اور پھر میں رونے لگا: توقیر عالم غازی پوری

سورج غروب ہونے کیلئے بے قرار تھا، دل کی دهڑکنیں رفتہ رفتہ تیز ہو رہی تھیں، یوں تو میں ایک سفر میں تھا اور اتراکهنڈ کے کئی علاقوں سے ہوتا ہوا شہر سہارنپور مظاہرعلوم قدیم و جدید کی زیارت و نماز مغرب سے فراغت کے بعدمناظراسلام مفتی عمیر صاحب قاسمی اندوری اور شاعراسلام ماہر قلم کار مولانا آفتاب اظہر صدیقی کے ہمراہ اپنا سفر جاری تھا۔ ہم بعد مغرب سہارنپور سےقریب ‘گاگاہیڑی’ اور ‘چهٹمل پور’ کے وسط میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں ‘سید مزرعہ” کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔ وہاں قائم ایک مدرسہ (مدرسہ دارارقم )میں جیسے ہی ہم داخل ہوئے طلبہ اور اساتذہ نے پرجوش استقبال کیا اور ننھے ننھے طلبہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلائے سلام و مصافحہ اور مرحبا مرحبا کررہےتهے۔
ناظم مدرسہ حضرت مولانا لقمان صاحب کی ضیافت بھی کیا خوب تھی، کیسابہترسماں تھا، کیا ہی دلچسپ ماحول تھا، لیکن اسکے باوجود بے چینی،بےقراری، اور بےاطمنانی دل کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافہ کررہی تھی۔

دل تو دارالعلوم وقف دیوبند کی معیاری درسگاہ حجتہ الاسلام اکیڈمی (شعبہء بحث و تحقیق)کےاس نتیجہ کے انتظار میں تھا جس کا امتحان دیکر میں نے سفر شروع کیا تھا، میں سفر میں تھا اور دل دارالعلوم وقف دیوبند کے اندر۔ کوئی سفر یادگار کیسے بنتا ہے اس کا احساس تو مجھے اپنے رفقائے سفر کی شفقت و بے تکلفی نے دلا ہی دیا تھا کہ اسی درمیان میرے بڑے بھائی "مولوی توصیف عالم غازی پوری” سے رابطہ ہوا، بات ہوئی اور علیک سلیک کے بعد سب سے پہلے میری زبان پر یہی سوال آیا کہ نتیجہ آیا کہ نہیں؟ میرے سوال کے ساتھ ہی میرے بھائی کے جواب نے میرے کانوں میں یہ خوش خبری پہنچائی کہ "توقیر تمہارا نام آگیا ہے "…….اور پھر میں رونے لگا……….کہ علم کی ناقدری، اساتذہ پر تبصرے بازی، فرائض میں کوتاہی، نہ جانے قدم قدم کتنے گناہوں کا بوجھ لیے پھرتا ہوں، پهر بھی اللہ تعالیٰ اکثر نوازشوں کا معاملہ فرماتا ہے۔

لغزشوں کے بعد ایسی بخششیں
اے خدائے پاک تیرا شکریہ

توقیر عالم غازیپوری
حجتہ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند