آر ایس ایس کا اپنے خاص ممبران کو دیاگیا ہوش اڑادینے والا خفیہ سرکیلور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چانکیہ کی وراثت ابھی زندہ ہے۔ یاسر ندیم الواجدی

سکھوں کے ایک مشہور اسکالر ڈاکٹر سکھ پریت سنگھ نے 584 صفحات کی ایک کتاب لکھی ہے، کتاب کا نام ہے “سکھ ازم کے خلاف فکری حملے پر ردعمل” (انگریزی نام کا ترجمہ) کتاب میں انھوں نے صحفہ نمبر 582 پر آر ایس ایس کی پالیسیاں نمبر وار درج کی ہیں۔ یہ ایک خفیہ سرکیولر ہے جو تنظیم کی طرف سے اپنے خاص ممبران کو دیا گیا ہے، ڈاکٹر سنگھ کے حوالے سے اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:
1- زیادہ سے زیادہ دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار جمع رکھیں۔
2- سرکاری افسران میں ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے۔
3- طبی عملے کے درمیان بھی ہندوتوا کے تئیں بیداری لائی جائے اور ان کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ وہ دلتوں اور مسلمانوں کے نوزائیدہ بچوں کا درست علاج نہ کریں اور یہ بچے معذور پروان چڑھیں۔
4- نچلی ذات کے ہندووں میں “جے شری رام” کے نعرے کو پھیلایا جائے۔
5- ہندوتوا وادی سیکیولر پروگراموں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
6- ڈرگ، نشہ، جوا اور لاٹری کی تجارتوں کا تعاون کیا جائے ۔
7- سرکاری دفاتر میں ہندو تہواروں کو بڑے پیمانے پر منایاجائے۔
8- مسلم اور دلت لڑکیوں کو طوائف بنانے کی کوشش کی جائے۔
9- اساتذہ کی مدد سے “غیر سورن” بچوں کو ایسی غذائیں فراہم کی جائیں کہ ان کی جسمانی افزائش متاثر ہوجائے۔
10- ایس سی اور ایس ٹی کے بچوں میں ہندوازم کو مضبوط کرنے کے لیے ان کو ہندو مذہبی اسکولوں میں داخل کیا جائے۔
11- فسادات کے دوران مسلم اور دلت خواتین کی عصمت دری کی جائے اور “سورت” میں پیش کیے جانے والے طریقہ کار کو ملحوظ رکھا جائے۔
12- غیر ہندو عباد گاہوں کے قریب ہندو معبودوں کی تصاویر آویزاں کی جائیں اور ایسا لٹریچر عام کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ یہ اصلا ہندووں کی عبادت گاہیں ہیں۔ (اس تعلق سے ناگپور ہیڈ کوارٹر سے مواد حاصل کیا جاسکتا ہے)۔
13- اسلام اور بدھ ازم کے خلاف لٹریچر عام کیا جائے اور مہاراجہ اشوک کو ہندو ثابت کیا جائے۔
14- لائبریریوں سے اسلام، بدھ ازم اور دیگر مذاہب کے لٹریچر کو تدریجا ختم کردیا جائے۔
15- خالی جگہوں پر اونچی برادری کے ہندووں کو ہی ملازمت دی جائے۔
16- رامائن کے اسٹیکرز، کیلنڈرز اور پمفلٹ زیادہ سے زیادہ تقسیم کرائے جائیں۔
17- پسماندہ ذاتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے سادھو سنتوں کی خدمات برابر لی جاتی رہیں۔
18- جینیوں، سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کی تبدیلی مذہب کے پروگرام بڑ ے پیمانے پر منعقد ہوں۔ (پٹنہ ماڈل سامنے رہے)
19- منڈل کمیشن مخالف پروگرام زیادہ سے زیادہ منعقد کیے جائیں
20- مسلمانوں کی مختلف ذاتوں میں تفرقہ ڈالا جائے۔
21- سیاسی پالیسی کے لیے چانکیہ نیتی کو سامنے رکھا جائے۔
22- دلتوں میں دیوداسی کی روایت کو بڑھاوا دیا جائے، اس کے لیے ایسی تصاویر ان میں تقسیم کی جائیں جن میں بھگوانوں کو لڑکیوں کے ساتھ بوس وکنار کرتے ہوے دکھایا گیا ہو۔
23- میڈیا کو کنٹرول کیا جائے اور ایڈیٹرس کو برہمن واد کے تحفظ کے لیے آمادہ کیا جائے۔
24- ایس سی، ایس ٹی امیدوار جو برہمن واد کی حمایت کریں ان کی الیکش میں جیت کو یقینی بنایا جائے۔
25- مسلمانوں ہی میں سے ایسے افراد کا انتخاب کیا جائے جو مسلم مخالف ذہنیت کے ساتھ لکھیں۔
26- سورن برادری کے تاجروں کا مکمل تعاون کیا جائے۔
27- غیر ہندووں کے کاموں پر نظر رکھی جائے اور ہیڈ کوارٹر کو مطلع کیا جاتا رہے۔
28- ہندو/برہمن واد مخالف لوگوں کو قتل کرکے پہلے سے بتائے گئے طریقے کے مطابق ان کی لاش کو ٹھکانے لگادیا جائے۔
29- چاند کی چودہویں تاریخ کو رضاکاروں کی لازمی میٹنگ ہو۔
30- پیغامات کی ترسیل برابر جاری رہے۔

حق کو پھلنےپھولنے کے لیے اس طرح کی سازشوں کا سہارا نہیں لینا پڑتا ہے، یہ ہمیشہ سے باطل کا طریقہ رہا ہے، البتہ حق کے تحفظ کے لیے باطل کی ریشہ دوانیوں سے مکمل واقفیت بہت ضروری ہے۔ مندرجہ بالا تفصیلات میں کوئی بھی چیز نئی یا تعجب خیز نہیں ہے، لیکن ان باتوں کا ایک سکھ اسکالر کی طرف سے بطور ثبوت پیش کیا جانا یقینا اہمیت کا حامل ہے۔