آئیے ہم سب عہد کرتے ہیں حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی ۔ مظفر احسن رحمانی ( بہار)

زندگی رنگینیوں کامتلاشی رہا ہے ،اور اس رنگینی کی بقا کے لئے انسان ان حدوں کو بھی پار کرلیتا ہے جسے سوچ کر انسان گھن محسوس کرتا ہے ،لیکن ہائے ۔۔۔۔۔!اب تو ارمانوں کی بستی بسانا گویا ایک فطرت سی ہوتی جارہی ،لجانا اور حیا کی پاسداری گویا اب تو ایک قصہ پارینہ کی طرح ہے ،وہ قدم جو کبھی دہلیز سے باہر نکلنے کے نام پر کانپنے لگتی تھی لیکن اب تو حال یہ ہیکہ پاوں نے گویا پہیہ لگا لیاہو، صبح کیا ہوئی کہ پازیب کی جھنکار سے گلیاں جھنجھنانے لگتی ہیں ،ایسا لگتا ہے کہ گلیوں میں جھنجھنا بیچنے والا آگیا ہو ،
عورت اللہ تعالٰی کی عظیم ترین نعمت ہے ، اللہ نے اسے ماں بنایا تھا تاکہ ایک بہتر مستقبل کی تربیت کرسکے، اسے بیوی بناکر بھیجاتھا تاکہ اپنے ناموس کے محافظ کی خدمت بہتر طور پر کرسکے ،کسی کی بہن بنایا تاکہ بھائیوں کے ساتھ جھولا جھول سکے ،
لیکن آہ اب تو یہ قصہ پارینہ ہوچکا ہے ،مستقبل کا معمار ابھی بستر سے اٹھا بھی نہیں ہے کہ تربیت کرنے والی ماں پرس لئے کسی آفس، اسکول ،کل کارخانوں ،کی زینت بننے کیلئے رخت سفر باندھ چکی ہوتی ہے ، جہاں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا کھلونا بن جاتی ہے ، ابھی ناموس کا محافظ ٹھیک سے بیدار ہوکر برش بھی نہیں کرپاتا ہے کہ وہ دلہن بنی خراما خراما محفل دوستاں کی جانب روانہ ہوجاتی ہے ،جہاں بچوں اور شوہر کے خیال رکھنے کو وقت نہیں ہے تو وہاں ساس ،سسر اور دیور ونند کے لئے کہاں وقت میسر آتا ہے
افسوس اس بات پر کم ہے کہ حیا کی بیٹی بےحیائی کی سمت چل پڑی ہے ،زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ گھر ،سماج ،ساس ،سسر ،نندیں دیور،شوہر اور معصوم بچے تک اسے اب عیب کے بجائے ہنر گرداننے لگے ہیں ،
مسلم سماج کی تقریبا ۳۰/فیصد عورتیں اب آپ کو گھر کے آنگن کے بجائے ” بلاک”کے احاطے میں ،بی ،او ،اور ڈی،او ،کی آفس میں ،اسکول کے احاطے آنگن باڑی میں آفس کی کرسی پر ،کمپیوٹر کے سامنے
ملیں گی جہاں بے محابا اپنے غیر محرم رفقا کار کے ساتھ مل کر کام کرتی نظر آئیگی ،
جب کہ حیا اور پردہ ایمان کا ایک بڑا حصہ ہے آپ تصور کیجئے کہ ایک خاتون اپنے آفس میں ہوتے ہوئے کیسے غیر محرم مردوں سے پردہ کرپائیگی اور وہ کیا شکلیں ہوسکتی ہیں جو انہیں باحیا رکھ سکتی ہیں؟
اسلام نے “حیا “کو قیمتی پونجی بتایا ہے ،جب تک حیا ہے انسان باکردار زندگی گزارنے کی ضمانت دے سکتا ہے اور اگر” حیا ” ہی سماج کا دم توڑنے لگے تو پھر کسی بھی المناک حادثے کے وقوع پذیر ہونے پر افسوس اور ماتم کوئی معنی نہیں رکھتا ،اسی لئے تو کہا گیا ہے کہ “جب حیا زندگی کا ساتھ چھوڑ دے تو پھر جو من میں آئے کرے ”
انسانی دنیا کو حیا کا درس دینے والےپیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
حیا ایمان کا ایک بڑا حصہ ہے (سنن نسائی۵۰۲۱)
ہر مذہب کا کوئی نہ کوئی امتیازی وصف رہا ہے،اور اسلام کا امتیازی وصف حیا ہے (سنن ابن ماجہ ۴۱۸۱)
حیا کرنا ،خوشبو لگانا مسواک کرنا تمام انبیا کی متفقہ سنت ہے (ترمذی ۱۰۸۰)
بے حیائی جس چیز میں ہوگی اسے عیب دار بنادے گی جب کہ حیا جس چیز میں ہوگی اسے خوبصورت بنادے گی ، (ترمذی ۱۹۷۴)
ان احادیث کی روشنی میں ہمیں بحیثیت مسلمان اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم اپنی بیوی ،بہن ،بیٹی اور ماں سے جو بے محابا کام لیتے ہیں اس کی کس حد تک ہماری ضمیر ہمیں اجازت دیتی ہے ،
ایک سچ یہ بھی ہے کہ بیشتر خواتین گھٹن محسوس کرتی ہے اور نہیں چاہتے ہوئے بھی اپنے بڑوں کے خوف سے وہ کام کرنے پر مجبور ہے جسے وہ ہرگز نہیں کرنا چاہتی ہے ،
آئیے ہم سب عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنی خواتین کو گھر کی چہار دیواری میں رکھ کر اسے عزت دیں گے اور جو کام اللہ نے جن کے ذمہ کیا ہے وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کریں گے
ایڈیٹر بصیرت آن لائن

۱۱/اگست ۲۰۱۸
۷۹۹۱۱۳۵۲۸۹