبئی کے افغان چرچ میں آج بھی افغانستان میں مارے جانے انگریز فوجیوں کے نام نامی یادگار کے طور پر درج ہیں۔ اس طرح شاہ امان اللہ خان کی قیادت میں ہندوستان سے ۲۸سال قبل ۱۹۱۹؁ کے اندر افغانی حریت پسندوں نے بزور قوت آزادی حاصل کرلی حالانکہ کابل پرانگریزوں کے دورتسلط میں بھی ملک کا بیشتر علاقہ آزاد ہی تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ برطانیہ کبھی اس پر مکمل قبضہ نہیں کر سکا ۔ نادر شاہ درانی کے بعد ۱۹۲۹؁ میں محمد نادر شاہ نامی ایک فوجی افسر نے یورپ سے لوٹ کرکابل میں حکومت قائم کرکے اپنی بادشاہی کا اعلان کر دیا۔اس نے جدید اصولوں پر نئے دستور کا اعلان کیاجس میں دو ایوان تھے۔ ان میں سے ایک میں نامزد اور دوسرے میں منتخب ارکان ہوتے تھے۔ ۱۹۳۳؁ میں نادر شاہ کی شہادت کے بعدان کے بیٹےمحمد ظاہر شاہ نے اقتدار سنبھالا اور والد کے طرز پرحکومت کی۔
۱۹۷۹؁ میں ظاہر شاہ کے قریبی عزیز داؤد خان نے تخت پر قبضہ کیا تو ظاہر شاہ ملک سے فرار ہو گیا ۔داؤد خان نے ملوکیت کا خاتمہ کرکےجمہوریت کی داغ بیل ڈالی ۔ اسی سال نور محمد تراکی نے روسیوں کی مدد سے بغاوت کرکے داؤد خا ن کوقتل کردیا اور خو دحکمراں بن بیٹھا۔ روسی فوجوں کی آمد نے ایک کڑور سے زیادہ لوگوں کو پناہ گزین بناکر پاکستان اور دیگر ممالک میں روانہ کردیا۔ ان پناہ گزینوں نے دس سال تک سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کی اور۱۹۸۹؁ میں امریکیوں کی مدد سے اسے مار بھگایا۔ اس طرح مجاہدین نے ۷۰ سال بعد اپنے ملک کو پھر ایک بار غیر ملکی تسلط سے آزاد کرالیا۔ ۱۹۹۵؁ میں طالبان اقتدار میں آئے ۔ طالبان کے ساتھ چونکہ القائدہ کے اسامہ بن لادن بھی تھے اس لیے ان کی حکومت کو صرف تین ممالک پاکستان،سعودی عرب اور شارجہ نے تسلیم کیا۔ ۱۱ ستمبر۲۰۰۱؁ میں القائدہ کا بہانہ بناکر امریکہ بہادر نے افغانستان پر فوج کشی کرکے ملا عمر کو اقتدار سے ہٹانے کی حماقت کردی جس سے اب وہ تائب ہورہا ہے۔ علامہ اقبال کی شہرہ آفاق نظم ’ابلیس کی مجلسِ شوریٰ ‘میں ابلیس اپنے حواریوں کو یہ مشورہ دیتا ہے ؎
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
ابلیس کے اس مشورے پر سوویت یونین اور امریکہ دونوں نے عمل کیا لیکن غیور افغانیوں نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ ۱۸ سال کے بعد امریکہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ کل تک’ ہمارے ساتھ یا ان کے ساتھ ‘کہہ کر’ پتھر کے دورمیں بھیجنے کی دھمکی‘ دینے والے جارج ڈبلیو بش کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اب یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ’’ہم نہیں جانتے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں تاہم دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم امن کی کوشش کریں ‘‘۔ اس کے بعد علی الاعلان ۱۸ دسمبر ۲۰۱۸؁ سےافغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکی حکام اور افغان طالبان کے درمیان متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔
ان مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور ممکنہ جنگ بندی پر بات چیت کی گئی ۔ فریقین میں طالبان اور امریکہ کے علاوہ افغان حکومت، پاکستان، سعودی عرب اور امارات کے نمائندے بھی شریک رہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کے بارے میں ٹوئٹر پر بتایا کہ افغانستان میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو، “قابض افواج” کا انخلا اور امریکہ و اس کے اتحادیوں کی “ظالمانہ کارروائیاں” روکنے پر گفتگو ہوئی۔ اس بیان میں موجود صاف گوئی اور جرأتمندی کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ مذاکرات میں عراقی نژاد امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے امریکی وفد کی قیاد ت فرمائی ۔وہ پہلے بھی طالبان کے نمائندوں سے قطر میں دو بار غیر رسمی گفتگو کر چکے تھے۔ اس وقت افغانستان میں امن کی بحالی امریکہ کی ضرورت ہے کیونکہ اس جنگ میں خودساختہ سپر پاور کے حصے میں سوائے ہزیمتوں ، نامرادیوں اور پسپائیوں کے کچھ نہیں آیا۔ امریکہ اگر مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کرے تو یقیناً افغان سرزمین نیٹو افواج کے قبرستان میں تبدیل ہو جائیگی ۔ امریکہ کو افغانستان میں ویتنام سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے باوجود امریکہ کو ۱۷ برسوں کے بعد ویتنام سے بھی زیادہ شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
امریکہ کو’بعد از خرابیٔ بسیار‘ اس حقیقت کا ادراک ہوچکا ہےکہ سرزمین افغانستان بہرصورت افغانی عوام کی ہے۔اس پرغیور افغانیوں نے آج تک کسی غیرملکی کے قدم ٹکنے نہیں دیئے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان میں اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی لاتے ہوئے اپنے فوجیوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ امریکہ ۲۰۱۹؁ کے اندر افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرلینا چاہتا ہےلیکن اس میں مشکل یہ ہے کہ امریکی وفد طالبان پر جنگ بندی کے لئے زور دیتا ہے جبکہ طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا نظام الاوقات طلب کرتے ہیں۔ یہ اس صدی کا معجزہ ہے کہ ملا فضل اللہ اور ملا خیراللہ جنہیں دہشت گرد قرار دے کر گوانتا نامو بے کے عقوبت خانہ میں قید کردیا گیا تھا آج امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز موجود ہیں ۔ان مجاہدین اسلام پر علامہ اقبال کے یہ اشعار صادق آتے ہیں؎
یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ’امریکہ سب سے پہلے‘ کی پالیسی کے تحت ہے افغانستان سمیت تمام ممالک سے امریکی فوجوں کو واپس بلا لیں گے۔ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد فوجی مشیروں اور نیٹوکے دیگر اتحادیوں نے ان کا ذہن تبدیل کردیا ۔ اس کے سبب انہوں نے افغانستان کے اندر امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ۔ اس وقت افغانستان میں ۱۴۰۰۰ امریکی واتحادی ممالک کے تقریباً ۸۰۰۰ فوجی موجود ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داری افغان فوج کی تربیت اور مشاورت ہے۔۲۰۱۵؁ سے امریکی فوجیوں نے خود کو میدان عمل سے دور کرلیا ہے اسی لئے ان تین سالوں کے اندر طالبان سے جنگ میں جہاں ۳۰ہزار افغان فوجی ہلاک ہوئے وہیں امریکی فوجیوں کی تعداد صرف ۶۰ ہے۔ امن معاہدے کی صورت میں یہ گورکھ دھندا بند ہوجائے گا۔
واشنگٹن کے اندر یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ طالبان سے بات چیت بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ایک طویل سفر کے ابتدائی دو تین قدم ہی اٹھائے گئے ہیں۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ طالبان فوری جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہیں ۔طالبان سمجھتے ہیں کہ اس طرح ان کے لیے اپنےمطالبات منوانا مشکل ہو جائےگا۔متحدہ عرب امارات کے بعد بات چیت کا دوسرا دور قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں منعقد کیا گیا۔ یہ مذاکرات براہ راست امریکہ اور طالبان کے درمیان تھے۔ان میں افغان حکومت یا کسی تیسرے ملک کے نمائندے شامل نہیں تھے۔ اس موقع پر طالبان کی کامیابی اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان جنگ کی تاریخ میں پہلی بار امریکی حکومت مکمل جنگ بندی اور ۱۸ ماہ کے اندر امریکیوں سمیت تمام غیر ملکی افواج و عناصر کی مکمل انخلاء پر راضی ہوگئی۔ یہ امن معاہدہ دراصل طالبان کی فتح مبین ہے کیونکہ افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلا اس کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ہم اس سال کو افغانستان میں امن کا سال قرار دینا چاہتے ہیں‘‘۔اس امن معاہدے کی اہمیت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدہ چاہتے ہیں، تاکہ طالبان بھی آئندہ انتخابی عمل کا حصہ بن سکیں‘‘۔زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان سے مذاکرات کی کوششوں میں پاکستان اور روس کے مثبت کر دار کو سراہا۔ امریکہ کی عجب منافقت ہے کہ افغانستان میں اپنا تسلط مضبوط کرنے کی خاطر ہندوستان سے تعاون طلب کرتا ہے اور جب امن کی بات ہوتی ہے تو پاکستان و روس کی تعریف کرتا ہے۔ ہندوستانی حکام کو اپنی خارجہ پالیسی وضع کرتے وقت اس امریکی دوغلہ پن کا لحاظ کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے اٹل جی کے بعد منموہن سنگھ اور اب مودی سرکار نے افغانستان میں جن گھوڑوں پر داوں لگایا وہ سب فی الحال دوڑ سے باہر ہورہے ہیں۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے عالم اسلام کو مخاطب کرنے والی زیادہ تر شاعری فارسی میں کی ۔ ایران میں اس کی بڑی پذیرائی ہوئی اوراسلامی انقلاب کے ۴۰ سال بعد بھی اس کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ہندو پاک بلکہ ساری دنیا کے اردو داں حضرات نے بھی علامہ اقبال کے پیغام کو ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ ان پر بہت کچھ لکھا گیا اور خوب گایا بھی گیا ۔ خطبات و تقاریر اور تحریروں اقبال کی شاعری کا بھرپور استعمال ہوا لیکن اس سمجھنے کی کوشش کم ہی کی گئی۔ جہاں تک اس پیغام جاودانی کوعملی جامہ پہنانے کا سوال ہے اس کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ۔علامہ نے اردو میں محراب گُل افغان کےافکارکو نظم کے پیرائے میں ڈھال دیا اور افغانیوں نے اسے گرہ میں باندھ کر حق ادا کردیا۔ ویسے تو اس نظم کا ہر شعر لاجواب ہے لیکن اس کا یہ بند دیکھیں؎
تیری بے عِلمی نے رکھ لی بے عِلموں کی لاج عالِم فاضِل بیچ رہے ہیں اپنا دین ایمان
اپنی خودی پہچان، او غافل افغان!