تحریکی ریل گاڑی

تحریکی ریل گاڑی

ڈاکٹر سلیم خان
دنیا کی ہر تحریک کے لیے دعوت ، تربیت اور تنظیم یعنی انجن ،ایندھن اور گارڈ ناگزیر ہیں۔ دعوت انجن اور تربیت ایندھن ہے ۔ تنظیم دراصل اس گاڑی کے گارڈ کا ڈبہ ہے۔ انجن کے بغیر ڈبے ساکت و جامد رہتے ہیں لیکن اگر ایندھن کی فراہمی بند ہو جائے تو انجن کچھ دور چل کر رک جاتاہے۔اسی طرح سے بغیر گارڈ کےمسافروں کی دیکھ بھال ممکن نہیں ہے۔ وہی ا س بات کو یقینی بناتا ہے کہ سارے مسافر سوار ہوگئے ہیں ۔ گارڈ اگر ذمہ داری کی ادائیگی میں چوک جائے تو مسافر چھوٹ یا گر سکتے ہیں ۔ گویا حفظ و امان کے ساتھ تحریکی سفر جاری رکھنے کے لیے ان تینوں کا فعال اور مستعد ہونا لازمی ہے۔ ان کے باہمی اشتراک و عمل سےمرحلۂ شوق خوشگوار ہوجاتا ہے اور منزل قریب سے قریب تر ہوتی جاتی ہے ۔ تحریک کےان اجزائے ترکیبی کےدرمیان توازن بنائے رکھنا ایک اہم داخلی چیلنج ہے۔ ان تینوں میں تال میل فقدان سفر میں دشواریاں پیدا کرتا ہے ۔
تال میل سے مراد یہ ہے کہ انجن کو جتنا ایندھن درکار ہو وہ بوقتِ ضرورت فراہم کردیا جائے اور ہر اسٹیشن یعنی مرحلہ میں گاڑی کو آگے بڑھانے سے قبل گارڈ یعنی سکریٹری مسافروں کا بغور جائزہ لے ۔ امیر یعنی ڈرائیور انجن اسٹارٹ کرنے سے قبل گارڈ کے اشارے کا پاس و لحاظ کرے مگر دوران سفر اس کی نظر راستے پر ہو۔ وہ کے سگنل کا خیال کرتے ہوئے حسبِ ضرورت رفتار بڑھائے یا گھٹائے اور لال سگنل پربریک لگا دے ۔ یاد رہے پیلے سگنل پر گاڑی کوتیزی سے دوڑانا جتنا غلط ہے ہرے اشارےپر دھیما چلنا ا بھی اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ غلط ہے۔ دونوں حالتوں میں حادثے کا خطرہ ہے۔ پہلی صورت میں آگے جانے والی گاڑی سے ٹکرانے کا امکان ہوتا ہے اور دوسری صورت میں پیچھے والا آکر ٹکر مارسکتا ہے۔ اس لیے حالات کا درست اندازہ لگانا اور اس کے مطابق اپنی رفتار گھٹانا یا بڑھانا بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ لاپرواہی اوربے جا اندیشے تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ۔
دعوت،تربیت و تنظیم کا موقع و محل بھی اہم ہے۔ تحریک پر اگر تنظیمیت غالب آجائے یعنی گارڈ کو آگے اور ڈرائیور کوپیچھے والے ڈبے میں بھیج دیا جائے تو یہ غیر فطری عمل تحریکی سفر کو دشوار گزار بنادیتا ہے۔ گارڈ آگے دیکھنے کے بجائے پیچھے دیکھنے کا عادی ہوتا ہے اس لیے گاڑی کی رفتار بڑھانے میں پس و پیش کا شکار رہتا ہے ۔ بسا اوقات وہ احتیاطاً گاڑی کو بہت دھیمے کردیتا ہے بلکہ بلاضرورت روک بھی دیتا ہے۔ اس کے باوجود حادثے کا امکان نہیں ٹلتا ۔ کسی سفر میں اگرڈرائیور کی توجہ منزل کے بجائے مراحل یعنی اسٹیشن پر مرکوز ہوجائےتو وہ ا پیچھے کے مناظر میں کھو جاتا ہے۔ اس کو آگے کا راستہ یعنی امکانات نظر نہیں آتے ۔ وہ خود اعتمادی کے ساتھ سے جرأتمندانہ اقدام کرنے کے بجائے گارڈ کی مدافعانہ نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
تحریک کے اندر جمود کاایک بڑاسبب ترتیب کا یہ الٹ پھیر ہے۔ اس کا علاج گارڈ کوانجن سے نکال کر اس کے اپنے ڈبہ میں بھیجنا اور گارڈ کے ڈبے میں بیٹھے ڈرائیور کوانجن میں لے آنا ہے۔ایسا کرنے کے بجائے اگر گارڈ کونظم کا ڈنڈا تھما دیا جائے اور وہ اس کی مدد سے مسافروں کا جینا دوبھر کرنے لگے تو تحریکی سفر دشوار گزار ہوجاتا ہے ۔ گارڈ کی ذمہ داری مسافروں کی خبر گیری تک محدود ہے ۔ وہ اگر انجن کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کر ے یا ایندھن فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے لگے تو سارا نظام درہم برہم ہوسکتا ہے اور گاڑی پٹری سے اتر سکتی ہے۔تقسیم کار اور ترتیب وتوازن کی بابت یہ پہلو بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اگر انجن چلتا رہے مگر اس کو ایندھن نہ ملے تو وہ رک جاتا ہے لیکن جب انجن چلنا بند کردے تو اس کے اندر پڑا ہوا ایندھن بیکار ہوجاتا ہے نیز اگر مزید بھرا جائے تو چھلک کر بے سود ہوجاتا ہے۔ اس لیے ایندھن کا بھرنا اور انجن کا چلنا یکساں اہمیت کا حامل ہے ۔