ہمار ا مقصد ایسے لوگوں کو تیار کرنا ہے جو قوم کے سچے خادم بنیں اگلے چھ ماہ میں دس ہزار نوجوانوں کو تربیت دے کر تیار کیا جائے گا جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام’جمعیۃ یوتھ کلب‘ تعارفی پروگرام میں مولانا سید محمود مدنی کا اظہار،طلباء نےاپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا

دیوبند۔۲۴؍ جولائی : (رضوان سلمانی)آج یہا ں دیوبند کے فردوس گارڈن میں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام’جمعیۃ یوتھ کلب تعارفی پروگرام و مظاہرہ منعقد ہو ا ‘جس کی سرپرستی امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور صدارت مولاناحسیب صدیقی خازن جمعیۃ علماء ہند نے فرمائی۔اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے نوجوانوں کو جوڑنے کے لیے اپنے پائیلیٹ پروجیکٹ ’جمعیۃ یوتھ کلب‘ کا تعارف اور خاکہ پیش کیا۔ دریں اثنا تین ریاستوں گجرات، میوات اور مغربی اترپردیش سے منتخب ۹۶؍ طلبا نے اپنے فن کا بھی مظاہرہ کیا ۔مولانا محمود مدنی نے اعلان کیا کہ موجودہ پلان کے مطابق اگلے چھ ماہ میں دس ہزار نوجوانوں کو تربیت دے کر تیار کیا جائے گا جوفروری ۲۰۱۹ء میں عوامی طور پر اپنی نمائش پیش کریں گے ۔مولانا مدنی نے اس موقع پر یوتھ کلب کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالی ، انھوں نے کہا کہ یہ منفی نہیں بلکہ تعمیری قدم ہے،ہمار ا مقصد ایسے لوگوں کو تیار کرنا ہے جو قوم کے سچے خادم بنیں اور ضرورت پڑنے پر خود کی حفاظت کے اہل ثابت ہوں۔مولانا مدنی نے کہا کہ آج امت سب سے زیادہ داخلی بحران کی شکار ہے، ملک کے موجودہ حالات میں جس طرح مسلمانوںکو ٹارگیٹ کیا جارہا ہے، اس سے نوجوانوں میں مایوسی ، مرعوبیت اور اپنی شناخت گم ہونے کااحساس پنپ رہا ہے۔ اس لیے یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو اس سنگین بحران سے نکا لا جائے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ امت کا ہر فرد ایک دوسرے کا معاون بن جائے اورمکان کی اینٹ کی طرح ایک دوسرے سے منسلک ہوجائے ،وہ اتنا مضبوط ہوجائے کہ کوئی بھی خارجی بحران اس کا بال بیکانہ کرسکے۔انھوں نے کہا کہ عزت حاصل کرنے کا ایک کامیاب نسخہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کا دل جیتیں، اپنے اندر سچائی ، ایمانداری ، غم گساری اور دوسروں کی مدد کاداعیہ پیدا کریں ۔ اگر کسی قوم میں یہ پیدا ہو جائے تو یہ اس کی بقا و سربلندی کی ضمانت ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہم پچھلے پانچ سالوں سے نوجوانوں کی ذہنی وجسمانی تربیت پر کام کررہے ہیں، ہم نے پانچ ہزار طلباء کی تربیت کرائی ہے ۔اس کے لیے ملک کا تسلیم شدہ ادارہ بھارت اسکائوٹ اینڈ گائیڈ کو منتخب کیا ہے ، یہ ایساسسٹم ہے جو انسانی بنیاد پر کام کرتا ہے ، یہ کوآرڈی نیشن کا طریقہ سکھلاتا ہے ، تاکہ جسمانی اور ذہنی طور سے بہتر طریقے سے خدمت انجام دینے کا ہنر پیدا کیا جائے ۔ مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داروں سے کہا کہ بلا تردد اس کام میں لگ جائیںاور ہمارے پروجیکٹ کو کامیاب بنائیں ۔انھوں نے جمعیۃ یوتھ کلب کے بارے میں بتایا کہ اسکول اور مدرسے کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شامل ہو سکیں گے، تاہم اسکول اور مدرسے کے بچے ڈائریکٹ بھارت اسکائوٹ اینڈ گائیڈ سے وابستہ ہوں گے اوراٹھارہ مہینہ میں تین درجوں کی تربیت کے بعد ’خادم ملت‘ میں شامل ہونے کا حق دا رہو ںگے او ر جو لوگ اسکول اور مدرسے میں نہیں ہیں ان کو ہم ڈائریکٹ جمعیۃ یوتھ کلب میں شامل کریں گے ۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ نوجوانوں کی جسمانی تربیت بہت ضروری ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالے نے جہاں حضرت طالوت علیہ السلام کے بادشاہ بنانے کا ذکر کیا ہے ، وہیں جسم اور علم کو فضیلت اور بادشاہت کا سبب قراردیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہمارے اکابر بالخصوص حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ آخر عمر تک مگدر چلاتے تھے ، ہمارے زمانہ طالب علمی میں دارالعلوم دیوبند میں ایک پہلوان رکھا جاتاتھا جو لڑکوںکو جسمانی ورزش کرواتا تھا ۔انھوں نے کہا کہ آج کے حالات میں کچھ جماعتیں کھلے عام آتشیں اسلحوں کی نمائش کرتی ہیں ، جن کا مقصد دوسروں کو مرعوب کرنا ہوتاہے ۔ہم بھی ملک کے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے نوجوانوںکی لیاقت کا کھلے عام مظاہرہ کریں گے ؟ازیں قبل اپنے افتتاحی خطاب میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے جمعیۃ علماء ہند کے دستور و تاریخ کی روشنی میں اس مشن کا تعارف کرایا اور کہا کہ یہ حضرت ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کا پائیلٹ پروجیکٹ ہے۔حضرت کی شب و روز محنت وتوجہ کی بدولت یہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ہدایت اللہ صدیقی سابق افسر بھارت اسکائوٹ اینڈ گائیڈ مدھیہ پردیش نے اسکاؤٹ اور جمعیۃ یوتھ کلب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارٹ اسکائوٹ اینڈ گائیڈ ، جمعیۃ یوتھ کلب اور جمعیۃ علماء ہند مل کر ملک اور قوم کی خدمت کریں گے ۔ماسٹر نوشاد علی نے اسکائوٹ اینڈ گائیڈ کے تین بنیادی کام(۱) ڈیوٹی ٹو گوڈ (۲) ڈیوٹی ٹوادرس ( ۳) ڈیوٹی ٹو سیلف پر روشنی ڈالی ۔ بچوں کا فن دیکھنے کے بعد مولانا مدنی نے اپنے ہاتھوں سے ان کو شیلڈ اور سرٹیفیکٹ سے نوازا ۔ اس موقع پر مولانا عبدالقدوس پالن پوری گجرات، مولانا محمد یحیی کریمی میوات اور مولانا محمد عاقل کیرانہ نے بھی اپنی کارگزاری پیش کی ۔ان کے علاوہ جو شخصیات اسٹیج پر جلوہ افروز تھیں ان میں مولانا معزالدین احمد، مولانا کلیم اللہ فیض آبادی ،مولانا مفتی بنیامین، مولانا عاقل گڑھی دولت، حافظ عبیداللہ بنارس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ مولانا حسیب صدیقی نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ انھوں نے بالخصوص پروگرام کے کامیاب انتظام کے لیے مولانا سید محمد مدنی ، مولانا ظہور احمد قاسمی ، سید ذہین احمد مدنی اور مولانا ابراہیم قاسمی ودیگر حضرات کو مبارک باد پیش کی۔اس موقع پر گجرات، میوات اور مغربی اترپردیش سے جمعیۃ یوتھ کلب اور جمعیۃ علماء کے مقامی و ریاستی ذمہ داران بھی موجود تھے۔ آج کے پروگرام میں قاری احمد عبداللہ نے ترانہ پیش کیا ،نظامت کے فرائض مولانا حکیم الدین قاسمی اور نوشاد علی صدیقی نے مشترکہ طور سے انجام دیے، مجلس کا آغاز کا قاری محمد ایوب کی تلاوت سے ہوا۔مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری کی دعاء پر پروگرا م اختتام پذیر ہو ا ۔