مدرسہ بورڈ کے نصاب سے انگریزی سبجیکٹ کا ہٹایا جانا اور جمعہ کو امتحان لینا بورڈ اور حکومت پر بڑا سوال کھڑا کرتا ہے ۔ شاہ عظمت ا للہ

پٹنہ۔ مورخہ 29/08/2018. بروز بدھ

سیولائف فاؤنڈیشن کے صدر انجینئر شاہ عظمت اللہُ نے کہا کہ امسال فوقانیہ اور مولو امتحان
2018 میں انگریزی کا پرچہ ہی نہیں دیاگیا۔
جس کو لیکربہار سمیت ملک کے تمام دانشوروں میں جیسے جیسے یہ بات معلوم ہوتی جارہی ہے ویسے ویسے زبردست رد عمل اور ناراضگی وجود میں آتی جارہی ہے جس کا پورا فائدہ الیکشن میں اپوزیشن پارٹیاں اٹھائنگیں گویاموجودہ حکومت خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاری مار رہی ہے پریس ریلیز ہرگزہرگز ریاستی حکومت کو نشانے پر لینے کیلئے اور احتجاج کرکے حکومت کو بدنام کرنے کیلئے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ حکومت جلد از جلد صورتحال کے مثبت پہلو پر غور کرتے ہوئے انگریزی ہٹانے کے فیصلہ کو بدلے اور اس سال کے لڑکے لڑکیوں کیلئے انگریزی کے امتحان کا خصوصی طور پر انعقاد کرے اور آئندہ سال سے انگریزی کو لازمی کرنے کا فیصلہ لے ۔
سب سے زیادہ اصولی قانونی پہلو یہ ہے کہ آخر کس اختیار کے تحت اور کس نے یہ فیصلہ لیا ہے؟
یہ بورڈایک ایٹومینیس ہے اور اس بورڈکے چئرمین اورچودہ اراکین ہوتے ہیں۔
بورڈ میں 2 M.L.A ۔ ایک MLC. اور 5 سرکاری مدرسے کے سینئر اساتذہ و دانشوران ہوتے ہیں جس کوریاستی حکومت بحال کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساڑھے تین سال سے مذکورہ بالا ارکان کی بحالی ہوئ ہی نہیں ہے صرف پانچ ارکان سے بورڈ چل رہا ہے تو کس نے بغیر صحیح ریزولیشن پاس کرائے یہ فیصلہ لیا۔ نہ تو چئیرمین اور نہ ہی وزیر تعلیم یہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ شاہ عظمت اللہ نے مزید کہا کہ انگریزوں کے حکومت کے زمانے سے بہار بورڈ بنایاگیا ہے۔ اس لئے کہ مذہبی اداروں میں پڑھنے والے لڑکے لڑکیوں کو تعلیم کے مین اسٹریم میں جوڑا جائے۔ جس کیلئے انگریزی اور حساب کو لازمی قرار دیاگیا ہے۔
پھر آزادی ملنے کے بعد کیا ہندوستان کی حکومتیں انگریزی حکومت کے زمانے کی مراعات اور فیسیلیٹی کو ختم کردیں گی۔
اتنی خاموشی سے سازشی طور پر اچانک یہ فیصلہ کس نے کیا؟
بہار حکومت پر آنے والے تمام نشیب و فراز اور پریشانیوں اوراپوزیشن کے باوجود بہار کے مسلمانوں کو وزیر اعلی نتیش کمار سے امید ہے کہ جس طرح شروع سے اقلیتوں کے مسائل سے دلچسپی لیتے ہوئے اقلیتوں کے حق میں بڑے بڑے فیصلے کئے ہیں ۔ 2459 مدرسوں کو مالی منظوری کیلئے ۔ کیبینٹ سے پاس کرانا ۔اوقاف فنڈ میں زبردست اضافہ کرنا۔ بہار حج کمیٹی میں زبردست تعاون کرنا۔اقلیتوں کےمحنتی اور ذہین بچے ، بچیوں کے اعلی تعلیم کا اقامتی انتظام کرنا وغیرہ وغیرہ… شامل ہے۔
اس لئے موجودہ وقت کا تقاضہ ہے کہ وزیر اعلی نتیش کمار فورا مداخلت کرکے اس غلط فیصلہ کو ہٹاکر معمول کے مطابق انگریزی کو نصاب میں شامل کرائیں ۔
اور شاہ عظمت اللہ اپنے بیان میں کہا کہ بہار مدرسہ
بورڈ کی تاریخ میں ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ جمعہ کے دن امتحان لیا گیا ہو ۔ امتحان کا پروگرام تیار کرنا اور ٹائم ٹیبل طے کرنا یہ بورڈ کی کمیٹی اور بورڈ کے سینئر ملازمین کے مشاورت سے طے پاتا ہے ۔ آخر کس نے اتنی بڑی تبدیلی کی ہے ؟ آخر ایسا کیوں ہوا؟
وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے اپیل ہے کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں دائمی چئرمین جلد سے جلد منتخب کریں جو ایماندار، مذہبی، اور ماہر تعلیم، اور انگریزی میں مہارت رکھتا ہو ، طلباء اور اساتذہ کے حق میں صحیح فیصلہ لینے کا صلاحیت رکھتا ہو اور تعلیمی نظام کو رشوت سے پاک رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اوربیہ فیصلہ حکومتبجلدطسازی میں نہ کرے بلکہ غور و فکربکرکے چئرمین کا انتخاب کرے ۔
افسوس یہ ہے کہ اب تک کسی حکومت نے مدرسہ بورڈ کیلئے کوئ بلڈنگ یا دفتر قائم نہیں کر سکی ہے جو اب تک کرائے کے مکان میں مدرسہ بورڈ کا دفتر چل رہا ہے ۔