ایڈووکیٹ شاہد اعظمی؛میدانِ عدالت کا شہید

خراج عقیدت از: مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈووکیٹ، کریمنگر


خراج عقیدت از: مفتی محمد نوید سیف حسامی ایڈووکیٹ، کریمنگر

(بموقع یوم وفات شاہد اعظمی: 11 فروری)

شاہد اعظمی؛بہت سوں کے لئے یہ نام ہی نیا ہوگا، یہ بات بھی شاہد پہلی بار ہورہی ہوگی کہ کسی وکیل کو شہید کے لقب سے یادکیا جارہا ہے اور اس کی بھی ممکن ہے نظیر نہیں ملے کہ کسی وکیل کی تعریف و منقبت میں صفحات سیاہ کئے گئے ہوں، شاہد نے متاثرہی کچھ ایسے کیا ہے کہ کیا کہا جائے۔

ملک عزیز کا موجودہ نظام قانون اہنے اندر اتنی پیچیدگیاں لئے ہوئے ہے کہ اس کے اندر جانے والا باہر نکلنے کے لئے جتنی شدت سے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اتنا ہی پھنستا چلا جاتا ہے، سیاہ و سفید لباس میں ملبوس خود کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھنے والے وکلاء، اندھا قانون، ملزموں و مجرموں کی بھیڑ بھاڑ، مقدمات کا انبار اور پیسوں کی زبان، یہ سب مل کر ایک عام انسان کی پرسکون زندگی کو زیر و زبر اور تہہ و بالا کردیتے ہیں، پھر اگر مقدمہ دہشت گردی اور ملک دشمنی کا ہو تو اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔

شاہد اعظمی بھی اسی سسٹم کا مارا ہوا تھا ، شاہد کی پیدائش سن 1977 میں ممبئی کے مضافاتی علاقہ دیونار میں ہوئی،شاہد اپنے پانچ بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا، ، یہ خاندان اترپردیش کے مشہور ضلع اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھااور وہیں سے نقل مکانی کرکے ممبئی میں آباد ہوچکا تھا…

سن 1992میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی میں فسادات پھوٹ پڑے، 6دسمبر تا 5جنوری ممبئی کا ماحول اور اس کی آب وہوا انتہائی وحشت انگیز تھی، ان فسادات میں (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق) 900 لوگ مارے گئے جن میں مسلمانوں کی تعداد 575 تھی…

شاہد اس وقت 14 سال کا تھا، فسادات کے دوران دسمبر 1992 ہی میں شاہد کو فسادات کی آگ بھڑکانے کے بے بنیاد اور حقیقت سے بعید الزام میں پولیس نے گرفتار کرلیا لیکن قانونی اعتبار سے نابالغ ہونے اور ٹھوس ثبوت کی عدم دستیابی کی بنا پر رہا کردیا گیا ، شاہد کی یہ پہلی گرفتاری تھی جس میں اس کی کم عمری نے فائدہ پہونچایا لیکن دو سال بعد دسمبر 1994 میں شاہد کو بدنام زمانہ قانون TADA کے تحت شیوسینا لیڈر بال ٹھاکرے اور دوسرے سیاستدانوں کے قتل کی سازش رچنے کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا…

یہ TADA وہ قانون تھا جس میں پولیس کو فری ہینڈ دے دیا گیا تھا، عام مقدمات میں گرفتار شدہ شخص کو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے پولیس تحویل میں لیا جانا ضروری ہے نیز پولیس کسٹڈی میں اقبالِ جرم؛ ثبوت کی حیثیت نہیں رکھتا ،کسی بھی مقدمہ میں چاہے وہ قتل ہی کیوں نہ ہو ملزم یا مجرم کی جائیداد ضط نہیں کی جاتی اور جرم کے ثبوت کی ذمہ داری پولیس پر ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس TADA کے ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے بغیر پولیس60 دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی تھی نیز پولیس تحویل میں (ظلم و زیادتی کے خوف سے جبراً ) اقبال جرم بھی ثبوت کے لئے کافی تھا اور اہلکاروں کو ملزم کی جائیداد ضبطی کی بھی اجازت تھی…

جون 1994 تک اس قانون کے تحت گرفتار لوگوں کی تعداد 76,000 تک پہونچ چکی تھی جس میں سے پچیس فیصد پر کوئی چارجس نہیں لگائے گئے، پینتیس فیصد افراد پر مقدمہ چلا جن میں سے پچانوے فیصد کو عدالتوں نے بری کردیا، یعنی 76,000 میں سے صرف دو فیصد افراد خاطی قرار پائے…

شاہد اعظمی کو مہاراشٹرا ہائی کورٹ نے TADA مقدمہ میں خاطی قرار دیا لیکن عدالت عظمی (سپریم کورٹ) میں اپیل کرنے پر وہاں سے 2001 میں شاہد کی باعزت رہائی کا پروانہ جاری ہوا لیکن اس دوران شاہد کی عین جوانی کے سات قیمتی سال گذر چکے !تھے، یہ جب تہاڑ جیل سے باہر نکلا تو عمر کے تیئیس سال گذر چکے تھے…

جیل کے بارے میں عمومی تصور یہی ہے کہ یہاں چور جاتا ہے تو ڈاکو بن کر نکلتا ہے، گھروں کے تالے کھولنے والا وہاں سے تجوری کھولنے کا ہنر سیکھ کر آتا ہے، شاہد تہاڑ جیل سے گریجویشن کی ڈگری لے کر نکلا ،جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی جیل ؛تہاڑ جیل کی سیلن زدہ دیواروں، زنگ خوردہ سلاخوں اور وہاں کے اہلکاروں کے ذلت آمیز رویہ نے شاہد کے عزم کو پست کرنے کے بجائے حوصلہ کو مہمیز کیا،اس نے دوسروں کا مسیحا بننے کا فیصلہ کیا، خود کے آنسو تو بہہ پڑے تھے دوسروں کے آنسو روکنے کا تہیہ کیا، اپنے خاندان پر بیتی کو دوسروں کی آپ بیتی بننے نہ دینے کا عزم اسے وکالت کی طرف لے گیا…

جیل میں چونکہ اس نے صحافت کی ڈگری حاصل کی تھی اس لئے باہر آنے کے بعد وکالت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نے سب ایڈیٹر کی نوکری شروع کی ، 2003 میں وکالت کی ڈگری کے حصول کے بعد ممبئی کے مشہور وکیل مجید میمن کے پاس ماہانہ دو ہزار روپے تنخواہ کے عوض قانونی پریکٹس شروع کردی، لیکن کچھ ہی مہینوں بعد شاہد کو اندازہ ہوگیا کہ یہ وہ فضا نہیں جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے ، چنانچہ اسی سال اس نے اپنی ذاتی پریکٹس کا آغاز کردیا…

پریکٹس کی شروعات میں ہی اس نے دہشت گردی الزامات میں ماخوذ مسلمانوں کے مقدمات لینے شروع کئے جن میں سے اکثر بلا معاوضہ تھے ،شاہد نے جمعیة علماء ممبئی کی شراکت داری میں بھی مقدمات لئے اور متاثرین کو باعزت بری کروایا، شاہد کی سب سے بڑی عدالتی کامیابی گھاٹ کوپر بم بلاسٹ کیس 2002 کی شکل میں سامنے آئی جس میں عارف پان والا نامی شخص کو POTA کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، عارف پان والا پر یہ الزام تھا کہ گھاٹ کوپر بم بلاسٹ کا ماسٹر مائنڈ اور اصل مجرم یہی ہے لیکن شاہد اعظمی نے ایسی مہارت اور لگن کے ساتھ اس کا مقدمہ لڑا اور اس طرح قانونی نکات پیش کئے کہ نہ صرف عارف پان والا رہا ہوا بلکہ POTA پر نظر ثانی اور بالآخر POTA کی تنسیخ بھی اسی مقدمہ کی وجہ سے ہوئی۔

گھاٹ کوپر بم بلاسٹ کیس کے ساتھ ساتھ شاہد نے 2006 ممبئی ٹرین بم بلاسٹ کیس، 2006 اورنگ آباد اسلحہ چوری مقدمہ، 2006 مالیگاؤں بم بلاسٹ کیس کے ملزمین کا بھی بھر پور دفاع کیا، 26نومبر 2008 کو ممبئی میں تاج ہوٹل حملوں کے ملزم فہیم انصاری کا بھی کیس شاہد اعظمی نے لڑا، فہیم انصاری پرحملہ آوروں کو ممبئی کی اہم جگہوں کا نقشہ بناکر دینے اورشہر میں آنے جانے کے راستوں کی نشان دہی کروانے کا سنگین الزام تھا…

فہیم انصاری کا کیس شاہد کی مختصر لیکن کامیاب زندگی کا آخری کیس ثابت ہوا، شاہد کی عدالتی کامیابیاں ایک مخصوص طبقہ کے لئے ناقابل برداشت ہوچکی تھیں، اس نے جس مہارت کے ساتھ TADA اور POTA جیسے ظالمانہ قوانین میں نقب لگائی تھی اور جس طرح اس نے اپنے آپ کو بے گناہ مسلمانوں کی رہائی کے لئے وقف کردیا تھا وہ فریق مخالف کے ہوش اڑادینے کے لئے کافی تھا، شاہد کے اپنے محاذ سے پیچھے نہ ہٹنے کی صورت میں انہیں شاہد کا وجود زمین پر بوجھ نظر آنے لگا پھر وہی ہوا جو سینہ تان کر مخالف کو للکارنے والوں کے ساتھ ہوتا چلا آرہا ہے…

مقدمات میں شاہد کا مسلم سپورٹ رویہ دیکھتے ہوئے شاہد کو دھمکی آمیز فون کالس کی شروعات ہوچکی تھی جس کی شکایت وہ ممبئی پولیس میں درج کرواچکا تھا، 11 فروری 2010 کی شام شاہد تھکا ماندہ اپنے گھر واپس آیا، اس کی والدہ ریحانہ اعظمی کے مطابق وہ فریش ہوکر رات کے کھانے کی تیاری کررہا تھا کہ اس کے آفس واقع ٹیکسی مین کالونی، کُرلا، ممبئی سے اس کے پیون کا فون آیا کہ چار افراد کسی مقدمہ کے سلسلے میں آپ سے بعجلت ملنا چاہتے ہیں، شاہد نے ٹالنے کی کوشش کی لیکن ادھر سے اصرار ہونے لگا، شاہد نے مظلومین کے تئیں اپنے فطری نرم رویہ کو سامنے رکھتے ہوئے آنے کی ہامی بھرلی، والدہ سے ابھی آتا ہوں کہہ کر نکلا لیکن پھر نہیں لوٹا… وہاں آفس پہونچنے پر آفس بوائے نے اشارہ کیا کہ وہ لوگ اندر بیٹھے ہیں، شاہد جیسے ہی اندر گیا انہوں نے پیشانی پر دو گالیاں ماریں اور وہاں سے فرار ہوگئے…وفات کے وقت شاہد کی عمر صرف 32 سال تھی…

شاہد اعظمی نے اپنے صرف سات سالہ دور وکالت میں تاخیر سے فیصلہ سنانے کے لئے بدنام عدالتوں میں بھی دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں ماخوذ سترہ افراد کو باعزت بری کروایا، تاج ہوٹل حملوں کے ملزم فہیم انصاری کا کیس شاہد کی موت کے وقت نامکمل تھا لیکن جن بنیادوں پر شاہد کے دفاع کی عمارت کھڑی کی تھی اس عمارت کو دیکھتے ہوئے صرف تین ماہ بعد مہاراشٹرا ہائی کورٹ نے فہیم انصاری کو رہا کردیا، دو سال بعد 2012 سپریم کورٹ نے بھی فہیم انصاری کو باعزت بری کردیا…

شاہد کی شہادت نے جہاں بہت سوں کو مایوس کیا وہیں کئی نوجوانوں کے اندر جذبہ بھی بھر دیا، چنانچہ صحافی مہتاب عالم کے مطابق کیرالہ کا محمد ریاض جو سائنس پڑھ کر پائلٹ بننا چاہتا تھا اس نے شاہد کی مظلومانہ ہلاکت کے ایک سال بعد اس کے بارے میں ایک مضمون پڑھا اور وکالت کرنے کا فیصلہ کیا، شاہد کے بارے میں پڑھنا اور جاننا اس کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا اس نے یہ بھی کہا میں وکیل بن کر شاہد کے قاتلوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وکیل کے قتل سے انصاف کو مارا نہیں جاسکتا ( ریاض نے اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد قانونی پریکٹس شروع کردی ہے) اسی طرح سابق صحافی راجیو یادو نے کہا کہ “شاہد کی زندگی اور اس کے کارناموں نے مسلم نوجوانوں میں ایک روح پھونک دی ہے، میں ایسے کئی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے مل چکا ہوں جو شاہد جیسا بننا چاہتے ہیں”، مالیگاوں کا شاہد ندیم لکھنو کی فردوس صدیقی اس کاز میں سرفہرست ہیں…

شاہد کبھی کبھار دیونار، ممبئی میں واقع ٹاٹا انسٹیٹیوٹ میں بحیثیت مہمان لکچرار کے طلبہ کو درس دینے کے لئے آیا کرتا تھا، وہاں کی طالبہ مونیکا نے ایک جگہ لکھا کہ “شاہد سے اس کی جیل کی زندگی کے سب سے تکلیف دہ ٹارچر کے بارے میں پوچھا گیا تو اس بتایا کہ جیل میں رمضان المبارک کے دوران سحری کا نہ دیا جانا میرے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک تھا اور یہ اذیت میرے لئے جسمانی سے زیادہ ذہنی و روحانی تھی“، مونیکا مزید لکھتی ہیں “جب شاہد سے دریافت کیا جاتا کہ قید کے دوران اس کے ذہن میں ان مصائب کا کیا حل آیا کرتا تھا جن وہ مبتلا تھا؟ تو وہ بڑی نرمی سے جواب دیتا انصاف کی جنگ

شاہد کے قتل کا مقدمہ ابھی بھی چل رہا ہے، افسوس کہ جس نے 7 سال میں 17 افراد کو انصاف دلوایا 9 سال بعد بھی اس اکیلے کو انصاف نہیں ملا…
شاہد اعظمی کے بعد اس کے بھائی خالد اعظمی بھی اسی راستہ پر چل پڑے ہیں اور اپنے مرحوم بھائی کی آفس سے ہی وہ قانون و انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں…

مضمون طویل ہوگیا ہے، بہت کچھ لکھنا باقی ہے، ان شاء اللہ کسی اور موقعہ سے کچھ اور باتیں اس شہید ایڈووکیٹ کے متعلق زیر تحریر لائی جائیں گی…

مضمون نگار سے رابطہ کے لئے
+919966870275
muftinaveedknr@gmail.com