جمعیۃ علماء کی بروقت مداخلت سے۹۲؍ سالہ مسلم شخص کی پیرول پر رہائی جئے پور ہائی کورٹ نے بیس دنوں کے لیئے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے،گلزار اعظمی

ممبئی ۲؍ اگست
۲۵؍ سالوں سے جیل میں مقید ۹۲؍ سالہ قیدی کو علاج و معالجہ کے لیئے ۲۰؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات آج جئے پور ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے جاری کیئے۔ جسٹس محمد رفیق اور جسٹس گوردن بھردار نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے داخل عرضداشت پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو فوراً جیل سے رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عمر قید کی سزا کاٹ رہے ڈاکٹر حبیب جن کی عمر ۹۲؍ سال سے تجاوز کرگئی ہے شدید بیماریوں میں مبتلا ہیں اور چلنے پھرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے وہ بستر مرگ پر پہنچ چکے ہیں،جمعیۃ علماء نے جئے پور ہائی کورٹ میں ملزم کی پیرول پر فوراً رہائی کے لیئے پٹیشن داخل کررکھی لیکن اس پر جیل حکام کی غفلت کی وجہ سے شنوائی عمل میں نہیں آرہی تھی جس کے بعد آج جمعیۃ علما ء کے وکلاء نسانت ویاس اور مجاہد احمد نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی گائڈلائن کے مطابق ٹاڈا مقدمہ کے ملزمین کو بھی پیرول ملنا چاہئے لیکن ریاستی حکومت ٹال مٹول کا مظاہرہ کررہی جس کی وجہ سے ملزم موت کے منہ میں پہنچ چکا ہے اور اگر عدالت کو ان کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو وہ جیل حکام کو حکم دے کہ وہ ملزم ڈاکٹر حبیب خان کوہائی کورٹ میں پیش کرے۔
دفاعی وکلاء نے عدالت سے کہاکہ جیل میں ملزم سے غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے جس کی شکایت حقوق انسانی کمیشن سے بھی کی گئی ہے ۔
دفاعی وکلاء کے دلائل کی سماعت کے بعد جئے پور ہائی کورٹ نے ڈاکٹر حبیب کو ۲۰؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے، ضرروی دستاویزات مکمل کرنے کے بعد ملزم کو جیل سے رہا کردیا جائے گا۔
آج کی عدالتی کارروائی کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے ممبئی میں کہا کہ انہیں خوشی ہیکہ بالآخیر ۲۵؍ سالوں کی جیل کے بعدڈاکٹر حبیب کو بیس دنوں کے لیئے پرول پر رہائی نصیب ہورہی ہے ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ماضی میں ڈاکٹر حبیب خان کو پیرول پر رہا نہیں کیئے جانے کی وجہ جیل حکام نے یہ بتائی تھی کہ ملزم کو اگر رہا کیا گیا تو امن میں خلل پیدا ہوگا اور ملزم فرار ہوجا ئے گا جب کہ حقیقت میں ملزم کی حالت ایسی ہیکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہے اور اس کی بینائی بھی کمزور ہوچکی لیکن جیل حکام مسلسل جھوٹ کا سہارا لیکر ملزم کی رہائی میں روڑے اٹکا رہے تھے لیکن آج جئے پور ہائی کورٹ نے ملزم کو رہا کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔
واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو سال میں 30 سے لیکر 90 دنوں تک پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر