میں اردوآبادی اور قوم وملت کیلئے ایک مشن کے تحت کام کرو ں گا: خالد انور  وزیر اعلیٰ مبارک باد کے مستحق ہیں جنہو ں نے صحافت سے تعلق رکھنے والے خالد انور جیسے فعال اور سرگرم نو جوان کو ایم ایل سی بنایا: ڈاکٹر اظہار احمد

پٹنہ ۔( محمد حسنین)آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی قیادت پر بھرو سہ کریں خواہ ان کا تعلق کسی پارٹی ، کسی جماعت اور کسی گروپ سے ہو ۔آپ ان کو طاقت نہیں دے سکتے تو کم سے کم ان کی ٹانگ نہ کھینچیں ۔ تشکیک اور شک و شبہات کے جراثیم کو اپنے اندر سے نکالیں ۔ قو م کا المیہ یہ ہے کہ انہو ں نے امام الہند مو لانا ابو الکلام آزاد کی قیادت پر بھی بھرو سہ نہیں کیا۔ مذکورہ باتیں نو منتخب ایم ایل سی ڈاکٹر خالدانور نے اپنے اعزاز میں رو ز نامہ پیاری اردو کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہیں۔ انہو ں نے یقین دلایاکہ میں اپنے علماء ، ادباء ، دانشورو ں اور شاعرو ں پر بھرو سہ کر کے ایمانداری کے ساتھ قو م و ملت اور اردو آبادی کیلئے مشن کے تحت کام کرو ں گا۔ انہو ں نے ڈاکٹر اظہار احمد ، مشتاق احمد نوری ، فخر الدین عارفی ، اشرف استھانوی ، اسحاق اثر، انجینئر شاہ عظمت اللہ ابو سعید جیسے شخصیتوں سے مجھے بڑا حوصلہ ملاہے ۔ یقیناً بہتر کام کرنے کیلئے ایک پریشر گروپ بنانے کی ضرورت ہے ۔ خالد انور نے کہاکہ ڈاکٹر اظہار احمد اور روز نامہ پیاری اردو پریوار کامیں تہہ دل سے شکر گزار ہو ں کہ جن کی وجہ سے آج مجھے بڑی بڑی شخصیتو ں سے ملنے کا موقع ملاہے۔ انہو ں نے اپنے کرب کا اظہار کر تے ہوئے کہاکہ جن لوگو ں نے میرے انتخاب پر اعتراض کیاہے میں قوم و ملت کی خدمت کر کے اور کام کرکے ان کا بھی بھرو سہ جیتو ں گا ۔ انہو ں نے کہاکہ سیا ست بالکل مختلف چیز ہے جس میں نت نئے تجربات ہو تے ہیں لہذا سیا ست کو محدو د کر لیا تو ہم اپنے مشن میں ناکام ہو جائیں گے ۔ انہو ں نے یقین دلایاکہ میں مشن کے تحت کام کرو ں گا اور آپ کے بھر وسہ کو ٹو ٹنے نہیں دو نگا۔
ایک شام خالد انور کے نام استقبالیہ اور شعری نشست کے سر پر ست ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے چیئرمین تخمینہ کمیٹی بہار اسمبلی و رو ز نامہ پیاری اردو کے چیف ایڈیٹر نے اپنے خطاب میں کہاکہ چونکہ خالدانور متحرک ہیں، نو جوان ہیں ، اردو کا اور قو م کی خدمت کر نے کا جذبہ رکھتے ہیں اس لئے ان سے لوگو ں کو کافی امیدیں ہیں ۔ ڈاکٹر احمد نے وزیر اعلیٰ نتیش کمارکوبھی مبارک باد پیش کیا کہ انہو ں نے ایک سر گرم نو جوان اور صحافت سے تعلق رکھنے والے شخص کا انتخاب کیا۔ انہو ں نے بہار اسمبلی میں اپنے تجر بات کا تذکرہ کر تے ہوئے کہاکہ بہار اور دنیاجانتی ہے کہ ایوان میں رکارڈ توڑ سوالات کرنے کا مجھے شرف حاصل ہے۔ڈاکٹر احمدنے مشورہ دیاکہ قوم وملت ، عوام اور اردو آبادی کے حق کی بات کو ایوان میں مضبوطی سے رکھاکریں ۔ پہلے سے ہی پوری تیاری کرکے اسمبلی میں جایاکریں ۔ اس کیلئے ایوا ن میں وقت دینا پڑے گا۔ اپنی منفر د شناخت بنانے کیلئے اگریسیو ہو نا پڑ یگا۔ آج آپ کو لوگ بہار کے گو شے گو شے سے مبارک باد پیش کر رہے ہیں ۔ آپ کو استقبالیہ دے کر مجھے مسرت ہو رہی ہے کہ ایک جگہ قو م و ملت اور اردو کی نامور ہستیا ں ہیاں مو جو د ہیں ۔ جنہوں نے ہر قدم پر آپ کو بھر پور تعاون دینے کا یقین دلایاہے ہم امید کر ت ہیں کہ آپ ان کی امیدو ں پر کھرا اتریں گے ۔
رو ز نامہ ’ قو می تنظیم ‘کے چیف ایڈیٹر سید اشرف فرید نے اپنے خطاب میں کہاکہ عہدہ تو آتاجاتا رہتا ہے در اصل انسان کا کام بولتا ہے ۔ انہو ں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خالد انور اپنے کام کے ذریعہ اپنی شناخت بنائیں گے ۔ اشرف فرید نے خالد انور کی تو جہ اردو اخبارات کی خستہ حالی کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاکہ حکومت کے ذریعہ اشتہارات میں تخفیف سے اردو اخبارات مسائل سے دور چار ہیں۔ انہو ں نے امید ظاہر کی کہ اردو اخبارات کیلئے اشتہارات کے 30فیصد کو ٹا مقرر کرانے میں اگر خالد انور نے پہل کی تو بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائیگا۔
سینئر صحافی اشر ف استھانوی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈاکٹر خالد انور کے ایم ایل سی منتخب ہو نے پر پوری اردو آبادی خو ش ہے ، قو م وملت سے آپ کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ اگر آپ ان کے صرف پانچ مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو قوم کے چہیتے ہو جائیں گے ۔جن میں اردو اساتذہ کی بحالی ، گیسٹ ٹیچرو ں کی بحالی میں اردو امیدوارو ں کو شامل کرنا ، اقلیتی کمیشن بہار کو آئینی درجہ حاصل ہے لیکن یہ ادارہ گزشتہ کئی سالو ں سے بغیر سر براہ کے چل رہاہے ۔ وہاں چیئرمین بحال کرنا ، منریگا اور پنچایتی راج ادارو ں میں مسلمانو ں کی مناسب نمائندگی ، اردو ٹرانسلیٹرو ں کی اسمبلی ، کاؤنسل اور دیگر ادارو ں میں بحالی وغیرہ اہم اور قابل ذکر ہے ۔اشرف استھانوی نے ڈاکٹر اظہار احمد کاشکر یہ ادا کیاکہ انہو ں نے جمود کو تو ڑا ہے اور ایک شام خالد انور کے نام کا انعقاد کر کے سب سے پہلے استقبالیہ دیا جس کیلئے ڈاکٹر اظہار احمد رو زنامہ ’ پیاری اردو‘ پریوار اور تقریب کے کنوینر شاہ عظمت اللہ ابو سعیدمبارک باد کے مستحق ہیں ۔
شہرت یافتہ افسانہ نگار : فخر الدین عارفی نے ڈاکٹر اظہار احمد کی جانب سے غالب کے اس شعر سے اپنے خطاب کا آغاز کیاکہ۔۔۔ (وہ آئے گھر ہمارے خدا کی قدرت ہے ، کبھی ہم ا ن کو کبھی ہم اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ۔ )
عارفی نے خالد انور کا عظیم آباد کی سر زمین پر استقبال کر تے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر اظہار احمد نے اس تقر یب میں اردو ادب اور اردو سماج کے ان نمائندہ حضرات کو جمع کر نے کا کام کیاہے جو سماج کے کریم لوگ ہیں ، جو سماج کا مزاج بدلتے ہیں ، حکومتیں بناتے ہیں ، حکومت گرا تے ہیں ، ایسی شخصیتیں یہا ں مو جو د ہیں اور آپ کا استقبال کر نے یہا ں آئی ہو ئی ہیں ۔اس لئے کہ انہیں آپ سے کافی امیدیں ہیں ۔ آپ کی خدامت سے ہم بھی واقف ہیں امید ہے کہ ایوان میں اردو آبادی کے مسائل کو مضبوطی سے رکھیں گے ۔ انہو ں نے کہاکہ اگر آپ نے دانشورو ں پر بھر و سہ کیا اور اردو و قو م و ملت کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پریشر گروپ بنا یا تو یقین جانئے کہ کل آپ کے سر پر تاج ہو گا۔ آپ کے پیچھے وہ حضرات کھڑیں ہو ں گے ۔ جو اردو تحریک کیلئے متحر ک ہیں ۔ عارفی نے اردو آبادی کا پریشر گروپ بنانے کا مشروہ دیا اور کہاکہ آپ پر ملت نے بھر و سہ کیا تپتی دھوپ میں آپ کی آواز پر لبیک کہااور گاندھی میدان کو پر کر دیا۔ اور اب آپ کے امتحان کی گھڑی ہے۔
راشٹر یہ سہارا کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سید شہبازنے اردو کی بحالیو ں میں ڈنڈی ماری پر نگاہ رکھنے اور گیسٹ ٹیچرو ں کی بحالی میں اردو امیدوارو ں کو شامل کرنے کا مشورہ دیا۔ساتھ ہی اردو اخبارات کے اشتہارات کی کٹو تی کا بھی تذکرہ کیا۔ اور امیدظاہر کی کہ خالد انور اس جانب تو جہ دیں گے ۔
صدر جلسہ بہار اردو اکادمی کے متحرک اور فعال سکریٹری مشتاق احمد نوری نے ڈاکٹر خالد انور کا والہانہ استقبال کر تے ہوئے کہا کہ آپ صحافت سے سیاست میں آئے ہیں ، ایک صحافی صحیح سمت میں آگے بڑھتا ہے تو مسائل حل ہوتے رہتے ہیں انہو ں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمارنے محکمہ اقلیتی فلا ح کیلئے بڑا بجٹ دیا ہے ، اقلیتو ں کی بھلائی کیلئے کئی پلاننگ بنائے ہیں اور تمام کو نافذ کر نے کی ہدایت بھی جاری کی ہے باوجو د اس کے جب نفاذ کا وقت آتا ہے تو افسران تعصب سے کام لیتے ہیں اور ڈنڈی ماری کر تے ہیں ۔ اسمبلی اور کو نسل سے اردو اسامیو ں کے عہدو ں کو ایک ساز ش کے تحت ختم کرنے کی کو شش کی گئی ۔ پاٹلی پتر ااور پور نیہ یونیور سیٹی میں اردو کا پو سٹ کریٹ نہیں کیاگیا۔ بہت ہی مہین کاریگری سے اردو اور اقلیتو ں کے خلاف کام ہو رہاہے انہو ں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ دانشور طبقہ سے مل کر کام کریں گے تو یقیناً اپنے مشن میں کامیاب ہو نگے ۔
استقبالیہ اور شعری نشست کے کنوینر انجینئر شاہ عظمت اللہ ابو سعیدنے خالدانور کا استقبال کر تے ہوئے کہاکہ آج میں بہت خو ش ہو ں کہ صحافتی دنیا کی بڑی بڑی شخصیات اور دانشور و ں کی جماعت ایک جگہ جمع کرنے کی میری کو شش کامیاب رہی ۔ ایسی محفل دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہے ، اردو آبادی نے اختلافات الگ کر کے سب نے اپنی نمائندگی درج کرائی ۔ اور میں ڈاکٹر اظہار احمد اور ’ پیاری اردو خاندان کا بھی شکر گزار ہو ں۔ اورخالدانور سے انہو ں نے اپیل کی کہ آپ سے ارو آبادی اور صحافتی برادری کو بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں چونکہ آپ ایک خو د صحافی ہیں میں چاہتاہو ں کہ بہار و ملک اور عالمی پیمانے پر آپ ایک ایسا پلیٹ فار م تیار کریں جس میں زمینی سطح سے لے کر اور سر کار کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک عالمی پیمانے پر اردو آبادی کو جوڑ کر ایک سمینار بلاکر کمیٹی تشکیل دیں ،جس سے قوم وملت کی فلا ح و بہبو د ہو سکے ۔
استقبالیہ تقریب سے خطاب کر نے والو ں میں ڈاکٹر خورشید انور ، نوادہ ضلع اوقاف کمیٹی کے چیئرمین اقبال حیدر ، پر نسپل لاء کالج پٹنہ ڈاکٹر شریف انصاری ، کو لکاتہ سے آئے ہوئے محمد محبوب وغیرہ کے اسماء گرامی کے نام قابل ذکر ہیں۔استقبالیہ تقریب میں شرکت کر نے والو ں میں گر انڈ اپارٹمنٹ کے سر پر ست بابر یونس ، انوارلہدیٰ ، معین گریڈوی ، علامہ اقبال کالج بہار شریف کے پرنسپل ڈاکٹر فرو ز عالم ، پرو فیسر فاروق اعظم ، پرو فیسر ریاض الدین ، آفتاب احمد، محسن جعفری، عبدالباقی ، دانش رضا، ارشادعالم ، نسیم انصاری ،غزالہ ترنم ، نو شاد عالم ، محمد راجا، مو لانا محمد اعجاز عالم سابق چیئر مین مدر سہ بورڈ ،رو زنامہ ’ انقلاب کے نمائندہ محمد جاوید، رو زنامہ ہمارا سماج کے نمائندہ نعمت اللہ وغیرہ اہم ہیں۔ تقریب کا آغاز مو لانا حافظ عبدالقادر نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور شنکر کیموری نے حمد و نعت پیش کیا ۔ استقبالیہ تقریب کی نظامت اسحاق اثر، ایڈیٹر روز نامہ پیاری اردو نے بحسن وخوبی انجام دی۔اور اخبار کے چیف بیورو راجیش کمارنے تقریب میں شرکت کر نے والو ں کا شکر یہ اداکیا۔
استقبالیہ تقریب کے بعد شنکر کیموری کی نظامت میں ایک مخصوص مشاعرہ کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں طلعت پروین ، شمع ناسمین ، انور خور شید، ناشاد اورنگ آبادی ، کامران غنی ، شمیم قاسمی ، ظفر صدیقی ، معین گریڈوی، مشتاق