ایک مٹتی ہوئی تہذیب کاسرمایہ ہیں ہم ’’خوداحتسابی‘‘ *سید حسین شمسی

’’خوداحتسابی‘‘
*سید حسین شمسی*

ادارتی صفحہ: روزنامہ راشٹریہ سہارا
اشاعت: جمعہ، 21 ستمبر 2018

سوشل میڈیا کے ایک گروپ پر بحث جاری تھی کہ ’’آخر کیا وجہ ہے کہ دارالعلوم ومدارس اسلامیہ کے باصلاحیت اور ذی استعداد فضلاء اب مساجد میں منصبِ امامت سے گریزاں ہیں‘‘۔ چونکہ صاحبینِ آراء اور بحث کرنے والے مختلف الخیال علماء کرام ودانشوران تھے اور ان کے مکالمے تحمّل وتدبّر کا نمونہ تھے سو ہر کمنٹ اور تبصرے پر ہماری نگاہ جمی رہی۔ بلا شبہ اس بحث نے جہاں ایک جانب اصل وجوہات کا پتہ دیا وہیں اس کے حل وعقد کا طریق کار بھی بتایا۔ مذکورہ گروپ پر آپسی تبادلہ خیال اتنے مثبت انداز اور صحیح پیرایے میں ہورہا تھا گویا اہلِ علم ودانش ایک اہم موضوع پر سر جوڑکر بیٹھے ہوں۔ طویل ترین تبادلہ خیال کو من وعن تو پیش نہیں کیا جاسکتا، البتہ بعض اہم اقتباسات کو مجتمع کرکے ’’خوداحتسابی‘‘ کالم کا حصہ اس غرض سے بنایا جارہا ہے تاکہ ہم اس سنجیدہ ایشو پر اپنے اپنے طور پر احتساب کریں۔ اس ضمن میں واضح کرتے چلیں کہ آج اس کالم میں آپ جو بھی پڑھیں گے وہ مذکورہ بالا بحث کا حصہ و چربہ ہوگا۔

اصل اسباب پیش کرنے سے قبل آپ یہ جان لیں کہ مدارس اسلامیہ سے فارغین کے اُس طبقے کی بات ہم قطعی نہیں کر رہے ہیں، جس نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی حاصل کی، مستند عالم بننے کے بعد اس نے عصری علوم کی جانب مزید قدم بڑھاتے ہوئے کوئی ملازمت یا تجارتی پیشہ اختیار کرلیا۔ بات صاف ہے کہ انہوں نے بہتر ملازمت حاصل کرنے کیلئے ہی عصری تعلیم پر زیادہ توجہ دی، ان کا علم اپنی جگہ مسلّم، لیکن ان کی وضع قطع اور اختیار کردہ حلیہ انہیں امامت جیسے منصب کی جانب آنے سے باز رکھتا ہے۔

یہاں بات اُن فضلاء کی ہورہی ہے، جن کا دینی تعلیم حاصل کرنے کا مقصد فضیلت کے بعد درس و تدریس، امامت وخطابت اور فروغ علومِ دینیہ ہوتا ہے، لیکن سماج میں ناقدری اور موزوں مقام حاصل نہ ہونے کے باعث دوسری سمت اختیار کرجاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مسلمان اور وہ بھی ’باشعور‘ سمجھے جانے والے مسلمان ہیں، جو امامت اور موٴذنی کوحقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسا باور کیا جاتاہے کہ مساجد کے امام اور موٴذنین معاشرے پربوجھ ہیں۔ یہ کس قدرحیرت اور افسوس کامقام ہے کہ ایک جانب تو ہم اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ امامت اورموٴذنی کرنا معمولی کام ہے اور صرف اس کام کے ذریعہ انسان پُرسکون طریقے سے اپنی زندگی نہیں گزارسکتا۔ جبکہ دوسری جانب جب ہم ہی مسجدکے ٹرسٹی یامتولی بنتے ہیں توامام یاموٴذن کی تنخواہ پانچ چھ ہزار سے زائد کرنے کے لیے کسی بھی صورت تیار نہیں ہوتے۔ معمولی سا معمولی شخص بھی جس کامعاشرے میں کوئی وزن نہیں ہوتا، وہ کسی بھی وقت امام یا موٴذن پر اپناغصہ نکال سکتاہے، کسی بھی وقت امام کو یہ کہہ کرنکال دیاجاسکتاہے کہ آپ ہماری مسجدکے لائق نہیں۔ ہمارا تقاضا ہوتا ہے کہ امام کو انسان نہیں، فرشتہ صفت ہوناچاہیے، مگر خودہم کسی کے ساتھ انسانی اخلاق سے پیش نہیں آتے۔ غرضیکہ ہم سارا تقویٰ اور خاکساری امام وعالم میں ہی تلاش کرتے ہیں اور خود بنا کلف کے کرتا زیب تن کرنا کسرِشان سمجھتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر ٹرسٹیان اپنا انتخاب انہیں کو بناتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملائے، ان کی نظر میں استعداد اور صلاحیت کوئی معنی نہیں رکھتی، ادھر دو تین دہائیوں میں کچھ زیادہ ہی خرابہ ہوا ہے۔ یہ نوبت آن پڑنے کی ایک بڑی وجہ مساجد کے ٹرسٹیان میں ایسے لوگوں کی ’گھس پیٹھ‘ ہے جو کہیں نہ کہیں غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں۔ ٹرسٹ میں ایسے لوگوں کے بہ آسانی در آنے کی وجہ نقلِ مکانی اور نئی آبادی بھی ہے، کہ علاقے کے مصلیان و ائمہ حسب نسب اور اچھے برے کی تمیز کرنے سے عاجز و قاصر ہوتے ہیں۔

25-30 برس قبل اتنی بری حالت نہیں تھی۔ متولیان و ٹرسٹیان خوش اخلاق، ایماندار اور غمگسار ہوا کرتے تھے، اسلام اور مسلم معاشرے میں امامت ایک معزز منصب رہاہے اوراس پر فائز رہنے والے لوگوں کوعام و خاص ہر طبقے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہاہ۔ جب دنیاکے بیشتر خطوں میں سیاسی و سماجی اور تہذیبی و علمی اعتبار سے مسلمانوں کاغلبہ تھا اور مسلم تہذیب دنیا کی مقبول ترین تہذیب تھی، اس وقت امام کا مرتبہ اس اعتبار سے غیر معمولی تھاکہ وہ نہ صرف پنج وقتہ، جمعہ و عیدین اور جنازے کی نمازوں میں مسلمانوں کے پیشوا ہوتے تھے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے بھی انہی سے رجوع کیاکرتے تھے۔ ماضی میں دین و دنیاکے کئی اہم کارنامے انجام دینے والے بے شمار اشخاص مساجدکے منبروں سے ہی وابستہ تھے۔ اسلامی کتب خانے کا اچھا خاصا ذخیرہ ائمہ کی علمی و فکری قابلیتوں کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اس کے برعکس آج حالت اتنی مختلف ہوگئی کہ ہمارا معاشرہ ائمہ کرام کو بحالت نماز تو امام تصور کرتا ہے، لیکن باقی وقت میں ’’غلام‘‘۔

صورتحال جب اس قدر دگرگوں ہو تو آج مسلمانوں میں بے شمار سماجی اصلاحات کے ساتھ کرنے کا ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ ائمہ کے تئیں لوگوں کے دلوں میں احترام اور وقار کاجذبہ پیدا کیاجائے۔ اسلام میں ان کا جو مقام و مرتبہ بتایا گیاہے، اس سے لوگوں کوروشناس کیاجائے اور لوگوں کو مساجد سے جوڑتے ہوئے ائمہ کی مخلصانہ اقتداء کاماحول بنایاجائے نیز ٹرسٹیان کے حدود متعین کئے جائیں، منبر پر کھڑے ہوکر کیا خطاب کرنا ہے کیا نہیں اس معاملے میں ٹرسٹیان کی پابندی سے آزادی دلائی جائے۔ ان علمائے عظام کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ معاشرے کی اصلاح کیسے کی جاتی ہے اور دور حاضر میں امت مسلمہ کن کن برائیوں میں ملوث ہے۔ امام حسن بصری رحمۃ اللّٰہ فرماتے ہیں : ’الفتن إذا أقبلت عرفها كل العالم وإذا أدبرت عرفها كل الجاهل‘ (ترجمہ: فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے اور جب تباہی مچا کر چلا جاتا ہے تو پھر جاہل کو معلوم ہوتا ہے)۔ اس زریں قول سے ایک عالم دین اور خطیب کی اہمیت اور قدر ومنزلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

ائمہ کرام کو بھی اس حقیقت کا پاس ہر وقت رکھنا چاہئے کہ جومنصب یامقام جتنا اہم اور عظیم ہوتا ہے، اس کی ذمے داریاں بھی اسی قدر اہم ہوتی ہیں۔ جہاں آ پ کے اچھے اور عمدہ اخلاق و اعمال معاشرے پراچھے اثرات مرتب کرتے ہیں، وہیں آپ کی معمولی لغزش بھی بے شمار لوگوں کے لیے فساد اور برائی کاسبب بن جاتی ہے۔
ہم اگر یہ چاہتے ہیں کہ با صلاحیت علماء منصب امامت کی جانب پھر لوٹیں تو ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ سرکردہ علماء اور مساجد کے با اثر ائمہ کرام سماج میں بیداری پیدا کریں اور عام مسلمانوں کی یہ ذہن سازی کریں کہ مساجد کی ظاہری شکل و صورت کو بنانے سنوارنے کے بجائے اس کی معنویت پر توجہ دیں اور مساجد کی آمدنی کے حساب سے ائمہ کرام پر بھی خرچ کریں، جس سے باصلاحیت علماء کرام کی قدر افزائی ہوگی۔ اس کے دو طرفہ فائدے سامنے آئیں گے، مساجد کی امامت و خطابت کے مسائل بحسن و خوبی حل ہوں گے اور سماج کی دینی سطح میں بھی بہتری آئے گی۔ ابتدا ان مساجد سے ہونی چاہیے جن کی مالی حالت مستحکم ہے۔ وہ مساجد جن کی مالی حالت کمزور ہے ان مساجد کے ائمہ کرام کے لیے اہل خیر سے بات کرکے ماہانہ رقم کا علیحدہ سے انتظام کرانا چاہیے. ایسی صورت میں اس منصب کی عظمت ان شاءاللّٰہ بحال ہوگی اور بطورِ خاص ان فضلائے مدارس کے لیے اس جانب رخ کرنا آسان ہو جائے گا جو چاہتے ہوئے بھی اس راہ کی مشکلات کی وجہ سے دوسرے متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضرورت اور مجبوری پر شیخ سعدی نے کہا تھا :
’’اے زر! تو خدا نیش ولیک کم تراز خدا نیشی‘‘۔ (اے پیسے تو خدا تو نہیں لیکن تو خدا سے کم بھی نہیں۔) چنانچہ جب ساری ضرورت مال پوری کرتا ہے تو اللّٰہ، دین اور علماء کی ضرورت کہاں باقی رہ گئی۔ ظاہر ہے پھر علماء بیزاری تو آئے گی ہی۔ اب یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ” سب کچھ مال ہے“ کے فتنے کو مٹا کر ”سب کچھ دین ہے“ جیسے نعرے کو مقبول عام بنادیں۔ اسباب حل وعقد اور بھی ہیں جن کا احصاء یہاں ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم مذکورہ اسباب کو سمجھیں اور اس کا سد باب کریں تاکہ علماء کا کھویا ہوا وقار بحال کیا جاسکے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشیں رہے کہ مسلمانوں کی اپنے علماء سے اٹوٹ وابستگی اہل کفر کی آنکھوں میں کانٹوں‌کی طرح‌ چُبھتی ہے۔ اسی لئے مسلم دشمنان، علماء کا وہ ’مسخ‘ چہرا سامنے لاتے ہیں جس سے غیر مسلمین تو نفرت کریں ہی ساتھ ہی مسلم طبقہ بھی بیزار نظر آئے۔

باصلاحیت علماء کرام کو اگر امامت اور امارت کے مکمل اختیارات دیئے جائیں گے تو یقینی طور سے مساجد کا مصرف بھی بڑھے گا۔ سماج میں مسجد کے مقام کا جائزہ اگر مدنی طرز پر لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض مقامِ صلوٰۃ نہیں، بلکہ اسلامی ریاست کا دارالامارت بھی ہے اور اس کا منبر مقامِ وعظ و تذکیر ہی نہیں بلکہ ریاستی وقومی پالیسی کے اعلانات کی جگہ بھی ہے۔ اسلام کا یہ امتیازی وصف ہے کہ اس نے مساجدکی تقدیس و حرمت کو وسیع معنویت عطا کی ہے اور انہیں اس نظام حیات کی تربیت گاہ قرار دیا ہے جو دین و دنیا دونوں پر محیط ہے۔ مسجد مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایک ایسا مرکز و محور ہے جہاں سے ان کے تمام مذہبی، اخلاقی، اصلاحی، تعلیمی، تمدنی، ثقافتی، تہذیبی، سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہونی چاہیے۔ مسجد دین کی ہمہ گیر یت اور جامعیت کو مستحکم کرنے والے ادارے کی حیثیت کی حامل ہے۔ مسجد مسلمانوں کے درمیان اخوت و بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ثمر آور کردار کی ضامن ہے۔ قرون اولیٰ میں مسجد کی حیثیت دارالخلافہ سے لے کر غرباء و مساکین کی قیام گاہ تک تھی۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوتی اور یہیں سے دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات کے اطوار طے ہوتے تھے۔ یہ خلیفہ کا مسکن اور معاہدات کی جگہ تھی، مسجد کا سب سے اہم کام مسلمانوں میں اجتماعیت کا قیام اور اسے پائیدار بنانا تھا مگر ہمارے ہاں مسجدیں مسلکی کش مکش کے مراکز بن کر رہ گئی ہیں۔ آج جب ہم ہر لحاظ سے نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ مسجد کو مسلم سماج سے مطلوب سطح پر جوڑ دیا جائے۔ مسلمانوں کی فکر سازی اور سماجی اصلاح دونوں کام مسجد سے لیے جا سکتے ہیں۔

مسجد کی انتظامیہ اور اس کا امام صحیح شعور سے بہر ہ ور ہو جائے تو مسجد امت مسلمہ کے لیے ایک فکر ساز ادارہ یعنی تھنک ٹینک کا کام کر سکتی ہے۔ ایسے ہی جیسے شروع میں نبی کریم ؐ نے مسجد کو مقام و مرکزیت دی تھی۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد کو مرکز بنانے سے بہت سے تنازعے، فتنے اور فروعات ختم ہو جائیں گے۔ اور سماج کے بڑے سے بڑے مسائل ختم کیے جا سکتے ہیں۔ سو مساجد کو امت مسلمہ کی یکجائی کا مرکز و محور بنا کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنا ہے اور اپنی اپنی بساط کے مطابق علاقائی اور مقامی سطح پر اقدامات کرنے ہیں۔ سماج میں نیک لوگوں کی کمی نہیں، انہیں اعتماد دینے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسجد کا سماجی کردار وسیع ہو گا تو امامت کے ادارے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور مسجد کے امام کو ”دو رکعت کا امام“ سمجھنے کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور پھر سماجی علوم کے حامل علوم دین سے بہرہ مند با صلاحیت اور زرخیز فکر علما وفضلا امامت کی طرف آئیں گے۔ جن سے عوام کی دینی و سماجی ذہن سازی ہو سکے گی۔ اور مساجد و ائمہ کے کردار سے ہماری مدنی اور تہذیبی زندگی میں اسلام کی روح نظر آنے لگے گی۔