بھساول ۔ناشک ٹاڈا مقدمہ ۲۴؍ سال پرانے مقدمہ کی سماعت ناسک عدالت میں شروع جمعیۃ علماء نے ممبئی کے وکلاء کی تقرری کی، آج پہلے سرکاری گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا

۱۷؍جولائی
دہشت گردانہ معاملات میں بے جا گرفتار مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے کے لیئے مشہور ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم کو موقر تنظیم جمعیۃ علماء ہند (ارشد مدنی) کی مہاراشٹر اکائی نے ۲۴؍ سال پرانے مقدمہ میں ماخوذ ۱۱؍ مسلم ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور ملزمین کے دفاع میں ممبئی کے مشہور وکلاء جس میں ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ رازق شیخ، ایڈوکیٹ ارشد شیخ و دیگر شامل ہیں کی تقرری کی ہے جو ہر تاریخ پر ممبئی سے ناشک کی عدالت پہنچ کر ملزمین کادفاع کررہے ہیں نیز مقامی وکلاء کی بھی خدمات حاصل کی گئیں ہیں جس میں ایڈوکیٹ جاوید ویگر شامل ہیں، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء لیگل سیل کے سیکریٹری گلزار اعظمی نے دیتے ہوئے کہا کہ بالآخیر ۲۴ ؍سالوں کے طویل انتظار کے بعد مقدمہ کا باقاعدہ آغاز ہوا اور عدالت میں پہلے سرکاری گواہ نے گواہی دی جس سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے جرح کی ۔
گلزار اعظمی نے مقدمہ کے تعلق سے بتایا کہ ۲۸؍ مئی ۱۹۹۴ء کو تحقیقاتی دستہ نے مہاراشٹر کے مختلف شہروں سے اعلی تعلیم یافتہ ۱۱؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153(A) 120(B)اور ٹاڈا قانون کی دفعات3(3)(4)(5), 4(1)(4) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور ان پرالزام عائد کیا تھا وہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کشمیر جاکر دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی ٹریننگ حاصل کی تھی۔
تحقیقاتی دستہ نے ملزمین کو بھوساول الجہاد نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ناسک اور بھساول میں مسلمانوں کو جہاد کرنے پر اکسا رہے تھے اور انہوں نے سرکاری عمارتوں سمیت دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ شروعات میں مقدمہ پہلے بھساول شہر میں قائم کیا گیا پھر اس کے بعد اسے ناسک منتقل کردیا گیا ، اس درمیان ملزمین کو ضمانت پر رہائی ملی اور ان پر سے ٹاڈا کی چند دفعات ہٹا دی گئیں ۔اب جبکہ سپریم کورٹ کے حکمنامہ کے مطابق ملزمین کے خلاف فردجرم عائد کیا جاچکا ہے ، خصوصی عدالت کے جج ایس سی کھاٹی کے سامنے معاملے کی سما عت شروع ہوچکی ۔
اس معاملے میں پولس نے جمیل احمد عبداللہ خان، محمد یونس محمد اسحاق، فاروق خان نذیر خان، یوسف خان گلاب خان، ایوب خان اسماعیل خان، وسیم الدین شمش الدین، شیخ شفیع شیخ عزیز، اشفاق سید مرتضی میر، ممتاز سید مرتضی میر، محمد ہارون محمد بفاتی اور مولانا عبدالقدیر حبیبی کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور چارج شیٹ عدالت میں داخل کی گئی تھی۔آج کی عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۲۱؍ جولائی تک ملتوی کردی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر