گوہرِ ادب کا درخشندہ ستارہ:شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی

شاعر کہتا ہے :
ہو حوصلہ بلند اور کامل ہو شوق بھی
وہ کون سا ہے کام جو انساں نہ کر سکے
مذکورہ بالا شعر صرف دو مصرع ہی نہیں بلکہ یہ شعر اپنی معنویت اور اہمیت کے اعتبار سے کئی معتبر دیوانوں اور شاعروں کے عمدہ کلاموں سے اعلی و بالا اور بہتر ہے کیونکہ اس شعر کے اندر بہت گہرائی اور گیرائی ہے اگر ایک طالب علم اس کو سمجھ کر اپنے شعور و احساس کے ساتھ ساتھ اپنے قلب و جگر میں جگہ دے دے تو وہ دن دور نہیں جب ان کی زندگی علمی خزینے سے معمور اور صلاحیت و لیاقت سے بھرپور ہوگی یہی وجہ ہے کہ جب ہم دنیا کے چمکتے ہوئے عملی ستاروں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے محنت ،لگن ،شوق اور جذبہ جیسے صفات کار فرما نظر آتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی حوصلہ اور شوق کامل کو گلے سے لگاکر ائمہ اربعہ ،شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،شاہ ولی اللہ محدث دھلوی اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات اس دنیا کے اندر ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیئے ۔خود کاتب سطور کے عینی مشاہدہ کے مطابق جامعہ امام ابن تیمیہ کےاندر جن طالب علموں میں کچھ کر گزرنے کا حوصلہ اور شوق تھا وہ آج ایک کامیاب انسان تصور کئے جاتے ہیں اور علمی دنیا میں آج ان کے نام کی دھوم مچی ہوئی ہے ۔چنانچہ ان ڈھیر سارے اچھے طالب علموں میں سے ایک شخص جن کی دس سالہ صحبت اور ہم جماعت ہونے کا مجھے شرف حاصل ہے جن کی ذات میں شوق ،محنت ،لگن اور ایثار و قربانی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جن کے اندر ہوا کو موڑنے سمندروں کا سینہ چیرنے اور پہاڑوں سے ٹکڑانے کا ہنر تھا جن سے بذات خود میں بہت زیادہ متاثر تھا جسے آج اردو دنیا شرف الدین عبدالرحمن تیمی کے نام سے جانتی ہے ۔
موصوف کا تعلق صوبہ بہار کے ایک مشہور و معروف ضلع مدھوبنی کی ایک چھوٹی سی بستی تیلیا پوکھر سے ہے ،مدھوبنی ضلع ادباء شعراء ،علماء اور دانشوروں کا ہمیشہ سے مسکن رہا ہے ۔چنانچہ اسی زرخیز مٹی میں جناب شرف الدین عبدالرحمٰن تیمی کی پیدائش ۱۹۹۵ء میں ہوئی، صغر سنی میں ہی والد محترم کا سایہ عاطفت سر سے اٹھ گیا لیکن ماں کی نیک دعا اور بڑے بھائی کلیم الدین اسلامی کی محبت و شفقت کا سایہ ساتھ رہا جس کی وجہ کر موصوف گاوں ہی کے مکتب مدرسہ نعمانیہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم بھی وہیں رہ کر حفظ کر لیا. بعدہ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے چمپارن کی سرزمین پر موجود مشہور و معروف اسلامک یونیورسٹی جامعہ امام ابن تیمیہ تشریف لے گئے جہاں موصوف نے اپنی محنت اور شوق سے جامعہ کے تمام نشاطات میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے اور ۱۶۔۲۰۱۷ میں ممتاز نمبرات سے سند فراغت حاصل کی ۔
فراغت کے بعد موصوف دربھنگہ ضلع کے نرائن پور میں واقع”سن فلاور “نامی اسکول میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے لگے اور جو قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ موصوف کے دل میں بچپن سے تھا وہ اب باہر آنے لگا. یوں تو موصوف دوران طالب علمی سے ہی اپنی تحریر و تقریر سے مسلم قوم کو جگانے کی کوششیں کرتے رہیں اور ہمیشہ پروگراموں اور جلسے و جلوس میں بہار کے کونے کونے تک جاتے اور لوگوں سے خطاب کرتے انہیں صحیح و غلط اور حق و باطل میں فرق کرنے کا سلیقہ سکھاتے تو کبھی اپنے قلم کے ذریعہ ہندوستان کے مختلف اخبار و رسائل میں اپنی تحریر بھیج کر مسلمانوں کو سیدھی راہ پر لانے کا کام کرتے ۔ فراغت کے بعد پورے جوش اور جذبے سے لیس ہو کر اس میدان میں لگ گئے ان کا رشتہ صحافت و خطابت اور شعر وشاعری سے ایسا ہی ہوگیا جیسا کہ جسم کا روح سے اور مچھلی کا پانی سے رشتہ ہوتا ہے ۔اس لئے آج اردو دنیا کے اندر ان کا نام چاند و سورج کے مانند روشن ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے یہی کافی ہے کہ پٹنہ کے اندر جب اشرف استھانوی حفظہ اللہ کی ایک نہایت ہی بہترین کتاب “حق پسند صحافی عبد الرافع” کے اجراء کی مناسبت سے موصوف کو دعوت دی گئی اور انہیں وہاں “فروغ اردو “ایوارڈ سے نوازا گیا ۔یہ صرف ایک ایوارڈ ہی نہیں تھا بلکہ آپ کی حوصلہ افزائی اور آپ کی مسلسل جہد و عمل کا پھل تھا کیونکہ موصوف ایک حق پسند قلمکار ہیں ان کے اکثر مضامین حق گوئی کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان کے لگ بھگ ہر اسٹیٹ کے اخبار و رسائل میں ان کے مضامین کو جگہ دی جاتی ہیں اور قارئین موصوف کی تحریروں کو بہت شوق سے پڑھتے ہیں ساتھ ہی اگلی تحریر کا بے صبری سے انتظار بھی کرتے رہتے ہیں چنانچہ انہیں قارئین کی چاہت اور الفت و محبت کی بدولت آج لگ بھگ 200 سے زائد چیدہ اورچنیدہ عناوین پر قلم اٹھا چکے ہیں ۔جن میں نئے اسلامی سال کی آمد اور نام نہاد مسلمان،اتنا بلند ہوکے منزل تجھے پکارے، استاد تیری عظمت کو سلام،کیا ہم آزاد ہیں ؟آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا ،عمل صالح اور ماں جیسے بہت سارے عناوین کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ موصوف کا ایک تحریری دھماکہ فراغت کے فورا بعد یہ ہوا کہ انہوں نے ایک نہایت ہی حساس اور اہم موضوع چاپلوسی اور خصیہ برداری کی پول کھول کر رکھ دی اور پوری اردو دنیا کو بتایا کہ چاپلوسی ٹھیک ویسے ہی خطرناک ہے جیساکہ ایک سانپ اپنے دودھ پلانے والے مالک کو ہی ڈس لیتا ہے اس لئے موصوف کے بقول چاپلوسی ،چمچہ گیری اور خصیہ برداری بے غیرتی اور ذلت و رسوائی کا دوسرا نام ہے ۔ ان کے اس جملے کا فائدہ یہ ہوا کہ بہت سارے نوجوان قلمکار چاپلوسی کی قباحت اور حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی ان شاء اللہ بہت جلد ہمارے ممدوح کی مدد سے “چاپلوسی ایک اخلاقی ناسور “نامی کتابچہ منظر عام پر آنے والا ہے.

