ٹول پر مافیا اور سیاستدانوں کا راج، سالانہ 1.57 لکھ روپے کی لوٹ ،سرکار خاموش

ہندوستان میں 93 لاکھ ٹرک رجسٹرڈ ہیں اور یہ ٹرک نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے آئی ) کی سڑکوں پر چلنے کے لئے اوسط پانچ روپے فی کلومیٹر کی شرح سے ٹول ٹیکس دیتے ہیں پھر بھی ملک بھر کے ٹول پلازا سالانہ صرف22,000 کروڑ روپے ہی جمع کر پا رہے ہیں ۔ یہ اعداد و شمار چوکانے والے ہیں کیونکہ یہ رقم اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہئے۔

اسے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ لدھیانہ اور پونے کے درمیان1,766 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ اسی طرح چینئی اور ممبئی کے درمیان 1,333 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور کولکتہ و کانپور کے درمیان1,002 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ اسے دھیان میں رکھیں تو کوئی بھی سامان لے جانے کے لئے سب سے کم دوری طے کرنے پر کسی بھی ٹرک کو کم از کم 5000 روپے ٹول دینا ہوگا اور زیادہ سے زیادہ دوری طے کرنے پر9000 روپے دینے ہوں گے ۔ مان لیں ان 93 لاکھ ٹرکوں میں سے کسی بھی دن40 لاکھ ٹرک ہی سڑک پر ہوتے ہیں اور اگر ان میں سے ہر ٹرک100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے تو ہر ٹرک کو 500 روپے ٹول ٹیکس دینا ہوگا اور یہ ایک دن میں200 کروڑ روپے ہوتے ہیں۔ اس حساب سے یہ ہر ماہ6000 کروڑ روپے اور سالانہ 72000 کروڑ روپے ہونا چاہئے لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے سالانہ 22 ہزار کروڑ روپے کی ہی آمدنی ہو رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ باقی پیسے جا کہاں رہے ہیں ۔ دراصل یہ بڑا گھوٹالہ ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ اس جانب کسی نے حکومت کا دھیان نہیں دلایا ۔ ممبئی کے تاجر مرتضی حامد اس تعلق سے وزیر اعظم دفتر کے دھیان میں یہ بات لا چکے ہیں اور وہ اس فرق کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’حقیقت میں کوئی نہیں جانتا کہ کتنی رقم کا چونا لگایا جا رہا ہے اور کن سیاسی رہنماؤ ں کو اس کا فائدہ مل رہا ہے ‘‘۔ مرتضی نے اس گڑبری کو روکنے کے لیےٹیکنالوجی بھی تیار کی ہے جس سے جی پی ایس، جی پی آر ایس ، آر ایف آئی ڈی ٹیگ یا دیگر کسی ڈیوائس کے بغیر بھی ٹرکوں اور دیگر کمرشل گاڑیوں کا طے فاصلہ ٹریک کیا جا سکتا ہے اور کئی ممالک اس میں اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کر چکے ہیں لیکن بقول ان کے ہمارے یہاں اس پر فیصلہ اگلے لوک سبھا انتخابات کے بعد لیا جائے گا۔ مرتضی نے جو تکنیک تیار کی ہے اس کے بعد کسی بھی گاڑی کو ٹول پر رکنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر طرح کے ٹول کی ادائیگی پہلے ہی کرنی ہوگی ۔ اس میں لادے گئے سامان کا وزن اور فاصلہ پہلے سے طے ہوگا اور ریکارڈ میں درج ہو گا۔

واضح رہے بعد میں پونے کے سینٹر فار ڈویلپمنٹ آف ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ (سی ۔ڈیک) نے بھی اس کی جانچ کی اور اس کے سائنسداں نے اس وقت کہا کہ یہ ٹیکنالوجی ’گیم چینجر‘ ثابت ہو گی۔مرتضی نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ساتھ انڈئن آئل کارپوریشن اور ریلائنس انڈسٹریز کے افسران کے سامنے بھی اس کا پریزینٹیشن پیش کیا ۔ مرتضی کی ٹیم کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ’’ہماری تحقیق کے مطابق 1 ارب57 کروڑ روپے کا ٹیکس کلیکشن کم ہو رہا ہے اور یہ صرف ٹرکوں کی اوسط تعداد کی بنیاد پر ہے‘‘۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹول کے ذریعہ جتنی رقم آتی ہے اس کا 33 فیصد حصہ حکومت کو جاتا ہی نہیں۔ مان لیں کہیں چھہ لین کا ٹول برج ہے ۔ ان میں سے دو لین پر جمع کی جانے والی رقم کو ٹول پلازا کا ٹھیکیدار کھاتے میں دکھاتا ہی نہیں ۔ اس کا جاننا بہت آسان ہے ۔ ملک بھر میں 90 فیصدی ٹول پلاز ا میں کچھ بوتھوں سے جاری پرچیوں کے سیرئیل نمبر دیگر بوتھوں سے الگ ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک ہی ٹول پلازا کے الگ الگ لین سے نکلتے وقت ملنے والی پرچیوں میں ترتیب تو ٹھیک رہتی ہے لیکن کچھ کے نمبر بالکل الگ ہوتے ہیں ۔ یہ ہی سرکاری اور غیر سرکاری ٹیکس وصولی کی پہچان میں مدد کرتا ہے ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے جس سے یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ہی اس کو روکنا نہیں چاہتی۔کیا یہ سب خاموشی ٹول مافیا، ٹرانسپورٹروں اور کارپوریٹ گھرانوں کے دباؤ میں تو نہیں ۔