جامعہ رحمت کادینی تعلیم میں بہترمقام بنا ہوا ہے ! مولانا عبداللہ مغیثی

سہارنپور(احمد رضا) گزشتہ روز علاقہ کی معروف و مشہور دینی درسگاہ جامعہ رحمت گھگرولی سہارنپور میں تعلیمی سال کے آغاز پر ایک تقریب زیر صدارت مولانا حکیم محمد عبد اللہ مغیثی مہتمم گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ انعقادہواس شاندار تقریب کی نظامت کے فرائض مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ ہذانے انجام دئے مہتمم نے بتایا کہ الحمد للہ علاقہ وبیرونی طلباء کی خاصی تعداد نے فارسی، عربی درجات، شعبۂ حفظ وناظرہ و ہائی اسکول و شعبۂ کمپیوٹرمیں مدارس اسلامیہ کے حسب معمول نظام کے تحت داخلوں کی کارروائی کے تکمیلی مراحل سے گزرتے ہوئے داخلہ کیلئے درخواستیں پیش کی ہیں جو بہتر نتائج کا اشارہ ہے اس اہم دینی پروگرام کاآغاز جامعہ کے استاذ قاری محمد اسجد نے تلاوت کلام اللہ شریف سے کیا اس تقریب میں مولانا عبد اللہ مغیثی نے اپنے کلیدی خطاب میں مہتمم جامعہ ڈاکٹر اے مغیثی او ر سبھی اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اتنی قلیل مدت میں جامعہ کے اندر اتنے طلباء کی کثرت یقیناًجامعہ کے مہتمم اور اساتذہ کرام کی محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے آپنے کہا کہ دینی تعلیم کا نظام بھی یہاں کافی بہتر بناہوا ہے، آپنے مدرسہ کے مہتمم ،طلباء واساتذہ کو اصلاحِ نیت کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیت درست ہوگی تو طلباء کا آنا بھی مبارک اور اساتذہ کا آنا بھی مبارک نیز مولانا حکیم عبداللہ نے اساتذۂ جامعہ ہذا کو ہدایت کی کہ طلباء کے ساتھ اپنے بچوں کی سی شفقت کا معاملہ کریں اور بچوں کو بھی کہا کہ وہ بھی اساتذہ کو اپنے والدین کی طرح سمجھیں ،اس مبارک موقع پر صدر نے موجود تمام طلبہ کو مبارک باد پیش کی اور کہاکہ آپ حضرات کیلئے بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام عظیم کے سیکھنے سکھانے کیلئے قبول فرمایا اور کہا کہ مدارس اسلامہ اسلام کے مضبو ط قلعے ہیں ،جن کی بقاء اور تحفظ کیلئے اللہ نے آپ کو مدارس اسلامیہ سے جو ڑ پیدا فرمادیا ہے، اللہ تعالی جس انسان سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں تو اس لئے اللہ تعالی نے تمام انسانوں میں سے چن کر آپ حضرات کا انتخاب فرمایا ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے ،تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اسلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نیتوں کو درست رکھیں اور علم دین صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے حاصل کریں اللہ کے نبیؐ کا ارشاد ہے کہ علم دین کاحاصل کرنا ہرمسلمان عاقل بالغ مرد عورت پر فرض ہے ۔انہوں نے وقت کی قدرو قیمت اور اپنے اساتذہ اور آلات علم کا ادب احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ علم بغیر عمل کے بے سود ہے ۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ اپنے اکابر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امور لا یعنی سے بچتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مصروف ہوکر اپنے مستقبل کو تابناک بنانا چاہئے انہوں نے مزید کہا ، جو طالب علم زمانہ طالب علمی میں گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں ان کا علم انکو نفع پہونچاتا ہے ، اس کے بر خلاف گناہوں سے نہ بچنے والے اور دیگر امورِ دنیوی میں مشغول رہ کر علم حاصل کرنے و الے طالب علم کو انکا علم فائدہ نہیں پہونچاتا، امام شافعی ؒ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے حافظہ کی کمزوری کی شکایت اپنے استاذ امام وکیع ؒ سے کی تو انہوں نے گناہوں سے بچنے کی تلقین کی اور کہا کہ علم اللہ کا نور ہے اور اللہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاسکتا انہوں نے طلبہ کو اسوہ رسول اور اسلامی شعائر کو اپنا نے پر زور دیا اور کہا کہ ہمارے اکابر کی عملی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے طلباء کو صوم صلوۃ کی پابندی اور سنت نبویؐ پر عمل کی تاکید کی اور کہا کہ بچپن سے جو طالب علم نمازوں اور سنتوں پر عمل پیرا رہیگا انشاء اللہ ساری زندگی اس پر عمل کرتا رہیگا اور جس نے بچپن میں ہی نمازوں میں سستی سنتوں سے اعراض کیا پھر آئندہ چل کر اسکو عمل کرنا بڑامشکل ہوگامولانا مغیثی نے کہا طالب علم کو تین باتوں کا خاص دھیان رکھنا چاہے(۱ٗ )استاذوں کا ادب اور ان کی خدمت(۲ )ٓلات علم یعنی کتب وغیرہ کی دل سے عظمت و محبت کرے (۳ )مدرسہ وہ جگہ جو علم سیکھنے کا ذریعہ بنی ہے یعنی مدرسہ کا ادب و احترام اور اسکو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرے اور اپنی ذات سے مدرسہ کو نقصان سے بچاےٗ انھوں نے کہا کہ استاذ الاساتذہ علامہ شاہ کشمیری رحمۃاللہ علیہ اپنے مطالعہ کے دوران جب ان کو حاشیہ دیکھنے کی ضرورت پیش آتی تو کتاب کو نہیں گھما یا کرتے تھے بلکہ از خود اٹھ کر دوسری جانب جاکر دیکھ لیا کرتے تھے انھو ں نے کہا کہ جس کے اندر تین صفات پیدا ہوجاٗیں تو وہ وقت کا امام ہوتاہے (۱ ) علم (۲)عمل (۳ )اخلاص ،جس میں یہ تینوں چیزوں پیدا ہوجاٗیں گی تو علم کی بجلی اس کے اندر تیزی سے دوڑتی نظر آ ے گی اور منزل مقصود خود آ گے بڑھ کر اسکا استقبال کرے گی ،مولاناعبدالمالک مغیثی نے دوران نظامت طلباء کی اصلاح وتربیت کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ طلباء کی اصلاح وتربیت پر خاص دھیان دیں، مولانا نے مزید کہا کہ اکابرین دین تعلیم و تزکیہ کا مجموعہ ہوا کرتے تھے ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ،الحمد للہ جامعہ میں شعبۂ حفظ وتجوید، ہائی اسکول، شعبہ فارسی ، عربی میں طلباء کی ایک بڑی تعداد باقاعدہ داخلہ لیکر حصول علم میں مشغول ہو چکی ہے،طلبہ کو چاہٗے کہ نماز کی پابندی اور اسباق کی ناغہ نہ کریں جامعہ کے طلباء واساتذہ و دیگر مہمانان کرام شریک رہے ، تقریب کا اختتام بانی و سرپرست مولانا حکیم عبداللہ مغیثی کی پرمغز دعاء پر ہوا !