سلسلہ وار گھر سنسار ایک کثیر تہذیبی بین الاقوامی ناول صدق و صفا (۴) حصہ اول ڈاکٹر سلیم خان

مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے

کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو

اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے

کہ اس میں صاحبانِ فکر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں (القرآن)

صدق و صفا کی آرزو اب کیا کرے کوئی

بند آگہی کا باب اگر ہو تو کیا کریں

(جمیل عثمان)

انتساب

میرے بیٹے اشرف اور بہو شمع

کے نام

جو میرے لیے

عصائے موسیٰ اور ید بیضاء کی طرح ہیں

ریوتی کی سازش

جیکب کے بچپن کا دوست وجئے اپنی اہلیہ کنگنا کے ساتھ پہلی مرتبہ سیر و تفریح کے لیے متحدہ عرب امارات آیا ہوا تھا۔ اس دوران اتفاق سے جیکب اور ثناء کے شادی کی سالگرہ بھی آ گئی۔ جیکب نے اس موقع پر امارات کے پر فضا مقام راس الخیمہ میں ایک زبردست تقریب کا اہتمام کیا اور اس میں البرٹ اور سوژان کو بھی شرکت کی دعوت دی۔

وجئے تو اپنے رکھ رکھاؤ میں پوری طرح انگریز بن چکا تھا مگر کنگنا اپنے لباس اور چال ڈھال میں خالص ہندوستانی تھی اس لیے ثنا پروین سے فوراً دوستی ہو گئی اور دونوں برسوں پرانی سہیلیوں کی طرح گھل مل گئیں۔

ثنا نے کنگنا سے پوچھا سنا ہے وجئے کئی مرتبہ امارات آنے کا پروگرام بنا کر ملتوی کر چکا ہے آخر اس بار تم نے اسے کیسے راضی کر لیا؟

کنگنا بولی در اصل وجئے کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا تھا اور اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ صدمے سے نکلنے کے لیے کسی اور ماحول میں جانا ضروری ہے۔ ہم دونوں کا تعلق ہندوستان اور سری لنکا سے ضرور ہے لیکن ہماری پیدائش برطانیہ کی ہے اور بچپن وہیں گذرا ہے۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے تو والدین ہمیں اپنے وطن لے جایا کرتے تھے لیکن جب بڑے ہوئے تو ان کا آنا جانا کم ہو چکا تھا اور ہمارا تو بند ہی ہو گیا۔ کبھی کسی ایمرجنسی کے سبب انہیں جانا بھی پڑتا تو ہمیں چھوڑ جاتے بلکہ ہاسٹل میں تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کب گئے اور کب آئے؟

ایمرجنسی کا مطلب میں نہیں سمجھی؟

وہی ناگزیر صورتحال کسی کی بیماری یا سگائی اور کسی کی موت یا شادی وغیرہ

تم بیماری کے ساتھ موت اور سگائی کے ساتھ شادی بھی تو بول سکتی تھیں؟

ہاں لیکن ترتیب سے کیا فرق پڑتا ہے ویسے بھی سگائی کے بعد انسان مرض الموت میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔

بہت خوب اور شادی کے بعد اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آخر انسان برضا و رغبت اس بیماری کو پالتا کیوں ہے؟

تاکہ اس کی من مانی مراد یعنی اپنی پسند کی موت نصیب ہو جائے۔

لیکن کنگنا انسان مرنا نہیں چاہتا اس کے باوجود موت کو کیوں خوشی خوشی گلے لگاتا ہے؟

در اصل یہ ایک ایسی موت ہے بہن کہ اس پر سو زندگی قربان ہے۔ اس کا اندازہ مجھے اپنے ساس سسر کی وفات سے ہوا۔

کیا ان کے انتقال سے تم نے زندگی کا یہ اہم سبق سیکھا؟

جی ہاں اور ان کی موت نے ہی وجئے کا نروس بریک ڈاؤن کر دیا۔

اچھا تو کیا وہ اپنے والدین سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا؟

جی نہیں اس نے اپنے والدین کو پوری طرح نظر انداز کر رکھا تھا۔ جب تک حیات تھے ان کی کوئی قدر نہیں کی لیکن جب گزر گئے تو وہ صدمے کے گہرے سمندر میں ایسا ڈوبا کہ ابھرنا مشکل ہو گیا۔ میں بھی طرح طرح کے اندیشوں میں مبتلا ہو گئی لیکن خدا شکر ہے کہ وہ آج زندہ اور صحتمند ہے ورنہ تو میرا جہان اجڑ جاتا۔

ثنا پروین کو کنگنا اور وجئے کی محبت پر رشک آ گیا وہ بولی وجئے کتنا خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسی جان چھڑکنے والی شریک حیات مل گئی۔

لیکن کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں ایسی نہیں تھی۔ ویسے تو ہماری شادی کو کئی سال گذر گئے اور ہم ساتھ بھی رہے لیکن جب مجھے وجئے نے اپنے والدین کی داستانِ حیات سنائی تو میرا دل دہل گیا اور میں بھی ٹوٹ کر محبت کرنے لگی۔

لیکن یہ ہوا کیسے؟

اسپتال سے جب وجئے واپس آ گیا تو میں نے اس کی پریشانی کاسبب پوچھا اور اس نے اپنی محرومی کہانی یعنی والدین کی آپ بیتی سنادی۔ اس دوران وجئے کئی بار بار رویا اور میں بھی اس کے ساتھ زار و قطار روتی رہی۔ جب یہ داستان ختم ہوئی تو میرے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔

اگر ایسا ہے تمہیں وہ داستان مجھے اور سوژان کو بھی سنانی ہو گی۔

لیکن ممکن ہے اس چینی عورت کو اس میں دلچسپی نہ ہو؟

وہ چینی نہیں فلپینی ہے اور میں ہندی ہوں۔ ہماری جنس پہلے اور قوم بعد میں آتی ہے۔ ساری دنیا کی خواتین یکساں دلچسپیوں کی حامل ہوتی ہیں۔ ویسے کل یہ مرد حضرات مچھلی مارنے جا رہے ہیں۔ ہمارا کام ان کی واپسی کے بعد شروع ہو گا اور وہ لوگ جب جھک مار رہے ہوں گے ہم تمہارے ساس سسر کی سوانح حیات سنیں گے۔ دوسرے دن جب البرٹ، ڈیوڈ اور وجئے اپنی مہم پر نکل گئے تو یہ تینوں سہیلیاں ایک جگہ جمع ہو گئیں اور سوژان بولی کنگنا اب تم شروع ہو جاؤ۔ مجھے نانے تمہاری کل کی گفتگو سے آگاہ کر دیا ہے اور یقین کرو کہ میں اس کہانی کو جاننے کے لیے بہت زیادہ مشتاق ہوں۔

کنگنا بولی شکریہ در اصل میرے خسر کمارسنگے اپنی نوجوانی کے زمانے میں ایک سبزی کی دوکان پر کام کرتے تھے۔ سبزی کی دوکان راجن نامی ایک ملباری کی تھی۔ راجن جب خوشحال ہوا تو اس نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بھی برطانیہ بلوا لیا۔ اب اسے ایک گھریلو ملازم کی ضرورت تھی لیکن لندن میں گھریلو ملازم رکھنا عام آدمی کے بس کا روگ نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ اس لئے راجن نے اپنی بیوی ریوتی کے مشورے سے ایک نئی ترکیب نکالی۔

کمار سنگے دن بھر دوکان میں کام کرتا اور رات میں اسی کے خستہ حال عقب میں سو جاتا تھا۔ کمار اپنے ایک دوست کے کہنے پر کسی طرح زائر کا ویزا لگا کر برطانیہ پہنچا تھا اور غیر قانونی طور پر وہاں رہائش پذیر تھا۔ راجن کو اس کی مجبوری کو احساس تھا اس لئے وہ خوب جم کر استحصال کرتا تھا۔

کمار جب بھی راجن کے گھر سبزی پہچانے جاتا دروازے سے ریوتی سامان لے کر اسے لوٹا دیتی تھی اندر جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ ایک دن کمار کو راجن نے اپنے گھر بلایا اور اس بار جب کمار نے دروازے پر دستک دی تو ریوتی نے دروازہ کھولا اور اسے اندر آ کر بیٹھنے کیلئے کہا۔ کمار کیلئے یہ حیرت کا جھٹکا تھا۔ وہ دیوان خانے میں ایک طرف دبک کر بیٹھ گیا۔ ریوتی نے چائے کی ایک پیالی اسے تھماتے ہوئے کہا راجن ابھی آ رہا ہے اور اندر چلی گئی۔

کمار کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس عنایت خاص کی وجہ کیا ہے۔ وہ چائے کی پیالی کو ہاتھ میں لئے بے حس و حرکت خلاء میں گھور رہا تھا کہ راجن کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ کیوں کمار کیا سوچ رہے ہو؟ چائے ٹھنڈی کر کے پیتے ہو کیا؟

راجن بولا جی نہیں جناب ۰۰۰۰۰۰۰۰ چائے؟ چائے ۰۰۰۰۰۰۰۰میں ۰۰۰۰۰۰نہیں ۰۰۰۰۰۰ پتہ؟

راجن مسکرا کر بولا عجیب بات ہے؟ تم سری لنکن لوگ ساری دنیا کو چائے پلاتے ہو اور خود نہیں پیتے؟ یہ تو غلط بات ہے۔

کمار نے کہا جی نہیں جناب۔ کولمبو میں جب میں رہتا تھا تو خوب چائے پیتا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد میں نے چائے پینا چھوڑ دی ہے۔

راجن نے پوچھا کیوں بھئی یہاں کی چائے تمہیں پسند نہیں ہے کیا؟

ایسی بات بھی نہیں ہے جناب چائے تو وہی ہے جو سری لنکا میں ہوتی تھی اور چینی اور دودھ میں کوئی فرق نہیں ہے مگر۰۰۰۰۰۰۰۰

راجن نے پوچھا مگر کیا؟ جب سب وہی ہے تو رکاوٹ کیا ہے؟

کمار کچھ دیر خاموش رہا اور پھر بولا اس کی قیمت ہے۔ ہم لوگ جس قیمت میں اسے سری لنکا میں بیچتے ہیں اس سے کچھ زیادہ قیمت میں وہاں خرید کر استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد تو وہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

راجن بولا لیکن یہاں آمدنی بھی تو روپیوں کے بجائے پاؤنڈ ہوتی ہے؟ ایک پاؤنڈ کے ڈیڑھ سو سری لنکن روپئے بنتے ہیں۔

کمار نے کہا وہ تو درست ہے صاحب لیکن ہم جیسوں کو کتنے پاؤنڈ ملتے ہیں اور اس میں سے بچا کر اپنے گھر والوں کو بھی تو بھیجنا پڑتا ہے۔

راجن نے پوچھا تمہارے گھر میں کون کون ہے؟

ایک بوڑھی ماں ہے اور ایک بیوی۰۰۰۰۰۰۰۰

بال بچے نہیں ہیں تمہارے؟

ایک بچہ ہے وجئے جسے چار مہینے کا چھوڑ کر میں یہاں آ گیا تھا اب دو سال کا ہو گیا ہے۔ اس کی شکل دیکھنے کوترس رہا ہوں۔

تم نے اپنے گھر والوں کو یہاں بلانے کا نہیں سوچا؟

کمار پہلی بار راجن کے سامنے مسکرایا اور بولا جناب آپ تو جانتے ہیں کہ میرے ویزے کی مدت ایک سال پہلے ختم ہو چکی ہے۔ میں خود یہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہوں نہ جانے کب پولس مجھے گرفتار کر کے واپس بھیج دے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ۰۰۰۰

اور اگر میں تمہارا کفیل بن کر تمہارے نام باقاعدہ ویزا نکلوا دوں تو؟

کمار ہنس کر بولا میں پاگل ہو جاؤں گا۔

یہ کیا بات ہوئی؟ میں سمجھا نہیں۔

جناب آپ نے نہیں سنا کہ لوگ خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں؟ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہو جائے گا۔

میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ تمہارے کام اور ایمانداری سے میں بہت خوش ہوں اس لئے سوچتا ہوں کہ تمہیں باقاعدہ اپنی دوکان کے ویزے پر بلوا لوں لیکن میری ایک شرط ہے؟

کمار مسکرا کر بولا مجھے پتہ ہے صاحب! میں جانتا ہوں؟

راجن کے حیرت کی انتہا نہیں رہی اس نے سوچا کہیں بے وقوف ریوتی نے اسے سارا منصوبہ بتا تو نہیں دیا لیکن ریوتی ایسا نہیں کر سکتی۔ وہ اس کی نہایت فرمانبردار اور وفا شعار بیوی جو تھی۔ اس نے سوال کیا تم کیسے جانتے ہو کمار۔ تم کہیں نجومی تو نہیں ہو؟

یہ جاننے کیلئے کسی کو جیوتش ودیّا کی کیا ضرورت؟ مجھے پتہ ہے آپ میرے ساتھ دل لگی کر رہے ہیں۔ آپ ایک ایسی شرط لگائیں گے جسے میں پورا نہیں کر سکوں گا اور پھر اسی حالت میں رہوں گا۔ گھٹ گھٹ کر جیوں گا۔ ایک دن چپ چاپ مر جاؤں گا۔

راجن نے سکون کا سانس لے کر پوچھا تم ایسا کیوں سوچتے ہو کمار؟

اس لئے کہ اس میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور آپ جیسا سمجھدار آدمی کوئی بے سود کام کر ہی نہیں سکتا بلکہ اس میں آپ کا سیدھا سیدھا نقصان ہے اور اپنا بلاوجہ نقصان بھلا کون کرتا ہے؟

سوال فائدے یا نقصان کا نہیں انسانی ہمدردی کا ہے۔

لیکن جناب شرائط و ضوابط تو تجارت میں ہوتے ہیں انسانیت میں نہیں۔

راجن نے سوچا یہ کمار ایسا احمق بھی نہیں کہ جیسا وہ خیال کرتا تھا۔ اس نے محتاط ہو کر کہا دیکھو کمار میں نے اپنی پیشکش کر دی اب تمہاری مرضی؟

کمار کی چائے ختم ہو چکی تھی وہ شکریہ ادا کر کے دروازے کی جانب بڑھا لیکن پھر اسے راجن کی شرط والی بات یاد آ گئی۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو راجن اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ واپس آ گیا اور بولا جناب وہ آپ کی شرط؟

بیٹھ جاؤ کمار! میری شرط یہ ہے کہ تم اپنی اہلیہ اور بچے کو بھی یہاں بلاؤ گے؟

کمار بولا مجھے پتہ تھا صاحب مجھے پتہ تھا۔ مجھ جیسا مزدور آدمی جس کے اپنے رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہے وہ اپنے بیوی بچوں کو بلا کر کہاں رکھے گا؟ میں سمجھ گیا نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔

راجن بولا دیکھو کمار اس مسئلہ پر میں نے ریوتی سے بات کر لی ہے جب تمہاری بیوی یہاں آ جائے گی تو وہ اس گھر کے عقب میں موجود ملازمین کے کوٹھری میں رہے گی۔ تم دونوں عارضی طور پر وہیں ٹک جانا پھر اس کے بعد تمہاری قسمت۔

لیکن خاندان کے ساتھ اخراجات بھی تو بڑھ جائیں گے؟

کمار تم یہ نہ بھولو کہ تمہاری بیوی چندریکا ایک منہ مگر دو ہاتھ لے کر آئے گی۔ جس طرح تم میری مدد کرتے ہو وہ ریوتی کا تعاون کرے گی اور آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔ کمار یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ راجن نے بات آگے بڑھائی اب کیا سوچ رہے ہو کمار؟

میں اپنی ماں کے بارے میں سوچ رہا ہوں؟ میرے علاوہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اگر چندریکا بھی یہاں آ جائے گی تو اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ اس عمر میں اس کا کیا ہو گا؟

راجن نے سوچا آسمان سے گرا تو کھجور میں اٹکا۔ وہ بولا دیکھو کمار تم تو جانتے ہی ہو یہاں رہائش سب سے بڑا خرچ ہے۔ میرے اس چھوٹے سے گھر میں تین لوگوں کی گنجائش نہیں ہے اور پھر تمہارا بیٹا بھی دیکھتے دیکھتے بڑا ہو جائے گا۔ تم ایسا کرو کہ اپنی بیوی اور ماں سے بات کر کے دیکھو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دونوں تیار ہو جائیں گے اور کوئی متبادل انتظام بھی ہو جائے گا۔

مجھے نہیں لگتا۔ یہ بہت مشکل ہے۔

بہر حال تم بات تو کر کے دیکھو اس میں حرج کیا ہے؟

میں سوچوں گا۔ یہ کہہ کر کمار لوٹ آیا لیکن وہ اپنے آپ کو اس سنگدلی کیلئے تیار نہیں کر پایا۔ اس نے اپنی بیوی کو اپنے پاس بلانے کا خیال دل سے نکال دیا۔ ایک دن جب راجن نے استفسار کیا تو وہ بولا جناب میں نے آپ سے کہا تھا یہ مشکل ہے۔ اپنی ماں کی خدمت نہ کرنے کا قلق ویسے ہی میرے لئے سوہانِ جان ہے۔ ریوتی اس احساسِ جرم میں کسی قدر کمی کر دیتی ہے۔ میں اس میں مزید اضافہ نہیں چاہتا۔

راجن کو کمار کے رویہ پر حیرت تھی اس لئے کہ وہ دنیا کے سارے لوگوں کو اپنی مانند خودغرض سمجھتا تھا۔ راجن کے نزدیک یہ سراسر حماقت تھی اس کے باوجود منافقانہ ہمدردی جتاتے ہوئے وہ بولا راجو میں تمہاری مشکل سمجھتا ہوں۔ اس لئے کہ میں بھی تمہاری طرح اپنے والدین کو چھوڑ کر کسی زمانے میں لندن آیا تھا۔ اگر تمہیں بات کرنے میں کوئی دقت ہو تو اور تم مناسب سمجھو تو اپنی اہلیہ کا فون نمبر مجھے دے دو۔

(چونک کر) آپ اس نمبر کو لے کر کیا کریں گے؟

میں وہ نمبر ریوتی کو دے دوں گا۔ یہ اسی کی تجویز ہے۔ وہ تمہاری اہلیہ اور والدہ دونوں سے بات کر کے انہیں سمجھائے گی اور مجھے یقین ہے کہ کامیاب ہو جائے گی۔

اس یقین کی وجہ؟

در اصل بات یہ ہے کہ عورتوں کو کوئی بات سمجھانا ہم جیسے مردوں کے بس کا روگ نہیں۔ ہم جب انہیں کوئی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو الٹا وہ ہمیں اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں لیکن میرا طویل تجربہ شاہد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بہ آسانی سمجھا لیتی ہیں۔ اس لئے ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کیا حرج ہے؟

لیکن اگر خدا نخواستہ بات بگڑ جائے تو کیا ہو گا؟ میں اپنی ماں کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ میری روزی روٹی کا یہ سلسلہ میری ماں کی دعاؤں کی بدولت ہے اور جس دن وہ ناراض ہو جائے گی سارا کچھ برباد ہو جائے گا۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں لیکن اس میں خطرہ بہت کم ہے۔ اگر کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو اپنی ماں سے کہہ دینا کہ ریوتی نے اپنے طور پر بات چلا دی اور تم خود اس سے اتفاق نہیں کرتے، تم اپنی ماں کے سامنے ریوتی کو برا بھلا کہو گے تو اس بڑھیا کا غصہ کافور ہو جائے گا اس لئے ایک کوشش کر کے دیکھ لینے میں حرج نہیں ہے۔

راجن کمار کو اپنی مکاری کے دام میں پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ ریوتی نے بڑی آسانی سے کمار کی ماں کو اس کی اولاد کے روشن مستقبل کی دہائی دے کر راضی کر لیا۔ وہ چندریکا اور وجئے کو لندن روانہ کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ کمار کو کچھ کرنا ہی نہیں پڑا۔ اس کی ماں نے الٹا کمار کو تجویز پر پس و پیش کیلئے ڈانٹا اور اپنے ایک غریب بھانجے کو گود لے لیا۔ کمار اپنی ماں کے طفیل اس کا سر پرست بن گیا۔ اس فیصلے سے نہ صرف کمار کی ماں کو ایک سہارا مل گیا بلکہ اس کے بھانجے کیلئے بھی تعلیم کا بندوبست ہو گیا۔

کمار کی خالہ کو یقین تھا کہ اب بہن کے گھر کا وارث اس کا بیٹا ہی ہو گا اس لئے کہ کمار تو لوٹ کر آئے گا نہیں اور اگر کمار اس خدمت کے عوض بہن کی موت کے بعد اس کے بیٹے کو لندن بلوا لے تو تب تو سونے پر سہاگہ۔

٭٭٭

ونود کا افسانہ

راجن اور ریوتی کی سازش کامیاب رہی۔ چندریکا کی شکل میں انہیں گھر کے اندر کام کرنے والی ایک نہایت سستی ملازمہ میسر آ گئی لیکن چندریکا کے طفیل اسی کے شوہر کمار کا ویزا بن گیا اور بیٹے راجن کی تعلیم کا انتظام ہو گیا۔ چندریکا چونکہ ریوتی کی بہت احسانمند تھی اس لئے دل لگا کر خدمت کرتی تھی۔ وہ بیچاری نہیں جانتی کہ اس کا کس پیمانے پر استحصال ہو رہا ہے۔

راجن نے کمار اور چندریکا کے ساتھ جو کیا سو کیا لیکن ان کے بیٹے وجئے کے حق میں ایک بہترین فیصلہ کر دیا۔ اس نے وجئے کا داخلہ اپنے بیٹے سنجے کے اسکول میں کروا دیا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھانے کیلئے وجئے کی فیس بھی کمار کی تنخواہ میں شمار کیا کرتا تھا لیکن اس نے یہ راز کمار یا چندریکا پر افشاء نہیں کیا تھا۔ گردشِ ایام نے راجن، ریوتی، کمار اور چندریکا کو بوڑھا کر دیا۔ وجئے اور سنجے جوان ہو گئے۔ گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر کمار کو اس کی ماں کے موت اطلاع بہت تاخیر سے دی گئی۔ کمار کے لیے اب سری لنکا آنے کی نہ کوئی وجہ تھی اور نہ ضرورت۔ صبر کا گھونٹ پی کر اس نے اپنا گھر خالہ کو ہبہ کر دیا۔

تعلیم کے میدان میں وجئے کو سنجے پر واضح فوقیت حاصل تھی۔ اسے بہت جلد اسکول میں وظیفہ ملنے لگا جس سے راجن کا بوجھ ہلکا ہو گیا اور اس نے کمار کی تنخواہ میں معمولی اضافہ کر دیا۔ اسکول کے بعد وجئے کو امتیازی کامیابی کے سبب انجینیرنگ کالج میں داخلہ مل گیا اور سنجے اپنے باپ کا کاروبار سنبھال کر اسے ترقی دینے لگا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی دوکان کا نام راجن ویجن سے بدل کر فریش اینڈ مور رکھ دیا۔

اس علاقہ میں چونکہ غیر انگریز آباد تھے اس لئے دوکان کے نام کا ترجمہ پہلے اردو اور ہندی میں ’’تازہ اور زیادہ ‘‘ کیا لیکن آگے چل ہر ایشیائی زبان میں وہ نام مشہور ہو گیا۔ اس دوکان پر چینی و کوریائی زبان میں بھی نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔ اس طرح راجن کے زمانے دوکان سے دور رہنے والے لوگ بھی قریب آ گئے تھے۔

سنجے نے دوکان میں سبزی کے ساتھ پھلوں کا اضافہ کر دیا۔ ہر موسم کے خاص پھل وہ ہند و پاک سے براہِ راست منگوانے لگا۔ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے بھانت بھانت کے آم کی قسموں نے تو ہنگامہ مچا دیا۔ سنجے ان کامیابیوں سے مطمئن ہو کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے اپنے پڑوس والی جوتے کی دوکان کرائے پر لے کر اس میں فریش اینڈ مور کے نام سے مچھلی کو دوکان کھول دی۔ وہ دوکان مچھلی کے بڑے بڑے سردخانوں اور کاٹنے و صفائی کے جدید آلات سے آراستہ تھی۔ بیچنے والے کے تن پر سفید صاف ستھرا یونیفارم، سر پر ٹوپی اور ہاتھوں میں دستانے ہوتے تھے۔ فریش اینڈ مور بہت جلد حفظانِ صحت کیلئے مشہور ہو گئی۔ وہ اعلیٰ درجے کے متوسط طبقے کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

اول تو دوکان کا نام بدل جانا راجن کو گراں گذرا تھا۔ برسوں سے قائم کئے گئے تشخص کا یکسر مٹ جانا اس کو ناگوار تھا لیکن ریوتی کے سمجھانے بجھانے پر اس نے وہ صدمہ برداشت کر لیا۔ مچھلی والے معاملے میں ریوتی خود بھی سنجے سے ناراض ہو گئی۔ ریوتی تمل ناڈو کی اینگر براہمن تھی۔ اس نے راجن سے اس شرط پر شادی کی تھی کہ زندگی بھر اس کے باورچی خانے میں گوشت مچھلی کا گزر نہیں ہو گا۔ راجن کو گھر کے باہر اپنی مرضی سے کھانے پینے کی اجازت تھی لیکن وہ احمق ریوتی کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ باہر بھی گوشت اور مچھلی کو چھونے سے توبہ کر لی۔ وقت کے ساتھ راجن بھی اینگر جیسا بن چکا تھا۔

راجن نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے اس نے سنجے سے الگ ہو کر پاس کے محلے میں پھر سے راجن ویجن نامی سبزی کی دوکان کھول لی اور کمار کو اپنے ساتھ لے گیا۔ زمانے کی گردش نے اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کر لیا تھا۔ کسی زمانے میں راجن نے ایک پرانی دوکان کرائے پر لے کر نیا کاروبار شروع کیا تھا اور اب اس نے ایک نئی دوکان کرائے پرلے کر پرانے کاروبار کا آغاز نو کیا۔ اس وقت بھی راجن کے ساتھ کمار تھا اس وقت بھی وہ دونوں ایک ساتھ تھے لیکن اس دوران تھیمس ندی کے اندر بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔ جو پانی بہہ گیا تھا وہ لوٹ کر نہیں آ سکتا تھا اسی طرح عمر کا جو حصہ ان لوگوں نے گزار دیا تھا اس کا واپس آنا نا ممکن تھا۔ راجن اور کمار اس صورتحال سے خوش نہیں تھے لیکن مجبور تھے۔ زندگی کی کشتی کو آگے بڑھانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔ وہ دونوں وقت کے دھارے پر بے یار و مدد گار تنکوں کی مانند بہے جا رہے تھے۔

سنجے اور اجئے کی کیفیت اپنے والدین سے یکسر مختلف بلکہ متضاد تھی۔ وہ دونوں وقت کے دھارے کے ساتھ نبرد آزما تھے اس کی سمت اور رفتار کو اپنے قابو میں کرنا چاہتے تھے۔ سنجے کیلئے پرانی ساخت کا کمار بے مصرف تھا اس کے باوجود اس کو ملازمت سے نکالنے کی اخلاقی جرأت اس کے اندر نہیں تھی۔ سنجے کو کمار کے راجن کے ساتھ چلے جانے کا ذرہ برابر قلق نہیں تھا بلکہ خوشی تھی کہ کمار سے چھٹکارہ مل گیا۔

بچپن سے سنجے نے کمار کو اپنے گھر کے فرد کی طرح دیکھا تھا۔ سنجے نے جتنا وقت ریوتی کی گود میں گزارہ تھا اس سے کم وقت چندریکا کے پہلو میں نہیں گزارہ تھا۔ وجئے اور سنجے دونوں ریوتی اور چندریکا کو ممی کہہ کر پکارتے تھے۔ ویسے راجن اور کمار کو وہ پاپا یا انکل کہتے تھے۔ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا۔ فریش مور کے ساتھ وجئے بھی تعلیم ختم کر کے مائکرو سوفٹ کی لندن شاخ کا ایک ہونہار انجینیر بن چکا تھا۔

وجئے کا منیجر پنجاب کے رہنے والے ونود کھنہ تھے۔ ان کی بیٹی کنگنا کھنہ کالج میں وجئے کے ساتھ پڑھتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان ملک و قوم اور زبان و تہذیب کا فرق ضرور تھا مگر مزاج میں بلا کی یکسانیت تھی۔ کنگنا کی سفارش پر ونود کھنہ نے وجئے کو ملازمت پر رکھا تھا۔ ونود کھنہ کی خصوصی توجہ اور اپنی محنت و جانفشانی کے ساتھ بہت جلد وجئے کا شمار کمپنی کے سب سے ہونہار ملازمین میں ہونے لگا۔ ونود کھنہ اس کو ایسے اہداف دیتا جو سہل الحصول ہوتے اور پھر اس کی کامیابیوں کا خوب چرچا اور تشہیر ہوتی۔ اس حکمت عملی کے سبب وجئے بڑی تیزی کے ساتھ اپنے ہمعصروں کو پچھاڑتا ہوا ترقی کی منازل طے کر رہا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ پروجکٹ منیجر کے عہدے پر فائز ہو گیا۔

ایک دن کھنہ صاحب نے وجئے کو اپنے کمرے میں بلایا۔ وجئے نے سوچا کہ شاید کسی نئے پروجکٹ کے سلسلے میں یاد فرمائی ہوئی ہے لیکن جب کھنہ صاحب نے کہا وجئے ذرا دروازہ بند کر دو تو وہ چونک پڑا اس لئے کہ کھنہ صاحب کھلے دربار کے قائل تھے۔ ان کے دفتر میں آنے سے لے کر واپس جانے تک دروازے کو بند ہونا نصیب نہ ہوتا تھا۔ ان سے ملنے کے خواہشمند لوگ جب دیکھتے کہ وہ کسی کے ساتھ بات کر رہے ہیں تو از خود لوٹ جاتے بلکہ اگر کوئی نہایت ضروری کام ہوتا تو درمیان میں ہی معذرت طلب کر کے خلل بھی ڈال دیتے تھے۔ کھنہ صاحب ان باتوں کا برا نہیں مانتے تھے۔

دروازے کو بند کرتے ہوئے وجئے نے دفتر پر نظر دالی تو اکثر و بیشتر لوگ جا چکے تھے۔ دوچار لوگ اپنی میز پر جلدی جلدی کام نمٹا رہے تھے تاکہ رفو چکر ہو سکیں۔

کھنہ کے سامنے بیٹھ کر وجئے بولا فرمائیے؟ آپ نے آج بڑی تاخیر سے یاد کیا؟

جی ہاں ایک تاخیر سے متعلق گفتگو کرنی تھی اس لئے اس وقت کا انتخاب کیا۔

وجئے اپنے سارے کاموں کا جائزہ لینے لگا۔ اتفاق سے اس کے سارے کام قابو کے اندر تھے یعنی مدت عمل میں پورے ہو رہے تھے بلکہ ان میں سے کچھ کے قبل از وقت پورا ہو جانے کا امکان تھا۔ دو روز پہلے وہ اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں اہداف کا جائزہ پیش کر چکا تھا اور اس پر کوئی منفی تبصرہ موصول نہیں ہوا تھا۔ سارے متعلقین اس کی رفتار کار سے مطمئن تھے۔ وجئے نے سوال کیا آپ کا مطلب میں نہیں سمجھا؟

کھنہ صاحب بولے وجئے تم اپنے سارے کام تو اپنے وقت پر کر دیتے ہو لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایک اہم کام کو بلاوجہ متاخر کر رہے ہو۔

کس اہم کام کی بات آپ کر رہے ہیں؟

کھنہ صاحب بولے دیکھو وجئے میں کنگنا کے پہلے جنم دن کے ایک ہفتہ بعد پروجکٹ منیجر بنا تھا جبکہ تمہیں پروجکٹ منیجر بننے کے بعد ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود۰۰۰تم سمجھ رہے ہو کہ۰۰۰۰۰۰۰ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔

کھنہ صاحب نے بڑی حکمت کے ساتھ شادی اور کنگنا دونوں کا ذکر ایک ساتھ کر دیا تھا حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ ونود کھنہ کو وجئے کی مانند کوئی گاڈ فادر میسر نہیں آیا تھا۔ جس وقت اسے پروجکٹ منیجر کا عہدہ ملا تھا کنگنا پانچویں کلاس کا امتحان دے چکی تھی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا تھا یہ پرانے وقتوں کی باتیں تھیں۔ کسی کے پاس نہ اس کی تحقیق و تفتیش کیلئے فرصت تھی اور نہ ضرورت خیر۔

وجئے نے اپنے آپ کو سنبھال کر کہا جی ہاں کھنہ صاحب آپ کی بات درست ہے لیکن شادی کیلئے صرف ملازمت اور عہدہ ہی تو کافی نہیں ہے۔

جی ہاں مجھے پتہ ہے سب سے زیادہ اہمیت زوج کی ہوتی ہے۔ کیا تم نے اس بابت کوئی پیش قدمی نہیں کی؟

وجئے کو کنگنا نے تو یہ بتا رکھا تھا کہ کھنہ صاحب کو ان کے بیاہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے پھر بھی وہ کنگنا کا نام اپنی زبان پر لانے کی جرأت نہیں کر سکا۔ بات بنانے کیلئے بولا کھنہ صاحب آپ کی بات درست ہے شادی تو زن و شو کے رشتے سے ہو جاتی ہے لیکن پھر ان لوگوں کو ساتھ رہنے کیلئے ایک گھر کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ لندن میں گھر کا مسئلہ کس قدر سنگین ہے؟

کھنہ مسکرا کر بولے دیکھو وجئے میرا تو یہ ماننا ہے کہ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا حل موجود نہ ہو۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اس کو جانتا نہ ہو یا اس کی جانب قدم بڑھانے کی جرأت اس کے اندر نہ ہو۔

جی ہاں میں آپ سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ میرا شمار پہلی قسم کے لوگوں میں ہے جو کہ حل نہیں جانتے۔

لیکن میں جانتا ہوں۔

کھنہ صاحب کے اس جواب سے وجئے چونک پڑا۔ وہ سوچنے لگا کہ کہیں کھنہ صاحب اسے گھر داماد تو بنانا نہیں چاہتے۔ اول تو کسی کا گھر داماد بننا وہ اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھتا تھا اور دوسرے اس کے والدین بھی تھے۔ اپنے والدین کے ساتھ کھنہ صاحب کے گھر میں جا کر رہنا نا ممکن تھا۔ اس نے کہا کھنہ صاحب آپ کا شکریہ لیکن شاید یہ حل اس قدر سہل بھی نہیں۔

کھنہ صاحب کا زوردار قہقہہ بلند ہوا اور وہ بولے برخوردار لگتا ہے اب تم پہلے زمرے سے دوسرے زمرے میں شامل ہو گئے ہو میرا مطلب ہے جرأت کا فقدان والے لوگوں میں۔

جی نہیں ایسی بات نہیں ویسے تو میں جرأت مند آدمی ہوں پھر بھی۔

پھر بھی ڈر لگتا ہے ہاں؟ دیکھو تم نے حل جانے بغیر اس پر قیاس آرائی شروع کر دی۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہارا اندازہ غلط ہو؟

وجئے کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا وہ بولا جی ہاں ممکن ہے جلد بازی میں ۰۰۰۰۰

جی ہاں انسان ویسے بھی جلد باز واقع ہوا ہے اور اس عمر میں تو کچھ زیادہ ہی خیر۰۰۰۰۰۰مجھے پتہ ہے اس لئے کہ ایک زمانے میں ۰۰۰۰۰میں بھی

وجئے نے کہا جی ہاں جب کنگنا پہلی کلاس میں رہی ہو گی۔

وجئے کی زبان پر پہلی مرتبہ کنگنا کا نام آیا تھا۔ وہ کھنہ صاحب کے چہرے پر ظاہر ہونے والے تاثرات کو بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کہیں کھنہ صاحب اس رشتے سے ناراض تو نہیں ہیں۔ ورنہ چھوکری کے ساتھ ساتھ نوکری کے بھی ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ تھا اور اگر اچھی خاصی نوکری ہاتھ سے نکل جاتی تو چھوکری کا نکل جانا تقریباً طے تھا۔ وجئے نے دیکھا کھنہ صاحب پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

وہ بولے جی نہیں وجئے کنگنا کی پہلی کلاس نہیں بلکہ میرے کالج کی آخری کلاس کا زمانہ تھا جب کنگنا کی ہونے والی ماں نے مجھ سے پوچھا تھا ونود کہیں کالج سے رشتہ توڑ لینے کے بعد تم مجھے بھی تو نہیں بھول جاؤ گے۔

کھنہ صاحب نے ایک نیا افسانہ چھیڑ دیا۔ کھنہ صاحب کی بیوی تو اسکول کے آخری امتحان میں فیل ہو چکی تھا۔ وہ تو ان کے والدین نے دونوں کا رشتہ طے کیا اور شادی ہو گئی۔

وجئے کیلئے کھنہ صاحب کی بات ماننے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ وہ بولا جی ہاں تو آپ نے کنگنا کی ماں سے کیا کہا؟

کھنہ صاحب بگڑ کر بولے تم کیا بکتے ہو۔ میں اس وقت برطانیہ میں نہیں بلکہ ہندوستان میں تھا۔ اس دور میں تو کوئی برطانیہ میں بھی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ شادی سے پہلے ہی کوئی کسی بچے کی ماں یا باپ بن جائے۔ یہ تو نئے زمانے کی مغربی خرافات ہے۔ یقین کرو آج بھی ہندوستان میں اسے بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ کھنہ صاحب کے وجئے پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کنگنا کے ساتھ اس قدر قدیم تعلقات کے باوجود ان لوگوں نے اپنے آپ کو حدود و قیود کا پابند بنا رکھا تھا ورنہ وہ اپنے دوستوں کے کئی ایسے بچوں سے واقف تھے جو اس کا پاس و لحاظ نہیں رکھ پانے کے سبب خوار ہو چکے تھے۔ خیر اس میں ان کا کم اور ماحول کا قصور زیادہ تھا اس کے باوجود رسوائی تو رسوائی تھی۔

وجئے نے معذرت چاہتے ہوئے کہا جناب آپ بہت دور نکل گئے میں اپنی غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔ مجھے کہنا چاہئے تھا کہ کنگنا کی ہونے والی ممی یا میری آنٹی نے کیا جواب دیا تھا۔

کھنہ صاحب نے اپنی کہانی آگے بڑھائی اور بولے میں نے کہا میری جان میں نے کالج میں جو کچھ پڑھا ہے وہ سب بھول سکتا ہوں لیکن تمہیں نہیں بھول سکتا اور ہوا بھی یہی کہ اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے دہلی کے دین دیال کالج میں کیا کیا پڑھا تھا تو مجھے کچھ بھی یاد نہیں لیکن کنگنا کی ممی! اس کی ایک ایک ادا اب بھی میرے قلب و ذہن کے نہاں خانے میں نقش ہے۔

یہ سن کر تو آنٹی خوش ہو گئی ہوں گی۔

جی نہیں وہ کنگنا کی مانند نہایت ذہین عورت تھی۔ میرے اس جواب کو سن کر وہ غمزدہ ہو گئی اور سوال کیا۔ صرف مجھے یاد ہی کرتے رہو گے کہ کچھ اور بھی کرو گے؟

کہانی دلچسپ موڑ میں داخل ہو گئی تھی وجئے نے پوچھا پھر کیا ہوا؟

کھنہ صاحب بولے ہونا کیا تھا؟ میں نے موقع غنیمت جان کر کہہ دیا کہ میری جان میں تو آج تمہارے ساتھ سات کیا دس پھیرے لگانے کیلئے تیار ہوں لیکن پھر اس کے بعد تمہارے گھر والے تمہیں اپنے گھر سے نکال دیں گے اور میرے گھر میں ہمارے لئے جگہ نہیں ہے اس لئے رہیں گے کہاں؟ بالکل وہی سوال جو تم آج کر رہے ہو میں نے بھی کر دیا تھا۔

وجئے سمجھ گیا اب کھنہ صاحب اس کے مسئلے کا حل بتایا چاہتے ہیں۔ اس نے سوال کیا اچھا تو آنٹی جی نے کیا کہا۔

کھنہ صاحب بولے اس وقت آنٹی تھوڑی نہ تھی۔ پھر بھی وہ بیچاری کیا کہتی اس نے ایک بھارتیہ ناری کی طرح لجا شرما کر کہا آپ میرے پتا شری سے بات کریں۔ وہ ضرور اس سمسیا کا سمادھان کر دیں گے۔ ان کا شمار شہر کے امیر کبیر لوگوں میں ہوتا ہے۔

وجئے نے سوال کیا پھر کیا ہوا؟

کھنہ صاحب کے اندر کا داستان گو جوان ہو چکا تھا وہ بولے میں نے کہا یہی تو سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ شہر کے رئیس آدمی ہیں اور میں ایک غریب طالبعلم ہوں۔ میں ان سے بات کرنے کی ہمت کیسے کر سکتا ہوں؟

وجئے نے سوچا یہ تو فلمی کہانی بن رہی ہے پھر بھی اس نے پوچھا تو آپ کو آنٹی جی نے کیا جواب دیا؟

وہ بولی آپ جو بھی ہیں لیکن میں بھی تو ایری غیری نتھو خیری نہیں ہوں۔ میں سیٹھ دینا ناتھ اگروال کی اکلوتی کنیا بھان متی ہوں۔

مجھے پتہ ہے۔ یہ کہہ کر میں کالج سے نکل کر سیدھے سیٹھ جی کی آڑھت پر پہنچ گیا۔ دوپہر کے وقت سیٹھ جی اکیلے بیٹھے تھے میں نے ڈرتے ڈرتے اپنا مدعا بیان کر دیا تو پتہ چلا بھان متی یعنی تمہاری آنٹی نے انہیں پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ایک خالی مکان کا پتہ دیا اور کہا کہ میں اسے ایک بار دیکھ لوں۔ اگر پسند ہو تو اسے تیار کروا دیا جائے اور مکان کی تیاری کے دوران کنیا دان کی تیاری بھی کر لی جائے۔

اس وقت سے پہلے میں بھان متی کا عاشق تھا لیکن اس کے بعد میں اس کا بندۂ بے دام ہو گیا اور اب بھی وہی حال ہے۔ ویسے میرا بھی ایک خالی مکان شہر کے مضافات میں ہے اگر تم مناسب سمجھو تو اسے دیکھ سکتے ہو۔

