کلام اللہ کی پیروی قابل رشک ! قاری عقیل الرحمان 

سہارنپور (احمد رضا) نماز جمعہ کے خاص موقع پر امام وخطیب جامع مسجد گھنٹہ گھر قاری عقیل ارحمان نے فرمایا کہ موجودحالات میں کلام اللہ اور نبی پاک ﷺ کی تعلیمات پر ہوبہو عمل کیا جانا اشد ضروری ہے اللہ کا کلام قوم کیلئے رحمت اور باعث سرفرازی ہے آپنے کہاکہ آپ حضرات کیلئے بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام عظیم کے سیکھنے سکھانے کیلئے قبول فرمایا ہمارے مدارس اور مساجد اسلام کے مضبو ط قلعے ہیں ،جن کی بقاء اور تحفظ کیلئے اللہ نے آپ کو دینی مدارس اور مساجد اسلامیہ سے جو ڑ پیدا فرمانیکا حکم ہے اللہ تعالی جس انسان سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں تو اس لئے اللہ تعالی نے تمام انسانوں میں سے چن کر آپ حضرات کا انتخاب فرمایا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے ،تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اسلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نیتوں کو درست رکھیں اور علم دین صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے حاصل کریں اللہ کے نبیؐ کا ارشاد ہے کہ علم دین کاحاصل کرنا ہرمسلمان عاقل بالغ مرد عورت پر فرض ہے آپ نیکہا کہ وقت کی قدرو قیمت اور اپنے اکابرین اور آلات علم کا ادب احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ علم بغیر عمل کے بے سود ہے اسلامی خطیب عقیل الرحمان نے حاضرین مجلس اور مدارس کے طلبہ کو تلقین کی کہ اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امور لا یعنی سے بچتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مصروف ہوکر اپنے مستقبل کو تابناک بنانا چاہئے انہوں نے مزید کہا ، جو طالب علم زمانہ طالب علمی میں گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کا علم انکو نفع پہنچاتا ہے ، اس کے بر خلاف گناہوں سے نہ بچنے والے اور دیگر امورِ دنیوی میں مشغول رہ کر علم حاصل کرنے و الے طالب علم کو انکا علم فائدہ نہیں پہونچاتا، امام شافعی ؒ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت اپنے استاذ امام وکیع ؒ سے کی تو انہوں نے گناہوں سے بچنے کی تلقین کی اور کہا کہ علم اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاسکتا انہوں نے طلبہ کو اسوہ رسول اور اسلامی شعائر کو اپنا نے پر زور دیا اور کہا کہ ہمارے اکابر کی عملی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے طلباء کو صوم صلوۃ کی پابندی اور سنت نبویؐ پر عمل کی تاکید کی اور کہا کہ بچپن سے جو طالب علم نمازوں اور سنتوں پر عمل پیرا رہیگا انشاء اللہ ساری زندگی اس پر عمل کرتا رہیگا اور جس نے بچپن میں ہی نمازوں میں سستی سنتوں سے اعراض کیا پھر آئندہ چل کر اسکو عمل کرنا بڑامشکل ہوگا!