جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی باڑھ سی آگئی ہے سرکار جرائم کو قابو کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے , ریاستی نائب صدر عمران مسعود

سہارنپور (احمد رضا) بھاجپائی دلت اور مسلم فرقہ کے ساتھ امیتیاز برت رہی ہے ریاستی سرکار ہر مورچہ پر فلاپ ہوچکی ہے اندنوں ویسٹ یوپی کے درجن بھر علاقوں میں چندپولیس افسران اور دبنگ سیاست دانوں کی ملی بھگت کے چرچہ عام ہے سرکار تماشائی بنی ہوئی ہے عوام میں خوف چھایاہواہے بڑھتے کرائم کے اس اہم اور قابل تشویش ایشو پر آج یہاں گتہ مل کالونی واقع مسعود اختر ممبر اسمبلی کے مکان پر کارکنان کی بڑی میٹنگ کے کچھ دیر بعد ہی اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ممبر اسمبلی اور کانگریس کے ریاستی نائب صدر عمران مسعود نے صاف کہا ہے کہ ہماری کانگریس، سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کی سرکار وں کو بدنام کرنیوالی بھاجپا سرکار جان بوجھ کر جرائم کو چھپارہی ہے کانگریس کے سینئر قائد عمران مسعود نے بیخوف بتایاکہ آج کمشنری میں جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی باڑھ سی آگئی ہے سرکار جرائم کو قابو کرنے میں ناکام بنی ہوئی ہے ایمانداری سے پولیس افسران کو کام ہی نہی کرنے دیاجارہاہے پولیس کو سختی کرنے اور محکمہ میں موجود بد عنوان اسٹاف کوبھی نہی ہٹایاجارہاہیریاستی نائب صدر کانگریس عمران مسعود نے کہا ہے کہ مغربی اضلاع سہارنپور ، میرٹھ ، شاملی اور مظفر نگر اور بجنورکے درجن بھر علاقوں میں سات ہفتوں کے دوران قریب قریب تین درجن سے زائد ڈکیتی، آپسی مارپیٹ، قتل، نسلی تشدد،فرقہ وارانہ جھڑپ اور لوٹ پاٹ اور چھوٹی بڑی چوریوں کی سنسنی خیز وارداتیں انجام دیگئی ہیں مگر چاہتے ہوئے بھی ابھی تک پولیس ان واردات میں شامل اصل ملزمان، مافیاؤں، دنگائیوں اور لٹیروں کو گرفتارتک نہی کرسکی ہے جس وجہ ریاست کی قانونیدیواریں چرمرانے لگی ہیں اور سرکار تماشائی بنی ہے! عام چرچہ ہیکہ ریاستی سرکار میں اندنوں ایماندار پولیس افسران سیاسی دخل کے رہتے کرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینے میں مجبور لگ رہے ہیں ریاستکی برسر اقتدار جماعت بھاجپا کے سیاسی آقا آجکل سینئر پولیس افسران کو دباؤ میں لیکر ابھی تکریاست میں دوسو سے زائدمن پسند انکاؤنٹر کرواچکے ہیں لیکن چرچہ ہوجانیکے بعد اب اچانک یہاں انکاؤنٹر بند کرادئے گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں انکاؤنٹر کے بعد بھی جرائم کا گراف لگاتار بڑھنے پر ہی جرائم تھم نیکا نام نہی لے رہے ہیں! دیہات حلقہ کے ممبر اسمبلی مسعود اختر کا کہناہیکہ جرائم کے پیچھے سیاسی دخل کارفرماہے اور جرائم پیشہ افراد کی موجودہ سرکار پردہ پوشی کر رہی ہے اناؤ، بلند شہر، میرٹھ، بجنور، نور پور، مراد آباد، سہارنپور، شاملی، کھتولی اور مظفر نگر کے ریپ، قتل، لوٹپاٹ اور قاتلانہ حملوں کے درجن بھر سے زائد دکھ دینیوالے واقعات آپ سبھی کے سامنے ہیں مگر ہمارے ہوم منسٹر اور ڈی جی پی سرکاری زبان بول رہے ہی ! علیگڑھ فرضی پولیس مقابلہ کا شرمناک واقعہ سبھی کے سامنے ہے اور سرکاری مشینری کایہ عمل ناقابل ا عتماد ہونیکے ساتھ ساتھ ایماندار پولیس افسران کو پر بھی پر یشانی میں ڈالنے والاہے یعنی کے کرے کوئی اور بھگتے کوئی ہمارے زون کے تیز ترارڈی آئی جی اور ایس ایس پی تن تنہا اکثربدمعاشوں، مافیاؤں اور چند مفادپرست سیاست دانوں سے وابسطہ پولیس ملازمین کے ایک بڑے نیٹورک کو ختم کرپانیکی پوزیشن میں نہی ہیں کیونکہ پچھلی سرکاروں کی طرح ہی اس سرکار میں بھی کچھ وزراء کے معاون اس نیٹ ورک کی پشت پناہی کرتے نظر آرہے ہیں بیباک طریقہ سے بدمعاشوں کی مدد کیجارہی ہے گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران ہماری کمشنری میں جس قدر جرائم کی وارداتیں سامنے آئی ہیں اور جس طرح سیاسی اختلافات کے چلتے یہاں نسلی اور مذہبی جھڑپیں رونماہوئی ہیں ان سبھی کی پشت پر بر سر اقتدار سیاسی آقاؤں کی حکمت عملی کار فرمارہی ہے اس سچائی کو خد ہمارے وزیر اعلیٰ بھی نہی جھٹلا سکے ہیں اور آج بھی یہی نظریہ یہاں کارفرماہے جس وجہ سے امن پسند شہری اور مظلوم عوام خوف کے سائے میں سانس لینے کو مجبور ہے! قابل آئی جی ڈی آئی جی اور ایس ایس پی اس سچائی سے خوب واقف ہیں اسی لئے چاہ کربھی پولیس سخت جدوجہد کے بعد بھی غیر سماجی عناصر کا مکمل طور سے صفایا کرنے میں ابھی تک ناکام بنی ہوئی ہے! نگر نگم کے کونسلر منصور بدر کا کہناہے کہ ویسٹ اتر پردیش کے چند اضلاع میں پچھلے سات ماہ کے دوران ڈاکہ ، لوٹ اور قتل کی وارداتیں رونما ہونے سے علاقہ کے عوام میں کافی غصہ اور دہشت پھیلی ہوئی ہے پچھلے تیس دنوں کی اغوا، ریپ ،ڈکیتی، لوٹ اور قاتلانہ حملہ کی وارداتوں نے تو عوام کے خوف میں مزید اضافہ کر دیاہے اس طرح کے سخت حالات دیکھنے کے باوجود بھی سیاسی عہدے داران اپنی مفادپرستی کت باعث تماشائی بنے ہیں دوسری جانب پولیس کو مکمل کام کرنیکی آزادی نہی ملنے کے نتیجہ میں جرائم پر جرائم ہوتے جارہے ہیں پولیس مجر مانہ ذہنیت رکھنے والے افراد پر ہاتھ ڈالنے سے بچنا ہی بہتر سمجھتی ہے! سیاسی دخل کی وجہ سے صوبہ کا اعلیٰ پولیس نیٹ ورک آجکل ذہنی طور پر بھاری دباؤ میں ہے سرکار تو بدلی ہے مگر افسران کو سہی کام سے روکا جارہاہے اسی لئے کرائم کا گراف لگاتار بڑھتاجارہاہے !