افیل طیاروں کی قیمت کے لے کر کیا مودی حکومت نے حلف نامہ دے کر سپریم کورٹ میں چھوٹ

نئی دہلی: رافیل طیاروں کی قیمت کے لے کر کیا مودی حکومت نے حلف نامہ دے کر سپریم کورٹ میں چھوٹ بولا ہے؟ آخر اس معاملہ میں جے پی سی (مشترکہ جانچ کمیٹی) سے جانچ کرانے سے مودی حکومت کیوں بچ رہی ہے؟ یہ وہ اہم سوال تھے جو کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے رافیل سودے معاملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اٹھائے۔

رافیل سودے کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھی کانگریس صدر راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس بات کو ثابت کردیں گے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس میں بدعنوانی کی ہے۔ اور ان کی سرکار نے عدالت میں اس بارے میں سی اے جی (کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ کا حوالہ دیکر جھوٹ بولا ہے کیونکہ یہ رپورٹ ابھی تک کسی نے دیکھی تک نہیں ہے۔

راہل گاندھی جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں جس سی اے جی رپورٹ کا ذکر کیا ہے وہ رپورٹ کہاں ہے،کیونکہ ابھی تک وہ نہ تو پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اور نہ ہی وہ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے پاس آئی ہے۔پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور پی اے سی کے چیئر مین ملکا ارجن کھڑگے بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی کہا کہ سی اے جی کی رپورٹ کمیٹی کے پاس نہیں آئی ہے۔

کانگریس صدر نے کہا “حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت وزیر دفاع کہتے ہیں کہ انہیں رافیل سودے کے بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں ہے. اس کی تمام جانکاری وزیر اعظم کے پاس ہے۔ ہم جے پی سی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن وزیر دفاع اور وزیر خزانہ جے پی سی کوتشکیل دینے سے انکار کر رہے ہیں‘‘۔

گاندھی نے کہا کہ حکومت نے جس سی اے جی رپورٹ کی تفصیلات عدالت کو دی ہے وہ رپورٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملہ میں حقائق کو چھپا رہی ہے۔انہوں نے کہا’’جب آپ جھوٹ بولتے ہیں تو جھوٹ پکڑا جاتا ہے. ایک جھوٹ کو دبانے کے لئے کئی جھوٹ بولے جا رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مودی اس معاملہ میں بچ نہیں سکتے ہیں۔ وہ چاہے کتنا بھی بچنے کی کوشش کریں لیکن جب جانچ ہوگی تو اس میں مسٹر مودی اور امبانی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 526 کروڑ روپے کا ہوائی جہاز 1600 کروڑ روپے میں کیوں خریدا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالوں کا جواب خود مسٹر مودی کو دینا چاہئے لیکن وہ جھوٹ بول رہے ہیں،وہ جواب دینے سے بچ رہے ہیں۔

قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے آج اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ رافیل سودے کی قیمت کے بارے میں جانچ کرنا سی اے جی کا کام ہے اوراس سی اے جی رپورٹ کی جانچ پبلک اینڈ اکاؤنٹس کمیٹی نے کی ہے۔