دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

محمد سیف الاسلام مدنی
نورگنج پکھرایاں کانپور دیہات یوپی
 *
26* / *جنوری کو پورے ملک میں یوم جمہوریہ بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے ‘ہر گلی ہر نگر چوک چوراہوں پر ترنگے* *لہرائے جاتے ہیں، ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی جاتی ہے ‘*
 *اور ہوبھی کیون نہ کہ یہ جمہوریت جو بھارت کی آزادی کے ضمن میں وجود میں آیا* *اس آزادی کی خاطر “مسلمانان ہند اور برادران وطن نے بے مثال قربانی دی ہے ‘جو غیر منقسم* *ہندوستان کی نایاب اور سنہری تاریخ کا روشن اور جلی باب ہے ‘اس ملک کی آزادی کی اول تحریک بھی* *مسلمانان ہند نے شروع کی ‘اور انگریزوں کے جانے کے دن تک مسلمان اور علماء ہند* *آزادی کے علمبردار رہے* !
 *اس آزادی کو حاصل کرنے کیلئے ہمارے بزرگوں نے اپنے جان و مال کی قربانی دی ایک طویل لڑائی کے بعد انگریزوں کے* *شکنجہ سے ملک کے باشندوں کو آزادانہ سانس لینے کا موقع ملا اور بلا آخر 15 آگست سن 1947 کو ہمارا یہ* *ملک آزاد ہوا لیکن اس آزادی کے بعد بھی ہمارا اپنا کوئی آئین نہیں تھا ملک کا دستور و آئین مرتب کرنے سے قبل دینا میں* *رائج تمام  نظام ہائے حکومت کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس ملک کا دستور جمہوری بنیادوں پر تیار کیا جائیگا جس ملک کے ہر* *مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہو اور آئین کے* *حقوق و تحفظ حاصل ہوں آئین اور دستور بنانے کا سلسلہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی لیڈر شپ سے شروع ہوا* *اور آخر کار یہ آئین سن 1950 میں مکمل ہوگیا اور اسے 26 جنوری سن 1950 میں نافذکر دیا گیا اسطرح ہمارا ملک* *ایک عظیم جمہوری ملک بن گیا ایک ایسا ملک جس کی مثال دنیا کے دوسرے ممالک بھی دیتے ہیں* *اس دن کو ہم تمام ہندوستانی یوم جمہوریہ کے نام سے مناتے ہیں جو اس ملک کی اقلیت اور اکثریت کے لئے بہت بڑی نعمت* *ہے چونکہ جمہوریت ہی زندگی کا ایسا دستور اور تعمیر و ترقی کا ذریعہ ہے جس صحیح طور پر  زندگی کی نشو نما ہوتی ہے* *اور ملک تعمیر و ترقی کے منازل طے کرتا ہے نفرت اور بغض و وعناد جیسے ملک ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے* *جس سے ملک میں امن وچین کی فضا قائم ہوتی ہے جمہوریت کی بنیاد ہی عدل وانصاف پر قائم ہوتی ہے* *جمہوری ملک بسنے والے ہر فرد کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے مندروں میں گھنٹوں کی آواز* *ہوگی تو مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز آئے گی اور یہ حق ہم کو ہمارا آئین اور قانون دیتا ہے اور ہندوستان کے آئین اور قانون کو ماننے میں* *ہی ہم سبکی بھلائی ہے اور یہاں کے ہر باشندوں کو ملک کی تحفظ اور بقاءکیلئے ہر ممکن کوشش کرنا* *چاہیے آئیے ہم یوم جمہوریہ کے اس پر مسرت موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم سبھی ملک کے باشندے آپس میں* *پیار اور محبت سے رہیں گے اور نفرت پھیلانے والی طاقتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گے تاکہ ہمارا ملک ترقی کے اعلیٰ منازل طے کرسکے”*
 *یوم جمہوریہ ہر سال ہمیں ملک کے کونے کونے میں امن و شانتی،رواداری انصاف،* *چین و سکون، آپسی محبت اور یکجہتی و بھائی چارگی کا* *ماحول قائم  رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔ ملک کی خوشحالی اور ترقی میں اپنے کردار کو ادا کرنے کا* *احساس کراتا ہے اور اسی دور کی کرن دکھاتا ہے “جب اس ملک کو آزاد کرانے کے لئے آخری مرحلے میں مسلم* *ہندو سکھ عیسائی سب ایک ہوگئے تھے ‘اور انگریزوں کی بنیاد کو اس ملک سے اکھاڑ پھینکا “تھا ‘*
 *مسلمان وطن کل بھی اس ملک کے وفادار تھے اور آئندہ بھی اس وطن عزیز کے وفادار رہینگے ‘*
 *آج بھی سرکاری محکمات اپنے اسی دور کو دیکھیں کہ تحریک آزادی کے وقت ‘مذہب کی تفریق نہیں تھی ‘اس لئے آج بھی* *ضروری ہے ‘کہ مذہبی معاملات کے علاوہ دیگر امور میں بھی مذہبی تفریق نہ ہو ‘معیشت روزگار ‘امن و امان* *تمام چیزوں میں سبھی کو ساتھ لے کر چلیں* ‘
 *تب ہمارا ملک عزیز ترقی کرےگا”اور اس ملک کو توڑنے والی طاقتیں اپنے ناپاک عزائم* *کو سرنگوں ہوتا دیکھےگی* ‘
Attachments area