لاکھوں سنتوں کی ایودھیا آمد سے پورے ملک کی سیاست گرم

سہارنپور (احمد رضا) ملک میں بابری مسجد کے نام پر مودی سرکار اور یوگی سرکار کی شہ پر پھر سے سادھو سنتوں کو سامنے لاکر ملک کے ہندوؤں کو متحد کر سیاسی مفاد حاصل کئے جانیکی تیاریاں دہلی، جے پور، ممبئی، پٹنہ، لکھنؤ، فیض آباد، میرٹھ اور مطفر نگر جیسے اہم شہروں میں خطرناک حد تک جاری ہیں لکھنؤ میں بجرنگ دل اعلان کے ساتھ بیس ہزار ترشول ہندو رکشا کیلئے تقسیم کر رہاہے وہیں ڈپٹی چیف منسٹر یوپی کہتے ہیں کہ رام مندر کے بننے تک ہم چین سے نہی بیٹھے گیں ایسے نازک حالات میں ملک کا تیس کروڑ مسلم عوام سخت تکلیف میں گھرا محسوس کر رہاہے عام چرچہ ہے کہ مرکزی سرکار یوگی سرکار کے تعاون سے ایک بل پاس کراکر دسمبر ہی میں مندر تعمیر کرنے کا راستہ قانون اور آئین کو بھلاکر ہموار کرنے جا رہی ہے اسی مقصد سے لاکھوں سادھو سنتوں کو ایودھیا آنے کی دعوت دی گئی ہے!پچھڑا سماج مہاسبھا کے سرگرم قائداحسان الحق ملکنے زور دیکر کہاکہ جو کچھ بھی مرکز کی مودی اور ریاست کی یوگی سرکار حکمت عملی اپنا رہی ہے اسکا سیدھا سا مطلب ملک کے تیس کروڑ مسلم طبقہ کی آزادی پر شکنجہ کسناہے تاکہ آنے والے لوک سبھا الیکشن اور اسمبلی الیکشنوں میں بھاجپا کے خلاف کوئی بھی اپوزیشن میں آواز نہ اٹھاسکے اور بھاجپائی جیساچاہے قانون پاس کریں یا دستور ہند میں ترمیم کریں! پچھڑا سماج مہاسبھاکے قومی سربراہ اور سوشل قائد اے ایچ ملک نے کہاکہ مرکز ی قائدین کا بار بار ملک کو کانگریس سے مکتی ( آزاد)دلادینیکا کا نعرہ ، اکثر مسلم فرقہ پر ظلم وجبر اور قاتلانہ حملہ اسکے بعد سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ روز ل راہل گاندھی پر بھاجپائی کارکناکے ذریعہ حملہ کئے جانے اورکھنؤ میں سماجوادی ممبران اسمبلی کوبھاجپامیں شامل کرائے جانیکے مدعے پر بولتے ہوئے سوشل قائد شیو نارائن کشواہانے کہاکہ جن کٹر وادیوں نے انگریزوں کی پیٹھ تھپتھپائی، گاندھی کو قتل کرایا اسی آر ایس ایس نے آزادی کے بعد ہی سے ایک سازش کے تحت ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ دوغلہ اور تیسرے نمبر کا شہری ثابت کرنیکی بیہودہ کوششیں کیوہی اپنے منھ سے راشٹر واد کی باتکر رہے ہیں کیا مسلم طبقہ کو مارنا ، فرضی مقد مات میں پھنسانا اور دہشت گرد بتاناہی بھاجپا اور آر ایس ایس کا اصل راشٹر واد ہے! سوشل قائد احسان ملک نے کہاکہ ملک کے ساتھ یا ملک کی سچی اور صاف ستھری قیادت کے ساتھ کبھی مسلم یا دلت فرقہ نے دھوکہ نہی کیا جبکہ اعلیٰ ذات کے افراد نے پچھلی کئی صدیوں سے ملک کے دلتوں اور اقلیتی فرقہ کے افراد کا جینا مشکل کر رکھاہے اور یہ سلسلہ آجبھی جاری ہے !اے ایچ ملک نے کہاکہ بھاجپائی غنڈوں اور مافیاؤں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی بھی صورت جرائم پر جرائم انجام دینے میں بیباک بنے ہیں ، اکثر مسلمانوں اور دلتوں کو گؤ کشی کے نام پر مارنا خاص طور سے یوپی میں پولیس کے مقابلہ گؤ رکشکوں، ہندو راشٹر وادیوں کی غنڈہ گردی اور ہندو تنظیموں کے مافیائی گروہ کار اج کاج ان دنوں پورے اتر پردیش ہی نہی بلکہ پورے ملک ہی میں بھاجپائی سرکاروں کی شہ پر حاصل پولیس اور انتظامیہ کی چھوٹ کے باعث پھل پھول رہا ہے دیش بھگتی، گؤ کشی اور نسل پرستی کی آڑ میں مسلم طبقہ کے ساتھ ساتھ دلت فرقہ پر بھی زندگی تنگ کیجارہی ہے مرکز کی بھاجپا سرکار کی شہ پر بھاجپا کی قیادت والی سبھی ریاستی سرکاریں اقلیتی طبقہ اور دلتوں کا تحفظ کرنے میں بری طرح سے ناکام ہیں ، بابری مسجد رام مندر تنازعہ سے ثابت ہے کہ ملک میں بھاجپائی دہشت پسندوں کی اپنی پراؤیٹ