روتی ،بلکتی اور تکتی یوم آزادی

مظفر احسن رحمانی

وہ گم سم اپنے اسکول کے کونے میں بیٹھا نہ
جانے کیا سوچ رہا تھا ، وہ بھی آج کے دن جس دن آزادی کے نام پر چھوٹے تو چھوٹے بڑے بھی آزادی کی گیت پر تھڑکتے رہتے ہیں ،ہرجا جشن کا اور خوشی کا ماحول رہتا ہے ،مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور سیو بنیاں کے لئے سب یہاں سے وہاں اور وہاں سے یہاں بھاگتے نظر آتے ہیں ، میں بہت دیر تک اس معصوم کو اس طرح بہت دیر سے سر جھکائے بیٹھا دیکھ کر حیران تھا اور سوچ رہا تھا کہ آخر اسے کس بات نے اس طرح خوشی کے دن بھی رہنے پر مجبور کیا ہوا ہے ،مجھے میری ضمیر نے ملامت کیا اور اس کے احوال سے واقف نہ ہونے پر کوسا ،دل میں خیال آیا کہ چل کر پوچھنا چاہئے اور پھر یہ بھی خیال گزرا کہ ہمیں اس سے کیا لینا نہ جانے کون ہے ؟کہاں کا ہے ؟ پھر ضمیر نے مجھے کہا کہ اگر تمہاری اولاد اس طرح غم زدہ ہوتی اور دنیا سے بے خبر ایک کونے میں بیٹھی ہوتی تو تم کیا کرتے ؟ اس خیال نے تو میرے پاوں کی زمین کو کھسکا دیا
آخر کار ہم اس چھوٹے معصوم بچے تک پہونچے، اسے ہمارے آنے کا پتہ تک نہ چلا ، میں نے اسے آواز لگائی تو اچانک آواز پر چونک اٹھا اس کا چہرہ دھوپ میں بہت دیر سے بیٹھے رہنے کی وجہ کر تمتمایا ہوا تھا ،بہت رونے کی وجہ کر اس کی آنکھیں سرخ ہونے کے ساتھ سوج بھی گئی تھی ،
میں نے اس سے لگاتار دوچار سوال کردیئے بیٹا کیانام ہے تمہارا؟ کہاں گھر ہے ؟اس طرح یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟کیا تمہیں یوم آزادی کی اس تقریب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے؟
اچانک ڈھیر سارے ان سوالات سے وہ پریشان ہوگیا اور جواب دیئے بغیر وہاں سے بچ نکل کر کھسکنے کی سوچنے لگا ،مجھے عجب لگا کہ آخر ہماری اس ہمدردی اور سوال کا کچھ تو جواب ہونا چاہئے ،میری تشویش بڑھی اور میں نے اس کے راز کو جاننے کی اب گویا ٹھان لیا ،اس کا ہاتھ تھاما اور وہیں قریب میں بنی ایک جھونپڑی نما ہوٹل تک لے گیا ایسا مجھے لگا کہ یہ بھوکا بھی ہے، اس سے جب میں نے کچھ کھانے کی گذارش کی تو وہ جھینپ سا گیا اور معذرت کرلی میں نے آخر اصرار کیا تو اس نے ہماری بات مان کر کچھ کھانے کی حامی بھرلی اس وقت میں نے کتنی خوشی محسوس کی ہوگی یہ آپ بھی محسوس کرسکتے ہیں ،خوشی اس بات پر تھی کہ ہم ایک ایسے بچے کا پیٹ بھر رہے ہیں جو نہ جانے کب سے بھوکا تھا ،کون ہے اور اس کا تعلق کس خاندان برادری اور مذہب سے ہے ، میں صرف انسانیت کی بنیاد پر اس سے ہمدردی کررہاتھا ،چونکہ انسانیت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوسکتا ہے اور ہمارے آقا جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دی ہے اور فرمایا کہ بھوکوں کو کھانا کھلاو، پیاسوں کو پانی پلاو، ننگے کو کپڑا پہناو اور یہی انسانیت کی بنیاد پر فرمایا ہے اس لئے ہماری جستجو بڑھی ہوئی تھی اور مجھے لگا کہ اسے کھانا کھلاکر ہم ثواب کے حقدار ہوجائنگے ، اس نے کھانا کھایا اور خوب جی بھر کر کھایا ،اب اس کو ایسا لگا کہ میں اس کا خیر خواہ ہوں تو وہ اس طرح گویا ہوا ،آپ بھی اس کی درد بھری باتوں کو سن قابو میں خود کو نہیں رکھ پائیں گے
میرا نام “محسن رضا “ہے ،میرے والد کا نام “امجدرضا” ہے یہیں قریب کے گاؤں میں ہمارا گھر ہے ،ہمارے والد گاؤں کی ہی مسجد میں امام ہیں جہاں سے انہیں ایک ہزار روپے خشک تنخواہ ملتی ہے اور ایک مکتب میں پڑھاتے تھے جہاں سے پانچ سو روپے ملتے تھے ،لیکن نماز اور تعلیم کے ساتھ متولی اور مہتمم صاحب کے گھر کا کام بھی کرنا پڑتا تھا اور روز ہی تقریبا کسی نہ کسی مصلی کی ڈانٹ پڑتی تھی ،جب والد صاحب رات کو گھر آتے تو والد کو غمزدہ پاکر والدہ پوچھتی کہ آپ کو کیا ہوگیا ؟اس طرح سست کیوں ہیں ؟ تو ہمیں یاد ہے کہ وہ ہنستے ہوئے کہتے”تم صرف ایک امجد رضا کی بیوی ہو اور میں مسجد میں آنے والے تمام مصلیوں کی بیوی ہوں ” اس لئے ہمارا اس طرح آزردہ خاطر رہنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ،میرے والد اور والدہ اس نوکری سے تنگ تھے ،ایک دن ایسا ہوا کہ ہمارے ہی گاؤں کے ایک سرکاری مدرسے میں ایک مولوی کے خالی عہدے کے لئے تقرری کا اعلان نکلا ،اس کے سکریٹری بدھو چچا (جو نرے جاہل مالدارہیں )نے والد صاحب سے کہا کہ مولی (مولوی)ساب (صاحب) اپنے مدرسے میں ایک سیٹ کھالی (خالی) ہے بھرتی ہونا ہے تو بولئے گا ، ہاں لیکن ایک سرت (شرط)ہے میٹھائی کھلانے کے لئے دولاکھ کم سے کم لگ جا ئے گا ،ای تو ہمرا ہوا (یہ توہمارا ہوا ) اس کے باد (بعد)جلع (ضلع )میں بھی کام کرانے کے لئے ایک لاکھ تو دینا ہی ہوگا ،تب کہیں جاکے پٹنہ بات جائیگا (جائیگی)وہاں دیکھ لیں گے چالیس پچاس ہزار سے کام چل جائیگا اور ہاں سن لیجئے کل تک جواب ہاں ،نہیں میں دینا ہوگا ،
چار لاکھ کی بات سن کرتو ہمارے والد صاحب کے ہوش اڑ گئے اور کہا کہ بدھو بھائی یہ تو رشوت ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ “رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہے” اس بات کے سنتے ہی بدھو چچا والد صاحب پر بھڑک گئے اور کہنے لگے یہ مسجد نہیں ہے جو تکریر (تقریر) سرو (شروع)کردیئے جائیے اگر کام کرنا ہے تو اتنا دینا ہی پڑے گا نہیں تو جائیے متولی کا جھولا ڈھوتے رہئیے ،اجت (عزت) کا (کی) روٹی کھانے کا رستہ (راست) بتلاتے ہیں تو بھاسن (بھاشن) کرتے ہیں
والد صاحب گھر دیر سے پہونچے تو والدہ نے تاخیر سے آنے کا سبب پوچھا ،تو والد صاحب نے تفصیلی بات والدہ سے بتادیا اور والدہ سے یہ بھی کہ دیا کہ ہم نے بدھو بھائی کو اس نوکری کے کرنے منع کردیا ہے لیکن والدہ نے بہت منت سماجت اور ہاتھ پاؤں جوڑ کر والد صاحب کو اس نوکری کے لئے منا لیا ،آخر صبح کو بدھو چچا سے والد صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم یہ نوکری کریں گے ،اس پر بدھو چچا نے کہا تو ٹھیک ہے پانچ دن کے اندر پیسہ جما (جمع ) کیجئے ،
والد صاحب کے پاس جمع پونجی تو تھی نہیں والدہ نے عقل دیا کہ ہمارے پاس بیٹی کو دینے کے لئے جو زیور جمع کررکھے ہیں اسے بیچ کر پیسہ دے دینگے حساب جوڑنے پر پتہ چلا کہ یہ تو ایک لاکھ بھی نہیں ہوگا ؛والدہ نے کہا کہ تو کیا ہوا کچھ ہی دن کی تو بات ہے گھر اور گھراری بیچ کر پیسہ دے دیتے ہیں اس کے بعد تنخواہ ملنے پر سب خرید لیا جائیگا ،والد صاحب بالکل تیار نہیں تھے لیکن والدہ کے اصرار کی وجہ وہ سب کرنا پڑا جس کی شریعت میں کہیں گنجائش نہیں ہے ، تین سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،سرکاری ملازمت کے نام پر رشوت تو روز ہی اس امید پر دینے ہوتے ہیں کہ کل ضرور تنخواہ مل جائیگی لیکن ہنوز انتظار ہے ،بیچے ہوئے زیور کا ،گھر اور گھراری کا ،بہن کی شادی کا ،سب کچھ کھونے کے ساتھ میں نے اپنی ماں کو بھی کھودیا جو اس صدمے سے دوسری دنیا کو سدھار گئیں
،کئی روز سے فاقہ ہے آج بہت خوش تھا کہ کہ آزادی کا جشن منانے ہم بھی اسکول کچھ کھاکر اور جھنڈا لے کر جائیں گے لیکن والد کے بہتے آنسو دیکھ کر لگا کہ چلو اب اسکول ہی چلتے ہیں ،
بہت دیر کردی معاف کیجئے گا ،شاید دل آپ کا بھی دکھا ہوگا ،دوڑ کر بھاگتے ہوئے اس بچے کو مجھ میں روکنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی
آنسو پوچھ لیں اب رونے کا وقت نہیں ہے اگر خوشی چاہتے ہیں تو کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور پھر شان سے کہیں “یوم آزادی “زندہ باد
مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
۱۵/اگست ۲۰۱۸
بروز بدھ
۷۹۹۱۱۳۵۳۸۹