نئی نسل کو جدیدتعلیم سے متعارف کر ا کراسکو ذلت ورسوائی سے بچائیں ,ڈاکٹر مولانا عبد المالک مغیثی

سہارنپور (احمد رضا) جامعہ رحمت گھگرولی کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر مولانا عبد المالک مغیثی کا صاف طور سے کہناہے کہ اسلام نے اپنے و جود سے ہی تعلیم پر زور دیا ہے ، لیکن آج تعلیمی میدان میں ہم لوگ کافی پیچھے ہے ہندوستان میں مسلمان آبادی کے تناسب سے تعلیم میں حد درجہ نیچے ہیں سابقہ حکومت کی جانب سے متعین کی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے اس کے و مسلمانوں میں مال و زر کی کمی نہیں ، عقل و شعورکی کمی نہیں ، ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ، لیکن کمی ہے تو مسلما نوں میں شعورخفتہ بیدار کرنے والوں کی ، اگر کمی ہے تعلیم کی جانب رغبت دلا نے والوں کی آج کا مسلمان حکومت پر بھر و سہ کررہا ہے اسی حکومت پر کہ جس کا خفیہ ایجنڈ مسلمانوں کو بربادکرنے کا ہے ! عالم دین جامعہ رحمت گھگرولی کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر مولانا عبد المالک مغیثی نے یہ بھی کہاہیکہ حکومتیں الیکشن کے ایام میں مسلمانوں کی ہمدردی کی بات کرتی ہیں ، ان کی تعلیمی پسماندگی پر کھڑیال کے آنسو بہاتی ہیں تا کہ ان کا قیمتی ووٹ اپنے پالے میں ڈل جا ئے لیکن فتیابی کے بعد اپنے خفیہ رویوں پر گامزن ہو جاتی ہیں اس لئے مسلمان تعلیم کے میدان بغیر بیسا کھی کے آگے آئیں موجودہ ہندوستان میں کئی ایک مثال مل جائے گی کہ کسی طرح وہ تعلیم کی بدولت اوج ثر یا پر وراجمان ہوئے حکومتی تعاون کے بغیر بھی مسلم طبقہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے مگر اسکے لئے آج محنت درکار ہے ، حکومت سے حق لینا ضروری تو ہے لیکن اس پر تکیہ کر کے بیٹھ جانا ہماری غفلت ہے ! آپنے کہاکہآج مسلمانوں کا ایک طبقہ جگہ جگہ جلسے جلوس اور کا نفرینسوں و سیمنا روں میں اپنا قیمتی وقت اور روپیہ خرچ کر تا ہے لیکن اگر اس کا کچھ پیسہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیم پر صرف کیا جا ئے تو ایک کما سیکڑوں جلسے جلوسوں کا حق ادانہیں ہو سکتا ہم یہ نہیں کہتے کہ جلسے جلوس کی اہمیت نہیں ہے لیکن اس پر خرچ کی جا نے والی خطیر رقم ہمارے لئے نقصان دہ ہے ۔ مولوی اور صاحب حیثیت حضرت اگر چاہیں تو مسلمانوں کی بڑی آبادی کو تعلیم سے وابستہ کر کے ان کا بہتر مستقبل تیار کر سکتے ہیں ، ہمیں زمینی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے مسلمانوں کو ہر علاقے میں تعلیمی کمیٹی تیار کرنی چاہئے ، اس کمیٹی کے ذریعہ تعلیمی بیداری مہم چلانی چاہئے اور ضرورت مند طلبا کی بھر پور امداد کرنی چاہئے تا کہ طلبا میں تعلیم کے تئیں بیداری آئے پورے ملک کے علمائکرام اکثر بچوں کو صرف دینی تعلیم کی طرف رغبت دلا تے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی اب زور دیناوقت کا تقاضہ بن چکاہے ہاں دینی تعلیم ضروری تو ہے دینی علوم سے وابستہ افراد میں کمی ہوئی ہے صرف مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے دویا تین دو تین فیصد طلباء دینی علوم سے وابستہ ہیں لیکن ان کے علاوہ دیگر علوم پر خاص ادھیان دینے کی بھی اشد ضرورت آن پڑی ہے ! ہمارے اسلاف دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تر غیب دیتے تھے اور اس سے وابستہ افراد کی ہمت افزائی بھی کرتے تھے ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عملی میدان میں آگے آئیں اور اپنا مستقبل سنواریں ۔ ملک کے جو حالات ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے کہ وہ ہم کو کس نہج اور طریقے کی طرف لے جا نا چاہتے ہیں ۔ اس لئے وقت کی اہمیت کو بھا نپتے ہوئے اپنی علمی طاقت مضبوط کر نے کی ضرورت ہے جدید تعلیم سے لیس ہو نا ہماری ضرورت ہے اگر ہم تعلیمی میدان میں اسی طرح مسبوق رہے تو پھر وہ دیکھنے پڑیں کہ جسکا کبھی مدا وااس موضوع پر ضرور لکھیں اور خواب غفلت میں پڑی ہوئی امت کو بیدار کریں تاکہ نئی نسل ذلت اور رسوائی کے دل دل سے باہر نکل کر اپنا مستقبل خد روشن کر سکے!