اس کی کیا ضرورت؟ اگر کنگنا کو پسند ہے تو مجھے کنگنا کی ہر پسند لازماً پسند ہے۔

ویسے تو تمہاری یہ بات سمجھداری کی ہے پھر بھی میری رائے ہے کہ تم ایک بار کنگنا کے ساتھ جا کر اس گھر کو دیکھ لو تاکہ آگے چل کر کوئی بدمزگی نہ ہو۔

کھنہ صاحب نے من گھڑت کہانی کی مدد سے اپنی بات نہایت سلیقہ سے کہہ دی تھی۔ وجئے ان کا شکریہ ادا کر کے باہر آیا اور کنگنا کو فون پر ساری تفصیل بتا دی۔ کنگنا کو حیرت نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ سب کچھ حسب توقع و منشاء ہو رہا تھا۔

وجئے کے پسند والے جملے نے کنگنا کو خوش کر دیا۔ اس نے سوال کیا تو کب چلیں گے؟

وجئے بولا جب تم کہو۔ میں تو ابھی بھی تیار ہوں۔

کنگنا بولی ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ کل شام پانچ بجے مڈویسٹ ریلوے اسٹیشن پر آ جانا۔ وہیں سے ساتھ چلے چلیں گے۔

اس رات وجئے اور کنگنا بالکل نہیں سوئے۔ دونوں اپنے مستقبل کے نت نئے خواب سجاتے رہے لیکن ان کے درمیان خاصہ فرق تھا۔

٭٭٭

کنگنا کا گھر

وجئے اور کنگنا وقت مقر رہ پر مڈویسٹ اسٹیشن پر موجود اسٹار بکس نامی کافی ہاوس میں ملے۔ دونوں نے اپنی اپنی پسند کی کافی بنوائی اور کاغذ کے گلاس لے کر چل دیئے۔ ان کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی کافی تھی یہ دیکھ کر کنگنا کو وجئے کا وہ جملہ یاد آیا جو اس نے کھنہ صاحب سے کہا۔ ’’کنگنا کی ہر پسند، لازماً میری پسند‘‘ ہے۔ کنگنا نے سوچا یہ سب کہنے سننے کی باتیں ہیں۔ ان کا حقیقت سے کیا تعلق ہے؟ حقیقت پسندی کا تقاضہ یہی ہے کہ انہیں نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کے والد ونود کھنہ نے بھی گھر کو دیکھ لینے پر اصرار کر کے یہی کیا تھا۔

دونوں باپ بیٹی نہایت معقولیت پسند تھے اور بھان متی وہ تو کنگنا کی ماں تھی۔ ونود کھنہ کو حقیقت پسند بنانے کا سہرہ اسی کے سر تھا ورنہ کسی زمانے ونود بھی وجئے کی طرح جذباتی نوجوان تھا۔ بھان متی نے اپنے وقت میں جو سلوک ونود کے ساتھ کیا تھا اب اس کی بیٹی کنگنا وجئے کے ساتھ وہی سب کر رہی تھی۔ کال چکر اپنی متعینہ رفتار سے گھوم رہا تھا۔

ریلوے اسٹیشن کے آس پاس بہت ساری دوکانیں تھیں۔ مسافروں کی چہل پہل اور بسوں اور کاروں کی آمدورفت جاری تھی لیکن کچھ دور ساتھ چلنے کے بعد ماحول بدل گیا۔ اب ایک وسیع و عریض باغ کے ساتھ لگی فٹ پاتھ پر وہ دونوں رواں دواں تھے۔ ہوا کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ تو تھی لیکن دور دور تک نہ آدم تھانہ آدم زاد۔

وجئے بولا اس علاقہ میں عجب ویرانی سی ویرانی ہے کنگنا۔

ہے بھی اور نہیں بھی۔

یہ کیا بات ہوئی؟ یا تو ہے یا نہیں ہے۔ دونوں بیک وقت کیسے ہو سکتے ہیں؟

کنگنا بولی کیوں نہیں ہو سکتے؟ بالکل ہو سکتے ہیں۔

وجئے کی سمجھ میں یہ منطق نہیں آئی وہ بیزار ہو کر بولا ویسے ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہوتا نہیں ہے۔

تم اس بات کو بہت دور لے گئے۔ ویرانی در اصل ایک احساس ہے جسے ناپنے کا کوئی پیمانہ تو ہے نہیں کہ تول کر بتا یا جا سکے کہ جناب یہ چار سو گرام کدو ہے۔

وجئے کو اپنے والد کمار سنگے کا خیال آیا جو دن بھر ناپ تول اور لین دین میں مصروف رہا کرتے تھے۔ اس کو محسوس ہوا کہ کنگنا اس کے والد کا مذاق اڑا رہی ہے۔ وہ بولا تمہیں اس معاملے میں میرے والد کو نہیں گھسیٹنا چاہئے۔

کنگنا نے حیرت سے پوچھا، میں نے تمہارے والد کے بارے میں کیا کہا؟

وہی ناپ تول والی بات!

یہی تو میں کہہ رہی تھی کہ ایک کیفیت کا مختلف احساس ہو سکتا ہے اور وہ متضاد بھی ہو سکتا ہے۔ ناپ تول کی مثال کے دوران مجھے تمہارے والد کا خیال تک نہیں گذرا لیکن تم نے اسے ان سے جوڑ دیا۔

تو کیا میں نے غلط کیا؟

یہ کس نے کہا۔ میں تو کہتی ہوں کہ یہ اختلاف فطری ہے۔ جو اس ماحول میں رہنے کا عادی نہ ہو اس کیلئے یہ ویرانی ہے اور جو اس کا عادی ہو اس کیلئے وہ چہل پہل جو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں شور شرابہ ہے۔ اب ہمیں پیچھے کے بجائے آگے بڑھنا ہو گا۔

میں تمہاری بات نہیں سمجھا کنگنا؟

در اصل میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ ہمیں اپنے آپ کو حالات کا عادی بنانا ہو گا۔ اس مصالحت کے بعد ہمیں یہ ویرانی اچھی لگنے لگی۔

اور وہ گہما گہمی؟

کنگنا بولی دیکھو وجئے دو افراد کیلئے ایک ہی کیفیت کا احساس کا مختلف ضرور ہو سکتا ہے لیکن ایک فرد ایک وقت میں ایک احساس رکھتا ہے وہ بیک وقت متضاد محسوسات کے ساتھ نہیں جی سکتا۔

اور اگر وقت بدل جائے؟

احساس بدل بھی سکتا ہے۔ نہیں بھی۔ میں تو یہی کہہ رہی ہوں کہ وقت کے ساتھ ہمیں اپنے آپ کو برضا و رغبت بدل لینا چاہئے ورنہ ۰۰۰۰۰۰

ورنہ کیا ہو گا؟

ورنہ گردش ایام کا جبر ہمیں بزور قوت بدل کر رکھ دے گا۔

وجئے کو ایسا محسوس ہوا گویا کنگنا اسے دھمکی دے رہی ہے۔ یہ گردش ایام کوئی اور نہیں خود کنگنا کھنہ ہے۔ وہ بولا لیکن اگر کوئی اس جبر کے آگے سپر ڈالنے سے انکار کر دے تو اس کا کیا ہو گا؟

بغاوت کرنے والوں کو گردش زمانہ اپنے قدموں تلے بڑی بے دردی سے روند دیتا ہے وجئے۔ اس لئے کبھی اس کا خیال بھی اپنے دل میں نہ لانا۔

وجئے کیلئے اب دھمکی بہت ہی واضح ہو گئی تھی۔ وہ ڈر گیا۔ زندگی کے اس خوشگوار موڑ پر وہ کچلے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وجئے بولا کنگنا یہ تمہارا گھر دنیا کے کس کنارے پر ہے کہ ہماری باتیں ختم ہو گئیں لیکن راستہ ختم نہیں ہوا۔

کنگنا ہنس کر بولی وہ میرا گھر نہیں ہے بلکہ میرے والد ونود کھنہ کا مکان ہے۔

وہی میرا مطلب جو ان کا ہے وہ تمہارا ہے۔

جی نہیں وجئے جو ان کا ہے وہ ان کا ہے اور جو ہمارا ہو گا وہی ہمارا۔

تو کیا ہمارا کچھ نہیں ہے؟

یہ کس نے کہا۔ میں تمہاری ہوں ۰۰۰۰۰تم میرے ہو ۰۰۰۰۰ہم دونوں ایک دوسرے کے ہیں۔

لیکن وہ گھر جسے دیکھنے کیلئے ہم لوگوں نے رختِ سفر باندھا ہے؟

وہ گھر! وہ گھر بھی ہمارا ہو سکتا ہے اگر میرے والد اور تمہارے ہونے والے ۰۰۰۰۰۰۰۰تم سمجھ گئے یا نہیں؟

جی ہاں ہمارے نام کر دیں۔ میں نے تم سے گھر کا محل وقوع پوچھا تو تم نے ملکیت کا قصہ چھیڑ دیا۔ میں تو صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کبھی ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے بھی یا یوں ہی راستے میں مٹر گشتی کرتے رہ جائیں گے؟

دیکھو وجئے تم جانتے ہی ہو میری منزل وہ گھر نہیں بلکہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ۰

وجئے بولا ہاں بابا سمجھ گیا وہی پرانی بات میری منزل تم ہو، تمہاری منزل میں ہوں اور ہم دونوں ایک دوسرے کی ۰۰۰۰۰۰

کنگنا ہنس کر بولی یار وجئے تم غصہ ہوتے ہو نا تو مجھے بہت اچھے لگتے ہو مگر ۰۰۰

مگر کیا؟

مگر یہ کہ تم بہت کم غصہ ہوتے ہو۔

تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ہمیشہ غصے میں رہوں؟

جی نہیں میں تو چاہتی ہوں کہ تم کبھی بھی غصے میں نہ آؤ۔

سمجھ گیا وجئے شوخی سے بولا تم نہیں چاہتیں کہ میں تمہیں بہت اچھا لگوں۔

یہ کس نے کہا؟

تم نے ہی تو ابھی ابھی کہا تھا کہ ۰۰۰۰۰۰۰

میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ جب تم غصہ ہوتے ہو تبھی بہت اچھے لگتے ہو۔

اچھا تو کیا کہا تھا؟

یہی کہ غصے میں تو بہت اچھے لگتے ہی ہو لیکن ویسے بھی اچھے لگتے ہوا کیونک ہ۰۰۰

میں نہیں سمجھا؟

اس لئے کہ تم بہت اچھے ہو؟

کہیں یہ تمہارا وہ احساس تو نہیں ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے؟

مجھے اس کے درست یا غلط ہونے کی پرواہ نہیں۔ بس اچھے لگتے ہو تو لگتے ہو۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتی اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔

وجئے بولا لیکن کنگنا تم نے یہ بھی کہا تھا کہ وقت کے ساتھ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ۰

وجئے کیا تم ان ساری باتوں کو بھول نہیں سکتے جو میں نے تم سے کہی تھیں؟

یہ کیا کہہ رہی ہو کنگنا۔ اب تم یہ کہہ دو گی کہ ان باتوں کے ساتھ مجھے بھی بھول جاؤ۔ یہ تو نا ممکن ہے۔

یہ کس نے کہا؟ میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ہمیں چلتے چلتے آدھے گھنٹے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس دوران تم نے بہت کچھ کہا لیکن وہ گھر کہاں ہے ۰۰۰۰۰۰وجئے الفاظ کے استعمال میں محتاط ہو گیا تھا۔ یہ کنگنا کی صحبت کا اثر تھا کہ وہ اس کے مکالمے میں سے کسی نہ کسی غیر ضروری لفظ کوپکڑ کر بات کو کسی اور سمت موڑ دیتی تھی۔

وہ گھر۰۰۰۰۰۰وجئے وہ تو بہت پیچھے چھوٹ گیا۔

ارے یہ کیا حماقت ہے۔ ہم جس کام کیلئے یہاں آئے تھے اس کو بھول کر دیگر مباحث میں ایسے الجھے کہ اپنے مقصد سے غافل ہو گئے۔

یہ کس نے کہا؟

ہر بات کا کہنا ضروری تو نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے۔

چلو مان لیا۔ اب میرے ایک سوال کا جواب دو۔

وہ کیا؟

در اصل ہم لوگ نصف نہیں بلکہ ایک گھنٹے سے اس علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ کیا اس دوران تمہیں ویرانی کا احساس ہوا؟

اس سوال نے وجئے کو چونکا دیا۔ وہ کچھ دیر خلاء میں دیکھتا رہا۔ خلاء نہ صرف اس کے سر پر آسمان میں تھا بلکہ چہار جانب پھیلا ہو تھا۔ اس کے دماغ میں بھی ایک بہت بڑا خلاء رونما ہو گیا تھا۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو چکی تھی۔

اس کے کانوں سے کنگنا کی آواز ٹکرائی۔ کس سوچ میں گم ہو گئے ہو وجئے؟ تم میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ کھنہ صاحب تو کہتے ہیں تم بہت حاضر جواب ہو؟ میرے سوال کا جواب دو وجئے۔

میرے چاروں طرف ایک مہیب خلاء ہے کنگنا۔ وہ میرے اندر بھی داخل ہو گیا ہے۔ میں اندر ہی اندر کھوکھلا ہو گیا ہوں۔ میرا دماغ شل ہو گیا ہے۔ میں سوچ نہیں سکتا۔ میں تنہا ہو گیا ہوں۔ میرے پاس تمہارے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں خلاء میں ہوں۔

کنگنا کو ایسا لگا کہ گویا وجئے پر کوئی دیوانگی کا دورہ پڑا ہے۔ وہ بولی تم اپنے دل میں جھانک کر دیکھو ممکن ہے تمہاری تنہائی دور ہو جائے۔

جی ہاں، جی ہاں کنگنا تم سے سچ کہا وہاں خلاء نہیں ہے۔

تو کیا ہے؟

وہاں تم ہو کنگنا تم۔ میں بھی کیسا احمق انسان ہوں۔ میں اپنی تنہائی کو دور کرنے کی خاطر نہ جانے کہاں کہاں مارا پھرا لیکن ویرانی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا لیکن جب اپنے دل میں جھانک کر دیکھا تو دنیا بدل گئی۔ سب کچھ بدل گیا۔ اب ویرانی کا نام و نشان نہیں ہے۔ رونق ہی رونق۔ ہر طرف مختلف رنگوں کی شمعیں روشن ہیں اور ان سب پر ایک ہی نام لکھا ہے۔

مجھے پتہ ہے وجئے کہ ان پر کس کا نام لکھا تھا۔ وہ دیکھو ان مکانوں کے سلسلے میں درمیانی مکان ہمارا ہے۔

لیکن تم نے تو کہا تھا کہ ہم آگے نکل آئے ہیں۔ ابھی ہم پیچھے مڑے بھی نہیں اور اپنے گھر پر پہنچ گئے یہ کیسے ہو گیا؟

یہ دنیا گول ہے وجئے۔ اس میں اگر انسان اپنے ناک کی سیدھ میں بے تکان چلتا چلا جائے تو وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔ کسی مقام پر لوٹ کر آنے کیلئے پیچھے مڑ کر واپس آنا ضروری نہیں ہے۔

تو پھر لوگ پیچھے کیوں مڑ جاتے ہیں؟

اس لئے کہ وہ آسان ہوتا ہے۔ لوگوں کی سہل پسندی ان سے یہ بزدلانہ حرکت کرواتی ہے لیکن اگر وہ صبر واستقامت کے ساتھ اپنا سفرجاری رکھیں تو کھوئی ہوئی منزلیں بھی دوبارہ آن کر ان کے قدم چوم لیتی ہیں۔

تو کیا پیچھے مڑ جانے والوں کے ساتھ یہ نہیں ہوتا؟

جی نہیں اکثر ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اس لئے کہ ان کی تلونّ مزاجی انہیں تذبذب کا شکار کر دیتی ہے اور وہ راستہ بھٹک جاتے ہیں۔ گم گشتہ راہ ہو جاتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو ہمیں مزید وقت ضائع کئے بغیر اپنی منزل میں قدم رکھ دینا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہیں کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور منزل ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جائے؟

یہ کیوں کر ممکن ہے وجئے؟

میں نے پڑھا ہے زمین گھومتی ہے اس لئے لازماً اس پر رہنے بسنے والی ہر چیز محو گردش رہتی ہے۔

یہ تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن اگر دو اشیاء ایک رفتار سے ایک ہی سمت میں سرگرم سفر ہوں تو وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے ساکت ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ ساکت نہیں ہوتے۔ وہی احساس والی بات جو تم نے کہی تھی لیکن میں نے یہ بھی سنا ہے منزلیں بھی چلتی ہیں اور راستے بھی چلتے ہیں۔

کنگنا مسکرا کر بولی میں نے یہ سب نہیں سنا۔ میں تو یہ جانتی ہوں کہ مسافر چلتے ہیں آؤ چلو ہم اپنے گھر میں چلتے ہیں۔

٭٭٭

لکشمی کا الّو

لندن کے مضافات میں واقع مڈویسٹ ایک نیم غیر آباد مسکین انگریزوں کا محلہ تھا۔ اس میں مختلف سڑکوں کے اطراف ایک دوسرے سے متصل مکانات کے طویل سلسلے تھے جسے ’رو ہاوس‘ کہا جاتا تھا۔ ویسے فارسی زبان میں تو یہ مناسب حال نام تھا مگر اردو میں اس کے ساتھ رونا دھونا وابستہ ہو گیا تھا۔ مکان کے اندر آ کر وجئے نے دیکھا کہ اس میں ایک کمرہ اور ایک باورچی خانہ ہے جس کے ساتھ ایک حمام لگا ہوا ہے۔ اسے دیکھ کر وجئے کے منھ سے نکلا اتنا چھوٹا؟

کنگنا بولی جب میں یہاں اپنے والد صاحب کے ساتھ آئی تھی تو میں نے بھی یہی سوال کیا تھا۔

اچھا تو ان کا جواب کیا تھا؟

انہوں نے بتایا کہ یہ نصف مکان ہے۔ پہلے پہل یہ دوگنا ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت گھروں کی قیمت کم تھی اس لئے بک جایا کرتا تھا۔ بعد میں جب لندن کی آبادی میں اضافہ ہو گیا۔ ریل گاڑیوں اور بسوں میں بھیڑ بھاڑ ہونے لگی سڑکوں پر ٹرافک بڑھ گیا تو خوشحال لوگ یہاں کوچ کرنے لگے۔ اس دوران گھر مہنگے بھی ہو گئے تھے اس لئے متوسط طبقہ کے جو لوگ یہاں آنا چاہتے ان کیلئے مشکل تھی۔ اس مسئلہ کا حل مکان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے نکالا گیا تا کہ اسے گاہکوں کی قوت خرید کے مطابق کر دیا جائے۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور تو رہ نہیں سکتا۔

کنگنا مسکرا کر بولی ہمارے علاوہ کسی کو یہاں رہنا بھی کب ہے؟

وجئے نے پوچھا کیا مطلب؟

میں تمہارا مطلب سمجھتی ہوں۔ تم بہت دور کی سوچتے ہو۔ جب ہمارے درمیان کوئی تیسرا آئے گا اور وہ ہوش سنبھالے گا تب تک کھنہ صاحب ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہوں گے اور ان کی جگہ تم جنرل منیجر بن چکے ہو گے اور تم تو جانتے ہی ہو کہ جنرل منیجر کمپنی کے مکان میں رہتا ہے جیسے کہ تمہارے کھنہ صاحب رہتے ہیں۔

وجئے کو کنگنا کی خود اعتمادی نے خوش کر دیا وہ حیرت سے بولا لیکن میری جان اگر ہم لوگ کھنہ صاحب کے مکان میں پہنچ جائیں گے تو وہ کہاں جائیں گے؟

وجئے کا یہ سوال نہایت نامعقول تھا ا سے کم از کم کھنہ صاحب کی بیٹی سے یہ نہیں پوچھنا چاہئے تھا لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ کنگنا پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ اٹھلا کر بولی او ہو وجئے تم واقعی بہت سوچتے ہو۔ وہ اس مکان میں منتقل ہو جائیں گے۔ جب وہ جنرل منیجر نہیں تھے تو اس مکان میں رہتے تھے اور جب وہ جنرل منیجر نہیں ہوں گے تو پھر اسی مکان میں رہیں گے اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

وجئے نے سوچا یہ کنگنا کمال سنگدل عورت ہے۔ اس پر تو کوئی زہر سے بجھا تیر بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔ خیر وہ جیسی بھی تھی وجئے کو اچھی لگتی تھی۔ اس نے پوچھا لیکن میرے والدین یہاں کیسے رہیں گے؟

تمہارے والدین؟ ان کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا انہیں اپنا مکان خالی کرنا ہے؟

جی نہیں ایسی بات نہیں۔

پھر کیا بات ہے؟

بات یہ ہے کہ میں ان کے ساتھ رہتا ہوں نا؟

ہاں وہ تو مجھے پتہ ہے۔ تمہارے کم ہو جانے سے ان کا گھر اور کشادہ ہو جائے گا۔

میں ان کی اولاد ہوں کنگنا! یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟

دیکھو وجئے رشتے دار ہو یا کرایہ دار جب وہ آتا ہے تو تنگی بڑھ جاتی ہے اور جب جاتا ہے تو کشادگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ابھی ابھی تو تم نے کہا تھا کہ جب ہمارے بچے بڑے ہو جائیں گے تو یہ مکان تنگ ہو جائے گا۔

وجئے سوچنے لگا کہ اس نے یہ بات کب کہی تھی؟ کنگنا نے کہے بغیر ہی سب سمجھ لیا اور اب وہ اس کو وجئے سے منسوب کرنے لگی تھی۔ وجئے بولا اولاد کے آنے سے اگر والدین تنگ ہوتے ہیں تو وہ ان کے خواب کیوں سجاتے ہیں؟

میں نے والدین کے تنگ ہونے کی بات نہیں کہی وجئے بلکہ گھرکی وسعت کا ذکر کیا اور کوئی مانے یا نہ مانے یہ ایک حقیقت ہے۔

اگر یہ بات درست بھی ہے تو میں انہیں تنہا چھوڑ کر یہاں کیسے آ سکتا ہوں؟

ویسے ہی جیسے میں اپنے والدین کو تنہا چھوڑ کر یہاں آ جاؤں گی۔

لیکن میں جب ان کے ساتھ رہتا ہوں تو مختلف کاموں ان کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔

ہاں ہاں تو اس میں کیا پریشانی ہے تم یہاں رہو گے تو میرا ہاتھ بٹاؤ گے۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے یہاں آ جانے سے انہیں دقت بھی تو ہو سکتی ہے؟

کیوں نہیں، لیکن یہ تو ان کا مقدر ہے۔ تم یقین کرو تم سے کہیں زیادہ میں گھر پر رہتی ہوں اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ اس کے باوجود میری ماں کا اصرار ہے کہ ہم لوگ یہاں آ کر رہیں۔ اب تمہیں اندر کی بات بتاتی ہوں۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے کھنہ صاحب کی سرکاری کوٹھی خاصی کشادہ ہے۔ اس میں تین خوابگاہیں، ایک دیوان خانہ اور باورچی خانے کے علاوہ دو حمام ہیں۔ ملازمین کیلئے بھی دو کمرے بھی ہیں اور میرے والد چاہتے تھے کہ شادی کے بعد تم اسی گھر میں آن بسو اس لئے کہ میرا نہ کوئی بھائی ہے نہ بہن۔

اچھا! وجئے نے حیرت سے کہا

جی ہاں لیکن میری ماں بھان متی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور یہ حقیقت ہے کہ گھر کے اندر وزیر اعظم سے زیادہ وزیر داخلہ کی چلتی ہے۔

وجئے بولا جی ہاں میڈم جانتا ہوں لیکن اب یہ بتا دو کہ تمہاری ممی نے کہا کیا؟

انہوں نے وہی کہا جو ہو رہا ہے۔ اس گھر کو آباد کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔

اور کھنہ صاحب نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔

جی نہیں وہ بھی تمہاری طرح کندۂ نا تراش ہیں اس لئے انہوں نے وہی سوال کیا جو تم نے کچھ دیر پہلے کیا تھا کہ جب وہ سبکدوش ہو جائیں گے تو کہاں جائیں گے؟

وجئے بولا سمجھ گیا اور اس کے جواب میں جو کچھ تم نے کہا تھا وہ تمہارا نہیں بلکہ آنٹی جی کا جواب تھا۔ وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ تم اس قدر ذہین کیونکر ہو گئیں؟

کنگنا بولی کیوں؟ اگر تم میرے والد کی طرح کند ذہن ہو سکتے ہو تو میں اپنے ممی کی مانند ذہین کیوں نہیں ہو سکتی؟

وجئے نے سوچا کنگنا واقعی ذہین ہے اگر وہ اس وقت اپنے والد کے بجائے تمہارے والد کی طرح کند ذہن کہہ دیتی تو بڑی لڑائی ہو جاتی حالانکہ بات ایک ہی ہے۔ وجئے بولا کنگنا تمہاری اس بات پر مجھے ایک کہانی یاد آ گئی۔

بہت خوب مجھے بھی تو پتہ چلے کہ آج کل ہمارے صاحب کن قصے کہانیوں میں کھوئے رہتے ہیں۔

کہانی کیا لطیفہ سمجھو۔

سناو تو سہی اس کے بعد میں فیصلہ کر لوں گی کہ وہ لطیفہ بھی تھا یا نہیں۔

اچھا کیا تمہاری ممی نے اس کی بھی کوئی کسوٹی تھما دی ہے؟

ضرورت کیا ہے؟ اگرہنسی آ جائے تو مزاحیہ ورنہ فکاہیہ۔ خیر تم اپنی سناؤ۔

لیکن اس سے پہلے یہ بتاؤ کہ تم جانتی ہو لکشمی کی سواری کیا ہے؟

لکشمی؟ میری سہیلی لکشمی؟ تم اسے کیسے جانتے ہو؟ اور تمہیں یہ کیسے پتہ چل گیا کہ اس نے ابھی ابھی نئی نویلی پورش گاڑی خریدی ہے؟

سوالات کی بوچھار سن کر وجئے ڈر گیا۔ وہ بولا لگتا ہے تم پر آنٹی جی کا نہیں بلکہ کھنہ صاحب کا سایہ پڑا ہے ورنہ یہ سوالات نہیں کرتیں۔

تم بات کو اِدھر اُدھر نہ گھماؤ۔ اب جبکہ پکڑے جا چکے ہو تو سیدھے سیدھے بتاؤ کہ لکشمی کو کیسے جانتے ہو؟ اور نہ جانے کس کس کو جانتے ہو؟

میں تمہارے سوا کسی کو نہیں جانتا میری ماں۔ اب بس بھی کرو۰۰۰۰۰۰۰۰

یہ ماں کون ہے؟ کیا میں تمہیں اپنی ماں لگتی ہوں؟ کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟

وجئے ہنس کر بولا ہوا تو نہیں ہوں لیکن جلد ہی میں باؤلہ ہو جاؤں گا۔

وہ تو ہو گا لیکن اس سے پہلے مجھے بتانا ہو گا کہ لکشمی کو کیسے ۰۰۰۰۰۰۰

بھئی میں تمہاری کسی سہیلی کے بارے میں نہیں بلکہ لکشمی دیوی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اندر بھگوان کی وزیر خزانہ لکشمی دیوی۔ جس کی سارے سناتن دھرمی دیوالی کے موقع پر پوجا کرتے ہیں۔

او ہو سمجھ گئی۔ اس لکشمی دیوی کو سواری کی کیا ضرورت؟ اس کو تو لوگ سرآنکھوں پر بٹھا کر اپنے گھر لے جانے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔

جی ہاں یہ بات درست ہے لیکن وہ لوگوں کی خواہش پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے اپنی سواری پر جہاں چاہتی جاتی ہے اور جب چاہتی ہے نکل جاتی ہے۔

سمجھ گئی تب تو اس کو اپنی سواری کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس کو اپنے گھر لانے کیلئے تو ہر کوئی سواری فراہم کرے گا لیکن جب وہ واپس جانے لگے گی تو سب کی نانی مر جائے گی۔