موصوف جہاں ایک طرف نثر نگاری کی دنیا میں دھوم مچا رہے ہیں وہی دوسری طرف “فیس بک ٹائمز انٹرنیشنل “نامی ادبی گروپ سے شعری سفر کا آغاز کیا اور بہت کم وقتوں میں 70 سے زائد غزلیں اور 50 سے زائد قطعات اخبار ورسائل کی زینت بن چکے ہیں. آپ کے اشعار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ تخیل اور مبالغہ آرائی سے پاک ہوتے ہیں انداز بیان میں کہیں بھی خشکی یا پھیکے پن کا احساس نہیں ہوتا ۔انداز بیان کی شگفتگی ،طرز ادا کی چستی اور استعارات و تشبیہات کے استعمال نے آپ کی غزلوں کو شعری حسن اور فنی لطافت کی زیور سے آراستہ و پیراستہ کر دیا ہے ۔ممدوح کے چند نمائندہ اشعار بطور مثال ذیل میں درج کئے جارہے ہیں جن سے ان کے کلام کی پختگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حق بولنے کی جب سے عادت ہوئی مجھے
اپنوں کے ماسوا سے بغاوت ہوئی مجھے
پھر بھی ضمیر کہتا ہے حق بولتے رہو
دنیا سے دیکھ جب کہ عداوت ہوئی مجھے
*****************
آن اردو ہے شان اردو ہے
ہندو مسلم کی جان اردو ہے
کہتے جس کو ہیں پیار کی بولی
وہ تو پیاری زبان اردو ہے
******************
زانی کے چہرے پے مسکان ہے باقی
گرفتاری ہوئی پھر بھی ارمان ہے باقی
معلوم ہے اس کو کہ ہوگی میری رہائی
ظالم کی حکومت کا فرمان ہے باقی
******************
ہم نے ہی جان دے کے بچایا ہے ملک کو
کہتے ہیں وہ ہمیں ہی غدار کیا کریں
*******************
کل غریبی کے سبب ٹوٹا ہے رشتہ کوئی
یہ غریبی مرے دشمن کی نہ قسمت لکھنا
*******************
ساحل کا طریقہ یہی ممتاز ہے لوگو
حق بولتے رہتے ہیں براءت نہیں کرتے
*******************
اس کی تکریم زمانے میں بھلا کیسے ہو
جس کو اخلاق کی دولت نہیں ملنے والی
*******************
مذکورہ بالا اشعار کو پڑھ کر قارئین کو احساس ہوا ہوگا کہ کس طرح موصوف اشارہ و کنایہ اور تشبیہات کا استعمال کرکے صاف ،ستھری اور سلجھی ہوئی سچی شاعری کرتے ہیں ۔اس لئے ایسے نوجوان حق گو شاعر و صحافی کی حوصلہ افزائی ہم تمام اردو دنیا والے کو کرنی چاہئے تاکہ ان کے اندر مزید تخلیقی صلاحیت پروان چڑھ سکے ۔اخیر میں اپنے ممدوح کے لئے اس شعر کے تحت اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ:
تجھے نصیب ہو ایسا عروج دنیا میں
کہ آسماں بھی تیری رفعتوں پر ناز کرے

ذیشان الٰہی منیر عالم
مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا