کلاس کی یادیں : از: حمزہ شعیب

کلاس دراصل اس باغ کے مانند ہے جس میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوتے ہیں جو خود بھی مہکتے ہیں اور اپنے اڑوس پڑوس کو بھی معطر کرتے رہتے ہیں. مالی جیسے ان کی آبیاری کرتا ہے باغ میں ویسے ہی پھول کھلتے ہیں. طالب علم بھی کلاس میں ایک کلی کی طرح ہوتا ہے اساتذہ جیسے اس کی تربیت کرتے ہیں اسی کے مطابق وہ قدر و منزلت پاتا ہے.اگر ہم دیکھیں تو یہ کلاس قدرت کا ایک *بیش بہا تحفہ* ہے جو *ہرکس و ناکس* کو نہیں ملتا بلکہ انہیں کو ملتا ہے جو خوش قسمت ہوتے ہیں.
آدمی اپنی زندگی میں کامیابی کے کتنے ہی اعلی منازل کیوں نہ طے کر لے، بلند و بالا مناصب پر کیوں نہ فائز ہو جائے لیکن، انہیں اپنے ماضی کی *بھولی بسری* یادیں *ہمہ وقت* ستاتی رہتی ہیں. ماضی کی یادوں میں کلاس کی یادیں اپنے آپ میں بڑی دلچسپ یادیں ہیں.
مثلا طالب علم کا کلاس میں اپنے سوتے ہوئے اور خراٹہ لیتے ہوئے پڑوسی کی کان میں *کاغذی میزائل* داغنا اور انہیں *عالم خواب* سے *عالم بیداری* میں لانا، *عالم تصور* میں کھوئے اپنے *ہم نشیں* کو آناً فاناً بے محل حاضری بلوانا اور ان کی فلم بنانا، کلاس میں *استاد باوقار* کے سونے پر ان کی *نقالی* کرنا اور اداکاری کا *اعلی نمونہ* پیش کرنا، پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر *پارے جی* اور *ڈریم لائٹ* کی عالمی پارٹی کرنا، وقفئہ فطور و انٹرول میں اخباری خبروں پر *مودی* اور *کوہلی* کی شادی کرانا، پچھلی قطار میں دوران درس *لیلی مجنوں* کی کہانی پڑھنا اور استاد محترم کےل
ہر ہر جملہ پر *مثل مٹھو میاں* *جی… جی.. جی شیخ*… کی رٹ لگانا، عدم مطالعہ کی صورت میں عبارت خوانی کے وقت *مراقبہ* کرنا، *حاضری میں پڑوسی کی غمخواری* کرنا، ہر جمعرات *خطیب بے مثال* بن جانا اور *اسباق ہڑتال* پر *انا ہزارے* کی طرح *سعی پیہم* کرنا، امتحان سے پہلے دوسروں کی کاپی، کتاب چراکر انہیں یتیم کردینا اور سال بھر خود *بے اولاد* رہنا، کلاس میں استادِ مکرم کی عدم موجودگی پر چلانے میں *کووں* پر سبقت لے جانا، *جسم و جاں* کلاس کی امانت چھوڑ کر *مکہ مدینہ* کی سیر کرنا، تیاری نہ ہونے پر ٹیسٹ کے دن کمرہ اندر سے بند کر لینا، بڑا بننے والے طلبہ (پڑھاکو طلبہ) کا بائیکاٹ کرنا، انہیں *چشم و انگشت* کے اشارے سے مرعوب کرنے کی *کوشش بے وجہ* کرنا وغیرہ
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی یادیں ہیں جو *حیات طلب علمی* کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتی ہیں اور *شعبہاے زندگی* میں ہمیں *تنظیم کا درس* دیتی ہیں. مثال کے طور پر پابندی سے کلاس کرنا، درس بغور سماعت کرنا، ہر لمحہ *کتب بینی* میں مصروف رہنا، *شور و غوغا* سے بچنا، *لہو و لعب* سے اجتناب کرنا، پہلی قطار میں بیٹھنے کی *جائز کوشش* کرنا،کلاس میں ذہناََ و جسماََ حاضر رہنا، *ہمہ تن گوش* ہو کر درس سننا، بیچ بیچ میں اشکال کرنا اور اس پر مشائخ سے بحث و مباحثہ کرنا وغیرہ
میرے پیارے قاری! اب تک آپ *یادوں کے باراتی* بنے بیٹھے تھے، اب اس *تصوراتی بت* کو توڑیے اور سوچیے کہ آپ بارات میں نہیں بلکہ کلاس میں پڑھنے آئے ہیں. اب تک کی باتوں سے آپ کے حضور طلبہ کی تصویر کے دو پہلو اجاگر ہوے (1) *تہذیب* اور (2) *تخریب*. اب آپ غور کیجیے کہ تصویر کی طرح تہذیب اور تخریب دونوں کی ابتدا میں *تاء* ہے. فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ آپ کی تصویر کیسی ہو. کیونکہ جیسی آپ کی تصویر ہوگی معاشرے میں ویسی ہی آپ کی *قدر و منزلت* یا *ذلت و رسوائی* ہوگی. بس سوچیے…..،…. غور کیجیے اور اپنے *حال* کو…… *ماضی* بنائیے…. ایک… *روشنی*…. کی طرح. کیونکہ….. *روشنی* کی……… *ایک کرن*…… *اندھیری رات* کا……. سینہ………… *چاک کر دیتی ہے*.

حمزہ شعیب، سیتا مڑھی، بہار