ایک روزہ عظیم الشان نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد پکھرایاں

———————————-
رپورٹ ۔حافظ محمد سیف الاسلام مدنی
14/نومبر 2018 بروز بدھ بعد نماز عشاء
مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نورگنج پکھرایاں ضلع کانپور دیہات یوپی “میں ایک روزہ عظیم الشان، کل ہند نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس.میں ملک کے معروف، ومشہور شعراءاسلام نے شرکےت کی،
نعتیہ مشاعرہ، سیرت کی.مجلسوں کا انعقاد، اس لئے ہوتا ہے تاکہ دنیا والوں کے سامنے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، کے سیرت طیبہ کا بیان ہو، اور نبی کی مبارک زندگی، کا ہر پہلو، اجاگر کیا جائے، قدیم زمانے سے دینی مجالس، اجتماعات، اور اجلاسات، اس لئے منعقد کئے جاتے رہے ہیں ، کہ سیرت طیبہ کو سنکر لوگ اپنی زندگی کو نورانی بنالیں،
نعتیہ مشاعرہ بھی اسی بیان سیرت کی ایک قسم ہے، یہ بات مسلم ہے کہ، ہر زمانہ میں، ہر دور میں شعراء اسلام نے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، کی شان میں نعتیہ کلام پڑھے ہیں قصیدے لکھیں ہیں، جو ہر دور میں امتیازی شان کے حاصل رہے ہیں، حسان، فرزدق، ہوں قدیم زمانے کے شعراء ہوں، امیر مینائی ہو، یا ماہر القادری، ہر دور میں، ادباء اور شعراء نے، نظم و نثر میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں، نعتیہ کلام پڑھنے کی طبع آزمائی کی ہے “اور امت کے سامنے، نعتیہ کلام نظم میں پیش کیا ہے!
اس موقع پر عالمی شہرت یافتہ شاعر اسلام جناب قاری عبد الباطن فیضی نے، نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے، قیمتی اور ایمان افروز اشعار پیش کئے!

بندگی کے واسطے خود ہی وسیلہ چن لیا
جسنے ٹی وی چھوڑ مسجد کا مصلیٰ چن لیا
دائیاں سارے عرب کی ہاتھ ملتی رہ گئی
جب حلیمہ نے نبی کا روئے، زیبا چن لیا!
قاری عبد الباطن فیضی

میرا دعویٰ ہے کہ اللہ کی رحمت ہوگی
جس جگہ پیارے نبی آپکی مدحت ہوگی
آپکی مدح سرائی بھی ہے ایک کار ثواب
آپکی نعت پڑھوں اور عبادت ہوگی!
شہرت نیپالی

مصطفیٰ آپکے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
آتا بھی کیسے جب اللہ نے بنایا ہی نہیں
جسنے سرکار کے چہرے کی زیارت کرلی
اسکی آنکھوں میں کوئی اور سمایا ہی نہیں
مفتی طارق جمیل

اپنے ماں باپ سے جو خفا ہوگیا
دوجہاں میں سمجھ لوبرا ہوگیا
دیکھ لو پیار سے اپنے ماں باپ کو
پھر سمجھ لو کہ ایک حج ادا ہوگیا
فہیم لالہ پوری

سینے میں اپنے نور خدا،لےکہ آیا ہوں
اللہ کے نبی کی ادا لےکہ آیا ہوں
ہٹ جاؤ اے بلاوں میرے راستے سے تم
میں اپنے ساتھ ماں کی دعاء لےکہ آیاہوں
اشفاق بہرائچی

عرش سے فرش تک کیا گلی کیا نگر،
ہرجگہ جنکی ہے دھوم دھام،
ان پہ لاکھوں کروڑوں سلام تابش ریحان

جب آمنہ کا لاڈلا ذیشان ہوگیا
دونوں جہاں کا سروروسلطان ہوگیا
بھٹکے ہوئے کو راہ دکھانے کے واسطے
نازل میرے رسول پہ قرآن ہوگیا
شاہد گوہر

تمام ہی شعراء کرام نے منفرد انداز اور مسحور کن لحظے میں، اپنے کلام پیش کئے “اور سامعین کے دلوں کو مزین کردیا!
جناب قاری محی الدین صاحب کانپوری کی تلاوت سے مشاعرہ کا آغاز ہوا!
صدارت معروف عالم دین، جناب مولانا مشتاق احمد قاسمی “نے کی “جبکہ نظامت کے فرائض مولانا عبد الماجد قاسمی نے انجام دئے “پروگرام کے اختتام پر کنوینر مشاعرہ مولانا محمد خالد قاسمی نے تمام ہی شعراء اور آنے والے سامعین کا، شکریہ ادا کیا! اس موقع پر حافظ احسان الحق صاحب ۔مولانا عبدالواجد قاسمی ۔حافظ محمد سیف الاسلام مدنی مولانا فضل رب قاسمی حاجی عقیل احمد صدیقی حافظ محمد نعیم صاحب پکھرایاں ۔
خواص طور سے شریک رہے ۔
اور کثیر تعداد میں سامعین کرام موجود رہے اور مشاعرہ کو کامیاب بنایا ۔