مسلم لڑکیوں کے خلاف آر ایس ایس کی”ریپ یوگ”مہم

تحریر : غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیراعلیٰ: “سواد اعظم” دہلی
gmnaimi@gmail.com

زمانۂ جاہلیت میں حکمراں قوم کے افراد محکوم قوم کے مرد وخواتین کے ساتھ جو سلوک کرتے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں درج ہے.
یہاں ہم چند صورتیں بیان کرتے ہیں:
🔹 کچھ مَردوں کو قتل کردیا جاتا تاکہ ان کے انجام کو دیکھ کر دیگر لوگ خوف زدہ رہیں۔
🔹 کچھ مردوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈال دیا جاتا تاکہ قید کی مصیبت سے گھبرا کر وہ حکمراں قوم کی ذہنی غلامی قبول کرلیں۔
🔹 کچھ مردوں کو محنت ومشقت اور مزدوری کے کاموں کے لیے زندہ رکھا جاتاتھا۔
🔹 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی اور ان کی عزت وآبرو کو محض ایک کھلونا تصور کیاجاتا اور مختلف حیلوں بہانوں سے خواتین کاجنسی استحصال کیاجاتا تھا۔
لیکن آج مہذب، تعلیم یافتہ اور آزاد ہندوستان میں مسلم مرد و خواتین کے خلاف شدت پسند تنظیمیں یہی ظالمانہ اور جاہلانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
🔸 فرضی انکاﺅنٹر کے نام پر مسلم نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے.
🔸 جھوٹے مقدمات لکھا کر جیلوں میں قید کیا جارہاہے.
یا پھر :
🔸 پنکچر جوڑنے، رنگ پتائی کرنے، نالیاں صاف کرنے جیسے کاموں پر مجبور کیا رہا ہے.
اور مسلم لڑکیوں کے خلاف اغوا، جبریہ ارتداد، اور “ریپ یوگ” (रेप-याेग) کی مہم چلائی جارہی ہے.

*کیا ہے “ریپ یوگ” Rape-Yoga مہم؟*

مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کی عزت اور زندگی سے کھلواڑ کرنے کے لیے پچھلے کچھ وقت سے شدت پسند تنظیموں نے یہ مہم چلا رکھی ہے. اس مہم کا مقصد مسلم قوم کو ذہنی طور پر رسوا کرنا اور مسلم لڑکیوں کو زبردستی مرتد بناناہے. اس مہم کے تحت کالج و یونی ورسٹی جانے والی لڑکیوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا ہے. اس مہم کے تحت مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے دوستی کرائی جاتی ہے، اور اسی دوستی کی آڑ میں محبت کا جال پھیلاکراس لڑکی کو گھروالوں کی بغاوت پر آمادہ کرکے گھر سے فرار کرایا جاتا ہے. بعد میں ان کا مذہب تبدیل کرکے، اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کرنے کے بعد انہیں بے سہارا چھوڑدیا جاتا ہے. !!

آج کل یہ مہم بڑے زوروشور سے چلائی جارہی ہے اور شدت پسندوں نے اس مہم کو”بیٹی بچاﺅ-بَہو لاﺅ” کا نام دیا ہے.
پچھلے کچھ وقت سے شدت پسند تنظیمیں مسلمانوں پر “لو جہاد”[Love Jihad] کی مہم چلانے کا جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں.
اس پروپیگنڈے کے تحت مسلم نوجوانوں اور تنظیموں پر سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کرمذہب تبدیل کرنے کا جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے. حالانکہ یہ ایک جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے.
آئیے سب سے پہلے اسی الزام کی تحقیق کرتے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے.

