اندرائے ثانی ۔۔۔ پرینکا گاندھی! ’’خوداحتسابی‘‘ *سید حسین شمسی*

’’خوداحتسابی‘‘
*سید حسین شمسی*
ادارتی صفحہ: روزنامہ راشٹریہ سہارا
اشاعت: جمعہ، 25 جنوری 2019

اندرائے ثانی ۔۔۔ پرینکا گاندھی!

پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں ’باضابطہ‘ قدم رکھنے کی خبر سنتے ہی ذہن میں چند پرانی تصویریں ابھر آئیں۔ وہ کم سن راہل گاندھی کا اپنے والد کے جسد خاکی کو ’مُکھ اگنی‘ دینا، پرینکا کا خاموش مانندِ بُت کھڑے رہنا اور پھر آنجہانی راجیو گاندھی کے قاتلوں اور قتل کے اسباب تلاش کرنے والی جین کمیشن کی سنوائیوں میں، عین نوجوانی میں، موجود رہنا اپنے والد کے تئیں محبت سے سرشار بیٹی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی پُرعزم لڑکی کی طرف بھی دلالت کرتا ہے جو اپنے شفیق باپ کے قتل کا سبب جاننے پر مصر تھی۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ اسی دلیر لڑکی نے، جو اب خود دو بچوں کی ماں ہے، جیل جا کر نہ صرف یہ کہ اپنے والد کی قاتلہ نلِنی سری دھر سے ملاقات کی بلکہ اسے معاف کر دیا۔ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے تب کہا تھا، ’’ہم نے (راہل اور پرینکا) نے اپنے والد کے قاتلوں کو پوری طرح معاف کر دیا ہے۔‘‘ کسی طاقتور کا، جبکہ اس کے پاس انتقام لینے کی طاقت بھی ہے اور ٹولز بھی، معاف کر دینا ایک انتہائی دلیرانہ قدم ہے۔ یقیناً یہ ان کی سیاست نہیں، انسانیت تھی۔

اب رہی بات سیاست کی تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نہرو ۔ گاندھی خاندان نے بہترین سیاست کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ یقیناً کانگریس سے بھی دورانِ حکمرانی غلطیاں سرزد ہو ئی ہیں، عام طور سے دیکھا گیا ہے کہ جب دورِ حکمرانی طویل ہوتا ہے، تو لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ بنی نوع انسانی کی تاریخ انسانی و حکمرانی کی لغزشوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن کانگریس نے ان لغزشوں کا خمیازہ بھی بھگتا، اس کی قیمت بھی ادا کی۔ مسز اندراگاندھی نے ایمرجینسی نافذ کی تو پھر حکومت سے باہر بھی رہیں۔ اتر پردیش اور بہار کے عوام کی آرزوؤں کو نظر انداز کیا، تو آج یہ حالت ہے کہ گزشتہ کئی انتخابات سے اتر پردیش اور بہار جیسے اس کے پرانے قلعوں میں اس کی حیثیت ضمنی پارٹی کی ہو کر رہ گئی ہے۔ ہاں البتہ یہ بات تو قابل تسلیم ہے کہ وہ ’اوچھی‘، ’نیچ‘ سیاست کے قائل نہیں، اس کا رویہ فراخ دلانہ ہے۔ ایسا نہیں ہوا کہ جنتا پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد جب اندرا گاندھی برسراقتدار ہوئیں تو اپنے سیاسی حریفوں کو کچلنے کی کوشش کی۔ ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ’بھارت کو جنتا پارٹی مُکت‘ کرنے کا نعرہ دیا۔ اور ایسا نہ ہونے کی وجہ صاف ہے کہ گاندھی، نہرو، آزاد و دیگر ’’بانیان ملک‘‘ کی انگلی پکڑ کر چلنے والی اس لڑکی ’اِندو‘ کو ’تصور ہندوستاں‘ کی خبر تھی، سمجھ تھی، ادراک تھا۔ وہ یک رخے چشمے سے دیکھنے کی عادی نہیں تھی۔ اس نے بانیان ملک کے ہاں اختلافات دیکھے تھے، مخالفت بر بِنائے مخالفت نہیں۔ جب اندرا جی تھیں تو زمانہ کہتا تھا ’اندرا کا کوئی ثانی نہیں ہے‘، اب حال یہ ہے کہ لوگ پرینکا گاندھی کو ’اندرا ثانی‘ کہتے ہیں۔ کسی گاؤں دیہات سے گزر ہو تو بوڑھی عورتیں بلائیں لیتی ہیں، بزرگ صدقے جاتے ہیں اور اپنی باقی عمریں اسے لگنے کی دعائیں دیتے ہیں۔ جبکہ پُرجوش کانگریسی ورکرس یہ نعرہ دینے لگے ہیں
’’پرینکا نہیں آندھی ہے ۔ یہ دوسری اندراگاندھی ہے‘‘

ہم نے پرینکا کی درجنوں ایسی تصویریں دیکھی ہیں جن میں وہ اپنی دادی کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ قدرت کا کوئی بھی عمل بے سبب، بے وجہ نہیں ہوتا۔ مسز اندرا گاندھی اور پرینکا کے چہرے بشرے میں یہ بلا کی مماثلت صرف بیرونی نہیں ہوگی۔ ہم نے مسز گاندھی کی نرم گفتاری بھی سنی ہے، پرینکا کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ بغیر کسی کڑواہٹ کے بولتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کی دادی اور والد، دونوں وزرائے اعظم، قتل ہوئے ہیں، ان کی زبان پر تلخی نہیں ہے۔ اس کے برعکس وہ، کہ جنہوں نے کچھ کھویا ہی نہیں، جو بہ زعم خود چائے بیچتے تھے اور وزیر اعظم بن گئے، یعنی سب پایا ہی پایا ہے، کس قدر کڑواہٹوں اور اہنکار سے بھرے ہوئے ہیں۔ بھارت کو کئی تصورات، کئی قسم کے لوگوں اور ازم سے پاک کرنے کے ارادے ہیں اُن کے۔ یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے نہ ’تصور ہندوستاں‘ کا خواب دیکھا اور نہ ہی اس کی تکمیل لازم سمجھتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ پرینکا کے پاس دادی اندرا گاندھی کی ساڑیوں کا کلیکشن ہے، دیکھنا ہوگا کہ کیا ان کے ترکش میں وہ سیاسی تیر بھی ہیں جو ان دیو ہیکل قوتوں کو ’دھراشائی‘ کر دیں گے جو اس حسین گلشن کو پامال کرنے کے درپے ہیں، جو تصور ہندوستاں کو شکست دینے کے متمنی ہیں، جو یک رنگی تھوپنے کے خواہش مند ہیں اور جن کی منشا ہے کہ ہماری حکومت قائم رہے، ملک بھلے کثیر لخت ہو جائے۔

مشرقی اترپردیش کے رائے بریلی اور امیٹھی پارلیمانی حلقہ کے انتخابی مہمات میں پہلے بھی پرینکا حصہ لے چکی ہیں۔ پرینکا ریلیوں کی جگہ روڈ شو اور ’نکّڑ سبھائیں‘ کرنے پر زیادہ یقین رکھتی ہیں۔ ایک دن میں اوسطاً 15نکڑ میٹنگیں کرتی رہی ہیں۔ جس طرح اندرا گاندھی کے اندر بناوٹی پن نہیں تھا، پرینکا بھی سادگی پسند ہیں۔ وہ اپنی تقریر و بیانات میں عام طور پر اپنے مخالفین وناقدین کا نام لینے سے گریز کرتی ہیں۔ دوران تقریر ان کی زبان سے کبھی کسی کے خلاف نازیبا وغیر موزوں جملوں کا استعمال نہیں سنا گیا۔ پرینکا کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ جس شخص سے ایک بار ملاقات اور بات ہوجاتی ہے، پھر سال بھر بعد بھی ملاقات ہونے پر وہ پہچان جاتی ہیں اور مخاطب سے احوال پوچھنا نہیں بھولتیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جنتا پارٹی کی حکومت کے بعد ہونے والے انتخابات میں مشرقی اترپردیش نے کانگریس کے احیا میں کافی فعال کردار ادا کیا ہے اور یہ وہ علاقہ جہاں اب بھی ایسے لوگ زندہ ہیں جنہوں نے مسز اندراگاندھی کو دیکھا ہے، ان کے ساتھ چار گام چلے ہیں۔

ماضی کی تاریخ پرنظر ڈالیں تو یہ پارٹی اس خاندان کے بغیر کم ہی اقتدار میں آئی ہے۔ سونیا گاندھی نے جب پارٹی کی قیادت سنبھالی تو پارٹی اقتدار سے باہر تھی مگر انھوں نے اسے اقتدار تک پہنچایا اور دس سال تک پارٹی نے راج کیا۔ اب راہل گاندھی کے ہاتھوں میں پارٹی کی کمان ہے۔ انہوں نے پے درپے ناکامیوں سے ہمت نہیں ہاری، بلکہ ہار سے سبق حاصل کیا۔ ان کی اسی تندہی اور تحمل کے سبب حالیہ انتخابی نتائج شکست سے فتح میں مبدّل ہوئے۔ اب جبکہ موجودہ این ڈی اے حکومت کی غلط پالیسیوں سے عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے اور بی جے پی کے سُرور میں کمی واقع ہوئی ہے تو کانگریس کے لئے اس سے بہتر موقع نہیں ہوگا کہ بی جے پی کو ’’ تختِ شاہی سے تختہ دار پر لا کھڑا کرے‘‘۔

عین انتخابات سے قبل کانگریس کے اس قدم کو ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ کہا جارہا ہے۔ یوں تو کافی عرصہ سے پرینکا گاندھی کے سیاست میں متحرک رول کی قیاس آرائیاں چل رہی تھیں لیکن گزشتہ برس جب ایک موقع پر سلمان خورشید نے اپنے بیان میں پرینکا کو ’گیم چینجر‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں پرینکا اہم رول ادا کریں گی، تو کانگریس میں ان کی حد درجہ مقبولیت واہمیت کا صحیح اندازہ ہوا، بلکہ یہ قیاس یقین میں بدلنے لگا کہ پرینکا سرگرم سیاست میں کبھی بھی قدم رکھ سکتی ہیں۔ کانگریس اور نہرو خاندان کے لئے خوش آئند بات یہ ہے کہ پرینکا کی باضابطہ عہدہ سازی راہل کی مسلسل ناکامیوں کے پیش نظر نہیں، بلکہ ان کی بڑھتی سیاسی بالغ نظری، خوداعتمادی اور حصولِ کامیابی کے سلسلہ کو لامتناہی بنانے کے لئے ہوا ہے۔ غرضیکہ پرینکا گاندھی کا کردار راہل گاندھی کے دست وبازو بننے کا ہوگا، متبادل کے طور پر نہیں۔ کانگریس نے تُرپ کا پتّہ کے طور پر پرینکا کا استعمال اک ایسے وقت میں کیا ہے کہ ان کی آمد کو ’بوسٹر ڈوز‘ کہا جارہا ہے جس سے کانگریس ورکروں کا جوش دوبالا ہوجائے گا اور اس امید کو پختگی حاصل ہوگی کہ ’’ہاں اب یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے‘‘۔

اب جبکہ پرینکا گاندھی نے عملی سیاست میں قدم رکھ دیا ہے اور کانگریس اعلیٰ کمان نے نہ صرف یہ کہ انہیں قومی جنرل سکریٹری بنایا، بلکہ 2019 پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر انہیں مشرقی اترپردیش کا باضابطہ انچارج بھی بنا دیا ہے تو پرینکا کیلئے بڑے چیلنجز ہیں۔ مشرقی اتر پردیش بہ یک وقت نریندر مودی کا انتخابی حلقہ اور آدتیہ ناتھ یوگی کا گڑھ مانا جاتا ہے، لیکن دلیر تو اپنے لئے توانا مدمقابل کا انتخاب کرتے ہیں، سو پرینکا گاندھی بھی نفرتوں کی فلک بوس دیواروں کو پار کر کے اپنے نرم لہجے میں کانگریسی محبت کے بیج بونے نکلیں گی۔

2019 کے پارلیمانی انتخاب کو لے کر کانگریس اگر واقعی سنجیدہ ہے اور بی جے پی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کا دم بھرتی ہے تو پرینکا گاندھی کے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا، انہیں صرف مشرقی اترپردیش تک محدود نہیں رکھنا ہوگا بلکہ پورے ملک میں ہونے والے اس انتخاب میں پرچار کے لئے جن علاقوں میں مصروفیت کے باعث راہل نہیں جاسکتے یا جہاں پرینکا کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہو، وہاں پرینکا کو بھیجا جائے، تاکہ کانگریس حکومت سازی کے لئے مطلوبہ سیٹیں حاصل کرسکے۔ اگر پرینکا کو فی الحال صرف مشرقی اترپردیش تک محدود رکھا گیا تو یقیناً یہ تأثر جائے گا کہ ان کا استعمال بی جے پی سے زیادہ ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کے خلاف کیا جارہا ہے۔ کیونکہ اترپردیش کی سطح پر کانگریس فی الحال ووٹوں کو تقسیم کرنے کی پوزیشن میں ہے نہ کہ فتوحاتی جھنڈے گاڑنے کے در پے ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اترپردیش میں کانگریس سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا سبب نہیں بنتی تو بی جے پی کو شکست فاش دینے کے لئے ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کافی ہے۔ لہٰذ آج کی تاریخ میں اگر تمام ’’سیکولر‘‘ پارٹیاں بی جے پی کے خلاف ’’لام بند‘‘ ہیں تو کانگریس کو چاہئے کہ کم ازکم اس انتخاب تک اترپردیش میں اپنا کھویا ہوا وقار پانے کی کوشش کے بجائے بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے مایا اور اکھلیش کا ساتھ دے۔ چونکہ یہ نظریہ اور فکر قومی مفاد پر دلالت کرتا ہے، سو کسی بھی سیاسی پارٹی سے اس فراخدلی کی توقع کرنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ سب جانتے ہیں کہ ہر سیاسی پارٹی کو ذاتی اور پارٹی مفاد زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ پھر بھی یہ بات دوہرائی جارہی ہے کہ کانگریس اگر یہ سمجھتی ہے کہ پرینکا کی آمد سے اترپردیش میں یکایک انقلاب آجائے گا اور پارٹی پہلے ہی مرحلے میں کھویا ہوا وقار پالے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ حاشیے پر جاچکی کانگریس یہ جان لے کی بازآبادکاری وآبیاری اتنی آسان نہیں ہے۔

گزشتہ ایک برس سے سیاسی گلیاروں میں یہ چہ میگوئیاں بھی رہیں کہ مسلسل خرابیِ صحت کے باعث سونیا اب رائے بریلی سے انتخاب نہیں لڑیں گی۔ جس پر کانگریس اعلیٰ کمان کی جانب سے فوراً ردعمل آیا کہ ’نہیں ایسا قطعی نہیں سونیا گاندھی بھلے ایک سال سے اپنے پارلیمانی حلقہ میں نہ گئی ہوں لیکن انتخاب وہیں سے لڑیں گی‘۔ یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں تو اب دوسری اٹکلیں لگائی جارہی ہیں کہ پرینکا وارانسی سے نریندر مودی کے مقابلے میں انتخابی میدان میں اتریں گی۔ حالانکہ اس امکان سے قطع نظر نہیں ہواجاسکتا پھر بھی اس طرح کی امید رکھنا اسلئے مناسب نہیں کہ جس کانگریس نے پرینکا کو عملی سیاست میں لانے اور بند مٹھی کھولنے میں اتنا عرصہ گزار دیا، حد درجہ محتاط رویہ اپنایا وہ اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے سکتی ہے۔