منٹو بد زبان ادیب تھے کیونکہ معاشرے کو لیکر ان کے تجربات تلخ تھے”۔  سعید احمد اردو جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور ممبئی پریس کلب کے پروگرام میں مہمان کا اظہار خیال

ممبئی۔ ۲۶ ستمبر “سعادت حسن منٹو ا یک بد زبان ادیب تھے کیوں کہ معاشرے کو لیکر ان کے تجربات تلخ تھے اور وہی ان کی تخلیقات میں جھلکتا ہے”۔ ان خیالات کا اظہار پاکستاں سے آئے سینیئر صحافی، ڈرامہ نگار اور نندیتا داس کی فلم منٹو کی ریسرچ ٹیم سے وابستہ سعید احمد نے ممبئی پریس کلب میں اردو جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور ممبئی پریس کلب کی جانب سے منعقد ملاقات کے پروگرام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ منٹو ایک ایسےادیب تھے جنہوں نے ہمیشہ حقائق بیانی سے کام لیا اور معاشرے کو آئینہ دکھانے میں کبھی نہیں چوکے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی عوام امن چاہتی ہیں اور ایک دوسرے کی قربت چاہتی ہیں جسے دونوں حکومتیں روک نہیں سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ منٹو نے افسانوں میں جو کردار ییش کئے ہیں وہ ہمیشہ زندہ ہیں آج بھی منٹو کے افسانے انہی حالات کو پیش کرتے ہیں جو منٹو کے افسانوں میں پیش کیا گیا ہے۔ منٹو کی حقائق بیانی اور ان کے دوستوں کی شخصیات کے مختلف پہلوؤں روشنی ڈالتے ہوئے سعید احمد نے منٹو کے افسانوں کے کرداروں کو لافانی قرا ر دیا اور کہا کہ منٹو کے افسانے کے بیشتر کردار ممبئی شہر کے ہی ہیں۔ ان کا محمد بھائی کا کردار آج بھی زندہ ہے سعید احمد نے کہا کہ فحش نگاری اور بدکلامی کے لئے منٹو پر کئی مقدمات قائم کئے گئے اور ان مقدمات کو لڑتے لڑتے وہ ا س دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ان کےافسانے ٹھنڈا گوشت پر جب مقدمہ چلا تو پولس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور تخلیقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے افسر کو ممبئی کا پتہ لکھ کر دیا۔ جب افسر نے پلٹ کر سوال کیا کہ یہ تو ممبئی کا پتہ ہے تو انہوں نے کہا کہ میری کتابیں ممبئی ہی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں منٹو نے اپنی زندگی انتہائی بے باکی کےساتھ گزاری انہیں نہ کسی کا ڈر تھا نہ خوف ممبئی اور ہندوستان سے انہیں لگاؤ تھا وہ ممبئی کے افسانے لکھتے تھے انہوں نے کئی سو افسانے لکھے مگر اس کے باوجود انہیں وہ شہرت نہیں ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ منٹو نے بہت برے حالات دیکھے تھے وہ خود بدزبانی فحش کلامی کا شکار ہوئے تھے اس لئے ان کے افسانوں میں یہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منٹو کردار کا بادشاہ تھا انہیں کردار نگاری کے ہنر میں کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ منٹو کے کرداروں نے آج کے حالات کو بھی اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منٹو کا ممبئی سے بڑا گہرا تعلق تھا اور وہ مرتے دم تک ہندوستانی تھے بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ منٹو جیسے ہی پاکستان گئے وہاں وہ مرنا شروع ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ بیرو کریٹ چاہے جس ملک کا ہو چالاک ہوتا ہے مگر وہ ہندوستان اور پاکستان کی عوام کو ایک دوسرے سے دور رکھنے میں زیادہ دنوں تک کامیاب نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی قیادت میں احساسوں کا فقدان ہے اور دونوں اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نندیتا داس کی ایک گھنٹے بارہ منٹ کی فلم میں منٹو کو جتنا سمیٹا جا سکتا تھا سمیٹا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منٹو اگر بیالیس سال کی عمر میں انتقال نہیں کر جاتے تو وہ اور کارنامے کرتے۔ انہوں نے کہا کہ منٹو جو لکھ گئے ہیں اس سے زیادہ فحاشی آج کے معاشرے میں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے۔