بابری مسجد اور چند بے غیرت مسلمانوں کا مشرکانہ مشورہ

ندیم عبدالقدیر
(فیچر ایڈیٹر، روزنامہ اردو ٹائمز ،ممبئی)
یہ بات قدیم فارس کی لوک کہانیوں سے چل پڑی کہ کچھ انسانوں کے جسم مر جاتےہیں اوراُن کی آتما بھٹکتے رہتی ہے ، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتےہیں جن کی آتما مر جاتی ہے اور جسم بھٹکتے رہتےہیں۔ایسے ہی کچھ بےضمیر افراد سے ہماری قوم بھی نبرد آزماہے۔شاہد صدیقی یوپی سے تعلق رکھتےہیں  انہیں یوپی کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے مستفیض ہونے کا شرف  حاصل ہے ۔  بابری مسجد معاملے میں شاہد صدیقی نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے فرزندانِ توحید کو عین توحید کے خلاف مشورہ دیا ہے کہ وہ بابری مسجد کی زمین ،ہندو دیوتا رام کا مندر بنانے کیلئے ہندوؤں کودے دیں۔ قوم کو ایسا مشرکانہ مشورہ دینے میں شاہد صدیقی اکیلے نہیں ہیں بلکہ ایسے بے غیرت، ضمیر فروش اور منافق لوگوںکی فہرست میں کچھ بڑے نام بھی آتے ہیں۔
یہ اپنے آپ کو اُس رسولِ آخری الزماں کا امتی کہتےہیں ، جس نے کعبہ کو شرک سے پاک کیا اور دنیا کو توحید کی تجلی سے روشناس کرایا۔آج اُن کے یہ خود ساختہ اُمّتی توحید کے مرکز کو ہی شرک کا اڈہ بنانے کی صلاح دے رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو کلام  پاک نے سورۃ ’التین‘ میں ’اسفلا سافلین‘ کہا ہے ۔ جب تک ایسے لوگ ہماری صفوں میں موجود ہیںتب تک ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ لوگ ہی امت کی بربادی و رسوائی کیلئے کافی ہیں۔سوامی اگنی ویش، ہرش مندر، ٹیسٹا سیٹل واد، راج دیپ سرڈیسائی،اپوروانند، ساگاریکار گھوش ، ممتا بنرجی ، کنہیا کمار، ارون دھتی رائے ، انیل دھارکر، لالوپرساد یادو اور وامن مشرام جیسے کروڑوں لوگوں نے ہندو ہونے کے باوجود بھی آج تک مسلمانوں کو ایسا مشرکانہ مشورہ دینے کا حوصلہ نہیں کیا کہ مسلمانوں کو مذکورہ جگہ ہندوؤں کے حوالے کردینی چاہئے، لیکن وارے جائیےان مسلم ناموں والے لوگوں پر جو مسلمانوں کو گناہ کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے کی رائے سے نواز رہے ہیں۔ہرش مندر، اپوروانند ، ٹیسٹا سیٹلواد جیسے کچھ ہندو تو ایسے بھی ہیں جو اُس جگہ پر آج بھی مسجد بنانے کی وکالت کررہے ہیں۔ خشونت سنگھ ایک غیر مسلم ہونے کے باوجود بھی اپنے کالم میں لکھا کرتےتھے کہ ایودھیا معاملے کا ایک ہی حل ہے کہ اُس جگہ پر ایک عالیشان مسجد تعمیر کی جائے ، اور مسلمانوں سے معافی مانگ کر وہ جگہ مسلمانوں کے حوالے کی جائے۔ ایک طرف یہ لوگ ہیں جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ رسول پر اور نہ ہی یومِ آخرت پر اس کے باوجود بھی حق بہ حقدار رسید کے علمبردار ہیںاور دوسری طرف چند ایسے ذلیل مسلمان ہیں جو اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن امیدیں بتوں سے وابستہ رکھتے ہیں۔
اور بتا تو سہی کافی کیا ہے؟
اگر بابری مسجد کی قطعہ اراضی مسلمانوں سے چھین لی جا تی ہے تواِس کا گناہ اُن لوگوں پر پڑے گا جو چھیننے کا کام کریں گے جبکہ مسلمانوں کو اس کا ثواب ملے گا کہ انہوں نے توحید کی سربلندی کیلئے آخری دم تک اپنی حتی الامکان کوشش جاری رکھی۔ اس کے بجائے اگر مسلمان خود وہ زمین دے دیں گے تو جب تک وہاں مشرکانہ عمل ہوگا اس میں مسلمان برابر کے حصہ دار ہونگے۔ گناہوں کا اتنا بڑا بوجھ مسلمانوں کے سر آجائے گا جوسود خوری ، شراب نوشی  اور زنا باالرضا کے اڈے کھولنے سے بھی کہیں زیادہ بھاری ہوگا کیونکہ ان تینوں گناہوں میں بھی حقوق العباد سے چھیڑ چھاڑ نہیں ہوتی ہے ۔اس لئے مصلحت کی جس منافقت میں  منافقین اپنے آپ کو چھپا کر مسلمانوں کے سر گناہوں کے ہمالیہ پہاڑ ڈالنے کی کوشش کررہےہیں ایسے لوگوں کے سروں سے منافقت کی چادر کھینچنا بہت ضروری ہے۔ معاملہ اب بھی عدالت میں ہے ۔  اگر ہماری صفوں میں چھپے منافقین یہ نکتہ مسلمانوں کو باور کرانا چاہتےہیں کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ سے بھی ہندوؤں کے حق میں ہی فیصلہ آئے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کہنا چاہتےہیں کہ ہندوستان میں عدلیہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے نیز  عدالتوں کو ، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کو بھی  ’ہموار‘ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں جاتی ہے ۔ دوسری بات یہ ،کہ مسلمان ملک میں بہت کمزور ہیں،لیکن ابھی اتنے کمزور بھی نہیں ہیں کہ وہ عدالت کی رسموں کو بھی پورا نہیں کرسکیں۔اگر عدالت سے مسجد کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو یہ یقیناً   دنیا و آخرت میں مسلمانوں کی جیت ہوگی ، اور اگر فیصلہ مندر کے حق میں آتا ہے تو مسلمان کم از کم آخرت میں رب کائنات کے سامنے کہہ سکتا ہے کہ ہم انتہائی کمزور، نحیف اور ناتواں ہونے کے باوجود بھی تیرے نام کےلئے آخر تک لڑتے رہے۔عدالت کے فیصلے سے  قبل ہی مذکورہ قطعہ اراضی مندر بنانے کے لئے سونپ دینے سے ہم دنیا میں بھی رسوا ہونگے اور آخرت کی رسوائی تو ہے ہی دائمی۔ وہ بڑی ذلت ہوگی، اسلئے ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں جن کی روح مر کر دفن ہوچکی ہے اور جسم بھٹک رہے ہیں۔