یہ کیسی صحافت ـــــــــــــ ابوسعد گوتم

ایک صحافی ہیں عالمِ نقوی ( لام پر زیرہے )، ایک زمانہ تھا ہم بھی ان کے مداح ہوا کرتے تھے، مسلمانوں کی زبوں حالی، امریکہ اسرائیل کی سازشیں، مسلم حکمرانوں کی بد عملی، عیش کوشی، ملکی معاملات میں ہندوستانی مسلمانوں کی پسماندگی اور دجّال وطاغوت نیز مستضعفین جیسے بھاری بھرکم الفاظ پر مشتمل ان کے مضامین جن میں جگہ جگہ قران وحدیث کے حوالے بھی ہوتے ہیں …….. اور تقریبا ہر مضمون کا اختتام ” فھل من مدّکر ” پرہوتا ہے ……!
مگر دھیرے دھیرے ہم پر یہ واضح ہوتا گیا کہ جس کسی نے بھی یہ کہا ہے بالکل صحیح اور درست کہا ہے کہ ” شیعہ کہیں کا بھی ہو وہ سب سے پہلے ایران کا وفادار ہوتا ہے ” ـ
جن دنوں ہم ان کے مداح تھے اس وقت بھی بعض واقف کار احباب یہ کہا کرتے تھے کہ یہ سب تقیہ ہے دیکھ لیجئے گا ایک دن ضرور ان کا بھی تقیہ ٹوٹے گا، ……. تو صاحبان واقعی اب ٹوٹتے ٹوٹتے عالم صاحب کا تقیہ بالکل تارتار ہوچکا ہے ـ
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم سعودی عرب کے اندھےحامی کبھی نہیں رہے، وہاں حلق کے آخری حصے ” ح ” نکال کر ہر چیز کو حرام حرام کہنے والی سلفیت ہمارے بالکل سمجھ میں نہیں آتی، جنت البقیع میں قبوں کےانہدام سے بھی ہمیں اتفاق نہیں رہا، گنبد خضرا پر تاراجی کے لہراتے ہوئے خطرات سے ہمیں بھی تشویش رہتی ہے، حکمرانوں کی بداعمالیوں پر ہم کڑھتے ہیں، …. ان کے خلاف ہم نے مضامین بھی لکھے ہیں تقریریں بھی کی ہیں …….. سعودی کےحالیہ جواں سال ولی عہد کی مغربی پالیسیاں، سنیماہالوں کاقیام، علماء کی گرفتاریاں، حرم کے ایک امام کی پراسرار گمشدگی کی خبروں نے ہمیں بھی بے چین کیا ہے ـ
مگر سعودی عرب سے غیر مطمئن ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے پردے میں جو “شیعی انقلاب “آیا ہے ہم اس کی بے جا حمایت کریں ـ
ممبئی کے ایک روزنامے میں عالم صاحب کا مضمون شایع ہوا ہے اس میں عالم اسلام اور ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر مرثیہ پڑھتے ہوئے مسلم ممالک خصوصا سعودی عرب پر خصوصی تبراء کیاگیا ہے ـ
عالم نقوی صاحب جیسے صحافیوں کو سعودی کی آنکھوں کے تمام تنکے تو دکھائی دیتے ہیں مگر ایران وشامی ملعون حکومت کے ہمالیہ سے بھی اونچےشہتیر بالکل نہیں دکھتے ـ
ہمارا خیال یہ بھی ہے کہ بےشک کسی امریکہ یا اسرائیل کو ایران سمیت کسی بھی ملک کو دھمکانے یاان پر پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر حکومت بدلنے کا حق کسی کو ہے تو صرف وہاں کی عوام کو ہے ……… مگر ……. کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ آج چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے ایران اور امریکہ کی مستقل تو تو میں میں جاری ہے، تقریبا چالیس برس سے خمینی صاحب کے ماننے والے ” مرگ بر امریکہ ” مرگ بر اسرائیل ” کا نعرہ لگارہے ہیں، امریکہ بھی مستقل ایران کو برائی کا محور قرار دے رہا ہے …….. ذرا یہ بھی یاد کرلیجئے جب اسّی کی دہائی میں ایران عراق جنگ جاری تھی تب یہ خبریں عام ہوئی تھیں کہ عراق کے خلاف ایران کو امریکہ سے ہتھیار مل رہے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس کی کوئی زور دار تردید نہیں ہوئی تھی بلکہ رفع دفع کرنے کا انداز اپنایا گیا تھا، امریکہ بھی خاموش رہا تھا ـ
دوسری طرف امریکہ نے لادین کے بہانے افغانستان کو برباد کردیا ……وہ تو غیور افغانیوں کی بہادری ہے کہ وہاں اب تک شیعی حکومت قائم نہیں ہوپائی ہے ورنہ امریکیوں نے کوششیں تو بہت کی تھیں، …….. عراق جیسے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کو کیمائی ہتھیاروں کا جھوٹا سہارا لے کر ویران کردیا گیا اور وہاں ایک شیعی حکومت بنوادی گئی ـ
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایران کے بہی خواہوں کو سعودی بادشاہوں پر تو یہ اعتراض رہتا ہے کہ وہ امریکہ کے سہارے حکومت کررہے ہیں مگرکیا کسی نے آج تک عراق کی شیعی حکومت پر اعتراض کیا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے سہارے کیوں حکومت کررہی ہے، …… عراق تو برباد کردیا مگر اسی کاپڑوسی شام ہے جس کا ظالم اور ملعوں حکمراں بشار اور اس سے پہلے اس کے جہنمی باپ نے خود اپنے ملک کے ۸ لاکھ بے گناہوں کو موت کی نیند سلادیا، صدام کے پاس تو کیمائی ہتھیار نہیں تھے مگر اسد نے جس طرح اپنی مظلوم رعایا پر کیمیائی حملہ کرکے معصوم بچوں، عورتوں، کمزوروں اور ضعیفوں کو شہید کیا، ……. کیا اس کمبخت کے خلاف امریکہ نے کوئی بم، میزائیل کیا ایک گولی تک چلائی ہے؟ ؟…….. یہ تمام حقائق کیا اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ امریکہ و ایران کے درمیان تو تو میں میں کی حقیقت نورا کشتی سے زیادہ کچھ نہیں ہے !
ایران کی راجدھانی تہران میں یہودیوں کی عبادت گاہ، سکھوں کا گرودوارہ تو ہے مگر سنیوں کی ایک بھی مسجد نہیں ہے ……کیوں ؟
ایران پر یہ اعتراض ہر انصاف پسند کرتا ہے آج تک ایرانی حکومت کی طرف سے اس کا تسلی بخش جواب نہیں آیا ……. ہاں اگر جواب دیا تو یکساں ظاہر وباطن رکھنے والے ” سیاہ پوش مجھتہدین ” کی ایک تنظیم نے ……. ! اس سے بھی صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ ہمارے ہندوستانی سیاہ عبا وقبا والے کس کے نمک خوار ہیں! ……. اسی دوران ممبی کے ایک روزنامےمیں ایک مضمون چھپا تھا جس میں ایران کی کچھ سنی مساجد کے پتے دئے گئے تھے، مگر تعجب کی بات یہ تھی کہ تقریبا تمام مسجدیں تہران شہر کی نہیں بلکہ ایک ہائی وے پر واقع مساجد کی تھیں، ….. بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اس مضمون کہ اصل محرر عالم نقوی صاحب تھے مگر پتہ نہیں کیوں مضمون وہیں کے ایک نوجوان کے نام سے شایع ہوا تھا ـ
سعودی عرب میں علماء کی گرفتاریاں یقیناقابل مذمت ہیں مگر جب ایران میں کچھ سنی علماء کو بغاوت کے جرم میں پھانسی دی گئی تو عالم صاحب جیسے صحافیوں کا قلم خاموش کیوں رہا ہے ـ
ایران ٹیلویزن کے سیرئیلس میں صحابہ کرام حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر، ابوموسی اشعری، عمروبن عاص وغیرہ پر نام لے کر اور خلفاء ثلاثہ ودیگر پر اشاروں میں تبراء کیا جاتا ہے کیا نقوی صاحب اس پر بھی کچھ بولیں گے ـ
خمینی صاحب کے وقت سے ہی ایران اپنا شیعی انقلاب پڑوسی ممالک میں درآمد کرنے کی کوشش کررہا ہے، چنانچہ بحرین میں ایران کی شہ وہاں کی شیعہ آبادی کو بغاوت پرابھارتی ہے، وہی ایرانی حکومت یمن میں حوثی جیسے نصف شیعوں کو منتخبہ حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے میں مدد کرتی ہے، شام میں حضرت علی کو خدا ماننے والے مرتد نصیری اسد کو وہاں کی عوام پر مسلط کرنےکے لئے ایران کی نام نہاد حزب اللہ بے گناہوں کا خون بہاتی ہے ـ
خمینی صاحب نے تو مکے مدینے میں بھی بدامنی پیدا کرنے کے سو جتن کئے تھے، ایرانی حاجیوں کے بھیس میں خمینی کے ایجنٹوں نے مکہ مکرمہ میں امریکہ کے خلاف جلوس نکالا تھا ….. وہ تو اچھا ہوا اس وقت کی سعودی حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سارے ایجنٹوں کی ہوا نکالدی تھی ورنہ آج مکہ مدینہ بھی پر امن نہیں رہتا، دوسرے ممالک کےناراض لوگ بھی اپنے دشمنوں کے خلاف وہاں جلوس نکالتے، دھرنے دیتے، مظاہرے کرتے، بھوک ہڑتالیں ہوتیں اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ـ ( اللہ تعالی دونوں مراکز کو اپنی حفاظت میں رکھے ـ
آج سعودی میں جو بیرونی افواج ہیں،اور ان افواج کی وجہ سے وہاں جو کچھ بھی غیر مناسب تبدیلیاں آرہی ہیں اس کا بڑی حد تک کوئی ذمہ دار اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ ہے ایران ……!
سوچئے ایران میں شیعی انقلاب سے پہلے تو سعودی میں ایسا کچھ نہیں تھا جیسا آج ہورہا ہے ـ ….. اس لئے ہمارا خیال تو یہی ہے کہ سعودی کیا پورےخلیج میں جو بد امنی پھیلی ہے، غیر شرعی ادارے قائم ہورہے ہیں یہ سب امریکہ وایران کی ملی بھگت سے ہورہا ہے …….. مگر عالم نقوی جیسے قلم کاروں کو سعودی خرابیاں تو نظر آرہی ہیں مگر ایرانی بدکاریاں نظر نہیں آتیں ـ
جو چب رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ـیہ کیسی صحافت
ـــــــــــــ

ابوسعد گوتم

ایک صحافی ہیں عالمِ نقوی ( لام پر زیرہے )، ایک زمانہ تھا ہم بھی ان کے مداح ہوا کرتے تھے، مسلمانوں کی زبوں حالی، امریکہ اسرائیل کی سازشیں، مسلم حکمرانوں کی بد عملی، عیش کوشی، ملکی معاملات میں ہندوستانی مسلمانوں کی پسماندگی اور دجّال وطاغوت نیز مستضعفین جیسے بھاری بھرکم الفاظ پر مشتمل ان کے مضامین جن میں جگہ جگہ قران وحدیث کے حوالے بھی ہوتے ہیں …….. اور تقریبا ہر مضمون کا اختتام ” فھل من مدّکر ” پرہوتا ہے ……!
مگر دھیرے دھیرے ہم پر یہ واضح ہوتا گیا کہ جس کسی نے بھی یہ کہا ہے بالکل صحیح اور درست کہا ہے کہ ” شیعہ کہیں کا بھی ہو وہ سب سے پہلے ایران کا وفادار ہوتا ہے ” ـ
جن دنوں ہم ان کے مداح تھے اس وقت بھی بعض واقف کار احباب یہ کہا کرتے تھے کہ یہ سب تقیہ ہے دیکھ لیجئے گا ایک دن ضرور ان کا بھی تقیہ ٹوٹے گا، ……. تو صاحبان واقعی اب ٹوٹتے ٹوٹتے عالم صاحب کا تقیہ بالکل تارتار ہوچکا ہے ـ
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم سعودی عرب کے اندھےحامی کبھی نہیں رہے، وہاں حلق کے آخری حصے ” ح ” نکال کر ہر چیز کو حرام حرام کہنے والی سلفیت ہمارے بالکل سمجھ میں نہیں آتی، جنت البقیع میں قبوں کےانہدام سے بھی ہمیں اتفاق نہیں رہا، گنبد خضرا پر تاراجی کے لہراتے ہوئے خطرات سے ہمیں بھی تشویش رہتی ہے، حکمرانوں کی بداعمالیوں پر ہم کڑھتے ہیں، …. ان کے خلاف ہم نے مضامین بھی لکھے ہیں تقریریں بھی کی ہیں …….. سعودی کےحالیہ جواں سال ولی عہد کی مغربی پالیسیاں، سنیماہالوں کاقیام، علماء کی گرفتاریاں، حرم کے ایک امام کی پراسرار گمشدگی کی خبروں نے ہمیں بھی بے چین کیا ہے ـ
مگر سعودی عرب سے غیر مطمئن ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے پردے میں جو “شیعی انقلاب “آیا ہے ہم اس کی بے جا حمایت کریں ـ
ممبئی کے ایک روزنامے میں عالم صاحب کا مضمون شایع ہوا ہے اس میں عالم اسلام اور ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر مرثیہ پڑھتے ہوئے مسلم ممالک خصوصا سعودی عرب پر خصوصی تبراء کیاگیا ہے ـ
عالم نقوی صاحب جیسے صحافیوں کو سعودی کی آنکھوں کے تمام تنکے تو دکھائی دیتے ہیں مگر ایران وشامی ملعون حکومت کے ہمالیہ سے بھی اونچےشہتیر بالکل نہیں دکھتے ـ
ہمارا خیال یہ بھی ہے کہ بےشک کسی امریکہ یا اسرائیل کو ایران سمیت کسی بھی ملک کو دھمکانے یاان پر پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر حکومت بدلنے کا حق کسی کو ہے تو صرف وہاں کی عوام کو ہے ……… مگر ……. کیا آپ نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ آج چالیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے ایران اور امریکہ کی مستقل تو تو میں میں جاری ہے، تقریبا چالیس برس سے خمینی صاحب کے ماننے والے ” مرگ بر امریکہ ” مرگ بر اسرائیل ” کا نعرہ لگارہے ہیں، امریکہ بھی مستقل ایران کو برائی کا محور قرار دے رہا ہے …….. ذرا یہ بھی یاد کرلیجئے جب اسّی کی دہائی میں ایران عراق جنگ جاری تھی تب یہ خبریں عام ہوئی تھیں کہ عراق کے خلاف ایران کو امریکہ سے ہتھیار مل رہے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس کی کوئی زور دار تردید نہیں ہوئی تھی بلکہ رفع دفع کرنے کا انداز اپنایا گیا تھا، امریکہ بھی خاموش رہا تھا ـ
دوسری طرف امریکہ نے لادین کے بہانے افغانستان کو برباد کردیا ……وہ تو غیور افغانیوں کی بہادری ہے کہ وہاں اب تک شیعی حکومت قائم نہیں ہوپائی ہے ورنہ امریکیوں نے کوششیں تو بہت کی تھیں، …….. عراق جیسے خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کو کیمائی ہتھیاروں کا جھوٹا سہارا لے کر ویران کردیا گیا اور وہاں ایک شیعی حکومت بنوادی گئی ـ
آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ایران کے بہی خواہوں کو سعودی بادشاہوں پر تو یہ اعتراض رہتا ہے کہ وہ امریکہ کے سہارے حکومت کررہے ہیں مگرکیا کسی نے آج تک عراق کی شیعی حکومت پر اعتراض کیا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے سہارے کیوں حکومت کررہی ہے، …… عراق تو برباد کردیا مگر اسی کاپڑوسی شام ہے جس کا ظالم اور ملعوں حکمراں بشار اور اس سے پہلے اس کے جہنمی باپ نے خود اپنے ملک کے ۸ لاکھ بے گناہوں کو موت کی نیند سلادیا، صدام کے پاس تو کیمائی ہتھیار نہیں تھے مگر اسد نے جس طرح اپنی مظلوم رعایا پر کیمیائی حملہ کرکے معصوم بچوں، عورتوں، کمزوروں اور ضعیفوں کو شہید کیا، ……. کیا اس کمبخت کے خلاف امریکہ نے کوئی بم، میزائیل کیا ایک گولی تک چلائی ہے؟ ؟…….. یہ تمام حقائق کیا اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ امریکہ و ایران کے درمیان تو تو میں میں کی حقیقت نورا کشتی سے زیادہ کچھ نہیں ہے !
ایران کی راجدھانی تہران میں یہودیوں کی عبادت گاہ، سکھوں کا گرودوارہ تو ہے مگر سنیوں کی ایک بھی مسجد نہیں ہے ……کیوں ؟
ایران پر یہ اعتراض ہر انصاف پسند کرتا ہے آج تک ایرانی حکومت کی طرف سے اس کا تسلی بخش جواب نہیں آیا ……. ہاں اگر جواب دیا تو یکساں ظاہر وباطن رکھنے والے ” سیاہ پوش مجھتہدین ” کی ایک تنظیم نے ……. ! اس سے بھی صاف ظاہر ہوجاتاہے کہ ہمارے ہندوستانی سیاہ عبا وقبا والے کس کے نمک خوار ہیں! ……. اسی دوران ممبی کے ایک روزنامےمیں ایک مضمون چھپا تھا جس میں ایران کی کچھ سنی مساجد کے پتے دئے گئے تھے، مگر تعجب کی بات یہ تھی کہ تقریبا تمام مسجدیں تہران شہر کی نہیں بلکہ ایک ہائی وے پر واقع مساجد کی تھیں، ….. بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اس مضمون کہ اصل محرر عالم نقوی صاحب تھے مگر پتہ نہیں کیوں مضمون وہیں کے ایک نوجوان کے نام سے شایع ہوا تھا ـ
سعودی عرب میں علماء کی گرفتاریاں یقیناقابل مذمت ہیں مگر جب ایران میں کچھ سنی علماء کو بغاوت کے جرم میں پھانسی دی گئی تو عالم صاحب جیسے صحافیوں کا قلم خاموش کیوں رہا ہے ـ
ایران ٹیلویزن کے سیرئیلس میں صحابہ کرام حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر، ابوموسی اشعری، عمروبن عاص وغیرہ پر نام لے کر اور خلفاء ثلاثہ ودیگر پر اشاروں میں تبراء کیا جاتا ہے کیا نقوی صاحب اس پر بھی کچھ بولیں گے ـ
خمینی صاحب کے وقت سے ہی ایران اپنا شیعی انقلاب پڑوسی ممالک میں درآمد کرنے کی کوشش کررہا ہے، چنانچہ بحرین میں ایران کی شہ وہاں کی شیعہ آبادی کو بغاوت پرابھارتی ہے، وہی ایرانی حکومت یمن میں حوثی جیسے نصف شیعوں کو منتخبہ حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانے میں مدد کرتی ہے، شام میں حضرت علی کو خدا ماننے والے مرتد نصیری اسد کو وہاں کی عوام پر مسلط کرنےکے لئے ایران کی نام نہاد حزب اللہ بے گناہوں کا خون بہاتی ہے ـ
خمینی صاحب نے تو مکے مدینے میں بھی بدامنی پیدا کرنے کے سو جتن کئے تھے، ایرانی حاجیوں کے بھیس میں خمینی کے ایجنٹوں نے مکہ مکرمہ میں امریکہ کے خلاف جلوس نکالا تھا ….. وہ تو اچھا ہوا اس وقت کی سعودی حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سارے ایجنٹوں کی ہوا نکالدی تھی ورنہ آج مکہ مدینہ بھی پر امن نہیں رہتا، دوسرے ممالک کےناراض لوگ بھی اپنے دشمنوں کے خلاف وہاں جلوس نکالتے، دھرنے دیتے، مظاہرے کرتے، بھوک ہڑتالیں ہوتیں اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ـ ( اللہ تعالی دونوں مراکز کو اپنی حفاظت میں رکھے ـ
آج سعودی میں جو بیرونی افواج ہیں،اور ان افواج کی وجہ سے وہاں جو کچھ بھی غیر مناسب تبدیلیاں آرہی ہیں اس کا بڑی حد تک کوئی ذمہ دار اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ ہے ایران ……!
سوچئے ایران میں شیعی انقلاب سے پہلے تو سعودی میں ایسا کچھ نہیں تھا جیسا آج ہورہا ہے ـ ….. اس لئے ہمارا خیال تو یہی ہے کہ سعودی کیا پورےخلیج میں جو بد امنی پھیلی ہے، غیر شرعی ادارے قائم ہورہے ہیں یہ سب امریکہ وایران کی ملی بھگت سے ہورہا ہے …….. مگر عالم نقوی جیسے قلم کاروں کو سعودی خرابیاں تو نظر آرہی ہیں مگر ایرانی بدکاریاں نظر نہیں آتیں ـ
جو چب رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ـ