کانوڑ یاترا تحفظ کے نام پرمغربی یوپی کے عوام خوف وحراس کا شکار!

سہارنپور( خاص خبراحمد رضا) گزشتہ شب شہر کے چندعلاقوں میں پچھڑا سماج مہا سبھا کی دو رکنی ایک ٹیم نے ضلع کے سنجیدہ افراد سے ملاقات کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے صاف طور سے کہاکہ ۲۰۱۹ میں لوک سبھا چناؤ جیت نیکے لئے بھاجپائی اور کٹر ہندوتنظیمیں ملک میں خوف حراس پھیلاکر اقلیتی فرقہ کو دبانے اور منتشر کر دینے کی اپنی۸۰ سال پرانی سوچ اورسازش کو آج پوری طرح سے لاگو کئے جانے پر بضدہے جس کے نتائج پچھلے چار سالوں سے مختلف واقعات کی شکل میں سامنے آرہے ہیں کبھی تین تلاق پر لکشمی ورما عرف فرحہ فیض کے ذریعہ عالم دین پر حملہ اور اسی عالم کو جیل بھیج دینا، کبھی مدارس کے کردار پر تنقید کبھی ڈاکٹر جسیم احمد کے ذریعہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو بدنام اور دشٹرب کرنیکی سازش کبھی مسلمانوں کو نیچادکھانیکے لئے مدارس کے علماء کرام اور مساجد کے اماموں پر حملہ کہیں گؤ کشی کے نام پر بیہودہ دہشت گردی کا مظاہرہ کہیں مذہبی فرقہ وارانہ تنقید تو کبھی غنڈوں کی بڑی بھیڑ کے ذریعہ ایک خاص پلاننگ کے تحت مسلم افراد پر قاتلانہ حملہ کیاجانا چند ایسے شرمناک واقعات ہیں کہ جنکے رونما ہونے سے ملک میں ہندو دہشت کے طاقتور بن جانے کی آہٹ کا احساس خد بہ خد ہونے لگتاہے!
پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی سربراہ اے ایچ ملک کا کہناہے کہ ۲۸ جولائی سے شروع ہونیوالی کانوڑ یاترا کیلئے کانوڑیوں کی حفاظت کیلئے ریاستی سرکار کے ذریعہ اعلیٰ بندوبست ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ ساٹھ میل لمبے راستوں پر پھولوں کی بارش، ڈی جے تیز آواز سے بجانے کی کھلی چھوٹ اور راستہ میں آنیوالے سبھی مسلم ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانات کو بند کئے جانیکے احکامات سے ظاہر ہوتاہے کہ ہندو فرقہ کو ہر طرح کی چھوٹ دینا مسلم فرقہ کو خائف کرنے کی سازش کے سوائے کچھ بھی نہی؟پچھڑا سماج مہا سبھا کے قومی سربراہ اے ایچ ملک نے بتایا علاوہ ازیں گزشتہ عرصہ یوپی اسمبلی میں پینٹ پاؤڈر رکھواکر آر ڈی ایکس کا شور شرابہ ، کانوڑ یاترا پر حملہ ، امرناتھ یاترا پر حملہ کا بہانہ بناکر ملک کے ہر گوشہ خاص طور سے یوپی ،ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ کے کچھ علاقوں میں مسلمانوں کو تنگ نظری اور تشدد کا نشانہ بنایاجاناپر طرح طرح سے حملہ جاری ہیں کانوڑ یاترا کے نام پر بھاجپاکی سرکا اور سرکار کے اپنے نمائندے از خد افواہیں اور خوف پھیلا رہے ہیں اے ایچ ملک نے صاف کہا کہ ہندو مسلم آج بھی ساتھ ساتھ ہیں کوئی گؤ کشی نہی ہورہی ہے اورکہیں بھی ہندو تیرتھ یاتریوں اور کانوڑیوں پر مسلمان حملہ نہی کر رہے ہیں سبھی تیوہار مل جل کر منانے کی روایت ہندو مسلم میں قائم ہے خد بھاجپائی اس یکجہتی کو نقصان پہنچانے پر بضد ہے آپنے کہاکہ اس طرح کے اقدام چناؤ جیت نیکے پلان کی گہری سازش کا ایک حصہ ہے ،اے ایچ ملک نیکہا ہیکہ گؤکشی، کانوڑ یاترا پر اورامرناتھ یاترا پر حملہ کے ساتھ ساتھ تین طلاق کو مدعا بناکر آجکل ملک کے ہر گوشہ خاص طور سے یوپی ،ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ کے کچھ علاقوں میں مسلمانوں پر طرح طرح سے حملہ جاری ہیں مسلم فرقہ کو بدنام کیا جارہاہے جو قابل تشویش عمل ہے! بھاجپائی سرکا اور سرکار کے اپنے نمائندے از خد افواہیں اڑارہے ہیں اور خوف پھیلا رہے ہیں کہیں بھی ہندو تیرتھ یاتریوں پر مسلمان حملہ نہی کر رہے ہیں اور نہ ہی کانوڑ یاترا سے مسلمانوں کو کچھ تکلیف ہے تکلیف تو خد بھاجپائی ٹیم پیدا کر رہی ہے خوف پھیلا رہی ہے !گزشتہ ۸۰ سالوں سے ملک میں مسلم فرقہ نے کچھ جبر یا زیادتی نہی کی چند گروہ جان بوجھ کر مسلم فرقہ کو ملک دشمن اور امن دشمن قرار دیکر اپنا ووٹ بنک مظبوط بنانا چاہ رہے ہیں جسکی مذمت ضروری ہوگئی ہے ہندو فرقہ کو رجھانیکے کیلئے ہی نشانہ پر مسلم فرقہ ہی کو رکھا گیاہے اور سبھی ظلم بھی اسی فرقہ پر کئے جارہے ہیں !


مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر مغربی یوپی میں شیو راتری کے موقع پر اور کانوڑ یاترا کے تحفظ کیلئے بہتر بندوبست کئے جارہے ہیں مگر شاید امسال کچھ زیادہ ہی جوش ظاہر کیاجارہاہے جو عام آدمی کیلئے باعث تشویش قدم ہے آپکو معلوم ہونا ضروری ہیکہ شیو راتری کے روز شیو جی پر پانی چڑھانے کی رسم کو لیکر مختلف مقامات سے چلکر ہردوار ہرکی پوڑھی سے جل یکجا کرنیوالے افراد کو کانوڑیہ پکارا جاتاہے گزشتہ تیس سال سے یہاں کے مغربی اضلاع میں ہریانہ، پنجاب ، شاملی، باغپت، بڑوت ، مظفر نگر اور میرٹھ سے آنے والے دس لاکھ کے قریب پیدل اور ڈاک کانوڑیوں سے مسلسل چھہ دن تک ہمارے اہم علاقوں میں میلہ سالگا رہتا تھا مگر کہیں کوئی دقعت یا الجھن کانوڑ لیجانے والوں کو نہی تھی عوام کے بیچ سے ہزاروں کانوڑئے آتے جاتے تھے آپکو یہ بھی بتادیں کہ ایک سو دس کلومیٹر کے کانوڑ آنے جانے کے راستہ مسلم اکثریتی علاقوں سے گھرے ہوئے ہیں مگر خدا کا کرم ہیکہ گزشتہ تیس سالوں سے اس سو کلومیٹر لمبے راستہ پر کوئی اڑچن پیدا نہی ہوسکی ہریانہ کے ضلع جمنانگر سے اترا کھنڈ کے اہم ضلع ہردوار کے جوالاپور تک سیکڑوں مسلم اکثریتی علاقہ موجود ہیں اور لگاتار تیس سالوں سے یہ کانوڑیہ اسی راستہ سے گزرتے آرہے ہیں آن ریکارڈ کہیں کچھ نہی ہوا مگر پچھلے دس سالوں سے ملائم سنگھ ، مایاوتی اور اکھلیش کے راج کاج میں ان کانوڑیوں کی یاتیا کوبھی بھگوا بنا دیاگیاہے مساجد اور مدارس کے سامنے فجر سے لیکر عشاء کی نمازوں کے درمیان یہ کانوڑیہ ہر دومنٹ کے وقفہ کے بعد زبردست شور شرابہ اور ڈے جے کے ساتھ گزرتے رہتے ہیں ان کی تمام بیہودہ حرکات نظر انداز کی جاتی ہیں جبکہ سب سے زیادہ الجھن کا شکار بن تاہے اقلیتی فرقہ اور اس بد نظمی کیلئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے مقامی پولیس اور انتظامیہ کیونکہ یہ سب کچھ دھرم کرم کیلئے نہی بلکہ داداگری ثابت کرنیکی غرض سے زور وشور سے انجام دیا جاتاہے کبھی یہ تعداد ایک لاکھ تک محدود تھی مگر پچھلے چار سال سے یہ تعداد اچانک ایک لاکھ سے تیس لاکھ تک پہنچ گئی اور اس پر تعجب یہ کہ ان سبھی کانوڑیوں کی بھاری بھیڑ کو کنٹرول کرنیکے بجائے دس دن تک عوام کوہی گھروں اور انکے علاقوں میں محصور کردیاجاتاہے ساٹھ کلو میٹر لمبے راستہ میں آنے والے سبھی مسلم کھانہ کے ہوٹل جبریہ طور سے دس دن تک بند کرادئے جاتے ہیں دس روز تک سو کلومیٹر کے بیچ پھیلی ہوئی تین کروڑ عوام کی گھنی اور ملی جلی آبادی والے اہم علاقوں میں ان کانوڑیوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتاہے کانوڑ کے آنے جانیکے لئے مین راستوں پر خاص پلاننگ کے مطابق سبھی طرح کے وہیکل سڑکوں سے دور کردئے جاتے ہیں جگہ جگہ پولیس کی گہری نظروں کے سامنے کانوڑ یوں کینہانے سونے اور کھانے کیلئے سواگت کیمپ لگادئے جاتے ہیں جہاں ان کانوڑیوں کو مفت کھانہ ، پینا ، نہانہ اور طبی علاج کے ساتھ ساتھ بھجن اور کیرتن کا سازوسامان بہ آسانی فراہم کیا جاتاہے یاتریوں پر کڑی نگاہ رکھنے کے علاوہ یاترا کے دوران راستہ بلاک کرتے ہوئے مقامی مریضوں کا معالجوں کے پاس آنا جانا بھی مکمل طور سے بند کردیاگیا ہے یاترا کے راستہ میں پڑنیوالے سبھی پرائمری اسکول سے لیکر ڈگری کالج تک ہفتہ بھر کیلئے کانوڑیوں کے سواگے میں بند کردئے جاتے ہیں کل ملاکر کانوڑ کو تحفظ دینے کینام پر یہاں گزشتہ دس سالوں سے ایک سو دس کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے عوام کو تنگ وپریشان کیا جارہاہے اسی لمبے روٹ پر دس دنوں کیلئے اب صرف اور صرف پولیس اور کانوڑیہوں کا دبدبہ قائم رہتاہے عام مجبور آدمی ضروریات پورا کرنیکے لئے سامان کی خرید کیلئے در در بھٹکتارہتاہے!