سوامی اگنی ویش پر حملہ بزدلانہ حرکت و قابل مذمت، گلزار اعظمی فرقہ پرست بی جے پی اپنی اوقات دکھانے لگی

ممبئی ۱۷؍ جولائی
مشہور سماجی خادم اور ملک میں فرقہ وارنہ ہم آہنگی کے لیئے تحریک چلانے والے سوامی اگنی ویش پر جھارکھنڈ کے شہر پاکور میں بی جے پی کے غنڈوں کے ذریعہ کیئے گئے حملہ کی جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے شدید مذمت کی ہے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ۸۰؍ سالہ سوامی اگنی ویش پر حملہ بزدلانہ حرکت ہے نیز فرقہ پرست بی جے پی کے غنڈہ عناصر اپنی اوقات دکھانے لگے ہیں جس پر قدغن لگانا ضروری ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ سوامی اگنی ویش ایک غیر متنازعہ شخصیت ہیں اور انہوں نے ملک میں مذہبی رواداری اور امن و امان کے لیئے آواز بلند کی ہے لہذا ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سیدر ارشد مدنی کی جانب سے چلائی جانے والی قومی یکجہتی کانفرنسوں میں سوامی اگنویش نہ صرف شرکت کرتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے ملک میں بڑھتی عدم رواداری پر آواز بھی بلند کی ہے۔
گلزار اعظمی نے بی جے پی کے غنڈہ عناصر کے خلاف سخت سے سخت دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے نیز انہوں نے حکومت اور پولس محکمہ سے انہیں معقول سیکوریٹی فراہم کیئے جانے کی درخواست کی ہے کیونکہ جس طرح سے ملک میں حالات بن رہے ہیں اس سے اقلیتوں کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کی آواز کودبانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کا ثبوت سوامی اگنویش جیسے سماجی خادم پر حملہ ہے۔
انہوں نے کا کہ کل ہی کی بات ہے جب مغربی بنگال کے میدنا پور ضلع میں وزیر اعظم مودی کی ریلی کے دوران بی جے پی کے غنڈہ عناصروں نے پولس والوں پر حملہ کردیا تھااور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ پولس والوں نے ان کی بسوں کوریلی کے مقام تک جانے نہیں دیا تھا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کی سرکار آنے کے بعد سے ہی شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے اور انہیں لگتا ہے کہ جو چاہئے وہ کرسکتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج ہی سپریم کورٹ نے حکومت ہند سے ماب لینچنگ(ہجومی تشدد) پر سخت قانون بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ غنڈہ عناصر کی حرکتوں پر قابو پایا جاسکے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر