نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے ڈاکٹر سلیم خان

غالب کا محبوب نکتہ چیں تھا اس لیے وہ بیچارہ اپنا غم دل نہیں سنا پاتا تھا۔ عاشق صادق اپنی کم مائیگی کا اظہار اس طرح کرتا ہے کہ ’کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے‘۔اسی کے ساتھ غالب کا یقین کامل بھی ملاحظہ فرمائیں’یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات‘۔ اس دگر گوں صورتحال میں مایوس ہونے کے بجائے شاعر اعظم رب کائنات سے رجوع کرکےنہایت دلچسپ دعا کرتاہے’دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور‘۔ غالب کو پتہ تھا کہ ترسیل اور تفہیم کے لیے زبان و دل کے درمیان رابطے کا استوار ہونا ناگزیر ہے۔ بات اسی وقت بنتی ہے کہ جب وہ زبان سے نکل کر دل میں اتر جائے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے من کی بات تو ہوتی ہے لیکن دوسروں کے دل کی بات نہیں بن پاتی۔ اس تناظرمیں غالب اپنے رب سے فریاد کرتاہے کہ یا تو معشوق کا دل بدل دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکے ورنہ میری زبان بدل دے۔ یعنی مخاطب کے قلب و ذہن میں وہ تبدیلی برپا کرکےکہ وہ میری بات سمجھنے کے قابل ہوجائے یا مجھے وہ لب و لہجہ عطا کرکہ میں اس کے دل پر دستک دے سکوں۔عصر حاضر میں ذرائع ابلاغ کےمشکل ترین چیلنج کا حل اس شعر کے اندر پوشیدہ ہے ۔ آج کل ماس میڈیا اور سوشیل میڈیا میں وہی کامیاب ہوپاتاہے جو مخاطب کی زبان بولتاہے اور اس کا دل یعنی نکتۂ نظربدل دیتاہے ورنہ جو معاملہ غالب کے ساتھ ہوتا تھا وہ ہر ناکام مرسل کے ساتھ ہوسکتا ہے۔
اقبال نے غالب کے متعلق کہا ہے ’’ تھا سراپا روح تو، بزمِ سخن پیکر ترا،‘‘ لیکن اسی کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ ’’زیب محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا‘‘ غالب نےچونکہ اگلے زمانے کی شاعری کی اس لیے ہم عصر ناقدین کی قدردانی کرنے سے محروم رہا ۔ ایک ایسے دور میں جبکہ شاعری غم جاناں کےزلف گرہ گیر کی اسیر ہو غمِ دوراں کے ساتھ وارد ہونے والے کی پذیرائی مشکل تھی ۔ غالب قصیدے مشہور نہیں ہوئے۔ اس نے مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھتے دیکھا لیکن اپنےدور کی مرثیہ خوانی کے بجائے شاعری کے ذریعہ مذہب و فلسفہ کے اسرارو رموز کھولنے کا بیڑہ اٹھایا ۔یہ اس وقت کی شاعری میں ناپید تھا۔ غالب نے اپنے سرِ دیوان شعر میں نقش فریادی کی شوخی بیان کرنے کے بعد دنیا کی بے ثباتی کو کاغذی پیرہن میں سجا کر پیش کردیا ۔ غالب کو جب احساس ہوا کہ اس بلند خیالی پر کمند ڈالناہر خاص و عام کے بس کی بات نہیں تو یہ بھی کہہ دیا ؎
آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
آج کل ذرائع ابلاغ کام کرنے والوں کا جو مسئلہ ہے وہی غالب کی دقت تھی۔ یہ ان لوگوں کا مسئلہ ہے جن کا مدعا عنقا ہونے کے سبب مخاطب کے سر کے بہت اوپر سے گزرجاتا ہے ۔ سامعین و ناظرین لاکھ کوشش کے باوجود اسے اپنے دامِ آگہی میں قید نہیں کرپاتے ۔ ترسیل و ابلاغ کی دنیا میں کہنے والے اور سننے والے کی سطح کا فرق زہر ہلاہل ہے۔ غالب کے برعکس ہم یہ جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ہمارا مخاطب کہاں کھڑا ہےتاکہ یاتو اس کو اپنے معیارپر لاسکیں یا اس کے معیار پر خود جاسکیں ؟ اس کے لیے کبھی اونچا اٹھنا پڑ سکتا ہے تو کبھی نیچے اترنے کی نوبت آسکتی ہے لیکن نہ صرف زبان و بیان بلکہ عقل وفہم کے معیار پر بھی دونوں کا ایک سطح پر ہونا ناگزیر ہے۔ کسی بات کا مخاطب کے سر سےگذرجانا بولنے والے نقص ہے لیکن وہ اس کی اصلاح کرنے کے بجائےشکایت کرتا ہے۔ غالب کو چونکہ اپنی کمزوری کا احساس ہوگیا اس لیے اس پر قابو پانے کے لیے مذکورہ دعا کی جسے اس طرح شرف قبولیت عطا ہوا کہ جہان فانی میں مرزا غالب کو لافانی بنادینے کے لیے یہ ایک شعر بھی کافی ہوگیا؎
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور