بھساول ۔ناشک ٹاڈا مقدمہ ۲۴؍ سال پرانے مقدمہ کی سماعت شروع ہوتے ہی تھم گئی سرکاری وکیل نے استعفی دے دیا، مزید تاخیر متوقع

۲۷؍جولائی
اللہ اللہ کرکے ۲۴؍ سال بعد شروع ہوئی بھساول ۔ناشک ٹاڈا مقدمہ کی سماعت گذشتہ کل اس وقت تھم گئی جب سرکاری وکیل نے استعفی دے دیا جس سے ملزمین میں بے چینی بڑھ گئی کیونکہ ملزمین کو امید تھی کہ جلدہی ان کے معاملے کی سماعت مکمل ہوجائے گی اور انہیں انصاف حاصل ہوگا۔
گذشتہ کل جب معاملے کی سماعت شروع ہوئی اور سرکاری گواہ سے جرح کرنے کا عمل شروع ہونے ہی جارہا تھا سرکاری وکیل نے ذاتی پریشانیوں کی وجہ سے خصوصی جج ایس سی کھاٹی کو اپنا استعفی سونپ دیا جس کے بعد عدالت کو بحالت مجبور ی مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنا پڑی۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں دہشت گردانہ معاملات میں بے جا گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیئے مشہور ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم کو موقر تنظیم جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کی مہاراشٹر اکائی نے ۲۴؍ سال پرانے مقدمہ میں ماخوذ ۱۱؍ مسلم ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور ملزمین کے دفاع میں ممبئی کے مشہور وکلاء جس میں ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ رازق شیخ، ایڈوکیٹ ارشد شیخ و دیگر شامل ہیں کی تقرری کی تھی جو ہر تاریخ پر ممبئی سے ناشک کی عدالت پہنچ کر ملزمین کادفاع کررہے ہیں نیز مقامی وکلاء کی بھی خدمات حاصل کی گئیں ہیں جس میں ایڈوکیٹ جاوید ویگر شامل ہیں ۔
جمعیۃ علماء لیگل سیل کے سیکریٹری گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہ ۲۸؍ مئی ۱۹۹۴ء کو تحقیقاتی دستہ نے مہاراشٹر کے مختلف شہروں سے اعلی تعلیم یافتہ ۱۱؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153(A) 120(B)اور ٹاڈا قانون کی دفعات3(3)(4)(5), 4(1)(4) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پرالزام عائد کیا تھا وہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کشمیر جاکر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔تحقیقاتی دستہ نے ملزمین کو بھوساول الجہاد نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ناسک اور بھساول میں مسلمانوں کو جہاد کرنے پر اکسا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری عمارتوں سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ شروعات میں مقدمہ پہلے بھساول شہر میں قائم کیا گیا پھر اس کے بعد اسے ناسک منتقل کردیا گیا ، اس درمیان ملزمین کو ضمانت پر رہائی ملی اور ان پر سے ٹاڈا کی چند دفعات ہٹا دی گئیں ۔اب جبکہ سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق ملزمین کے خلاف فردجرم عائد کی جاچکی ہے ، خصوصی عدالت کے جج ایس سی کھاٹی کے سامنے معاملے کی سما عت شروع ہوچکی تھی سرکاری وکیل کے اچانک مستعفی ہونے کی وجہ سے مزید تاخیر ہونے کے آثار دیکھائی دینے لگے ہیں ۔
اس معاملے میں پولس نے جمیل احمد عبداللہ خان، محمد یونس محمد اسحاق، فاروق خان نذیر خان، یوسف خان گلاب خان، ایوب خان اسماعیل خان، وسیم الدین شمش الدین، شیخ شفیع شیخ عزیز، اشفاق سید مرتضی میر، ممتاز سید مرتضی میر، محمد ہارون محمد بفاتی اور مولانا عبدالقدیر حبیبی کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور چارج شیٹ عدالت میں داخل کی گئی تھی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر