لو جہاد کے نام پر کشمیری شوہر اور راجستھانی بیوی کی محبت کا گھونٹ دیا گیا گلا

لو جہاد‘ کے ہنگاموں نے کس طرح محبت کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا ماحول بنا دیا ہے اس کی تازہ مثال کشمیر سے تعلق رکھنے والے گلزار احمد اور راجستھان کی ریتو کھنڈیلوال ہیں۔ ان دونوں کی شادی 2017 میں ہی ہو چکی ہے لیکن ایک سال بعد انھیں علیحدہ ہونے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کا دولہا اور راجستھان کی دلہن اپنی محبت کو ’لو جہاد‘ کا رنگ دیے جانے سے انتہائی پریشان ہیں لیکن ہندوتوا طاقتوں کو محبت اور لو جہاد میں کوئی فرق ہی نظر نہیں آ رہا۔

گلزار احمد روزگار کی تلاش میں شمالی کشمیر کے کپواڑا سے راجستھان کے جودھپور 2014 میں پہنچے تھے۔ یہاں انھوں نے ریستوراں میں ایک شیف کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔ 21 سالہ گلزار 2015 میں جودھپور سے باڑمیر پہنچے جہاں انھوں نے ایک دیگر ریستوران میں کام شروع کر دیا۔ یہیں ان کی ملاقات ریتو کھنڈیلوال سے ہوئی۔ ریتو اکثر اس ریستوران میں آتی جاتی رہتی تھیں اور گلزار کو پہلی نظر میں ہی اچھی لگنے لگی تھیں۔ اپنی محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے گلزار نے ایک ہندی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’’ہم دونوں کو ہی پہلی نظر میں پیار ہو گیا تھا۔ وہ ایک کالج اسٹوڈنٹ تھی اور کچھ دنوں بعد ریتو ایک اسکول میں پڑھانے لگی۔ ہمارا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔ مجھے ہمیشہ خوف لگا رہتا تھا کہ ہمارا رشتہ کہیں کمزور نہ پڑ جائے کیونکہ ہم الگ الگ مذہب سے آتے ہیں۔‘‘

گلزار اپنی شادی کے تعلق سے بتاتے ہیں کہ جب ریتو نے ان سے شادی کے لیے کہا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا تھا کہ یہ شادی ممکن نہیں ہے۔ پھر ریتو نے گلزار سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذہب شادی میں رکاوٹ ہے تو وہ اسلام اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔ چونکہ گلزار بھی ریتو سے محبت کرتے تھے اس لیے وہ رضامند ہو گئے۔ دسمبر 2017 میں میں گلزار اور ریتو نے سری نگر ہائی کورٹ میں جا کر شادی کی۔ ریتو نے اسلام اختیار کرنے سے متعلق حلف نامہ بھی داخل کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ریتو نے اپنا نام زینب رکھ لیا اور پھر دونوں اپنی آنے والی زندگی کو خوشیوں سے بھرنے میں مصروف ہو گئے۔

لیکن شادی کے کچھ ہی دن بعد مسائل شروع ہو گئے۔ ریتو کے گھر والوں نے گلزار کے خلاف پولس میں شکایت درج کرائی اور اس کیس کو ’لو جہاد‘ کا نام دے ڈالا۔ ہندوتوا طاقتوں کو اور کیا چاہیے تھا، گلزار کے خلاف ’لو جہاد‘ کا کیمپین شروع ہو گیا۔ گلزار کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ریتو کے گھر والوں نے اغوا کا کیس درج کروایا اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ویڈیو وائرل کرا دیا۔ جب راجستھان کی ایک پولس ٹیم کشمیر میں ریتو کو گلزار سے چھڑانے کے لیے پہنچی تو پتہ چلا کہ ریتو کا نیا نام زینب ہو چکا ہے۔ اپنے خلاف ہو رہی کارروائی کو دیکھتے ہوئے ریتو و گلزار نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کر دی۔ ہندی نیوز ویب سائٹ ’نیوز 18‘ سے بات چیت کے دوران پولس نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے اس شادی شدہ جوڑے کی ازدواجی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد پولس ٹیم کو راجستھان واپس لوٹنا پڑا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ شادی سے متعلق سبھی ثبوت ہونے اور عدالت کی مداخلت کے بعد بھی گلزار اور ریتو عرف زینب کے خلاف نفرت کا سلسلہ جاری رہا۔ گلزار اور ریتو کو ایک ویڈیو ریلیز کر صفائی دینی پڑی کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی مرضی سے ہیں۔ ویڈیو میں واضح لفظوں میں ریتو نے کہا کہ ’’میں نے اسلام اختیار کر لیا ہے اور اب میرا نام زینب ہے۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں۔ ہمیں چین سے رہنے دیں۔‘‘

گلزار اور ریتو شادی کے بعد خوشی سے ساتھ رہنے لگے۔ گلزار جو شادی کے بعد کپواڑا میں رہنے لگے تھے وہ سری نگر منتقل ہو گئے اور ایک مقامی کیفے میں کام کرنا شروع کر دیا۔ گلزار بتاتے ہیں کہ ریتو کے گھر والوں کو جب پتہ چلا کہ ہم سری نگر میں ہیں تو گرمیوں کے موسم میں وہ یہاں پہنچے۔ وہ کہتے ہیں کہ ریتو کے رشتہ دار یہاں دو ہفتوں تک رکے۔ اس دوران ریتو نے اپنے گھر والوں کو کشمیر کے کئی مقامات کی سیر کرائی۔ ایسا ظاہر ہونے لگا کہ سبھی نے ہمارے رشتے کو قبول کر لیا۔ گلزار کے مطابق اکثر ریتو کے گھر والوں سے فون پر بات چیت بھی ہونے لگی تھی اور گزشتہ ستمبر میں تو ریتو کے چاچا (جو فوج میں لیفٹیننٹ رینک کے افسر ہیں اور سری نگر میں پوسٹیڈ ہیں) نے انھیں دعوت بھی دی تھی اور دونوں ان کے یہاں پہنچ کر لنچ سے خوب لطف اندوز ہوئے تھے۔

بدلے ہوئے ماحول سے گلزار اور ریتو دونوں ہی بہت خوش تھے لیکن ان کی خوشیوں کو اس وقت دھچکا پہنچا جب 26 نومبر کو گلزار نے ریتو کے لیے پزا پیک کیا اور گھر پہنچے۔ گلزار کو گھر پر اپنی بیوی کہیں بھی نظر نہیں آئی۔ گلزار نے بتایا کہ ’’میں جس کو بھی جانتا تھا ان سب کو کال کیا۔ کسی کو ریتو کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھ۔‘‘ پریشان حال گلزار نے اگلے ہی دن پولس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ رپورٹ لکھانے کے کچھ ہی دنوں بعد گلزار کو ایک ہندی اخبار ہاتھ لگی جس میں لکھا تھا ’’لو جہاد کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی کی گھر واپسی‘‘۔ اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’لڑکی کا برین واش کیا گیا تھا اور اسے ایک کشمیری مسلمان نے لو جہاد کا شکار بنایا۔‘‘ اس تعلق سے باڑمیر کے ایس پی کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں لڑکی اور لڑکی کے والد کی جانب سے شکایت ملی تھی کہ لڑکی کو جبراً مسلمان بنایا گیا تھا۔ لڑکی واپس آ گئی ہے اور اب وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔‘‘ حالانکہ پولس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش میں سرگرداں ہے کہ ریتو کا مذہب کشمیری لڑکے نے جبراً تبدیل کروایا یا پھر ریتو گھر والوں کے دباؤ میں ایسا کہہ رہی ہے، لیکن ’لو جہاد‘ کے نام پر دو محبت کرنے والوں کو الگ رہنے کے لیے مجبور ضرور کر دیا گیا ہے۔

بیوی سے الگ کیے جانے کے بعد گلزار انتہائی پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ریتو میری بیوی ہے اور اسے مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔‘‘ گلزار اس معاملے میں عدالت میں کیس درج کرانے کی بھی سوچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی پولس ان کی شکایت درج نہیں کر رہی ہے لیکن وہ خاموش نہیں رہنے والے۔ بہر حال، اس درمیان جموں و کشمیر کی پولس کیس درج کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ راج باغ پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او ایاز گیلانی نے بتایا کہ ’’نیوز پیپر کی رپورٹ اور گلزار کی شکایت کی ہم جانچ کر رہے ہیں اور اس معاملے میں جانچ کے بعد کوئی کارروائی کی جائے گی۔ ہم اس معاملے میں راجستھان ٹیم بھیج سکتے ہیں۔‘‘

گلزار کا کہنا ہے کہ ریتو عرف زینب کے گھر والوں نے اس کا اغوا کیا ہے اور رشتہ ختم کرنے کا دباؤ بنا رہے ہیں، لیکن قانونی لڑائی لڑ کر وہ اپنی محبت کو حاصل کریں گے۔ انھوں نے اس پورے معاملےکو ’لو جہاد‘ کہے جانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور شادی کے لیےپہلے ریتو نے ہی پرپوز کیا تھا، اتنا ہی نہیں اسلام قبول کرنے کی بات بھی ریتو نے ہی کی تھی اور سب کچھ اس کی مرضی سے ہی ہوا تھا۔ خیر، اس وقت تو ’لو جہاد‘ کے زہر نےدو محبت کرنے والوں کو جدا کر دیا ہے۔