عصا نہ ہو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد ڈاکٹر سلیم خان

سورہ ٔ اعراف میں ارشاد ربانی ہے ’’ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا ۰۰۰ اور’’اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۰۰۰موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۰۰۰ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ :اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے”۔اس توبہ و استغفار کے بعد بھی ’’جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا “اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟۰۰۰ ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں ۔اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا” جواب میں ارشاد ہوا “سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے،۰۰۰ “۔
اس آیت کے فوراً بعد قرآن حکیم کم و بیش دوہزار سال کا سفر کرکے اپنے زمانۂ کے یہود کو مخاطب کرتا ہے اور یہ خطاب اب تاقیامت تمام لوگوں سے ہے۔ فرمایا ’’(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔ اس آیت میں نبیٔ کریم ﷺ کے ۳ جوڑی کام بتائے گئے ہیں ۔ اول تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو امت مسلمہ کا فرض منصبی ہے ۔ اس کے بعد حلال و حرام کی تفریق جو اتباع دین کے لیے ضروری ہے اور آخر میں بوجھ اتارنا اور طوق نکالنا۔
بوجھ کا ذمہ داری کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ذمہ داریاں اخلاقی ، معاشرتی اور معاشی ہوتی ہیں۔ اخلاقی سطح پر عقائد وطرز زندگی بوجھ بن جاتے ہیں ۔اس بابت افراط وتفریط کا شکار ہونے والے رہبانیت کی راہوں پر جنگل کارخ اختیار کرتے ہیں یا دنیا کاخارش زدہ کتا بن جاتے ہیں۔معاشرتی رسوم و رواج عذاب جان بن کر عزت و وقار کے ساتھ جینا دوبھر کردیتی ہیں ۔معاشی بوجھ انسان کی کمر توڑ کر استحصال کی چکی کا تلہن بنادیتا ہے۔ اس معاملے میں جس کا تیل نکلتا ہے وہی کسی اور کی تیل مالش کرنے لیے بھی مجبور کردیا جاتا ہے۔ انبیائے کرام کو اس بوجھ سے نجات دلانے کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے اور یہی وارثین انبیاء کی بھی ذمہ داری ہے۔ طوق پیٹھ پر نہیں گردن میں ڈالا جاتا ہے تاکہ انسانوں کا سر اپنے قدموں جھکایا جاسکے۔ یہاں ذہن سیاسی غلامی کی طرف جاتا ہے۔ اس کے لیے خوبصورت خوابوں اور نعروں کی مدد سے طوق کو گلے کا ہار بنادیا جاتا ہے۔خوشنما نظریات کے فریب سے بچ نکلنے والوں کو پابندو سلاسل کردیا جاتا ہے یا سرِ دار پہنچا دیا جاتا ہے۔ا نبیاء کی امت بھی غلامی کے اس طوق سے انسانوں کو آزاد کراتی ہے۔ مگرافسوس کہ پیغامِ حریت سے ناواقف دیمک زدہ اہل ایمان عصائے موسیٰ بغل میں دبائے سنپولوں سے خوفزدہ ہیں بقول شاعر؎؎
سانپوں میں عصا پھینک کے اب محو دعا ہوں معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے