اپنے تہذیبی و ثقافتی کی ورثے کی حفاظت کرنا ہے تو بنیں ! ’’آرکیالوجسٹ (ماہر آثار قدیمہ)‘‘

مومن فہیم احمد عبدالباری
لیکچرر صمدیہ جونیر کالج، بھیونڈی

ایک آرکیالوجسٹ بننے کے لیے لازمی ہے کہ آپ لسانیات اور انسانی علوم مثلاً تاریخ، شہریت ، جغرافیہ، تاریخ انسانی کا علم(انتھراپولوجی)اور علم ارضیات کا مطالعہ کریں
ہم ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں جائیں قدیم زمانے کی عمارتیں، غار، قلعے، باغا ت وغیرہ کے باقیات ہمیں ضرور ملتے ہیں۔ جنھیں ہم عموماً آثار قدیمہ کہتے ہیں۔ ہندوستان کے گوشے گوشے میں اس طرح کے باقیات اور آثار ملتے ہیں جو ہماری قدیم تہذیب کے گواہ ہیں اور ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ عام طور پر ایک آرکیالوجسٹ سے مراد لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا شخص جو کچھ اوزار آلات یا مشینوں کی مدد سے زمین کو کھودتا ہے اورپرانی چیزوں کی تلاش میں رہتا ہے لیکن درحقیقت آرکیالوجی یا آثار قدیمہ کا علم اس سے کہیں زیادہ اہمیت اور توجہ کا حامل ہے ۔ آرکیالوجی یا علم آثار قدیمہ کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ’’ یہ انسانی تہذیب کی جڑوں کو تلاش کرنے کا مطالعہ ہے جو گذشتہ تہذیب کی انسانی فن تعمیراور فن تحریرکی تحقیق کے ذریعے کیا جاتا ہے۔‘‘ آرکیالوجی کی کئی شاخیں ہیں اور ہندوستان میں آرکیالوجی کے جن شعبوں میں کرئیر کے مواقع حاصل ہیں ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔
(۱) تاریخی (Historical) آرکیالوجی : آرکیالوجی کی یہ شاخ زمانہ قدیم میں استعمال ہونے والے زیوارات و دیگر گھریلو سامان جو روز مرہ استعمال ہوتے تھے ان کی دریافت اور تجزیہ سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر روزمرہ کے گھریلو سامان، زیورات ، موسیقی کے آلات، طبی ضرورتوں کے پیش نظر استعمال ہونے والے اوزار و آلات وغیرہ۔
(۲) بحری (Maritime)آرکیالوجی : آرکیالوجی کے اس شعبے میں زمانہ قدیم میں سمندر کی تہہ میں ڈوب جانے والے شہروں اور تہذیبوں کی کھوج کرنا، یا کسی بڑے جہاز جو سمندری حادثہ میں ڈوب گیا ہو اس کی باقیات کی تلاش کرنا جیسے ایڈوینچر سے پُر کام شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ۲۰۱۶ ؁ء میں عراق میں کردستان میں ماہرینِ آثار قدیمہ نے کانسہ کے زمانے کی چار ہزار سال پرانے ایک شہر کو دریافت کیا جس پر مزید تحقیق چل رہی ہے، ۲۰۱۴ ؁ء میں یونان میں سمندر میں تقریباً چار ہزار پانچ سو سال قبل ڈوب جانے والے شہر کو دریافت کیا گیا جو قریبی ’’ڈیلوس‘‘ جزیرہ کے قریب ہے۔ مشہور جہاز ’’ٹائٹینک ‘‘ کے باقیات کی تلاش بھی بحری آرکیالوجی کے زمرے میں آتا ہے۔
(۳) شہری (Urban)آرکیالوجی : اس کا تعلق تاریخی اہمیت کے حامل شہروں کے بقشوں اور منصوبوں کے مطالعے اور تجزیے سے ہے تاکہ ان کی اہمیت کا اندازہ لگایاجا سکے اور ان کی کھدائی کے دوران کون سے زیورات، برتن یا دیگر سامان کے ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کی مشہور مثالیں موہن جودارو اور ہڑپا تہذیب کے باقیات ، رہن سہن، ثقافت وغیرہ کی دریافت ہے۔ دور جدید کامعروف شہر اور برطانیہ کی راجدھانی لندن شہری آثار قدیمہ کی کی اہم مثال ہے انیسویں صدی کے اواخر سے شہر میں ماہرین آثار قدیمہ نے ساٹھویں صدی عیسوی کی کئی باقیات دریافت کی ہیں۔
(۴) خطاطی/کتبہ/نوشتہ (Epigraphy)آرکیالوجی : آثار قدیمہ کی اس شاخ کا تعلق پرانے زمانے کے دستاویزات، پتھروں اور دھاتوں پر لکھی ہوئی تحریروں کے مطالعہ اور ان کے تجزیے سے ہے۔ ان تحریروں سے ماہرین اس زمانے کے مصنفین، ان کی تہذیب و ثقافت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔
(۵) میوزیم آرکیالوجی : اس کا تعلق عجائب گھر (میوزیم)کی دیکھ ریکھ ، ان میں موجود اشیاء اورقدیم نوادرات کی حفاظت اور ان کی از سر نو بحالی کی کوششوں وغیرہ سے ہے۔ آرکیالوجی کا یہ شعبہ زمانہ قدیم کے نوادرات کے اظہار اور ان کی حفاظت کے ذریعے بنی نوع انسانی کے وجود کی با معنی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے کوئی سماج اپنی بنیادوں یا تاریخ کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔
ایک آرکیالوجسٹ کو کن چیزوں کا مطالعہ کرنا اور مہارتوں کا متحمل ہونا چاہیے ؟
اگر آپ شعبہ آثار قدیمہ میں اپنا کرئیر بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو گیارہویں جماعت سے لسانیات یا انسانی علوم کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاریخ ، انسانی علوم(انتھروپولوجی) سماجیات، جغرافیہ جیسے مضامین کا انتخاب کرنا ہوگا۔ آرکیالوجی میں گریجویشن ، پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے پر آپ کو بحیثیت آرکیالوجسٹ کام کرنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ پی ایچ ڈی حامل افراد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا میں تحقیق اور اکیڈمکس میں کرئیر بنا سکتے ہیں جہاں تنخواہیں اور مواقع بہتر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جنھوں نے انسانی علوم میں گریجویشن نہیں کیا وہ بھی اس مضمون میں اسپیشلائزیشن کرکے اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔ ایکآرکیالوجسٹ کو اپنی تاریخ اور ورثے میں زبردست دلچسپی ہونی چاہیے۔اسے اپنی تہذیبی جڑوں کی تلاش اور مزید دریافت کرنے کی پیاس اور لگن ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ ایک تجزیاتی دماغ،تحقیق کا رجحان،چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر توجہ، اور صبر کا مادہ وغیرہ وہ صلاحیتیں اور خصوصیات ہیں جو ایک آرکیالوجسٹ میں ہونا لازمی ہیں۔
آرکیالوجی کی تعلیم دینے والے ادارے !
بھارت میں ایک آرکیالوجسٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے بیچلر س اور ماسٹر س ان آرکیالوجی کی ڈگری ہونا لازمی ہے۔ جبکہ یونیورسٹی اور کالج میں پروفیسر یا اکیڈمیشین بننے کے لیے پی ایچ ڈی کرنا ضروری ہے۔ بھارت میں آرکیالوجی، تاریخ ، میوزیولوجی اور ہیریٹیج منجمینٹ وغیرہ کے کورسیس کی تعلیم دینے والے ادارے اور یونیورسٹیاں درج ذیل ہیں۔ بنارس ہندو یونیورسٹی (وارانسی)، برکت اللہ وشو ودھالیہ (بھوپال)، مہاتما گاندھی یونیورسٹی (کوٹّیم) ، مہاراج سیا جی راؤ یونیورسٹی(برودا)، دہلی انسٹی ٹیوٹ آف ہیریٹیج ریسرچ اینڈ منیجمنٹ(دہلی)، یونیورسٹی آف کیرالا، بنگلور یونیورسٹی ، انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی (دہلی)وغیرہ۔
بھارت میں کرئیر کے مواقع
بھارت عمدہ منصوبہ بندی کے قدیم شہروں کے ساتھ ساتھ تاریخی یادگاروں کا مرکز ہے۔ ، یہاں قدیم تہذیبیں جس میں مغل ، موریاس ، سلطان اور نواب وغیرہ دور کی باقیات ہمیں ملتی ہیں۔ ملک میں موجود تمام آثار قدیمہ کی سرگرمیوں ان تاریخی یادگاروں کی حفاظت اور بحالی کے لئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا(اے ایس آئی) ذمہ دار ہے۔ اے ایس آئی کی مختلف شاخیں ہیں جن میں کھدائی، پریشر، پانی کے اندر آثار قدیمہ، عجائب گھر، مندر سروے وغیرہ شامل ہیں اور اس کے کاموں کے لئے تربیت یافتہ ماہر آثار قدیمہ، قدیم کتبوں کے ماہرین، قدیم اشیاء کے تجزیہ نگاراور سائنسدانوں کو بڑی تعداد میں ملازمت دیتے ہیں. دیگر تنظیموں جیسے نیشنل کونسل برائے تاریخی تحقیق ، نیشنل میوزیم، نجی اور پبلک میوزیم، اور یونیورسٹیوں میں آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے ملازمت کے مواقع دستیاب ہیں۔ ایلک آرکیالوجسٹ کے طور پر آرکیالوجی میں ماسٹر ڈگری یافتہ افراد ڈپٹی سپرٹینڈنٹ آرکیالوجسٹ کے طور پر اے ایس آئی میں ملازمت حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے انھیں یو پی ایس سی کے ذریعے منعقدہ امتحان کامیاب کرنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ درس و تدریس کے شعبہ میں ماسٹرس کے ساتھ نیٹ امتحان کامیاب امیدوار ڈگری کالج اور یونیورسٹیز میں بحیثیت پروفیسر ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ عوامی، نجی میوزیم میں بحیثیت میوزیم نگہداشت ملازمت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی و بین الاقوامی اہمیت کے حامل آرکیالوجی کے پروجیکٹس پر کام کرسکتے ہیں۔ان پروجیکٹس کو بین الاقوامی تنظیمیں مالی امداد فراہم کرتی ہیں جن کا مقصد پرانے نوادرات کا مطالعہ و تجزیہ کرنا، پرانی دستاویزات کی تحریرکی تحقیق کرنا ، کھنڈرات اور آثار قدیمہ کی جگہوں پر کھدائی کے ذریعے پرانے باقیات کی دریافت کرنا وغیرہ شامل ہیں۔
مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ اور آثار قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ جو اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت اور اس کی ترویج کے جذبے سے معمور ہوں انھیں انفرادیت کے حامل ان شعبوں میں دلجمعی اور محنت کے ساتھ آگے آنا چاہیے۔ ***