*قلم بھی امانت ہے ذرا سنبھل کر میاں*

تحریر: توقیرعالم غازی پوری

نیاخون، نیاجوش، نیا جذبہ اور کم تجربہ اور چڑهتی جوانی میں صرف زبان پر کنٹرول ضروری نہیں: بلکہ جسم کے تمام اعضا کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کی طاقت اور جوشِ قلم کاری کو بھی قابو میں رکھنا پڑے گا، اپنے تخیلات کے اظہار میں افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔

حیرت ہوتی ہے ان نام نہاد بے باک قلمکاروں پر جو اپنی حماقت کے بل بوتے پراس درجہ تشدد تک پہنچ جاتے ہیں کہ سامنے والے کو کافر،فاسق، گستاخ رسول و گستاخ صحابہ اور نہ جانے کیسے کیسے الزامات لگاکر اپنی جہالت اور عصبیت کا کھلا ثبوت دیتے ہیں۔

اور افسوس ہوتا ہے ان قلم کے شہسواروں پر بھی جو اپنے قلم کا زور خراب کو اچھا، ذلیل کو جمیل، بدذوق کو باذوق ،مطلق جاہل کو مفکر وقت وعالم ربانی بنانے میں صرف کرتے ہیں اور نہ جانے کیسی کیسی غلاظت کو اپنے انوکھے انداز سے سونا ،ہیرا اور یاقوت ثابت کرنے میں لگاتے ہیں.
ان سے میری درخواست یہی ہے کہ

*اے اہلِ قلم ہوش میں آنا ہی پڑیگا*

خدارا قلم کو امانت سمجھ کر اس کا صحیح استعمال کیجیے، چاپلوسی، حسد، بغض، اور تعصب کی بنیاد پر اپنے تخلیات کو شائع کرکے اپنے قلم اور ضمیر کو شرمندہ نہ کیجیے۔

خدارا ہر مسئلہ میں معتدل راہ اپنائیے، انصاف کی بات کیجیے، غیر جانب دارانہ قلم اٹھائیے۔

از
توقیر عالم غازی پوری
حجتہ السلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند