باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے ڈاکٹر سلیم خان

امت مسلمہ کی بابت نبی کریم ﷺ کی پیشنگوئی ہے ’’میری اُمت پر بھی وہ سب حالات وارد ہو کر رہیں گے جو بنی اسرائیل پر آئے تھے ، بالکل ایسے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی سے مشابہ ہوتی ہے‘‘۔ قرآن حکیم میں ان حالات کی گمراہیوں کا ذکر ہے جن میں بنی اسرائیل مبتلا ہوئےتھے نیز ان سے نکلنے کی سبیل بھی بیان ہوئی ہے۔ کتاب مبین میں بنی اسرائیل کا دیگر ادیان ونظریات سے مرعوب و مسحور ہوکر ان کا گرویدہ ہوجانا درج ہے۔ یہ امت مسلمہ کے ساتھ بھی ہوتا ہے کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے ، بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے‘‘۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ’’اے اللہ کے رسولؐ! یہود و نصاریٰ کی؟‘‘۔ آپؐ نے فرمایا’’ تو اور کس کی؟‘‘
قرآن کریم میں فرعون سے نجات کے بعد کا ایک منظر ملاحظہ فرمائیں ’’بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، “اے موسیٰؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں”۔عصر حاضر میں نظریات کا بت تراش کر اس کی اطاعت کروائی جاتی ہے۔ ان سے مرعوبیت یہ مطالبہ کرواتی ہے کہ جمہوریت بہت اچھی چیز ہے۔ دورِ جدید میں اس سے مفر نہیں اس لیے کیوں نہ اسلامی جمہوریت جیسی کو ئی شئے گڑھ لی جائے۔ اس صورتحال میں حضرت موسیٰؑ کا وہ جواب پیش نظر رہنا چاہیے جو قرآن مجیدمیں محفوظ ہے ۔ ’’ موسیٰؑ نے کہا “تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے‘‘۔ جمہوری نظام کے تباہ کاریاں امریکہ سے بھارت تک اظہر من الشمس ہیں ۔
اپنی امت کی موعظت و نصیحت کے لیےکلیم اللہؑ کی دلپذیر فہمائش اس طرح بیان ہوئی ہے کہ ’’ پھر موسیٰؑ نے کہا “کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے‘‘۔ اقوام عالم پر فضیلت اس دین کے سبب ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام پر نازل کرتا ہے۔ جو امت اس دین کی ناقدری کرے اور اسے چھوڑ کردیگر نظریات پر فریفتہ ہوجائے تو وہ خود اپنی فضیلت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے‘‘۔ یعنی یہ دین مکمل ہے۔ دین اسلام کے ماننے والے ہر طرح سے خودکفیل ہیں۔ زندگی کے کسی شعبے میں انہیں دوسروں کی محتاجی لاحق نہیں ہےکیونکہ اتمام نعمت ہوچکی ہے ۔
اس نعمت خداوندی کا کماحقہُ حق ادا کرنا امت کی عظیم سعادت ہے۔ یہی دنیوی سرخروی اوراخروی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ارشاد ربانی ہے’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں‘‘۔ امن و سکون کی کیفیت کا دائرہ کار دنیا و آخرت پر محیط ہے۔ اللہ کے نزدیک یہی پسندیدہ اور قابل قبول دین ہے۔ اسی کسوٹی پر اعمال جانچےاورتولےجائیں گےنیز کامیابی مژدہ سنا دیاجائےگا ۔ بشرطیکہ اتباع خالص ملاوٹ سے پاک ہو کیونکہ بقول اقبال؎
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے شرکت میانہء حق و باطل نہ کر قبول