لال قلعہ کی فصیل سے وعدوں کی پھلجھڑیاں، کیا یہ 2019 کے الیکشن کی تیاری ہے ؟:ڈاکٹر محمد منظور عالم

نئی دہلی ۔16اگست
لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ پانچواں خطاب بھی گذشتہ چار خطابات کی طرح حقائق کے خلاف اور چناوی جملوں پر مشتمل تھا ، انہوں نے یوم جمہوریہ جیسی تقریب کے موقع پر بھی عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے اور ناکامیوں کو کامیابی شمار کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی ۔انہوں نے اپنی تقریر میں گذشتہ سالوں کی طرح اس مرتبہ بھی وہی باتیں دہرائیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس طرح انہوں نے ہندوستان کی ایک سو تیس کڑور عوام سے بھدا مذاق کیا۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے اپنی تقریر میں خواتین کے تحفظ اور انہیں آگے بڑھانے کی بات کی ہے جبکہ گذشتہ چار سالوں میں خواتین کے خلاف کرائم میں 27 فیصد کا اضافہ ہواہے ۔ تعلیمی بجٹ کم کردیاگیاہے ۔نابالغ بچیوں کے ساتھ ریپ اور عصمت دری کے واقعات بڑھے ہیں اور مجرموں کے خلاف کاروائی نہیں ہورہی ہے ۔وزیر اعظم کا کہناتھاکہ اب زانیوں کو فوراپھانسی ہوجاتی ہے جبکہ ریپ کے مجرم اناﺅ کے ایم ایل اے سینگر اب تک ان کی پارٹی میں برقرار ہیں ۔کٹھوعہ عصمت دری واقعہ میں مجرموں کی حمایت کرنے ولے بی جے پی لیڈران کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے ۔ڈاکٹر منظور عالم نے لال قلعہ کی فصیل سے کی گئی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ بہتر ہوئی ہے ،ہندوستان ایک مہان ملک بن گیاہے جبکہ یہ سفید جھوٹ ہے ،جنتے بھی بین لاقوامی سروے آرہے ہیں سب میں یہی دیکھاجارہاہے کہ ہندوستان ،غربت ،تعلیم ،بے روزگاری ،خواتین کے خلاف جرائم اور اس جیسے دیگر امور کے حوالے سے بدترین ملک ہے یہاں کہ تک بنگلہ دیش ،نیپال اور پاکستان کی بھی صورت حال یہاں سے بہتر ہے ۔معاشی سطح پر بھی ملک زوال کا شکار ہے ۔تاریخ میں پہلی مرتبہ روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 70 سے پار ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ چارسالوں کا سب سے حساس مسئلہ ہجومی دہشت گردی اور ماب لنچگ ہے ۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر کوئی صاف بات نہیں کی اور نہ ہی ان گﺅ رکشکوں کے خلاف کسی طرح کی قانونی کاروئی کی بات کی جنہوں نے دسیوں بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ بنادیاہے ۔ جو لوگ قانون اور آئین کا خوف کھائے بغیر دن دہاڑے غنڈہ گردی اور قتل وگیر ی کررہے ہیں ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے تعجب کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ مسلم خواتین سے پی ایم کی یہ کیسی ہمدردی ہے!۔ انہیں نجیب کی ماں،اکبر کی بیوی اوراخلاق کی بیٹی کی کوئی فکر نہیں ہے جن کا گھڑا جڑ گیا ہے ،جن کی دنیا تباہ ہوگئی ہے ۔نہ ہی ان کے مجرموں اور قاتلوں کے خلاف اب تک کوئی قانونی کاروائی کی گئی ہے اور جو چیز خواتین کے پرسنل لاءمیں مداخلت پر مبنی ہے جس کی مسلم خواتین ہزاروں بار مذمت کرچکی ہیں اسی کے بارے میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم مسلم عورتوں کو ان کا حق دلوا کر رہیں گے ۔کیا مذکوہ مظلومین کی ماں ،بہن اور بیٹیاں مسلم خواتین نہیں ہیں؟۔ کیا ملک میں عصمت دری کے واقعات کا سلسلہ رک گیا ہے ؟ کیا گﺅ رکشکوں نے دہشت گردی اور غنڈ گردی بند کردی ہے ؟ کیا ریپسٹ اور دہشت گردوں کو سزا مل گئی ہے ؟ کیا سرحد پر ہمارے جوان شہید نہیں ہورہے ہیں ؟ کیا کسانوں ،غریبوں اور مزدوروں کو ان کے حقوق مل گئے ہیں ؟ کیا دلتوں کا استحصال اور قتل بند ہوگیا ہے ؟ ۔کیا اقلیتوں کی حق تلفی کا سلسلہ رک گیاہے ۔کیا مہنگائی کم ہوگئی ہے ؟ کیا ملک میں کرائم اور جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوگئی ہے ؟آخر اس ملک کی عوام سے کیوں جھوٹ بول رہے ہیں وزیر اعظم ؟ کیا چاہتے ہیں وہ ؟ ۔یہ 2014 نہیں بلکہ 2018 ہے ۔عوام کا سیاسی شعور پختہ ہوچکاہے ۔ہمارے وزیر اعظم کو اس خام خیالی میں بھی نہیں رہنا چاہیئے کہ عوام جھوٹ اور سچ میں فرق نہیں کرپارہے ہیں ۔انہیں یہ بھی اچھی طرح انداز ہوچکاہے کہ خوبصورت جملے بولنے والے کبھی وعدہ پوا نہیں کرتے ہیں ۔کسی کی تقریر سن کراب وہ ہر گز ووٹ نہیں کرنے والے ہیں ۔جس کا انتخاب انہوں نے 2014 میں کیاتھا وہ حکومت مکمل طو رپر ناکام ثابت ہوئی ہے ۔اب عوا میں اقتدار میں تبدیلی چاہتی ہے ۔نفرت اور تشدد کی سیاست کی جگہ امن او رمحبت چاہتی ہے ۔