یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

  1. “خوداحتسابی”
    *سید حسین شمسی

معروف ادیب ومصنف اشفاق احمد ایک موقع پر کہتے ہیں ’’زندگی میں کوئی خوشی، کوئی رشتہ، کوئی جذبہ کبھی مستقل نہیں ہوتا، ان کے پاؤں ہوتے ہیں۔ ہمارا سلوک اور رویہ دیکھ کے کبھی یہ بھاگ کے قریب آجاتے ہیں اور کبھی آہستہ آہستہ دور چلے جاتے ہیں‘‘۔ پانچ ریاستوں سے موصول ہونے والے تازہ ترین نتائج پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان نتائج پر اس قول کا اطلاق ہوا ہے اور خوب ہوا ہے۔ ’زمین و آسمان‘ سے گفتگو کرنے والے بی جے پی ترجمان اور لیڈران نے انتخابات میں انتہائی اکثریت اور عوام کا بے انتہا یقین حاصل کرنے کے بعد ہندوستانیوں سے جس طرح کا رویہ روا رکھا، اس نے عوام کو مجموعی طور پر اس سے متنفر کر دیا۔ ادھر دوسری طرف، کانگریس، جسے مختلف انتخابات میں انتہائی شرمناک و ذلت آمیز شکست ہوئی تھی اور قومی سطح پر قیادتوں میں بھی خاطر خواہ تبدیلی آئی تھی، اس نے عوام کے ساتھ تحمل اور بردباری کا رشتہ قائم رکھا۔ عوام نے ’’سنگتری قاش‘‘ جتنی سہی، اسے تین ’رام راجیوں‘ میں حکومت کرنے کا اختیار منتقل کر دیا۔

ہٹلر کی ایک تھیوری تھی Hostility یعنی عداوت اور دشمنی، مخالفت اور بے یقینی۔ اس میں اپنے پڑوسی، ساتھی، برادران سے وطن کے خلاف عداوت کے جذبات بھڑکائے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہر ذی شعور بخوبی جانتا ہے کہ سستے گوشت کا تعلق صرف روپئے پیسے اور آمدنی سے ہے، نہ کہ ’ایمان‘ سے۔ گائے کا گوشت کھانا، ایمان نہیں ہے، لیکن جب آپ کے پاس بہ زور رقم حاصل کئے گئے ایسے سَیکڑو ’بھونپو‘ ہوں کہ جن پر بولنے سے پورے کرہ ارض پر آواز گونجتی ہو، تو پھر آپ صرف ’من کی بات‘ کہتے ہیں، سنتے نہیں ہیں۔ جی ہاں! مسلمانوں کی آہ و بُکا سنی نہ گئی ۔۔۔ اور اب شاید کبھی نہ سنی جائے کہ مودی کے مرکز میں انتخاب نے ’مسلمانوں کی اہمیت‘ کا مفروضہ توڑ کر رکھ دیا ہے۔

بی جے پی پر لازم ہے کہ وہ ان انتخابات کی روشنی میں یہ جان لے کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں، جہاں ہزاروں برسوں سے مختلف قومیں، ذاتیں اور قبائل آباد ہیں، ’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘۔
دو روز قبل مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان اسمبلی کے انتخابی نتائج و رجحانات پیش کئے جانے کے دوران نیوز چینلز پر تمام پارٹی ترجمان اور تجزیہ وتبصرہ نگار ’اینٹی اِن کمپینسی‘ (حکومت مخالف رجحان) لفظ کا استعمال کثرت سے کر رہے تھے۔ برسراقتدار طبقہ بی جے پی کے سرکردہ لیڈران شکست کے اصل اسباب بیان کرنے سے گریزاں رہے اور عذرِلنگ اینٹی اِن کمپینسی ہی بتایا۔ دیکھا جائے تو اینٹی اِن کمپینسی کا شکار درحقیقت چھتیس گڑھ کی بی جے پی سرکار ہی ہوئی ہے کہ وہاں کے بیزار عوام نے وزیر اعلیٰ ’رمن بھیّا‘ کو مسترد کردیا۔ رائے دہندگان نے اتنی بُری طرح اور اتنی خاموشی سے یہ ’کارنامہ‘ انجام دیا کہ ایکزٹ پول والے بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ معلوم ہواکہ رعایا جب بھی اپنے حاکم کے غلط اقدام سے ناراض وبیزار ہوتی ہے تو پوری قوت سے تختہ اسی طرح پلٹتی ہے جس طرح چھتیس گڑھ میں رمن کو عرش سے فرش پر لادیا۔ اسے کہتے ہیں حقیقی اینٹی ان کمپینسی، کہ مقابل پارٹی نے دو تہائی سے سبقت حاصل کرتے ہوئے پوری طرح صفایا کردیا۔ اس کے برعکس مدھیہ پردیش اور راجستھان کے نتائج کو اینٹی ان کمپینسی اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں برسراقتدار بی جے پی کا اتنا برا حشر نہیں ہوا۔ بی جے پی آخیر تک مقابلے میں رہی اور کانگریس کو بی جے پی پر قابلِ قدر سبقت حاصل نہیں ہوپائی۔ بلکہ اگر کانگریس نے میگھالیہ اور گووا میں ہونے والے تلخ تجربات کا پاس نہ رکھا ہوتا تو مدھیہ پردیش میں بھی شیوراج چوہان گورنر کے سامنے استعفیٰ نامہ نہیں، حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر رہے ہوتے۔

بی جے پی تین ریاستوں میں شکست کا اگر واقعی محاسبہ کرنا چاہتی ہے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ اُس کے پیروں تلے سے کھسکتی زمین کو اب مودی نام کی چٹان روکنے میں ناکام ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں پارٹی کے چانکیہ امیت شاہ کا ہر مہرا کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ ملک کی اکثریت امن پسند اور خوشحال زندگی گزارنے کی خواہاں ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو وزیراعظم خواہ کتنا ہی ملکی معیشت کے حق میں اہم قرار دیں، لیکن عوام ابھی تک برہم ہے اور یہ زخم مندمل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ بی جے پی کی سب سے بڑی غلطی راہل سے ہندو ہونے کا ثبوت مانگنا ہے۔ سنبت پاترا صبح سے لیکر شام تک راہل کے خلاف دشنام طرازی اور مضحکہ خیز جملوں کا استعمال کرتے رہے۔ حتی کہ وزیراعظم نریندر مودی بھی اپنے منصبی عظمت کو بھلا بیٹھے اور راہل پر ایسے رکیک حملے کئے جو انہیں قطعی زیب نہیں دیتا۔ نریندر مودی اگر حالیہ نتائج سے زیادہ دلبرداشتہ نہیں ہیں اور وہ واقعی 2019 جیتنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے عوام کا دل جیتنا ہوگا۔ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ نعرے کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا، ماب لنچنگ کی پھیلتی لہر کو روکنا ہوگا، گائے کو مقدس ماننے کے ساتھ انسانی جان کی اہمیت کو بھی سمجھنا ہوگا اور گئو رکشا کے نام پر ’جنونیوں‘ کو آتنک پھیلانے سے باز رکھنا ہوگا، اُن پر نکیل کسنی ہوگی نیز کسانوں کے درد کو بھی سمجھنا ہوگا، ان سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہوگا۔ حالانکہ وقت بہت کم ہے لیکن اس سمت میں حقیقی اور سنجیدہ کوشش ایک بڑی ہزیمت سے بچا سکتی ہے۔

دوسری جانب تین ریاستوں میں ملنے والی کامیابی سے سرشار کانگریس کے ذہن میں یہ نکتہ رہنا انتہائی ضروری ہے کہ پے درپے شکست کے بعد جہدِمسلسل کے نتیجے میں بادِ صبا کے ہلکے جھونکے اگر ان کو میسر ہوئے ہیں تو اس کی قدر کرنی ہوگی، اس دل خوش کن فضا کو مکدّر نہیں ہونے دینا ہے، ورنہ بادِ سموم ایک بارپھر ان کو مقہور بنادے گی۔
بہرحال مدھیہ پردیش میں حکومت بنانے کے لئے کانگریس کو آج ان دو پارٹیوں (ایس پی و بی ایس پی) کا سہارا لینا پڑ رہاہے جن کے علیحدہ انتخاب لڑنے سے کانگریس نہ صرف یہ کہ کئی سیٹیں گنوا بیٹھی بلکہ واضح اکثریت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔ امید ہے کہ 2019 کے پارلیمانی انتخاب کے لئے راہل گاندھی جو لائحہ عمل ترتیب دیں گے اس میں اس فیکٹر کو ضرور ملحوظ رکھیں گے، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بی جے پی کو قومی سطح پر شکست دینے کے لئے ’سیکولر‘ پارٹیوں کی شیرازہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ اس کے لئے ’مہاگٹھبندھن‘ کا صرف نعرہ دینا کافی نہ ہوگا بلکہ علاقائی پارٹیوں کی حیثیت کے مطابق انہیں ’’آتم سمّان‘‘ بھی دینا ہوگا۔ مانا کہ مہاگٹھبندھن میں شمولیت کے لئے مدعو ہر پارٹی کا نصب العین بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہی ہے، لیکن چونکہ آپ بڑی پارٹی ہیں تو بڑکپن کا یہی تقاضہ ہے کہ ہم خیال پارٹیوں کو اس محاذ میں شامل ہونے کے لئے بہرصورت منایا جائے اور ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ اس کوشش کے لئے سب سے اچھا اور موزوں وقت یہی ہے، مذکورہ تین ریاستوں کا نتیجہ مہاگٹھبندھن کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ وہ سیکولر پارٹیاں جو اب تک محاذ کا حصہ بننے سے انکار کر رہی تھیں اس وقت ان کے تیور میں نرمی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ یہی وہ موقع ہے کہ ذرا سی کوشش سے ہم خیال پارٹیاں اپنی پیش کردہ شرائط میں تخفیف کرسکتی ہیں اور مہاگٹھ بندھن کو مضبوطی و استحکام بخش سکتی ہیں۔ غرضیکہ راہل گاندھی موقع غنیمت جانتے ہوئے اکھلیش اور مایاوتی کو باعزت طور پر فوراً مدعو کریں اور سنجیدگی سے بات کریں ورنہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ سیاستدانوں کی سوچ اور پالیسی بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ بالخصوص مایاوتی جی، کہ محترمہ چند ماہ قبل مہاگٹھبندھن کے ایک اسٹیج پر سونیا گاندھی سے ایسا بغلگیر ہوئیں، مانو ایک عرصہ بعد بچھڑی ہوئی دو بہنیں مل رہی ہوں، اس کے چند ہی دنوں بعد مایا جی کے تیور بدلے بدلے سے نظر آنے لگے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ راہل گاندھی تیز وتند طعنوں اور مسلسل نکتہ چینیوں کا سامنا کرتے کرتے ایک کہنہ مشق سیاستداں بنتے جارہے ہیں۔ ان کے اوپر اب ایسے مزاحیہ لطائف بھی نہیں بن رہے جو مخالفین ہدفِ ملامت کے طور پر وائرل کیا کرتے تھے۔ یوں تو پارٹی کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کیلئے وہ ہمیشہ متحرک اور کوشاں رہے لیکن گجرات وکرناٹک اسمبلی انتخابات سے ان کے رویے اور انداز بیاں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے قدرے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے نریندر مودی کو انہیں کی زبان و انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کردیا۔ ’’چوکیدار چور ہے‘‘ کا نعرہ راہل گاندھی کا انتہائی دلیرانہ اقدام تھا۔ رافیل معاملہ میں وہ جس طرح مسلسل کاری وار کرتے رہے، بی جے پی سے جواب نہیں بن پڑ رہا تھا۔ وزیر اعظم تو خیر ’مَون‘ ہی رہے اس معاملے پر۔ اس بات کا احساس کہ کسی بھی ملک میں اکثریت کے خلاف نہیں رہا جا سکتا، راہل نے ’سافٹ ہندوتوا‘ کا لبادہ اوڑھا اور ’حزب اختلاف‘ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی منادر و تیرتھ استھلوں کا دورہ کر ڈالا۔ شیو کی بھکتی میں وہ بظاہر ’شیو بھکت‘ سے بھی آگے نکل گئے۔ اب انہیں بی جے پی کے ’پکا ہندو‘ ہونے کا ثبوت مانگنے کا خوف نہیں رہا۔ اب تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں اور یہ باور کرادیا ہے کہ بی جے پی اس خام خیالی میں نہ رہے کہ کانگریس میں آمنے سامنے طاقت آزمائی کی ہمت نہیں۔ مجھے یاد آرہا ہے، غالباً ساڑھے چار برس قبل کی بات ہے جب پرینکا گاندھی اپنی والدہ اور بھائی کے انتخابات کے دوران رائے بریلی تشریف لائیں، تو انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہو کر کہا تھا ’’راہل بھیا انتہائی ذہین انسان ہیں۔ وقت آنے پر آپ کو ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہو جائے گا‘‘۔ راہل کے بدلے ہوئے انداز او حالیہ انتخابی نتائج دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ’وقت آ گیا ہے‘۔ ان تمام تر مشّاقی اور بڑھتی ہنرمندی کے باوجود راہل کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا، جوں جوں وہ کامیابی کے مراحل طے کرتے جائیں گے، ذمہ داریوں میں اضافہ اور امتحانات کے مراحل سخت ترین ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ اپوزیشن کا رول ادا کرنا جتنا آسان ہے، حکمرانی کی ڈگر اتنی ہی زیادہ کٹھن ہوتی ہے۔ تازہ ترین فتح شدہ تینوں قلعوں کے منصب داروں پر مسلسل نگاہ رکھنی ہوگی کہ آیا وہ عوام سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں کہ نہیں۔ انہیں انتباہ دیا جائے کہ محاسبہ ان کا بھی ہوگا، سو انہیں اپنے کام سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کانگریس اسٹیٹ بی جے پی اسٹیٹ سے کہیں بہتر ہے۔

نئے ہندوستان کی تعمیر کے لئے راہل پر یہ بھی لازم ہے کہ کانگریس کی پیش آمدہ پالیسیوں کو فرقہ واریت سے پاک بنائیں اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب وہ کانگریس کے ماضی پر نظر ڈالیں کہ اس کے دور اقتدار میں کم وبیش 25 ہزار فرقہ وارنہ فسادات اور بابری مسجد کی شہادت جیسا بدنما داغ ہے۔ کانگریس قطعی طور پر یہ کہہ کر برأت حاصل نہیں کرسکتی کہ اس کے دوراقتدار کو معتوب بنانے کے لئے فرقہ پرست تنظیمیں و پارٹیاں نفرت کا زہر پھیلاتی رہی ہیں۔ یاد رہے آپ کا یہ عذر کمزور حکمرانی اور نا اہلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک بہتر اور خوشحال حکمرانی کے لئے لا اینڈ آرڈر، عدل وانصاف اور ادائیگیِ حقوق کا ایسا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ سماج دشمن عناصر کو ریشہ دوانیوں کا کوئی بھی موقع ہاتھ نہ لگے۔ دل ودماغ کو حاضر رکھیں اور ہمیشہ آنکھیں کھلی رہنی چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ فتوحات کے چند خوشگوار جھونکوں سے ایسا لطف اندوز و مخمور ہوجائیں کہ حریف آپ کے خواب غفلت کا فائدہ اٹھا بیٹھے اور آپ کی نیند ہمیشہ کے لئے اُڑ جائے۔ لہٰذا دشمن کو ہرگز کمزور نہ جانیں، حالیہ شکست سے وہ پسپا ہر گز نہیں ہوا ہے، بلکہ اس کی تلملاہٹ کسی بڑے طوفان کا عندیہ دے رہی ہے۔ جب ایسے اندیشوں کا سامنا ہو تو ضروری ہوجاتا ہے کہ پوری طرح الرٹ رہیں۔

اب آئیے بات کرتے ہیں اقتدار میں مسلمانو کی حصہ داری کی۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اسمبلی و پارلیمانی ایوانوں میں مسلمانوں کا تناسب بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔ اس مرتبہ راجستھان میں ٹکٹ تقسیم کے معاملے میں کانگرہس نے مسلمانوں کے تئیں کسی قدر فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور درجن بھر سے زائد مسلم امیدوار بنائے، لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ایک مسلم امیدوار کے سامنے دس دس مسلم امیدوار کھڑے ہوگئے، نتیجتاً بیشتر سیٹیں بی جے پی کی جھولی میں چلی گئیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم امیدواروں کی کثرت ایک روایت سی بن گئی ہے اور یہ چلن اس مرتبہ بھی عام رہا۔ حد تو اس وقت ہوگئی کہ ٹونک اسمبلی حلقہ سے سچن پائلٹ کے سامنے بی جے پی نے بھی ایک مسلم امیدوار یونس خان کو بنادیا۔ اور یہ خاں صاحب مولوی نما مسلم چہروں کو دائیں بائیں ساتھ رکھ کر گھومتے اور دہاڑتے نظر آئے۔ اس حلقہ میں حمایتی فرمان ناموں کا سلسلہ بھی خوب چلا، جہاں بیشتر حمایت نامے یونس خان کی حمایت میں جاری ہوئے، وہیں ایک فرمان نامہ آل انڈیا علماء بورڈ نے سچن پائلٹ کے حق میں جاری کرتے ہوئے یہ موقف ظاہر کیا کہ ’’ہم جناح کے نہیں گاندھی کے طرفدار ہیں، فرقہ پرست وشدت پسند خواہ ہندو ہو کہ مسلمان، اُس پر فوقیت گنگا جمنی تہذیب کے علمبردا کو ہی دیں گے۔‘‘ مسلم اکثریتی علاقوں کے بارے میں ایک عام رحجان یہ بھی ہے کہ کسی بھی وزن دار مسلم امیدوار کے سامنے کھڑے ہونے والے درجن بھر مسلم امیدواروں کو اپنی کامیابی سے زیادہ اپنے مسلم بھائی کی شکست عزیز ہوتی ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کب ختم ہوگا اور ایک مسلم امیدوار کو کامیاب بنانے کی متحدہ کوشش ہوگی۔
سیاسی بے وزنی کے شکار مسلمان اپنی کم مائیگی کا رونا تو روتے ہیں، لیکن ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔ حالات کے پیش نظر یہ نعرہ تو دیتے ہیں کہ فرقہ پرست پارٹیوں کی پسپائی کے لئے تمام سیکولر پارٹیاں متحد ہوں، لیکن خود اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے سے باز ہیں۔