آسام این آر سی معاملے میں سپریم کورٹ نے پانچ ڈوکومینٹس کی حیثیت بحال کردی ،چالیس لاکھ لوگوں کو ملی بڑی راحت ۔۔

مولانا سید محمود مدنی اور مولانا بد رالدین اجمل نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی ایک اور جیت قرار دیا
نئی دہلی,
آج چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس فالی نریمن پر مشتمل بنچ کی عدالت میں آسام میں شائع ہونے والے نیشنل رجسٹر برائے شہریت (این آر سی) سے متعلق مختلف مسائل پر بحث ہوئی اور کورٹ نے این آر سی کو آرڈینیٹر کے ذریعہ پندرہ میں سے پانچ ڈوکومنٹس کو شہریت کے ثبوت کے لئے ناقابل قبول قرار دینے والی سفارش کو مسترد کرتے ہوئے ان ڈوکومنٹس کی حیثیت کوبحال کردیا ہے جس سے ان چالیس لاکھ لوگوں کو بڑی راحت ملی ہے جن کا نام اب تک این آر سی میں شامل نہیں ہوا ہے۔واضح رہے کہ این آر سی کو آرڈینیٹر مسٹر پر تیک ہزیلانے عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے کہا تھا کہ باقی ماندہ چالیس لاکھ لوگوں کو شہریت ثابت کرنے کے لئے پندرہ کی بجائے صرف دس ڈوکومنٹس استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ان پانچ ڈوکومنٹس میں راشن کارڈ،سیٹیزن سرٹیفیکٹ،ریفیوجی سرٹیفیکٹ،1951 کا این آر سی اور 1971 سے پہلے کا ووٹر لسٹ شامل ہے۔این آر سی کو آر ڈینیٹر کی اس سفارش کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیة علماءصوبہ آسام نے سپریم کورٹ کی اجازت سے 29 اکتوبر 2018 کو حلف نامہ داخل کیا تھا اور ان پانچ ڈوکومنٹس کی حیثیت بحال کرنے کی پر زور وکالت کی تھی۔جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی اور جمعیة علماءصوبہ آسام کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے آج کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنچایت سر ٹیفیکٹ کی حیثیت کی بحالی کے بعد ان پاننچ ڈوکومنٹس کی بحالی سے انصاف کی ایک اور جیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلہ سے چالیس لاکھ لوگوں کو بہت بڑی راحت ملی ہے اور یہ بھی کہا کہ اگر افسران ایمانداری کے ساتھ کام کریں گے تو باقی ماندہ لوگ جن کے پاس ڈوکومنٹس ہےں وہ اپنی شہریت آسانی کے ساتھ ثابت کر پائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ این آر سی کا کام کرنے والے ذمہ داران انصاف کے ساتھ کام کریںگے اور کوئی بھی فیصلہ ڈوکومنٹس کی بنیاد پر کریں گے، مذہب یا زبان کی بنیاد پر نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جن دو کروڑ نوے لاکھ لوگوں کا نام این آر سی میں شامل ہو چکا ہے ان سب کو پندرہ ڈوکومنٹس استعمال کرنے کی اجازت تھی اور خود این آر سی کے کو آرڈینیٹر نے عدالت میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ 93% سے زیادہ لوگوں اپنے شہریت کے ثبوت میں ان پانچ ڈوکومنٹس کا استعمال کیا ہے تو پھر باقی ماندہ چالیس لاکھ لوگوں کو ان پانچ ڈوکومنٹس کے استعمال سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔این آر سی کے کو آر ڈینیٹر نے عدالت کو بتایا کہ ان پانچ ڈوکومنٹس کو بہت سے لوگوں نے غلط طریقے سے حاصل کیا ہے بلکہ خریدا ہے جس سے غلط لوگوں کا نام این آر سی میں شامل ہو جائےگا اس لئے ان پانچ ڈوکومنٹس کو مسترد کیا جائے۔ فاضل ججوں نے واضح انداز میں کہا کہ اگر کسی طرح کی گڑبڑی کا انکشاف ہو تو آپ اس کی جانچ کیجئے، اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کیجئے مگر ان ڈوکومنٹس کی حیثیت کو ختم نہیں کر سکتے کیوں کہ اس سے ان لوگوں کو بھی دشواری کا سامنا ہوگا جن کے پاس یہ اوریجنل ڈوکومنٹس موجود ہیں کیونکہ کچھ لوگوں کی غلطی کی وجہ سے دوسرے صحیح لوگوں کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ عدالت نے آج شہریت کے ثبوت کا فارم بھر نے کی تاریخ بھی 25 نومبر سے بڑھاکر 15 دسمبر 2018 تک کردی ہے،اس کے بعد ویریفیکیشن کا کام ہوگا اور فروری 2019 میں اس پر سنوائی کے لئے این آر سی سینٹر میں لوگوں کو بلایا جائےگا۔ آج کے فیصلہ کے بعد جمعیة علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنی اور جمعیة علماءصوبہ آسام کے صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بد رالدین اجمل نے کہا کہ ہمیں عدالت پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہاں سے انصاف ملے گا اور ہندوستان کے شہریوں کو ان کے ہی ملک میں شہریت سے محروم ہونے سے بچا لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ 2009 میں آسام پبلک ورکس نامی تنظیم کے ذریعہ دائر کردہ مقدمہ جس کے تحت این آر سی کا کام ہو رہا ہے۔ اس مقدمہ( PIL No. 274/2009 ) میں مولاناقاری عثمان منصور پوری اور مولانا سید محمود مدنی کی زیر سر پرستی اور مولانا بدرالدین اجمل کی زیر نگرانی جمعیة علماءصوبہ آسام ابتداءہی سے فریق ہے، اور اس کے ساتھ ہی اس سے متعلقہ مزید پانچ مقدمات بھی سپریم کورٹ میں لڑ رہی ہے ۔ ان مقدمات کی پیروی کے لئے ماہر وکلاءکی ایک ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ہے جن میں سینئر اڈووکیٹ بی ایچ مالا پلے، سینئر اڈووکیٹ وی گری، سینئر اڈووکیٹ جے دیپ گپتا،، سینئر اڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، اڈووکیٹ منصور علی، اڈووکیٹ شکیل احمد سید،اڈووکیٹ نذر الحق مزار بھیا، اڈووکیٹ اے ایس تپادر، اڈووکیٹ امین الاسلام اوراڈووکیٹ ابوالقاسم تعلقدار وغیرہ شامل ہیں۔آج کی سماعت کے دوران مولانا بدرالدین اجمل صاحب جو اِن دنوں عمرہ پر ہیں ان کی ہدایت پر جمعیة علماءصوبہ آسام کے سکریٹری ڈاکٹر حافظ رفیق الاسلام(سابق ایم ایل اے) وغیرہ عدالت میں موجود تھے۔