تاریخ اشرف العلوم”میرے مطالعہ کی روشنی میں

قاری مطیع الرحمن صدیقی استاذ معھدالعلوم الاسلامیہ چک چمیلی ویشالی۔

ابھی میرے سامنے شمالی بہار کا مشہور و معروف ادارہ الجامعتہ العربیہ اشرف العلوم کنہواں سیتا مڑھی بھار کی سو سالہ خدمات شخصیات کا سوانحی خاکہ پس منظر حالات پر مشتمل تاریخ اشرف العلوم ہے،کمپوزنگ کا کام شاہد انور قاسمی ںے کیا ہے ترتیب دینے کا کام جامعہ کے مؤقر استاذ مولانا نسیم احمد قاسمی صاحب نے بہت سلیقہ سے کیا ہے،۷۶۸صفحات پر مشتمل ہے یہ کتاب،اسے آپ الجامعتہ العربیہ اشرف العلوم کنہواں سے ۴۰۰روپۓ میں حاصل کر سکتے ہیں، سب سے پہلے فہرست مضامین ہے،جو ۱۶صفحات تک مشتمل ہے،اس کے بعد پیش لفظ ہے جو حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب استاذ ادب عربی دارالعلوم دیوبند نے ۸صفحہ میں لکھا ہے۔
حضرت مولانا اخیر میں لکھتے ہیں خدا کریم سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو بے پناہ مقبولیت سے نوازے اور اس کے مصنف،اساتذہ کرام اور مدرسہ کی ظاہری و اخلاقی مدد کرنے والے سارے سارے مخلصین حضرات کو اپنی بے پناہ رحمتوں سے نوازے،اورعزت و عظمت سے سرفراز فرمایے آمین ۔اس کے بعد صفحہ ۲۷تا۲۸پر ممتاز عالم دین صاحب قلم مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھاڑکھنڈنے لکھا ہے،حضرت مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ شمالی بہار میں جو مدارس کام کر رہے ہیں ان میں جامعہ عربیہ اشرف العلوم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسے ہر دور میں اللہ رب العزت نے اہل اللہ کی سر پرستی عطا فرمائی ہے کہ بانیان اور تدریسی عملہ ہر دور میں تسلسل کے ساتھ ایسے باکمال اہل دل رہے ہیں جنھوں نے پڑھایا بھی سکھایا بھی سنتوں پر عمل کرایا بھی اور آج بھی زندگی کو صحیح اسلامی رخ پر ڈالنے کے لئے ایسی تربیت دیتے ہیں کہ وادررین و صادرین برجستہ کہہ اٹھتے ہیں کہ
“در مدرسہ خانقاہ دیدم”
اس کے بعد تأثر اتی کلمات فقیہ العصر شیخ وقت عالم باعمل حضرت مولانا قاسم صاحب نے لکھا ہے ،وہ ایک جگہ لکھتے ہیں بہت خوشی کا مقام ہے وکہ جامعہ نے جشن صد سالہ کے موقع پر اس عظیم ادارہ کی روشن تاریخ کو مرتب کرنے کا ارادہ اس ادارہ کے نوجوان عالم دین مولانا نسیم احمد قاسمی نے کیا ہے،مولانا موصوف کو اللہ تعالیٰ علم ماتعلم کی نعمت سے نوازا ہے انہوں نے پوری عرق ریزی اور جانفشانی سے جامعہ کی تاریخ مرتب کی ہے۔
“کلمات عالیہ”کے عنوان سے حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی نے لکھا ہے جو جامعہ کے ناظم ہیں۔حضرت کی تحریر صفحہ ٣٠اور ٣١پر ہے ۔
“کلماتِ بابرکت”حضرت مولانا اظہار الحق المظاہری نےلکھا ہے ہے جو تین صفحہ پر محیط ہے،اس کے بعد جامعہ کا ترانہ جس کو ترتیب مولانا اویس قاسمی صاحب نوراللہ مرقدہ سابق صدر مدرس جامعہ ھذا نے لکھا ہے۔صفحہ ۳۵تا۳۶ پر درج ہے،اس کے مقدمہ مرتب نے لکھا ہے، جو صفحہ نمبر ۳۷پروہے،مرتب نے بہت سلیقہ سے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے جامعہ کے ابتداء سے لیکر آج تک کے حالات تمام سابق استاذ ،مشہور و غیر مشہور شخصیات جن لوگوں کی بھی خدمات ادارہ کو حاصل رہی ہے موصوف نے شامل کیا ہے۔
صفحہ ۵۱پر شیخ واعظ الدین گماشتہ علامہ کا تزکرہ ہے جو راقم کے پردادہ ہیں،ادارہ کی ابتداء میں آپ کی بہت قربانی رہی ہے،صفحہ ۵۱تا ۶۰ تک کنہواں اور اس کے اطراف کی مشہور شخصیات کا تذکرہ ھے،ادارہ کے ناظم ،نائب ناظم صدر مدرس ،مدرس تمام ملازمین کا تزکرہ اسی کتاب میں موجود جو بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے،راقم الحروف کے والد ماجد مفتی حبیب الرحمن صاحب مرحوم جو جامعہ میں محاسب کے منصب پر فائز تھے،آپ کا بھی تزکرہ صفحہ ۵۴۲تا ۵۴۳پر درج ہے ،حضرت مولانا ضیاء الدین صاحب مرحوم کابھی تزکرہ ۴۸۲تا۴۸۳پر درج ہے،راقم کے استاذ محترم قاری بدر عالم طیبی مرحوم کی بھی خدمات ادارہ کو حاصل ہے،آپ کا خوبصورت تزکرہ ۵۶۸پر درج ہے،مولانا نسیم احمد قاسمی صاحب نے سمندر کو کوزے میں سمونے جیسا بڑا کام کیا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مولانا کی صحت میں عمر میں برکت عطا فرماکر آپ کی اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔

قاری مطیع الرحمن صدیقی
استاذ معھدالعلوم الاسلامیہ چک چمیلی ویشالی۔