*’لَوجہاد’ کے جھوٹے پروپیگنڈے کی حقیقت*:

پچھلے پارلیمانی الیکشن[2014] میں جب مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی تو شرپسندتنظیموں کی منہ مانگی مراد برآئی. اسی وقت مظفرنگر (اتر پردیش) کے ایک واقعہ کو لےکر سنگھی تنظیموں نے ‘لوجہاد’ کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا. اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی تنظیموں نے منصوبہ بند سازش کے تحت اس جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر شروع کردی.
اس پروپیگنڈے کے تحت آر ایس ایس کی میگزین “پانجنیہ” نے فلمی اداکارہ ‘کرینہ کپور’ کی فلم اداکار سیف علی خان سے شادی کو ‘لوجہاد’ قرار دیا. اس کے علاوہ کئی دیگر مسلم نام والے فلمی اداکاروں کی ہندو بیویوں کا نام لیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ ساری شادیاں “لوجہاد” کا حصہ تھیں.
فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کی شادیوں کو ‘لوجہاد’ قرار دینے کو ذہنی دیوالیہ پن اور پاگل پن سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے. کیوں کہ فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کے لئے ان کا فن اور پیشہ سب سے اہم ہے. مذہب ان کی زندگی میں اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا کسی فلم کا کوئی کردار. یعنی جب انہیں کوئی نمائشی کام کرنا ہوتا ہے تو اسی مذہب کے مطابق حلیہ بنالیتے ہیں اور اسی مذہب کی مذہبی رسموں کو ادا کرلیتے ہیں جس طرح وہ فلموں کے کرداروں کو ادا کرتے ہیں. کسی فلمی اداکار کو اس کے مسلم نام کی بنیاد پر اسلامی کلچر والا “صاحبِ ایمان” سمجھ لینا انتہائی اعلی درجے کی نادانی ہے. حقیقت یہ ہے کہ فلمی دنیا سے وابستہ تمام افراد تہذیبی اعتبار سے مشرک ہی ہوتے ہیں، بھلے ہی کچھ افراد کے نام مسلموں جیسے کیوں نہ ہوں.
جس وقت ‘لوجہاد’ کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع ہوا تو اسی وقت ہمیں لگا تھا کہ اس کی آڑ میں ضرور مسلم دشمنی کا نیا کھیل شروع ہونے والا ہے. اور کچھ وقت کے بعد ہی ‘لوجہاد’ کے جھوٹے الزام کے جواب میں “بیٹی بچاﺅ،بہو لاﺅ” کا نعرہ دےکر مسلم لڑکیوں کے اغوا، جنسی استحصال اور جبری ارتداد کا منصوبہ بنایا گیا اور علانیہ طور پر اپنے اس بدتر ایجنڈے کا اعلان کیا گیا. لیکن انتظامیہ ہمیشہ کی طرح کانوں میں تیل ڈالے سوتی رہی اور اب اس مہم کے تحت مسلم لڑکیوں کے اغوا وجبری ارتداد کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں.

*شرپسندوں کی شر انگیزی:*

مسلم لڑکیوں کے اغوا اور جبری ارتداد کے لیے آر ایس ایس کی کئی تنظیمیں میدان عمل میں کام کر رہی ہیں جن میں چند یہ ہیں:

وِشّوَ ہندو پَرِیشَد، ہندو جاگرَن منچ، ہندو یُوا واہِنی، بجرنگ دل، وندے ماترم مشن، بھارت سیوا شرم سَنگھ، ہندو سَہْمَتِی سَنگٹھن وغیرہ۔
یہ ساری تنظیمیں علانیہ اپنے اس غیرقانونی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں.
ان کی شرانگیزیوں کے چند نمونے دیکھیں:
❗ ہریانہ صوبہ کے شہر “حصار” میں ’اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا‘ نے ‘بیٹی بچاﺅ،بہو لاؤ’ مہم کے آغاز کے موقع پر مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے والے ہندو لڑکوں کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا. اور ساتھ ہی ان کی مکمل حفاظت اور سماج میں ان کی عزت وشہرت کا یقین بھی دلایا. !!
❗ ہندو جاگرن منچ یوپی کے مُکھیا اَجُّو چَوہان نے 1 دسمبرط2017ء کو اعلان کیا کہ قریب 2100 مسلم لڑکیاں ان کے رابطے میں ہیں، جن کی اگلے چھ مہینوں کے اندر تبدیلی مذہب کے بعد ہندو لڑکوں سے شادی کرائی جائے گی. !!
❗ اتراکھنڈ کے “لکسر” اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی سنجے گپتا نے مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے “لو کرانتی”[Love kranti] نامی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے. جس کے تحت سنجے گپتا نے 500 ہندو لڑکوں کا ایک گروپ بنایا ہے اور ان سبھی لڑکوں کو مسلم لڑکیوں کو محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر گھر سے بھگاکر مرتد بنانے کا ٹارگیٹ دیا ہے.
اتراکھنڈ میں فی الحال بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ ‘ترویندر راوت’ نے بھی اس مہم کی حمایت کرکے دستوری قدروں کو پامال کرنے میں کوئی تأمل نہیں کیا. !!!

یہ سارے شرانگیز اعلان کھلے عام کیے جارہے ہیں لیکن قانون وانتظامیہ کے ذمہ داران پر اس کا کوئی بھی اثر نہیں ہے کیوں کہ جب اسمبلی اور وزارت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے اشخاص ہی یہ خلاف دستور مہم چلارہے ہیں تو ان کے خلاف کون قانونی کاروائی کرے؟

*اغوا وارتداد کے تازہ واقعات:*

سَنگھی تنظیموں نے اپنے منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں مسلم لڑکیوں کے خلاف یہ مہم شروع کردی ہے ۔اس مہم کے تحت کئی واقعات ملک کے مختلف حصوں میں پیش آئے ہیں یہاں ہم قارئین کے سامنے تین واقعات رکھتے ہیں:
🔸 انگریزی اخبار “انڈین ایکسپریس” کے مطابق مغربی بنگال کے جن علاقوں میں بی جے پی کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی ہے وہاں RSS نواز تنظیموں نے مسلم لڑکیوں کو پھنسانے کے لئے زبردست مہم چھیڑ رکھی ہے. وشو ہندو پریشد کے نیتا ‘بادل داس’ کے مطابق ان کی تنظیم نے ایک سال میں قریب پانچ سو مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو ہندوبنانے میں کامیابی حاصل کی ہے. !!!
🔸 یوپی کے مشہور نوابی شہر ‘رامپور’ میں سَنگھی تنظیموں کے کچھ غنڈوں نے ایک 14 سالہ نابالغہ مسلم لڑکی کو اغوا کرکے جنسی زیادتی کی اور زبردستی مرتد بنانے کی کوشش کی. پولیس نے حسبِ امید شرپسندوں کا ساتھ دیا. !! ناانصافی کا عالم یہ تھا کہ شرپسندوں نے ایک ہفتے تک مسلم لڑکی کو اپنے قبضے میں رکھا اور پولیس نے نہ تو ہندولڑکوں کو گرفتارکیا، نہ ہی والدین کو اس لڑکی سے ملنے دیا. !!
جب کہ شہر کے آر ایس ایس کارکنان اس لڑکی سے ملتے رہے اور اس کی جانب سے کورٹ میں ہندو بننے کے جھوٹے حلف نامہ دلاتے رہے.
یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ اس کیس کے دومجرمین میں سے ایک لڑکا پہلے بھی ایک مسلم لڑکی کے اغوامیں ملوث پایا گیاتھا، جس کا سیدھا مطلب یہی ہے کہ یہ RSSکے لئے کام کرتاہے.
یہ واقعہ اس لحاظ سے مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ “رامپور” شہر ہندوستان کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی شہر ہے. جب اتنی بڑی مسلم آبادی میں مسلم لڑکی کو اغوا کرکے ہفتوں تک اسے محصور کیا جاسکتا ہے تو دیگر شہروں اور علاقوں میں شدت پسندوں کی غنڈہ گردی کا عالم کیا ہوگا؟
🔸 رواں مہینے 12 اکتوبر 2018ء کو متھرا [یوپی] کی رہنے والی ایک لڑکی ‘عرشی خان’ نے کھلے عام ہندو مذہب اختیار کرلیا !!
اور ‘عرشی’ سے ‘آروشی’ بن گئی. اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مسلم سماج میں خواتین کی کوئی عزت نہیں ہے جب کہ ہندو سماج میں “درگا”، “لکشمی” اور “سیتا” جیسی خواتین ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی لئے وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنی خوشی سے ہندو مذہب قبول کر رہی ہے.
یہ تین واقعات تو ہم نے بطور مشتے نمونہ ازخروارے پیش کئے ہیں ورنہ پورے ملک سے آنے والی خبروں کا ڈاٹا اکٹھا کیا جائے تو پیروں تلے زمیں نکل جائے.
پچھلے دنوں پونہ شہر سے یہ خبرآئی کہ ’اکتوبر 2016 سے اکتوبر 2017 کے مابین 44 مسلم لڑکیوں نے غیرمسلم لڑکوں کے ساتھ شادیاں کیں.!!

گجرات ،دہلی اور ایم پی وغیرہ سے ایسی ہی دل خراش خبریں آئیں ہیں جن کو پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتاہے.

*شرپسندوں کے طریقے:*

پچھلی سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ کس طرح ہندو نوجوانوں کی ٹیم بناکر انہیں مسلم لڑکیوں کو ورغلانے اور محبت کے جھوٹے جال میں پھنسانے کا ٹارگیٹ دیا جاتا ہے. چوں کہ شدت پسندوں کا سب سے پہلا آسان نشانہ کالج اور یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں ہوتی ہیں اس لئے ایسی لڑکیوں کو ورغلانے اور ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں جن میں سے چند اہم طریقے درج ذیل ہیں:
🔹 کالج و یونیورسٹی میں اسباق اور لکچر کے نوٹس(Notes) وغیرہ دیکر جان پہچان پیدا کی جاتی ہے. بعد میں اسی طرح دیگر امور میں کوآپریٹ(Co-operate)(ایک دوسرے کی مدد) کرکے دوستیاں کی جاتی ہیں.
🔹 کچھ مسلم تہواروں پرمثلاً عید وغیرہ پر تحفہ تحائف دیکر مسلم تہذیب کی تعریف وتوصیف کرکے خود کو اسلام کی تعلیمات سے متاثر بتایا جاتاہے.
🔹 مختلف خاص مواقع مثلاً ’برتھ ڈے‘ جیسے موقع پر مہنگے گفٹ موبائل، کپڑے، جوتے، پرس وغیرہ دیکر امپریس (Impress) (متاثر) کیا جاتاہے.
🔹 پکنک وغیرہ کے بہانے اچھے ہوٹلوں میں جاکر کھانا کھلانا اور واپسی پر گفٹ دینا بھی اسی معمول کا حصہ ہے۔
🔹 کالج کے بعد ٹیوشن کے بہانے مختلف کوچنگ سینٹرز میں آنے پر آمادہ کیا جاتا ہے. اس وقت تک لڑکی اتنا متاثر ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ مختلف بہانے بناکر والدین کو ٹیوشن پر بھیجنے کے راضی کرہی لیتی ہے۔ یہ بھی وہاں ہوتا ہے جہاں والدین کچھ ذمہ دار ہوتے ہیں ورنہ غیرذمہ دار والدین تو لڑکی کو مکمل چھوٹ دیے ہوتے ہیں۔
🔹 رکشا بندھن جیسے ہندو تہوار کے موقع پر ‘بھائی بہن کے رشتے’ کے نام پر مسلم لڑکیوں کو گھر بلایاجاتا ہے اور والدین ‘بھائی بہن’ کے نام پر اجازت بھی دے دیتے ہیں.
🔹 ایسی تقریب کے بہانے مسلم لڑکی کو اپنے گھر لے جاکر اچھی خاطرداری کی جاتی ہے. واپس آکر وہ لڑکی اپنے گھر میں ہندو گھرانوں کی مہماں نوازی کی قصیدہ خوانی کرتی ہے. اس سے آئندہ کے لیے ہندو گھر بھیجنے کے لیے والدین کا رویہ بھی نرم ہوجاتاہے. کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی ہی کسی تقریب کے موقع پر لڑکی کی ماں یا بہن کے لیے کوئی تحفہ بھیج دیا جاتا ہے جس سے ماں بہن بھی متاثر ہوجاتی ہیں.
🔹 عموماً ہندو رہائشی علاقے مسلم علاقے کی بنسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں. اسی طرح مسلم نوجوانوں کے بالمقابل حکومتی یا پرائیویٹ سیکٹرز میں ہندو نوجوان زیادہ ہوتے ہیں. یہ چیز بھی بہکانے میں بڑی معاون ہوتی ہے۔ ہندو علاقوں کی ترقی، دنیاوی شان وشوکت اور ظاہری قدردانی کی بنیاد پر لڑکی حددرجہ متاثر ہوچکی ہوتی ہے. یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ان پر محبت کا جال پھینکا جاتا ہے اور وہ کسی آسان شکارکی مانند اس جال میں پھنس جاتی ہیں. !!
اور اسی جال میں پھنس کر اپنی عزت و آبرو لٹا بیٹھتی ہیں.
🔹 بعد میں انہیں گھر سے بھگا کر مرتد بنایا جاتا ہے اور شادیاں کی جاتی ہیں. کچھ وقت کے بعد یا تو انہیں آرکیسٹرا یا کلبوں میں ناچ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں طوائف خانوں پر بیچ دیا جاتاہے.
🔹 چوں کہ یہ سارے کام پہلے سے منظم منصوبے کے تحت (Pre-Planned) ہوتے ہیں اس لیے بلیک میل کرنے کے لیے ویڈیوز بنائے جاتے ہیں، اور انکار پر وڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے.
🔹 ان سارے کاموں کی تکمیل میں غیرمسلم لڑکیوں کا بھی استعمال کیاجاتاہے. وہ سہیلیاں بناکر اپنے بھائیوں وغیرہ سے ملواتی ہیں اور آگے کا کام لڑکے دیکھتے ہیں.

*حفاظتی تدابیر:*

مسلم لڑکیوں کی جان و مال، عزت و آبرو اور ایمان و زندگی برباد کر دینے والے ایسے گھناونے منصوبوں کو ناکام بنانا آج مسلم سماج کی اہم ترین ذمے داریوں میں سے ایک ہے.
اس کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ کچھ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے :
🔸 سب سے پہلے اپنے گھروں میں اسلامی ماحول سازی اور بچوں کی اسلامی تربیت کی جائے.
🔸 ان کے دلوں میں ایمان راسخ کرنے والے تمام طریقے اختیار کیے جائیں. ایمان کی اہمیت و عظمت ان کے دلوں میں اس طرح بیٹھا دی جائے کہ وہ شرک و کفر جیسی چیز سے دائمی قلبی تنفر رکھیں.
🔸 اسلام کی بنیادی تعلیم کا اہتمام کیا جائے. اسلامی عفت مآب خواتین مثلاً سیدہ خدیجہ، سیدہ عائشہ، سیدہ فاطمہ، سیدہ زینب اور امت کی مشہور خواتین کی سیرت لازمی پڑھائی جائیں. ان کی عظمت وپاک دامنی کو بطور مثال بیان کیا جاتا رہے تاکہ ذہن ان کی پیروی کی طرف مائل ہو.
🔸 لڑکیوں کو پردہ کا پابند بنایا جائے اور عفت وعصمت کی اہمیت اور احکام اسلام کی پیروی کی تلقین کی جائے.
🔸 گھروں میں ٹی وی دیکھنے پر سخت نگاہ رکھی جائے، اورعشق محبت کے سیریل دیکھنے پر پابندی عائد کی جائے.
اس کی بجائے اگر دیکھنا ہی ہو تو اسلامی چینلز دیکھیں.
🔸 بلاضرورت اعلیٰ تعلیم کے نام پر بچیوں کو آزادانہ گھرسے باہر نہ بھیجا جائے.
🔸 تعلیمی ضرورت کی وجہ سے انٹرنیٹ ضروری ہو تو ہی لگوائیں اور اس کی بھی بھرپور نگرانی کی جائے.
🔸 لڑکیوں کو ‘جاب’ [Job] کے نام پر باہر نہ بھیجا جائے. یہاں سے بھی بگاڑ کا ماحول بنتا ہے۔
🔸 بچیوں کے سہیلیوں اور ٹیوشن سینٹرز پر نگاہ رکھیں. ضرورت نہ ہو تو کوچنگ سینٹرز سے بچیوں کو بچائیں. آج کل کوچنگ سینٹرز ذہنی آوارگی کا سب سےبڑا مرکز ہیں۔
🔸 موبائل کے مشمولات پر کڑی نگاہ رکھی جائے. اسکول وغیرہ کی نقل وحرکت پر بھی نظر ہو تاکہ اوباشوں سے حفاظت کی جاسکے۔
🔸 موقع بموقع گھروں میں میلاد وتبلیغ وغیرہ کی مجالس اور تقریبات کا انعقاد کیا جائے تاکہ اسلامی ماحول سے وابستگی بنی رہے.

*دوباتیں اپنی قوم سے:*

یوں تو آزادی کے بعد سے ہی مسلمان شرپسندوں کے نشانے پر ہیں لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ان شرانگیزیوں کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ہے. پچھلے چار سالوں میں مسلمانوں کی جان، مال، عزت وآبرو، کھانے، لباس، رہائش، تعلیم، مدارس، مساجد وغیرہ پر جم کر حملے کیے گئے ہیں اور آثار بتاتے ہیں کہ جلد یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے. کیا ان سارے حملوں کے باوجود ہماری قوم نے ان کے سدباب کے لئے کوئی تدبیر اختیار کی؟
جس آگ کو اپنے سے دور سمجھ کر ہم تماشا دیکھ رہے تھے، اب وہ آگ ہمارے آنگن تک آپہنچی ہے کیا اب بھی خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟
کل تک اغیار اپنی اکثریتی آبادیوں میں ظلم وستم کا کھیل کھیلتے تھے اب وہ اتنے بے لگام ہوگئے ہیں کہ ہماری آبادیوں میں گھس کر ہماری ہی بہن بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کر رہے ہیں.
کیا اب بھی ہماری غیرت سوتی رہے گی؟
اس لیے اب ہمیں سنجیدگی کے ساتھ کچھ اہم معاملات پر غوروفکر اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
🔹 قوم کے ارباب حل وعقد کو ترجیحی بنیادوں پر عصری اداروں کاقیام کرنا لازمی ہے جہاں اسلامی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیاجاسکے. ورنہ دوسروں کے اداروں میں حفاظت کی لاکھ تدابیر کے باوجود خطرہ لاحق رہے گا.
🔹 اسکول و کالجز جانے والی بچیوں کی اسلامی تعلیم وتربیت کے لیے جزوقتی اداروں کا قیام وقت کاجبری تقاضا ہے۔
🔹 قانونی چارہ جوئی کے لیے دین دار وکلا کا ہونا بھی وقت کی پکارہے. اس لیے اس جانب بھی پیش قدمی لازم ہے۔
🔹 اغیار کے رسوم ورواج اور مشرکین کی تہذیب و ثقافت سے بچیوں کو بچانا بھی بے حد اہم اور ضروری ہے. پچھلے کچھ وقت سے مسلم خواتین میں ماتھے پر بندی لگانے اور شوہر کے لیے ‘کَروَاچَوتھ'(करवा चोथ) کا بَرَت [روزہ] رکھنے کا چلن بڑھاہے. یہ اور اس طرح کی سب رسمیں کہیں نہ کہیں غیروں کے مذہب سے قربت کی وجہ بنتی ہیں.
🔹 محلے کی مساجد ومکاتب میں ہی پرائمری تعلیم کا انتظام کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں. اس صورت میں پیسے کی بچت بھی ہوگی اور اغیار کی تہذیب سے حفاظت بھی. ساتھ ہی بچیوں کی اسلامی تعلیم کا نظم بھی کیا جا سکتا ہے.
باتیں بہت ہیں لیکن مفید تبھی ہوں گی جب ہم اقدام عمل کریں گے. اس لیے اٹھیں اور اپنی بساط کے مطابق ملت کی فلاح وبہبود کے کاموں میں لگ جائیں۔
ع
یہ وقتِ عمل، وقتِ عمل وقتِ عمل ہے.