سرپرست تعلیمی بیداری مہم ویزن ۲۰۳۶ کا شاندار انعقاد بھوکا رہنا پڑے تو رہیں لیکن بچوں کو ضرور پڑھائیں! محبوب صدیقی

سہارنپور سٹی( خصوصی رپورٹ احمد رضا) ویزن ۲۰۳۶ کے کنوینر محبوب رضا صدیقی نے کہا کہ ویزن ۲۰۳۶ اس ویزن کا نام ہے جو ۲۰۳۶ میں پورے ملک کو خواندہ بنانا ہے ۱۰۰ فیصد تعلیم یافتہ بنانا ہے ۲۰۱۱ کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ۹ء۳۶ فیصد لوگ ناخواندہ ہے جنہیں دستخط کرتے نہیں آنا ہے اور سب سے زیادہ اگر کوئی سماج ناخواندہ ہے تو وہ مسلم سماج ہے مسلم سماج کے ۷ء۴۲ فیصد مسلما ن ناخواندہ ہے انہیں دستخط کرنا بھی نہیں آتا ہے اس طرح کے ناخواندہ تمام ذاتوں میں ہیں جاہیں وہ مسلمان ہوں، سکھ ہوں، عیسائی ہوں، بدھسٹ ہوں یا کسی اور ذات کے لوگ ہوںیا دلت سماج کے لوگ ہیں ہم نے سبھی کیلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو! سرپرست تعلیمی بیداری مہم ویزن ۲۰۳۶ کے نگراں محبوب رضاصدیقی نے کہا کہ دو اکتوبر ۲۰۱۶ کو گاندھی جینتی کے موقع پر ہم نے عہد کیا تھا جس طرح گاندھی نے انگریزوں کے چنگل سے ملک کو آزاد کر ایا تھا اس طرح ہم لوگوں نے ۲۰۳۶ تک پورے ملک کو ناخواندگی سے پاک کر دیا جائے گا۔اس کیلئے ہم لوگ پورے ملک میں تعلیمی بیداری مہم چلا رکھی ہے۔اس تعلیمی بیداری مہم کو سال بھر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہم یہ بتاتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے کیا فائدے ہیں تعلیم بنیادی حقوق میں شامل ہے کتابیں مفت ملتی ہیں، فنڈ ملتے ہیں۔ ڈریس بھی مفت میں دستیاب کئے جاتے ہیں ہمارے سماج کے لوگوں کی کوتاہی کی وجہ سے یہ تمام چیزیں ان تک نہیں پہنچ پاتی ہیں ہم گارجین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ صرف تعلیم کے ذریعہ ہی اپنے مستقبل کو بدلا جاسکتا ہے انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ جاہل رہے تعلیم کیلئے اگر بھوکا رہنا پڑے تو بھوکا رہیں لیکن بچوں کو تعلیم ضرور دلائیں انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے پنچایت سے لے کر کارپوریشن سطح تک ہم لوگ کا م کر رہے ہیں!
قابل غور ہیکہ کولکاتا سے پابندی کیساتھ شائع ہونیوالے ہفتہ روزہ:سرپرست کے مدیر اعلیٰ محبوب رضا صدیقی نے شاندار تقریب( سرپرست تعلیمی بیداری مہم ویزن۲۰۳۶) گول میز کانفرنس میں اپنے اہم مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلم عوام سے کہا کہ لوگوں کو اگر بھوکا رہنا پڑے تو بھوکا رہیں لیکن اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں پارک سرکس کے آکاش گنگا ہوٹل میں منعقد اس شاندار مگر اہم گول میز کانفرنس میں آپنے زور دیکر کہا کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار تعلیمی مسائل کو حل کرنے لئے یوم اساتذہ کے موقع پر سرپرست تعلیمی بیداری تحریک ویزن ۲۰۳۶ انعقاد کیا گیا! پرائمری سے اسکول سطح تک کے لوگ اس سے جڑے ہوئے ہیں۔مکھیا سے لے کر مزدور تک اس میں تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویزن ۲۰۳۶ کو کامیاب بنانے کیلئے یوم اساتذہ کے موقع پر گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کولکاتا اور اضلاع کے زیادہ تر اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر موجود تھے۔ سبھی نے اس میں حصہ لیا اور اپن خیالات کا اظہار کرنے کے علاوہ مشوروں سے نوازا۔ اس میں جو کمی ہے اسے دور کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ مسٹر رضا نے کہا کہ آج مسلم بچوں کی حالت یہ ہے کہ پرائمری اسکولوں میں اگر ان کی تعداد سو ہے تو مدھیامک تک جاتے جاتے ان کی تعداد گھٹ کر ۲۰ رہ جاتی ہے اس ڈراپ آؤٹ کو کیسے روکا جائے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اسے روکنے کیلئے ہم نے سروے کمیٹی بنائی ہے آر ٹی ای کے تحت ان بچوں کا ایڈمیشن لینا ہوگا۔ اسی کے تحت ایڈ میشن کرایا جا رہاہے انہوں نے کہا کہ سرپرست تعلیمی بیداری مہم اپنی ٹیم کی مدد سے پورے ملک میں اسکول قائم کرے گی۔ اسکولوں کا ایک چین ہوگا اسٹڈی سنٹر کھولے جائیں گے۔ لائبریریاں کھولی جائیں گی حوصلہ افزائی کیلئے کلاس لئے جائیں گے ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے گا کیریئر کونسلنگ کی جائے گی۔ فروغ تعلیم اور سبھوں کے لئے تعلیم کے سلسلے میں تمام اقداما ت کئے جائیں گے۔ تمام ہندوستانی کا ایک ہی مقصد ہوگا ایجوکیشن ، ایجوکیشن اور ایجوکیشن اس موقع پر موجود ملی الامین کالج کی پرنسپل بیساکھی بنرجی نے تعلیم کے سلسلے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا سارا حلیم، ریحانہ خاتون نے بھی اس گول میز کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ریحانہ خاتون نے کہا کہ آج بچوں سے اگر کوئی ٹیچر زیادتی کرتا ہے تو اسکے گارجین تھانہ پہنچ جاتے ہیں جبکہ پہلے گارجین بچوں کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ اگر استاد کا چپل الٹا ہے تو پہلے اسے سیدھا کر دے آج تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں اتنا فرق آگیا ہے اس پروگرام میں حصہ لینے والوں میں ہوڑہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹرف آفتاب عالم، ہندی میڈیم اسکول کے ہیڈ ماسٹر اوم پرکاش پانڈے، مٹیا برج ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر محمد صابر، خضر پور مسلم ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹرقمر الدین خان، آریہ پریشد ودیا لیہ کے ہیڈ ماسٹر وضاحت علی مرزا، جوزف ڈے انگلش اسکول کے ہیڈ ماسٹر محمد شاہ نواز، آریہ پریشد کے بائیو لوجی کے ٹیچر صدف خان، ہوڑہ ہائی اسکول کے سینئر ٹیچر خواجہ احمد حسن، ہندوستانی لائبریری کے جنرل سکریٹری محمد جمال، کولکاتا ہائی کورٹ کے ایڈ وکیٹ فرحان غفار ، رحمانیہ کے کو آرڈینیٹر شہزادانور، سویتا پودار، سماجی کارکن ارونومئے دے،گلیمرورلڈ کی ریا مکھرجی، سوشل کارکن شمشا کلی، کے علاوہ اور بھی مہمان موجود تھے!