چیف جسٹس آف انڈیا کو ہم جنس پرستی کی اجازت کے حالیہ فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔

(پٹنہ) مورخہ 8/9/2018

شاہ عظمت اللہ ابو سعید صدر سیولائف فاؤنڈیشن نے کہا کہ آج شیطان بہت زیادہ خوشی منارہاہوگا جب ہمارے ملک کے قانون نے ایک ایسے فعل کو قانونی منظوری دے دی ہے جس پر تقریبا دو سو سال کے زائد وقفہ سے پابندی عائد تھی جن ممالک میں اس قبیح عمل کو کرنے کی آزادی دی گئ ان ملکوں کے حالات سبھی کے سامنے ہے گویا ایسا ہے جیسے اللہ کے نظام میں مداخلت ہے قران میں قوم لوط کا واقعہ موجود ہے اس سے عبرت لینے کی ضرورت ہے ہمیں تماشائ بنے رہنے کے بجائےاس کیلئے ہمیں ایک ساتھ مل کر آواز بلند کرنی ہوگی دنیا کے سارے مزاہب نے اس فعل کوناپسند اور حرام قرار دیاہے محسن انسانیت عربی صلی الله عليه وسلم نے یہ پیغام دیاہے کہ جب دنیا میں لوگ ایسا کرنے لگیں تو تباہیاں ،بربادیاں، زلزلے اور طرح طرح کے مصائب آئنگےایک طرف حکومت بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور اس کے مان سمان کی بات کرتی ہےاور دوسری طرف خاموش تماشائ بنی ہوئ ہے اس سے یہ حکومت کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ صنف نازک کو لیکر کتنی فکرمندہے؟اس ملک کے مسلمان خاموش نہ رہیں کیوں کہ گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔

6 ستمبر ہم جنس پرستی کے متعلق سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت اور اس کی تاریخی روایت کے برعکس اباحیت زدگی کو فروغ دینے والا اور معاشرتی زندگی کو تباہ کرنے والا ہے،مذکورہ باتیں رئیس ادریسی چئرمین ادریسی فاؤنڈیشن نے کہا ساتھ ہی انہوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے مؤدبانہ درخواست کیا ہےکہ وہ اس فیصلے پر روک لگائیں اور اس سلسلے میں نظر ثانی کے لئے بنچ قائم کریں۔
ڈاکٹرحسنین قیصر ماہر امراض کڈنی نے کہا کہ
تمام مذاہب میں یہ فعل گھناؤنا سمجھا جاتا ہے اور نسل انسانی کے بقا و تسلسل کے لئے بھی یہ مضر ہے نیز انسانی صحت پر اس کے خطرناک نتائج جو مرتب ہوتے ہیں، ان تمام باتوں کو عدالت عالیہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس فیصلے کو تبدیل کرنا چاہئیے۔

عبدالرقیب شامی سماجی کارکن نے عدالت عظمی کے اس فیصلے پر جس میں ہم جنسی پرستی کے عمل کومحض اس بنیاد پر قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے کہ بعض اخلاقی اقدار سے عاری، ہوا و ہوس کے دلدادوں، شہوت کے غلام، اورعقل و خرد کے مریض قسم کے انسان نما افراد کے طبعی رجحانات و میلانات ہم جنسی جیسے ناپاک اور گھناؤنے عمل کی طرف ہوتے ہیں اس پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے اور کہا کہ
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عدالت عظمی سے اس گھناؤنےعمل کے خوگر اور دلدادہ افرادکو اس ہلاکت خیز مرض سے دور رہنے کی نصیحت دی جاتی ۔ ان لوگوں کو اس گندے عمل کی شناعت و قباحت سے واقف کرانے کی شکلیں پیدا کی جاتیں ۔تاکہ معاشرہ کواس بیہودہ،گندہ اور گھٹیا عمل کی بدبو سے بچایا جا سکتا ۔لیکن ایسا نہ کرکے ایک غیر فطری عمل کو قانونا جائز بتاکر بے راہ روی اور گناہوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔
اختر امام چئرمین انسانیت ویلفئر ٹرسٹ نے کہا کہ
طبعی رجحان کو اگر فطرت کا نام دے کر اسے قانونی جواز فراہم کیاجانے لگا تو اس سے ڈھیر سارے مسائل اٹھ کھڑے ہوں گے ۔جن سے نبٹنا عدالت عظمی کے لئے ایک دشوار کن امر ہوگا ۔

وصی اللہ تمکین سماجی کارکن نے کہا کہ ہم جنسی پرستی ایک نہایت ہی گندہ ،گھناؤنا، غیر اخلاقی اور غیر فطری عمل ہے ۔کسی بھی معاشرہ اور سماج کوپاکیزہ اور خوبصورت بنائے رکھنے کےلئے اس کا اس قسم کےناپاک اور بدبودار عمل سے کلی طور پرخالی ہونا لازمی ہے ۔
مغرب کی نقالی میں چند نادان افراد کے مطالبہ کی بنیاد پر اس طرح کے گھناؤنے عمل کی اجازت پورے ملک میں اخلاقی بحران پیدا کردے گی حکومت ہند سے بھی گزارش کی کہ اس کو بھی اس غیر اخلاقی فیصلہ کو تبدیل کرانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ پورے ملک کی سماجی زندگی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

امان اللہ سبحانی جوائنٹ سکریٹری سیو لائف فاؤنڈیشن نے کہا کہ ہم جنس پرستی ایک غیر فطری عمل ہے جس کے نتیجے میں جنسی بے راہ روی میں زبردست اضافہ ہوگا اور معاشرہ تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ جائےمسلمانوں کی اکثریت تو خیر اپنے دین وشریعت کے سبب اس طوفان بلاخیز سے محفوظ رہے گی لیکن جن کے پاس کوئی مستقل ضابطۂ اخلاق نہیں ہے ان بیچاروں کے تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس لئے سپرم کورٹ آف انڈیا سے درخواست ہے کہ ہم جنس پرستی کے متعلق دئے گئے حالیہ فیصلے پہ نظر ثانی کرے۔

شمشاد عالم سماجی کارکن نے کہا کہاللہ تعالی نے انسان کو جو جنس دیکر پیدا کیا ہےاس جنس کا فیصلہ انسان کے پیدا ہونے سے پہلے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتاہے اس صداقت کو بدلنے کا اختیار کسی انسان کو نہیں دیاگیا ہے اس لئے عدلیہ اس پر غور خوض کرے ہم ہندوستا ایک مذہبی ملک ہے یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ مقیم ہیں اور اکثریت ہم جنسیت کو پسند نہیں کرتی ہے۔