صمدیہ ہائی اسکول و جونیر کالج اور اردو کارواں ممبئی کے اشتراک سے نشہ مخالف مہم اور شاندار ریلی کا انعقاد

سماج میں نشے کی بڑھتی لت کا شکار نوجوان کس طرح اپنے خاندان اور سماج کا نقصان کررہے ہیں اس سے ہم سبھی واقف ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں نشہ آور ادویہ، انجیکشن، کوریکس اور دیگر نشیلی ادویہ کا دھڑلے سے کاروبار ہورہا ہے اور امیر و غریب ہر شخص بالخصوص اسکول اور کالج جانے والے طلبہ اس لت کا شکار ہوکر نہ صرف یہ کہ اپنی صحت کے دشمن بن رہے ہیں بلکہ سماج اور قوم کا ایک اہم سرمایہ ضائگی کا شکار ہے۔ اسی مقصد اور گذشتہ دنوں نشے کی لت کا شکار چند طلبہ کی شکایت پر بھیونڈی کے معروف ادارے صمدیہ ہائی اسکول و جونیر کالج اور ممبئی کی ایک غیر حکومتی تنظیم(NGO) اردو کارواں کے اشتراک سے ایک بیداری مہم اور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ صبح اسکول کے ہال میں نشہ آور اشیاء اور نشے کی تباہ کاریوں کے موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا اور ٹھیک ساڑھے دس بجے اسکول سے تقریباً دو ہزار طلبہ، اساتذہ، علاقے کے کارپوریٹر حضرات، پریس کے نمائندگان، پولس کے نمائندوں، سوشل ورکرس اور عوام الناس کے ایک جم غفیر پر مشتمل ایک بیداری مہم ریلی کی شکل میں اسکول سے اطراف کے علاقے میں نکالی گئی۔ اس مہم میں طلبہ نے نشہ مخالف نعرے لگائے۔ کئی مقامات پر عوام کو نشہ سے متعلق بیدار کیا گیا بالخصوص والدین و سرپرست حضرات کو اپنے نونہالوں کو اس بری لت سے بچنے کی تلقین اور محلے اور اطراف میں جرائم پیشہ افراد جو نوجوان نسلوں کو تباہ کرنے کے سامان فراہم کررہے ہیں انھیں قانون کے حواے کرنے اور ان کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی استدعا کی گئی۔ ریلی کا آغاز ٹھیک ساڑھے دس بجے صمدیہ ہائی اسکول و جونیر کالج کے مین گیٹ سے ہوا اس موقع پر پرنسپل ساجد صدیقی، فرید خان (صدراردو کارواں) ، سیکریٹری عبدالماجد مومن ،ایڈوکیٹ نیاز مومن و کارپوریٹرحضرات نے میڈیا کے سامنے اس ریلی کی غرض و غایت بیان کی اور ریلی کا آغاز فلک شگاف نعروں کے ساتھ کیا۔ ریلی سے قبل اسکول کے ہال میں بھیونڈی ویورس ایجوکیشن سوسائٹی کے اعزازی سیکریٹری عبدالماجد مومن کی صدارت میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا رحم اللہ قاسمی کی تلاوت سے مجلس کا آغاز ہوا۔ جونیر کالج کے لیکچرر فہیم احمد عبدالباری مومن نے مہمانان کا تعارف و استقبال اور گل پیشی کے فرائض انجام دیے اور پروگرام کا مقصد بیان کیا۔ افتتاحی تقریر کرتے ہوئے اردو کارواں ممبئی کے صدر محترم فرید خان نے نشہ کی لت کا شکار چند واقعات کی روشنی میں طلبہ و طالبات کو اس سے بچنے اور ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف عملی طور پر قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے کاروائی کرنے کی تلقین کی۔ ایس این ڈی ٹی یونیورسٹی شعبہ اردو کی ہیڈ اور اردو کارواں کی کوآرڈینیٹر محترمہ شبانہ خان نے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے نشہ کی عادت کا شکار ہونے کی وجوہات اور درجاتی طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے اسباب پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی طلبہ بالخصوص بڑی عمر کے طلباء اور طالبات سے مخاطب ہوتے ہوئے آپ نے بتایا کہ اس مہم اور پروگرام کا مقصد صرف آج ہی نہیں اہمیت رکھتا بلکہ ہمیشہ کے لیے ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نہ خود نشہ کریں گے اور نہ ہی اپنے دوستوں ساتھیوں اور اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کو اس کا شکار ہونے دیں گے۔ اس موقع پر اسکول کے پرنسپل ساجد صدیقی نے اردو کارواں کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور ریلی میں شریک تمام طلبہ کو راستے سے آگاہ کیا اور نظم و ضبط کی پابندی کرنے کی تلقین کی۔ آپ نے اس موقع پر میڈیا کے مختلف نمائندوں محمد اسعد قاسمی (سہارا اردو نیوز) ، ایاز مومن (ممبئی اردو نیوز)، انوارالحق خان (ای ٹی وی اردو) اور دیگر شرکاء اور جملہ اسٹاف کا شکریہ ادا کیا۔ صدارتی خطبہ دیتے ہوئے سوسائٹی کے سیکریٹری عبدالماجد مومن نے نشہ مخالف مہم کو تمام اسکولوں اور سماجی اداروں کو اپنانے اور بڑے پیمانے پر اسے پورے شہر میں عوام کو بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مجلس کی نظامت معروف کرئیر کونسلر اور اسکول کے فعال معلم فیاض احمد مومن نے بحسن و خوبی ادا کی۔ پروگرام کے اختتام پر ایک سو اسی (180) سے بھی زائد پلے کارڈس اور بینرس جو جونیر کالج کی معلمہ مومن شاہینہ حبیب اللہ نے طلبہ و طالبات اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے مل کر تیار کیے تھے انھیں جماعت کے لحاظ سے طلبہ میں تقسیم کیا اور ریلی کا آغاز ہوا۔ ریلی کے دوران بنگالپورہ میں سوشل ورکر تنویر مومن اور پیر امیر شاہ درگاہ کمیٹی کے اراکین نے طلبہ کو پانی، ایکریلک آرٹ کے عتیق الرحمن (پلّن بھائی) اور کارپوریٹر محمد شاہد کی جانب سے طلبہ کو بسکٹ کے پیکٹ تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر ریلی کے ساتھ وارڈ کے کارپوریٹرس شاف مومن، محمد شاہد ، شیخ یعقوب اور طلحہ مومن ساتھ رہے اور اس بیداری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کے علاوہ شمیم انصاری، اشفاق ہدایت اللہ بلدی، اردوکارواں کی خان نزہت، افروز صاحب اور جملہ اسٹاف اراکین نے اپنا بھرپور تعاون دیا۔ آر ایس پی اکبر پنجاری اور عبدالواحد نے طلبہ کی رہنمائی کی۔ صمدنگر، واجہ محلہ، بنگالپورہ، زیتون پورہ، گھونگٹ نگر، منگل بازار سلیب، ایڈوکیٹ نیاز غلام مصطفی کے مکان سے ہوتے ہوئے ایکتا ہوٹل، اللہ والی مسجد اور آگرہ روڈ سے واپس ہوکر رابعہ مسجد کے بازو سے صمدسیٹھ باغیچہ، کھلہ سے ہوتے ہوئے ٹھیک ساڑھے بارہ بجے اسکول واپس پہنچی اور ریلی کا اختتام ہوا۔