وہ تو جو ہو گا سوہو گا لیکن اب یہ مان لو کہ تمہیں لکشمی کی سواری کا علم نہیں ہے؟

جی ہاں بابا میں ہار گئی چونکہ میری ممی نے مجھے نہیں بتایا اس لئے مجھے نہیں معلوم بس۔ اب تم ہی بتا دو کہ ۰۰۰۰۰۰

ارے بھائی اس کی سواری الوّ ہے الوّ۔

جی ہاں سمجھ گئی اور مجھے یہ بھی پتہ چل گیا کہ لکشمی دیوی اپنی منزل کا تعین خود نہیں کرتیں بلکہ اپنی سواری پر چھوڑ دیتی ہیں۔

اچھا تمہیں یہ معرفت کیسے حاصل ہو گئی؟

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰

میں نہیں سمجھا؟

میرے پپا کو جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ممی علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ دیتی ہیں۔

اور اگر شعر بھی سمجھ میں نہ آئے تو؟

تو وہ کہتی ہیں ’الوّ کا پٹھا‘

اچھا تو کیا تمہارے پپا اس سے ناراض نہیں ہوتے؟

وہ کیوں ناراض ہوں؟ میری ممی نے ان کو تو الوّ نہیں کہا۔

اچھا پھر کسے کہا؟

ان کے والدین کو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کے پٹھا کے معنی اولاد کے ہوتے ہیں۔

تب تو یہ اور بھی بڑی گالی ہے۔

جی ہاں لیکن تمہاری طرح میرے والد بھی پٹھا کا مطلب نہیں جانتے۔ ان کا لگتا ہے اگر بھان متی انہیں الوّ کہتی ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔

کیا مطلب ان کو الوّ کہلوانا پسند ہے؟

ویسے تو نہیں لیکن اگر بیوی اس لقب سے نوازے تو ہاں۔

میں اس فرق کو نہیں سمجھا؟

یہ فرق میری بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس لئے ایک دن اکیلے میں ان سے میں یہ سوال کر ہی دیا تھا کہ ممی آپ کو الوّ کا پٹھا کہتی ہیں تو آپ کیوں کھلکھلا کر ہنس پڑتے ہیں؟

اچھا تو کھنہ صاحب نے کیا جواب دیا؟

وہ بولے کہ تمہاری ممی کی بات درست ہے اگر میں الوّ نہیں بلکہ سمجھدار ہوتا تو بھان متی کے ساتھ شادی کرنے کی غلطی کیسے کرتا؟ خیر تم اپنا لطیفہ نما کہانی سناؤ۔

ہاں تو ہوا یوں کہ ایک دن لکشمی کی سواری الوّ نے شکایت کی آپ کے بھکت آپ کی پوجا تو کرتے ہیں لیکن کوئی میری پوجا یاچنا نہیں ہوتی۔

یہ معقول اعتراض ہے اس لیے کہ اگر سوار نہ لے جائے تو سواری کیسے جائے؟

لکشمی بولی اگر ایسا ہے تو اندر بھگوان سے کہہ کر میں دیپاولی سے ۱۱ دن قبل کروا چوتھ کا تہوار شروع کروا دیتی ہوں۔ الوؤں کی پوجا شروع ہو جائے گی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن۰۰۰۰۰۰۰۰

کنگنا چہک کر بولی دیکھا تم نے لکشمی دیوی نے بھی وہی کہا جو میری ممی کہتی ہیں اور میرے پاپا جسے درست مانتے ہیں۔

اب میری سمجھ میں کھول آنکھ زمیں دیکھ کا مطلب آ گیا۔ لکشمی دیوی کی سواری اپنے جیسے لوگوں کا رخ کرتی ہے اور لکشمی انہیں کے گھر میں قیام فرماتی ہے۔

کنگنا بولی جی ہاں وہ دن دور نہیں جب اس گھر کے اندر میں کروا چوتھ پر آپ کی پوجا کر کے لکشمی دیوی کی سواری کو بتلا دوں گی کہ تمہارا ایک بھکت یہاں بھی رہتا ہے۔ اب ہمیں یہاں سے چلنا چاہئے ورنہ ہمارے گھر کی لکشمی اور اس کی سواری میرا مطلب ہے میرے ممی پاپا ہمارے متعلق نہ جانے کن بد گمانیوں کا شکار ہو جائیں گے؟

جی ہاں چلو چلتے ہیں۔

یہ کہہ کر دونوں اپنے خوابوں کے محل سے باہر نکل آئے۔

٭٭٭

سنجے کا جوتا

وجئے اور کنگنا نے واپسی کا سفر پیدل طے کرنے کے بجائے بس سے کیا اور مڈویسٹ اسٹیشن پہنچ کر مخالف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔ زیر زمین ریل گاڑی میں بیٹھا ہوا وجئے کنگنا کے ساتھ اپنی گفتگو پر غور کر رہا تھا۔ کنگنا کی ساری منطق اور دلائل کے باوجود اس کو اپنے والدین سے الگ ہو جانا غلط لگ رہا تھا۔ وہ اپنے اطمینان کیلئے اس مسئلہ پر کسی سے گفتگو کرنا چاہتا تھا۔ اس ادھیڑ بن میں اسے اپنے لنگوٹیا یار سنجے کا خیال آیا۔

سنجے راجن آج کل رات گئے گھر آتا تھا تب تک وہ سوچکا ہوتا۔ صبح سویرے جب وہ دفتر کیلئے نکلتا تھا تو سنجے سورہا ہوتا تھا۔ آخر ہفتہ میں وجئے کو فرصت ہوتی تو سنجے کی مصروفیت زیادہ ہوتی اور دوپہر کے وقت جب سنجے فارغ ہوتا تو وجئے دفتر کے اندر مصروفِ کار ہوتا۔ اس لئے دونوں ایک مکان میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے کم ہی ملتے تھے۔

وجئے نے سنجے کو فون لگایا ہیلو سنجے کیسے ہو؟

سنجے فوراً وجئے کی آواز پہچان گیا اور خوش ہو کر بولا بھئی زہے نصیب۔ یہ بتاؤ کیسے یاد کیا؟ خیریت تو ہے؟

وجئے بولا ویسے تو سب خیر ہے لیکن پھر بھی تم سے ملنا ہے۔

کیوں نہیں کیوں نہیں؟ واقعی بڑا لمبا عرصہ ہو گیا تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات ہی نہیں ہوئی بس یونہی چلتے پھرتے سلام دعا پر گذارا ہو رہا ہے خیر ایسا کرتے ہیں کہ اس اتوار کو دوپہر کا کھانا ساتھ میں کھاتے ہیں۔ میں ممی سے کہہ دوں گا۔ وہ تمہاری پسند کے سارے پکوان بنا دیں گی اور تم تو جانتے ہی ہو؟

جی ہاں مجھے پتہ ہے۔ تم سے ملاقات نہیں ہوتی لیکن ان کے ہاتھوں کا بنا کچھ نہ کچھ وقتاً فوقتاً ملتا ہی رہتا ہے لیکن یار اتوار تو بہت دور ہے۔

کس نے کہا؟ آج جمعرات ہے جو تقریباً ً گزر چکا ہے درمیان میں جمعہ اور ہفتہ بس دو دن پھر اتوار اور دعوت۔ بڑی چالاکی سے سنجے نے چار دنوں کے وقفہ کو دو دن میں بدل دیا تھا۔

وجئے نے اصرار کیا نہیں میں اپنی ایک خاص الجھن پر تم سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں اس لئے آج، ابھی اور اس وقت ملنا ضروری ہے۔ یہ بتاؤکہ تم کہاں ہو؟

سنجے سمجھ گیا معاملہ سنگین ہے ورنہ مرنجان مرنج طبیعت کا مالک وجئے کیا جانے کہ آج کے آج اور ابھی کے ابھی کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟ یہ تو کوئی سنجے جیسا کائیاں تاجر ہی جان سکتا ہے۔ وہ بولا میں فی الحال ریل گاڑی میں سوار ہونے جا رہا ہے اور میرا ارادہ گرین پارک جا کر جوتے خریدنے کا ہے۔

وجئے ہنس کر بولا بھائی سنجے جوتا نہ ہوا ہے نہ غذا۔ اس کو اگر انسان دوچار دن نہ کھائے تو کیا مر جائے گا؟

وہ تو صحیح ہے لیکن میرے جوتے ایک ماہ سے پھٹے ہوئے ہیں۔ آج پاپا نے آخری وارننگ دے دی ہے اگر میں پھٹے ہوئے جوتوں میں گھر واپس آیا تو اسی سے مار مار کر گنجا کر دیں گے۔ ویسے تم فی الحال کہاں ہو؟

میں مڈویسٹ سے ٹرین میں سوار ہوا ہوں۔ لگتا ہے جوتا سر سے اونچا ہو گیا ہے۔

ہاں تو ٹھیک ہے ایسا کرو کہ وارنگٹن سے ٹرین بدل لو۔ میرا خیال ہے ہم ایک ساتھ گرین پارک اسٹیشن پہنچ جائیں گے۔ دونوں نے پلیٹ فارم پر موجود اخبار کے اسٹال پر ملنے کا وعدہ کیا اور فون بند کر دیا۔

گرین پارک میں ان کا بچپن گزرا تھا۔ ایک زمانے میں وہ ہر روز چندریکا کے ساتھ گرین پارک کے سینٹ مائیکل اسکول میں جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس بازار کی ہر دوکان سے واقف تھے۔ کہاں کیا اچھا ملتا ہے؟ کس وقت کس ہوٹل میں کیا بنتا ہے؟ کہاں عید پر پاکستان سے کپڑے درآمد کئے جاتے اور کس دوکان سے دیوالی کی خریداری کی جاتی ہے۔ یہ سب ان کو پتہ تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ ایک عرصے کے بعد وہ دونوں گرین پارک پر ایک دوسرے سے مل رہے تھے بلکہ اسکول کے بعد پہلی بار۔

وجئے جب گرین پارک پہنچا تو سنجے اس کا منتظر تھا۔ سنجے بولا یار مزہ آ گیا میں نہ جانے کتنی بار اکیلے یہاں آیا لیکن نہ بھولا کی چاٹ کھائی اور بٹ کی مٹھائی چل وہیں چلتے ہیں اس دوران تیری بات بھی ہو جائے گی پھر واپسی میں جوتے خرید لیں گے۔

وجئے بولا یار مجھے لگتا ہے کہ یہ ترتیب غلط ہے۔ یہ سامنے اپنے باٹا کی دوکان ہے پہلے وہاں سے جوتے خرید لو ورنہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

بھائی میرے پیر کے جوتے شاید اس دوکان میں نہ ملیں اس لئے ہمیں ملن پان کے پاس کلارک کی دوکان میں جانا پڑے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنی جلدی بند ہو گی۔

عجیب آدمی ہو۔ مجھے پتہ ہے کہ کلارک بڑا نام ہے اور اس کے جوتے بھی مہنگے ہوتے ہیں لیکن گرین پارک میں سب سے بڑی جوتوں کی دوکان یہی باٹا ہے اور اس میں جوتے نہ صرف ہندوستان و چین بلکہ اٹلی سے بھی بن کر آتے ہیں اور تم قیمتی سے قیمتی جوتا خرید سکتے ہو۔ مجھے دیکھو میں ہمیشہ یہیں سے جوتا خریدتا ہوں۔

سنجے کے انکار کے باوجود وجئے اسے باٹا کی دوکان میں لے گیا اور اپنے شناسا سیلس میں سے بولا بھائی یہ میرے خاص دوست ہیں ان کے پیر کا اچھا سا جوتا دکھاؤ۔ قیمت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ چہرے سے نہیں لگتا مگر آدمی امیر کبیر ہے۔ سیلس میں نے سنجے کے پاؤں دیکھے اور وجئے سے بولا معاف کیجئے میرے پاس ان کیلئے جوتے نہیں ہیں۔

سنجے کھسیا گیا لیکن وجئے اس سے الجھ گیا۔ نہیں ہے کیا مطلب؟ اتنی بڑی دوکان اتنے سارے جوتے؟ کیا تمہیں ان سے دشمنی ہے؟

جی نہیں صاحب گدھا گھاس سے دشمنی کرے گا تو کیا کھائے گا؟

وجئے بولا دوستی یا دشمنی؟

بھئی ایک ہی بات ہے آپ تو زبان پکڑ لیتے۔

سنجے نے وجئے سے کہا بھائی اس قدر عظیم اعتراف کے باوجود تم اس کی گردن نہیں چھوڑتے۔ اب اسے چھوڑو ہم لوگ کلارک کی دوکان میں چلتے ہیں راستے میں ۰۰۰۰۰۰

مجھے پتہ ہے بھولا چاٹ والا لیکن یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے میں اس کے منیجر سے شکایت کروں گا۔

صاحب، منیجر کیا جنرل منیجر سے شکایت کیجئے مجھے فرق نہیں پڑتا ہے۔ ہم تو آپ لوگوں کی خدمت پر تعینات ہیں۔

مجھے پتہ ہے تمہاری خدمت یہ بتاؤ کہ تمہارا منیجر کدھر ہے؟

سنجے بولا چھوڑو یار وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ سر سلامت تو پگڑی ہزار۔

وجئے بولا مسئلہ پگڑی کا نہیں جوتے کا ہے میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔

سنجے کو کسی کا فون آ گیا اور وجئے منیجر کے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے تعاقب میں سیلس میں بھی پہنچ گیا۔

منیجر بولا فرمائیے جناب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

اس سیلس میں کا دماغ آپ کسی اطالوی جوتے سے درست کر دیجئے۔

منیجر نے سیلس میں کو مخاطب کر کے پوچھا کیا معاملہ ہے؟

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا وجئے بولا یہ بے وقوف کہتا ہے کہ اس کے پاس میرے لئے جوتے نہیں ہیں جبکہ برسوں سے میں اس دوکان کا گاہک ہوں۔

جناب ان کیلئے نہیں بلکہ ان کے دوست کیلئے۔ یہ بلاوجہ بگڑ رہے ہیں۔

وجئے نے اپنی اصلاح کی اور بولا ہاں ہاں میرے دوست کیلئے لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں یا میرا دوست؟

بہت فرق ہے جناب اُن کے پیر کا ناپ ۶ نمبر ہے اور اس دوکان میں بچوں کے جوتے نہیں بکتے۔

منیجر بولا جی ہاں جناب! معاف کیجئے ہم صرف بڑوں کے جوتے بیچتے ہیں۔

وجئے بولا لیکن میرا دوست کوئی بچہ تھوڑی نا ہے ہم دونوں ہم عمر ہیں۔

منیجر بولا اس سے کیا ہوتا ہے جناب عالی۔ جس طرح کسی بچے کے پیر بڑے ہو سکتے ہیں اس طرح کسی بڑے کے پیر چھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ ہماری معذرت قبول فرمائیں۔ آپ کے دوست کو جوتے ہر اس دوکان میں مل جائیں گے جہاں بچوں کے جوتے بکتے ہیں۔

وجئے کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ وہ سوری بول کر باہر آ گیا۔ سنجے اب بھی فون پر لگا ہوا تھا۔ عقب سے منیجر کی آواز آ رہی تھی وہ خوش گفتار سلیقہ مند غلام اپنے سیلس میں پر الفاظ کے کوڑے برسا رہا تھا اور اس سے پو چھ رہا تھا کہ تم نے اسے یہ بات کیوں نہیں بتائی؟ کیا تمہارے منہ میں دہی جمی ہوئی تھی؟

سیلس میں بولا صاحب وہ بد دماغ گاہک سنتا کب تھابس اپنی ہانکے چلا جاتا تھا۔ میرے تو جی میں آیا کہ اطالوی ایمبیسیڈر سے اس کا دماغ درست کر دوں لیکن کیا کروں پاپی پیٹ کا سوال آڑے آ گیا۔

وجئے کو ایسا لگا جیسے واقعی اس کے سرپر جوتے برس رہے ہیں اس نے سنجے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دونوں دوست کلارک کی جانب چل پڑے۔ راستے میں جب بھولا چاٹ والے کی دوکان آئی تو سنجے کا منہ بھر آیا اس نے اشارے پوچھا کیا ارادہ ہے۔ وجئے نے اشارے سے کہا واپسی میں۔ کلارک کی دوکان آ گئی لیکن سنجے کی بات ختم نہیں ہوئی۔ وجئے کو کوفت ہونے لگی تھی مگر چونکہ سنجے سے غرض تھی اس لئے وہ نخرے برداشت کرتا رہا۔ سنجے کا فون بند ہوا تو وہ دونوں دوکان میں داخل ہو گئے۔ یہاں پر سنجے رو بوٹ کی مانند ایک الماری کے قریب جا کر اس میں جوتے دیکھنے لگا۔

ایک جوتا اٹھا کر اس نے وجئے سے پوچھا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

وجئے بولا لگتا تو اچھا ہے لیکن کتنے کا ہے؟

یار دیکھو انسان روز روز جوتا تو نہیں خریدتا کہ مینو میں قیمت دیکھے۔ کلارک کے جوتے ایک مرتبہ لو کم از کم تین سال کی فرصت اس لئے میں قیمت نہیں صرف ڈیزائن دیکھتا ہوں۔ اوپر کا ڈیزائن اور نیچے کا سول۔

وجئے نے پوچھا یار سنجے مجھے تمہاری یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی۔

اس میں سمجھنے والی کیا بات ہے؟ ڈیزائن دوسروں کیلئے اور سول اپنے لئے۔

میں اب بھی نہیں سمجھا؟

میرا مطلب ہے دیکھنے والے ڈیزائن دیکھ کر تعریف کرتے ہیں بھئی کیا زبردست جوتا خریدا ہے لیکن پہننے والے کو آرام سول سے ملتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔ وہی تو ہمارا بوجھ ڈھوتا ہے اور وہی سب سے پہلے گھستا یا پھٹتا ہے۔

وجئے کا خیال تھا کہ وہ پڑھ لکھ بہت قابل ہو گیا ہے لیکن اب پتہ چلا کہ جس سنجے کو وہ نرا احمق سمجھتا ہے کم از کم جوتوں کے معاملے میں کافی سمجھدار ہے ممکن دیگر معاملات میں بھی یہی کیفیت ہو۔ وجئے نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی کہ ایک اہم مسئلے پر گفتگو کیلئے اس نے نہایت موزوں فرد کا انتخاب کیا ہے۔ جوتے کا انتخاب کر لینے کے بعد وہ اسے ہاتھ میں لے کر ایک اور الماری کی جانب چلا گیا اور بہت دیر تک اسی کی مانند جوتا تلاش کرتا رہا۔ جب ناکامی ہوئی تو دوبارہ پہلے والی الماری کے پاس جا کر ایک اور جوتا نکالا۔ اس بار وجئے رائے لینے کی زحمت نہیں کی۔ وہ اس جوتے کے ساتھ دوسری الماری کے پاس آیا اور اس میں سے بھی بالکل اسی طرح کے جوتے کا جوڑا نکال کر کاؤنٹر پر آ گیا۔ سنجے نے آخر تک جوتوں کی قیمت نہیں دیکھی تھی۔ اس نے جوتے اور کریڈٹ کارڈ اد ائے گی کیلئے دے دئیے۔ وجئے کو خیال ہوا کہ اس کا دوست کس قدر سعادتمند ہے اپنے ساتھ ساتھ اپنے والد کیلئے بھی بالکل مماثل قیمتی جوتے خرید لئے۔ وجئے کی نظروں میں سنجے کا احترام بڑھ گیا تھا اس لئے کہ اسے خود کبھی ایسا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔

جوتے کی دوکان سے نکل کر دونوں دوست بھولا چاٹ کی دوکان میں آ گئے۔ اپنے پسندیدہ چھولے بٹورے کا آرڈر دینے کے بعد وجئے نے کہا مجھے خوشی ہے کہ تم انکل کا اتنا خیال رکھتے ہو۔

سنجے بولا بہت زیادہ تو نہیں پھر بھی اچانک تمہیں یہ خیال کیوں آیا؟

ارے بھائی تم نے اپنے ساتھ ساتھ انکل کیلئے بھی ۰۰۰۰۰۰۰

یہ کس نے کہا؟

کسی کے کہنے کی کیا ضرورت۔ میں نے خود تمہیں دو جوڑے جوتے خریدتے دیکھا جو اب اس میز کے نیچے پڑے ہوئے ہیں۔

سنجے بولا لیکن وہ دونوں میرے اپنے لئے ہیں۔

تمہارے اپنے لئے؟ لیکن وہ مختلف ۰۰۰۰۰۰۰۰

جی ہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ایک داہنے اور دوسرا بائیں پیر کیلئے۔

اس جواب نے وجئے کو حیرت زدہ کر دیا وہ بولا لیکن دونوں پیر یکساں ہوتے ہیں بالکل ایک دوسرے کے عکس معکوس۔

یہ کس نے کہا؟

تیسری بار سنجے کے منہ سے کنگنا کا تکیہ کلام سن کر وجئے اسی طرح چونک پڑا جس طرح لکشمی کا نام سن کر کنگنا کی حالت ہوئی تھی۔ وہ بولا سنجے یہ کیا بار بار کس نے کہا، کس نے کہا لگا رکھا ہے؟ پہلے تو یہ تمہارا تکیہ کلام نہیں تھا۔

جی ہاں وجئے پہلے تو بہت کچھ نہیں تھا لیکن اب ہو گیا ہے۔ زمانے کے ساتھ بہت کچھ بدلتا رہتا ہے مثلاً میرے جوتوں کا ناپ۔

میں نہیں سمجھا؟

در اصل پہلے میرا مسئلہ وہ تھا جس کا مشاہدہ تم نے باٹا میں کیا۔ عام دوکانوں میں جہاں بڑوں کے جوتے بکتے ہیں میرے جوتے نہیں ملتے تھے لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ میں ان دوکانوں کا رخ کرنے لگا جہاں بچوں کے جوتے ملتے ہیں اور بڑے بچوں کے جوتوں سے میرا کام چل جایا کرتا تھا لیکن پھر یہ ہوا کہ میرا ایک پیر بڑھنے لگا اور داہنے پیر کی جسامت بائیں پیر سے مختلف ہو گئی۔

اچھا یہ کیسے ہو گیا؟

میں نہیں جانتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ لیکن اب میرا مسئلہ سنگین ہو گیا اگر میں ایک پیر کے ناپ کا جوتا خریدتا تو دوسرے میں تنگ ہو جاتا اور جب دوسرے کے ناپ کا خریدتا تو پہلے میں ڈھیلا ہو جاتا۔

وجئے بولا او ہو یہ تو بڑا سنگین مسئلہ ہے۔

ہے نہیں بلکہ تھا بالآخر اس کو بھی میں نے حل کر دیا۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو اور کئی مرتبہ مسائل کے حل نہایت سہل ہوتے ہیں لیکن ان کی جانب ہماری توجہ نہیں جاتی۔

وجئے بولا میں سمجھ گیا بھان متی آنٹی نے تمہیں یہ بات بتائی ہو گی۔

بھان متی یہ کون ہے؟ میں کسی بھان متی کو نہیں جانتا۔

ہاں، ہاں تم تو نہ کھنہ صاحب کو جانتے ہو اور نہ کنگنا کا

سنجے بولا یہ تم کن لوگوں کی بات کر رہے ہو۔ میں ان لوگوں کو نہیں جانتا۔

کوئی بات نہیں بہت جلد جان جاؤ گے۔ یہ بتاؤ کہ تم نے اس مشکل سے کیسے نجات حاصل کی؟

او ہو تم اب بھی نہیں سمجھے میں تو تمہیں پڑھا لکھا آدمی سمجھتا تھا۔

وجئے بولا اب لومڑی کے کھٹے انگور والا قصہ چھوڑو اور اپنا حل بتاؤ۔

ارے بھئی میں دو سائز کے جوتے خریدنے لگا اور کیا؟

لیکن پھر ہر ایک کے جوڑے کا کیا کرتے ہو؟

سنجے قہقہہ لگا کر بولا ان سے اپنے سر کی مالش کرتا ہوں کیا سمجھے؟

کچھ نہیں سمجھا؟

ارے بھائی پھینک دیتا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں میرے باپ۔ سنجے نے ویٹر کو دوعددآئس کریم کے ساتھ فالودہ لانے کا آرڈر دے دیا اور بولا کیوں ٹھیک ہے؟

لیکن تم تو صرف آئس کریم کھاتے تھے اور وہ بھی بٹر سکاچ۔ یہ فالودہ کب سے کھانے لگے؟

تم مجھ سے جھوٹ سننا چاہتا ہو یا سچ؟

پہلے جھوٹ بولو اور پھر سچ۰۰۰۰

جھوٹ تو یہ ہے کہ تمہارے اعزاز میں، چونکہ تمہیں فالودہ پسند ہے اس لئے آج فالودہ ہو جائے۔

اور سچ؟

سچ تو یہ ہے دوست کہ میری پسند بھی وقت کے ساتھ بدل گئی ہے اب مجھے آئس کریم بھی اچھی لگتی ہے اور فالودہ بھی۔

لیکن یہ کیسے ہو گیا؟

بھئی اگر پیروں کا ناپ بدل سکتا ہے تو مشروب کی پسند کیوں نہیں بدل سکتی؟ خیر تم اپنے بجائے میرے جوتوں میں الجھ کر رہ گئے۔ یہ تو بتاؤ کہ آج ملنے کی غرض و غایت کیا ہے؟

سچ بتاؤں یا جھوٹ؟

پہلے جھوٹ پھر سچ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

جھوٹ تو یہ ہے کہ تیرے ساتھ جوتا خریدنا تھا۔

اور سچ؟

سچ یہ ہے کہ میں اپنے جس مسئلے کا حل پوچھنا چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا۔

سنجے بولا بہت خوب تم واقعی پڑھے لکھے آدمی ہو۔

شکریہ زہے نصیب ۰۰۰۰۰چلو گھر چلتے ہیں۔

٭٭٭

وجئے کی سائیکل

اپنے آپ میں مست وجئے ایک غیر آباد ویران راستے پر محو سفر ہے۔ اپنی منزل سے بے نیاز وہ اپنے بچپن کی سائیکل پر سوار ہے کہ دوران سفراچانک ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے اس کی سائیکل کا پچھلا پہیہ اپنے آپ بڑا ہوتا جاتا ہے لیکن اگلے والے کی جسامت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ جوں کی توں رہتی ہے۔ سائیکل کے توازن بھی قائم رہتا ہے اور وہ ہوا سے باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس بیچ وجئے کو دور ایک بڑی سی عمارت کی دھندلی سی شبیہ نظر آتی ہے۔ وجئے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی منزل از خود اس کے استقبال میں آن کھڑی ہوئی ہے۔

منزل اور مسافر کا فاصلہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے اور پچھلے پہیے کا قطر بھی اسی لحاظ بڑھتا جاتا ہے۔ قریب آنے پر وجئے کو پتہ چلتا ہے کہ ہے یہ ہوائی اڈہ ہے۔ اس ویرانے میں ہوائی اڈے کی موجودگی وجئے کے تجسس میں اضافہ کر دیتی ہے اور وہ اس کے داخلے کے باب کے سامنے پہنچ جاتا ہے جہاں موجود پہریدار مسافروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کر کے انہیں اندر جانے کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ حیرت سے ان مناظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ایک چوکیدار کی نظر اس پر پڑ جاتی ہے۔ وہ فوراً دوسرے مسافروں کو ایک طرف کر کے وجئے کو سلام کرتا ہے اور اسے خوش آمدید کہتا ہے۔

وہاں موجود کوئی مسافر پہریدار کی اس حرکت پر اعتراض نہیں کرتا۔ وجئے سائیکل سمیت ہوائی اڈے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سارے لوگ حیرت سے اس کو اور اس کی بے ڈھب سائیکل کو دیکھتے تو ہیں لیکن نہ کوئی روکتا ہے اور نہ کچھ پوچھتا ہے۔ بورڈنگ کارڈ اور ایمیگریشن وغیرہ کے تکلفات سے بے نیاز وجئے ہوائی جہاز کے اندر جانے والے دروازے کی جانب رواں دواں ہے جہاں سے ایک سرنگ نما راستہ اسے ہوائی جہاز تک لے جاتا ہے۔ جہاز میں موجود ائیر ہوسٹس مسکرا کر اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اس کی سائیکل کا اگلا پہیہ جہاز کے اندر چلا جاتا ہے لیکن پچھلا والا باہر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اس کی جسامت ہوائی جہاز کے دروازے بڑی ہو چکی ہے۔

ائیر ہوسٹس اس سے مؤدبانہ گذارش کرتی ہے جناب عالی آپ سے التماس ہے کہ اپنی سائیکل سے اتر کر پیدل اندر تشریف لائیں۔

وجئے سوال کرتا ہے کیوں؟ یہ نہیں ہو سکتا۔

معزز مہمان یہ سائیکل جہاز کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اس کا دوسرا پہیہ ہمارے دروازے سے بڑا ہے۔

وجئے کہتا ہے یہ میرے بچپن کی سائیکل ہے۔ اسی پر چڑھ کر میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے۔ اس نے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا ہے۔ یہ میرا سہارا ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔

ائیر ہوسٹس اسے نرمی سے سمجھاتی ہے اس سائیکل کے ساتھ آپ کی جو انسیت و محبت ہے وہ ہمارے لئے قابلِ قدر ہے۔ کاش کہ ہمارے جہاز کا دروازہ ایسا بلند ہوتا کہ آپ اپنی سائیکل سمیت اس میں تشریف لاتے لیکن افسوس کہ یہ نا ممکن ہے۔

اگرایسا ہے تو میرے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ میں سائیکل کو چھوڑوں۔

اچھا تو کیا آپ یونہی درمیان میں کھڑے رہیں گے۔ نہ آگے جائیں گے اور نہ پیچھے۔ آپ کے اس فیصلے سے دیگر مسافر اور اہلکار بھی زحمت میں مبتلا رہیں گے اس لئے ہماری پھر سے درخواست ہے کہ آپ یہ ضد چھوڑ دیں۔

وجئے بولا میں آگے نہ صحیح پیچھے تو جا سکتا ہوں۔ میں اپنی سائیکل کے ساتھ واپس چلا جاتا ہوں۔

اب یہ بھی نا ممکن ہے جناب۔ جس وقت آپ اس سرنگ میں داخل ہوئے تھے اس کا پچھلا پہیہ سرنگ کی چھت کچھ نیچے تھا اس دوران اس کے قطر میں مزید اضافہ ہوا ہے اس لئے اب یہ پچھلے دروازے سے باہر نہیں نکل سکے گا اور آپ جہاز اور ہوائی اڈے کے درمیان لٹکے رہیں گے۔

وجئے کو اب یہ سہانا سفر ایک پر فریب جال لگنے لگتا ہے جس میں وہ بری طرح سے پھنس چکا تھا۔ وہ کہتا ہے عجیب مصیبت ہے۔

ائیر ہوسٹس بولی یہ مصیبت نہیں حقیقت ہے۔ آپ جس راستے سے یہاں پہنچے ہیں وہ آگے ہی آگے جاتا ہے پیچھے نہیں مڑ تا۔ اس بلندی کے سفرکو جاری رکھنے کیلئے سائیکل سے سبکدوشی ناگزیر ہے۔

وجئے کا دماغ ٹھکانے آ گیا وہ بولا اچھا تو آپ لوگ میری اس سائیکل کا کیا کریں گے؟

ہم اس کے پہیے الگ کر کے انہیں سائیکل سمیت نیچے سامان کے ساتھ بحفاظت رکھوا دیں گے تاکہ وقت ضرورت آپ کے کام آ سکے۔ ویسے ہوائی جہاز کے اس سہانے سفر میں آپ کو سائیکل کی ضرورت شاید ہی محسوس ہو۔ اگر کبھی اس کی یاد آئے تو ہم سے کہیے۔ اس خصوصی ہوائی جہاز کے اندر سے ایک راستہ نیچے بنے گودام میں جاتا ہے۔ آپ وہاں جا کر اپنی سائیکل کے درشن کر سکتے ہیں۔ یہ راستہ ایسا تنگ و تاریک ہے کہ اس سے آپ تو آ جا سکتے ہیں لیکن آپ کی سائیکل نہیں آ سکتی۔

حزن و ملال کا پیکر وجئے اپنی چہیتی سائیکل سے اتر کر ہوائی جہاز میں داخل ہو گیا۔ ائیر ہوسٹس نے وہاں موجود اہلکاروں سے کہا۔ اس سائیکل کے پہیے الگ کر دو اور اسے نیچے سامان کے ساتھ رکھ دو۔ ائیرہوسٹس جانتی تھی کہ اب وجئے کا سائیکل سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ اب وہ اس سائیکل کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھے گا پھر بھی حفظ ماتقدم کے طور پر اس نے سائیکل کو پھنکوانے کے بجائے رکھوا دیا تھا۔

جہاز جب ہوا میں محو پرواز ہوا تو وجئے کے ساتھ ایک اور عجیب و غریب معاملہ ہونے لگا۔ اس کی دائیں آنکھ اچانک بڑی ہونے لگی جبکہ بائیں آنکھ بالکل پہلے جیسی تھی۔ اس نے دیکھا اس کا بایاں ہاتھ اچانک لمبا ہونے لگا جبکہ دایاں ہاتھ ویسا ہی تھا۔ وہ گھبرا کر حمام میں گیا تو آئینے میں کیا دیکھتا ہے کہ اس کا بایاں کان بھوپوں کی طرح بڑا ہوا گیا مگر دایاں بالکل پہلے جیسا ہے۔ جب وہ واپس اپنی نشست پر آ رہا تھا تو اس نے محسوس کیا کہ توازن بگڑ رہا ہے۔ دائیں ٹانگ لمبی ہوتی جا رہی ہے اور بائیں جوں کی توں ہے۔

ہوائی جہاز کے عملے میں چہ مے گوئیاں ہونے لگی۔ مسافروں کو یقین ہو گیا تھا کہ وجئے آسیب زدہ ہے۔ انہیں اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں وجئے کا آسیب ان سے نہ لپٹ جائے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ کسی تاخیر کے بغیر وجئے کو اڑتے جہاز سے نیچے پھینک دیا جائے۔ جیسے ہی وجئے کو ہوا میں اچھالا گیا اس کی آنکھ کھل گئی۔

اس عجیب و غریب خواب نے وجئے کی چولیں ہلا دیں۔ اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا۔ بدن ٹوٹ رہا تھا۔ رگ رگ سے ٹیس اٹھ رہی تھی۔ وہ دفتر جانے کی حالت میں نہیں تھا۔ چندریکا نے وجئے کا پسندیدہ ناشتہ اپما تیار کر دیا تھا لیکن وجئے اب بھی تک بستر میں پڑا تھا۔ چندریکا کیلئے یہ حیرت کی بات تھی۔

اس نے باورچی خانے سے چلآ کر پوچھا دفتر نہیں جانا؟ آج چھٹی ہے کیا؟ جواب ندارد، وہ گھبرا گئی۔ دوڑ کر وجئے کے پاس آئی اور پوچھا بیٹے طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟

جی ہاں، سر میں ہلکا سا درد ہے۔

ہلکے سے درد نے میرے لال کی یہ حالت بنا دی؟ تمہاری جھوٹ بولنے کی عادت نہیں گئی۔ مجھے تو لگتا ہے تمہیں بخار ہے۔ کہیں فلو تو نہیں؟ آج کل ہر تیسرا آدمی انفلوئنزا کے بخار کا شکار ہے۔

جی نہیں ممی آپ بہت سوچتی ہیں۔ چلئے میں نہا کر ناشتے کیلئے آتا ہوں۔ کیا بنایا ہے آپ نے؟

بنایا تو اپما تھا لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت خراب ہے؟ ورنہ میں اڈلی بناتی خیر اس میں کون سا وقت لگتا ہے۔ تم نہا کر آؤ تب تک اڈلی بن جائے گی۔ گرم گرم اڈلی بلکہ میں تو کہتی ہوں ایک دن کی چھٹی لے لو۔ آرام کرو آج ڈاکٹر کو دکھاؤ اور کل دفتر جانا۔ بیماری کو بڑھانا ٹھیک نہیں ہے۔

چندریکا نے وجئے کے دل کی بات کہہ دی تھی پھر بھی اس نے تائید نہیں کی اس لئے کہ ہاں کہنے کے بعد دفتر جانا نا ممکن تھا۔ وہ ناشتے کے بعد فیصلہ کرنا چاہتا تھا کہ دفتر جایا جائے یا نہیں؟ وہ بولا ممی اب اڈلی کی زحمت نہ کریں میں اپما کھا کر دفتر چلا جاؤں گا۔

تم نہ اپما کھاؤ گے اور نہ دفتر جاؤ گے۔ چندریکا نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ تم اڈلی کھاؤ گے اور آرام کرو گے کیا سمجھے؟ کل تک اگر طبیعت سنبھل جائے تو کل ورنہ جب طبیعت ٹھیک ہو گی تب دفتر جاؤ گے۔ تم نے نہیں سنا

تندرستی اگرچہ ہو غالب

تنگدستی میں کیا ملامت ہے

وجئے کومحسوس ہوا کہ اس کی ماں کچھ غلط پڑھ رہی ہے لیکن چونکہ اصلاح اس کے بس کا روگ نہیں تھا اس لئے وہ حمام میں چلا گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ دفتر جائے یا نہ جائے جسم کہہ رہا تھا آرام کرنا چاہئے اور دل دفتر جانے کیلئے بے چین تھا۔ اس لیے کہ ذمہ داری کا بوجھ اگر سر پر ہو تو آرام بھی حرام ہو جاتا ہے۔ وجئے کے واپس آنے تک سامبر کی سوندھی سوندھی خوشبو کمرے میں پھیل گئی تھی اور گرائنڈر زور شور کے ساتھ کھوپرے کی چٹنی پیس رہا تھا۔ وجئے کے آگے ناشتہ لگا کر چندریکا نے کمار سنگے کو فون لگا دیا۔

اجی سنتے ہو؟ تمہارا اکلوتا بیٹا یہاں بخار میں تڑپ رہا ہے اور تمہیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔

تڑپ رہا ہے؟ ابھی صبح میں تو میں نے دیکھا تھا وہ گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا۔ اس ایک گھنٹے میں کون سی قیامت آ گئی؟ کیا وہ دفتر نہیں گیا؟

میں نے بہت سارے سنگدل لوگ دیکھے ہیں آپ جیسا باپ نہیں دیکھا۔ آپ کو اس کے دفتر کی پڑی ہے اور جیسا مالک ویسا گھوڑا وہ بھی دفتر جانے کیلئے پریشان ہے لیکن میں نے اس سے کہہ دیا ہے کہ آج وہ دفتر نہیں جا سکتا اور کان کھول کرسنو میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں؟

ہاں ہاں جلدی بکو ورنہ کان تو کھلے رہیں گے مگر فون بند ہو جائے گا۔ یہ گاہکوں کا وقت ہے جلدی بولو۔

اچھا تو تمہارے یہ گاہک مجھ سے اور میرے بیٹے سے زیادہ اہم ہیں کیوں؟ چندریکا فون پر رونے لگی۔ تمہارے لئے ہم سب بے کار کی چیزیں ہیں بس وہی سبزی ترکاری اور دھندہ بیوپار۔ میں تو تنگ آ گئی ہوں اس گورکھ دھندے سے۔

اری بھاگوان تم غصے میں بھول گئیں کہ کیا کہہ رہی تھیں۔ اب فون بند کروں یا۰۰۰۰۰۰۰

تمہاری کیا مجال کے فون بند کرو؟ میں اسے توڑ کر پھینک دوں گی۔

اگر ایسا ہے تو زہے نصیب میری جان چھوٹ جائے گی اس لئے کہ فی الحال تم وہی فون توڑ سکتی ہو جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ نہ نو من فون ہو گا اور نہ چندریکا گائے گی۔

میں اس فون کو نہیں بلکہ تمہاری دوکان میں آ کر تمہارا فون اور سر دونوں پھوڑ دوں گی کیا سمجھے؟

سمجھ گیا بھاگوان سمجھ گیا اب بول بھی دو کہ کان کھول کر میں کیا سنوں۔ کس لئے تم نے فون کرنے کی زحمت گوارہ کی تھی؟

وجئے کو اپنے والدین کی نوک جھونک پر رشک آ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال آیا شادی کے تیس سال بعد بھی یہ جس طرح کی خوشگوار زندگی گزار رہیں کیا وہ کنگنا کے ساتھ تین سال بھی اس طرح گزار سکے گا؟ شاید نہیں اس لئے کہ کنگنا بہت معقولیت پسند مزاج کی حامل تھی اس کے نزدیک ہمیشہ دو اور دو چار ہوا کرتا تھا جس پر اختلاف ممکن نہیں تھا لیکن چندریکا اور کمار میں سے ایک دو اور دو کو پانچ تو دوسرا تین کہتا تھا۔ ان کے باہمی اختلافات نہ کبھی ختم ہوتے اور نہ زندگی کی چاشنی میں کوئی کمی آتی تھی۔ اس نے سوچا معروضیت کی بہتات بھی زندگی کو سپاٹ اور بے مزہ کر دیتی ہے۔

ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ آپ فوراً دوکان بند کر کے گھر چلے آئیں۔

دوکان کیوں بند کروں۔ میرے علاوہ اور ملازم بھی تو یہاں کام کرتے ہیں۔ میں راجن کو بلاتا ہوں اور اس کے آنے کے بعد گھر آ جاتا ہوں۔

آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں راجن گھر پر ہے تو میں اسے فوراً دوکان پر روانہ کر دیتی ہوں آپ وہاں سے نکلیں۔

کمار قہقہہ لگا کر بولا میڈم آپ میری مالکن ضرور ہیں لیکن راجن میرا سوامی یعنی مالک ہے اس لئے آپ کا حکم مجھ پر تو چل سکتا ہے لیکن اس پر نہیں۔

مجھے نہ پڑھاؤ۔ مجھے سب پتہ ہے میں یہ بات راجن کی مالکن ریوتی سے کہوں گی کیا سمجھے؟

ٹھیک ہے لیکن ایک بات بولوں اب اپنا وجئے چھوٹا بچہ نہیں ہے۔ ہم کب تک اس کو سنبھالتے رہیں گے۔

کیا مطلب؟ وہ میرا لاڈلا بیٹا جیسے پہلے تھا اب بھی ہے۔

ہاں بابا جانتا ہوں اور میں نے کب تمہیں اس کو لاڈ پیار کرنے سے منع کیا ہے۔

ابھی ابھی تو منع کر رہے تھے اور ابھی بدل گئے

جی نہیں میں تو صرف ی