اترپردیش: مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری سے مسلمانوں میں اشتعال

پرتاپ گڑھ ۔ 04 اگست 2018
آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے اترپردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع میں معذور سمیت تین بے قصور مسلم نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری کی شدید مخالفت کی ہے۔

ان بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری پرتاپ گڑھ ضلع کے تھانہ کندھئی کی پولیس کے ذریعہ کی گئی ہے۔

غیر قانونی طریقے سے ان نوجوانوں کو گرفتار کیے جانے اور پھر جیل بھیجے جانے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ و پولیس سپرنٹنڈنٹ کو میمورنڈم دے کر بے قصور نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرنے و پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

مذکورہ گرفتاری سے مقامی مسلمانوں میں شدید اشتعال ہے ۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ دیو رنجن ورما نے معذور سمیت تین مسلم نوجوانوں کے فرضی مڈبھیڑ و گرفتاری کے متعلقہ دریافت کرنے پر کہا کہ شکایت موصول ہوئی ہے ۔ مزید تحقیقات کرائیں گے ۔معاملہ فرضی ثابت ہونے پر ملزمان کو انصاف ملے گا اور گرفتار کرنے والی پولیس کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔

آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے ضلع صدر اسرار احمد کی قیادت ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ و پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کرکے دیے گئے میمورنڈم میں الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ کندھئی پولیس نے گزشتہ یکم اگست کی شام تقریباً سات بجے محمد عارف، اقرار احمد و محمد شریف کو گنئ ڈیہ چوراہا عیدگاہ کے پاس واقع چائے کی دوکان پر چائے پیتے وقت بغیر کسی جرم کے حراست میں لے کر 2 اگست کو فرضی پولیس مڈبھیڑ دکھا کر جرائم نمبر 18/272 دفعہ 307 تعزرات ہند کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا، جبکہ محمد عارف معذور ہے اس کا کوئی جرائم کا ریکارڈ بھی نہیں ہے ۔ تینوں نوجوان بالکل بے قصور ہیں۔ پولیس تعصب کی بنیاد پر ان مسلم نوجوانوں کو پھنسانے کی سازش کر رہی ہے ۔

وفد نے مطالبہ کیا ہے کہ بے قصوروں کو انصاف دلایا جائے و گرفتار کرنے والی پولیس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔ وفد نے کہا کہ اگر انصاف نہیں کیا جاتا تو انکی تنظیم سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہوگی ۔

وفد میں ظفرالحسن ایڈوکیٹ، شجاعت اللہ ایڈوکیٹ، نثار احمد، سلیم امام، انیس سمیت درجنوں افراد شامل تھے۔