سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی ڈاکٹر سلیم خان

دو باپ اور دو بیٹے،وہ چار نہیں تین افراد ہیں اس لیے کہ ان میں ایک باپ اوربیٹا مشترک ہے ۔ حضرت ابراہیم ؑ ان کے والدماجد آذر اور نورِ نظرحضرت اسماعیل ؑ تاریخ انسانی کی انوکھی اور منفرد شخصیات تھیں۔ آذر اپنے زمانے کا سب سے بڑا بت تراش ہی نہیں بلکہ درباری پروہت بھی تھا۔ بادشاہ وقت کا معتمدِ خاص اورایسا گروکہ جس کے چشم ابرو سے نظام حکومت میں زلزلہ برپا ہوسکتا تھا ۔ وہ اگر چاہتا تو اپنے مقام و مرتبہ کے زور پرعظیم اصلاح بلکہ انقلاب برپا کرسکتا تھا لیکن اس کارِ عظیم کے لیے رب کائنات نے اس کے بیٹے ابراہیم ؑکا انتخاب کیا ۔ اس نوجوان کے پاس دولت، ثروت اور اقتدار کچھ بھی نہیں تھا ۔ اس نے تن تنہا شرک و بت پرستی کے طلسم کو پارہ پارہ کردیا ۔ رب کائنات نےاپنے اس دوست کی خاطرشعلوں کو گلزار بنا دیا ۔ اس نبیٔ مکرم نے اپنے فرزند ارجمند کے ساتھ تاقیامت قائم رہنے والا مرکز توحید تعمیر کیا اوراپنے پیچھے ایک ایسی امت چھوڑ کر گیا کہ جو ازل تک اللہ کی کبریائی اور بزرگی بیان کرتی رہے گی۔ لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد، والنعمة، لك والملك، لا شريك لك ۔
ایک باشعور اورسعادتمند بیٹے کے حیثیت سے حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے باپ آذر کے ساتھ اختلاف و احترام الفاظِ قرآنی میں ملاحظہ فرمائیں ’’(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ “ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟ ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا ۔ ابّا جان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔ ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں” ۔ باپ نے کہا “ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا” ۔ابراہیمؑ نے کہا “سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔ میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا۔ (مریم ۴۲ تا ۴۹)
ایک جلیل القدر نبی اور شفیق باپ کی حیثیت سے حضرت ابراہیم ؑ دعا فرماتے ہیں’’اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو” ۔(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی۔ وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، “بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟” اُس نے کہا، “ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ ان شاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے” آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا ۔ اور ہم نے ندا دی کہ “اے ابراہیمؑ تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی” ۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا ۔ اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی ۔سلام ہے ابراہیمؑ پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ (الصافات ۱۰۰تا۱۱۰)۔
نمرودکی خوشنودی میں بیٹے ابراہیم ؑ کونذرِ آتش کرنےکاآزری منصوبہ ناکام کردیاگیا ۔ اس کے برعکس رضائے الٰہی کی خاطر اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کی ابراہیمی قربانی کو شرف قبولت حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑو اسماعیلؑ کی عظمت وعزیمت کوحیات جاودانی عطا فرمادی۔